16

چودھویں پارے کا خلاصہ-علامہ ابتسام الٰہی ظہیر

چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے ۔چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺکی ذات کو تنقید کا نشانہ بناتے اور کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں‘ تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کے لیے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہوجاتا ہے تو اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی ۔ قرآن مجید کے نزول پر شک اور اعتراض کرنے والے کافروں سے مخاطب ہو کر اللہ نے کہا کہ بے شک ہم نے ہی ذکر (مراد: فرقان حمید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزیّن کیا اور ان کو شیطان کے شر سے محفوظ کیا‘ مگر جو آسمان کی بات کو چرا کر زمین پر لانا چاہے تو اس کو اللہ تعالیٰ شہاب ثاقب سے نشانہ بناتے ہیں۔اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کی طرف روانہ کیے جانے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ فرشتے جناب لوط ں کی طرف جانے سے قبل جناب ابراہیم ں کے پاس آئے۔ انہوں نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو ایک عالم فاضل بیٹے کی بشارت دی اور انہیں بتلایاکہ ہم ایک مجرم قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ اس قوم میں سے لوطں کے گھرانے کے علاوہ ہر شخص کو ہلاک کردیا جائے گا۔ سوائے‘ لوط ں کی بیوی کے کہ جس کے بارے میں ہمارا فیصلہ ہے کہ وہ ضرور مجرموں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گی۔ اللہ کے فرشتوں نے لوط علیہ السلام کی پوری بستی کو بلندی پر لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کر دی۔
اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی اعلان فرمایا کہ جو رسول کریمﷺکا مذاق اڑاتا ہے‘ اس سے نبٹنے کیلئے خود اللہ کی ذات کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺکے ہر دشمن کو ذلت اور عبرت کا نشان بنا دیا۔ ابوجہل‘ عتبہ‘ شیبہ‘ ولید‘ امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط رسول کریمﷺکو مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔ اللہ نے میدان ِبدر میں ان کو حسرت ناک انجام سے دوچار کر دیا۔ ابولہب کے ایک بیٹے نے رسول کریمﷺکا استہزا کیا تو ایک کاروباری سفر کے دوران جنگل کا شیر اس کو کھا گیا۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ رسول کریم ﷺکو سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور قرآن عظیم‘ یعنی سورہ فا تحہ عطا کی گئی ہے ۔
سورۃ الحجر کے بعد سورۃ النحل ہے ۔سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے پر چاہتے ہیں‘ روح الامین کو فرشتوں کے ہمراہ نازل فرماتے ہیں‘ تا کہ وہ لوگوں کو ڈرائیں کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے انواع و اقسام کی سواریوں کو پیدا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں ‘خچر وں اور گدھوں کو پیدا کیااور وہ کچھ پیدا فرمایا‘ جس کو انسان نہیں جانتا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دو خدائوں کے تصور کی نفی کی اور کہا انسانوں کو دو الٰہ نہیں پکڑنے چاہئیں بے شک وہ اکیلا اللہ ہے۔ ثنویت کا عقیدہ آتش پرستوں میں موجود تھا اور وہ دو خدائوں کی بات کیا کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدے کو رد کیا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوںکی توجہ مویشیوں کی طرف بھی مبذول کرائی اور کہا کہ چوپایوں میں انسانوں کیلئے عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے پیٹوں سے خالص دودھ پلاتے ہیں ‘جو کہ خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے ‘لیکن اس میں نہ خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ فضلے کی گندگی۔ فلٹریشن کا یہ غیر معمولی پلانٹ خالق ِکائنات کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ پرندے کو فضائے بسیط میں اللہ تعالیٰ ہی سہارا دیتے ہیں۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھروں کو ہمار ے لیے جائے سکونت بنایا ہے‘ جو سکون انسان کو اپنے گھر میں حاصل ہوتا ہے‘ وہ کسی دوسرے مقام پر حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ پر قرآن مجید کو اس لیے نازل فرمایا کہ وہ لوگوں کو بیان کریں ‘جو ان پر نازل کیا گیا ہے ‘گویا کہ رسول کریمﷺ کے فرامین اور آپ کی سنتیں قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتی ہیں ۔
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی ہرزہ سرائی کا ذکر کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ پر قرآن ‘اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوا‘ بلکہ محمدﷺ روم کے ایک نومسلم (مراد صہیب رومیؓ) سے سن کر اس کو آگے لوگوں کو سناتے ہیں۔ رسول کریمﷺکی طرف سے اللہ نے خود جواب دیا کہ جس آدمی کے بارے میں ان کا یہ گمان ہے کہ وہ رسول کریمﷺکو سکھلاتا ہے وہ تو عجمی ہے‘ جبکہ رسول کریمﷺپر نازل ہونے والے قرآن کی زبان تو عربیِ مبین (صاف صاف) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن مجید کو روح القدس نے رسول کریم ﷺکے قلب پر نازل کیا ‘تاکہ مومنوں کو ثابت قدم رکھا جائے اور اس میں مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے ۔اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے سبا کی بستی کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے رزق اور امن کی جملہ نعمتوں سے نوازا تھا‘ لیکن وہ اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کے کاموں میں مشغول ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے امن کو چھین کر خوف میں اور رزق کو چھین کر بھوک میں مبتلا کر دیا تھا۔اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قوموں کے امن اور معیشت کا تعلق ‘اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ ہے اور جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بدامنی اور بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔ وہ اللہ کے انتہائی فرمان بردار اور یکسو (حنیف) مسلمان تھے‘ انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول کر لیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دعوت و تبلیغ کا طریقہ بھی بتلایا کہ دعوت ِدین کا کام بڑی حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ ہو نا چاہیے ۔بے شک اللہ کو پتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا اور کون ہدایت پر ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اعدائے دین کی تکلیفوںپر صبر کرنے کو اچھا عمل قرار دیا اور یہ بھی بتلایا ہے کہ صبر اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا ڈر اور نیکی کے راستے پر استقامت درکار ہے‘ جس انسان کو یہ دو چیزیں حاصل ہو جائیں گی‘ یقینا اس کو اللہ کی تائید بھی حاصل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید پڑھنے ‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمادے ۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں