44

پریشانیوں کا حل: سجدہ ریزی – خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 12 رمضان 1440 کا خطبہ جمعہ ” پریشانیوں کا حل: سجدہ ریزی” کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ عبادات کی توفیق ملنے پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں، قرآن کریم کی سب سے پہلی سورت کے آخر میں سجدوں کا حکم ہے، حدیث نبوی کے مطابق انسان حالت سجدہ میں اللہ تعالی کے قریب ترین ہوتا ہے، سجدے کی حالت انسان کے لئے انتہائی اعلی اور افضل ترین حالت ہے، اسی لیے سجدوں کی لذت اور مٹھاس ناقابل بیان ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ لمبے سجدے کرتے تھے، سجدوں کا اثرات انسان کے چہرے اور دل پر واضح ہوتے ہیں، سجدوں کے دوران کی جانے والی دعائیں قبولیت کے قریب تر ہوتی ہیں، ہر سجدے سے ایک نیکی اور درجہ ملتا ہے ، اور ایک گناہ مٹتا ہے، کثرت سجود انبیا کی رفاقت کا موجب ہے، سجدہ ایمان اور صدق قلب کی علامت بھی ہے، کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر متفق ہے، گناہ کی معافی کے لئے سجدہ سنت داودی ہے، رسول اللہ ﷺ بھی شفاعت کبری سے قبل طویل سجدہ فرمائیں گے، اور سجدہ شکر نبی ﷺ کی عادت مبارکہ تھی، دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: رمضان کے قیمتی لمحات سجدوں میں گزاریں ، دنیا میں ریاکاری کے لئے سجدے کرنے والے لوگ روزِ قیامت سجدہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھیں گے، آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کے لئے کلک کریں۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہمیں نماز، روزے اور سجدوں کی توفیق سے نوازا، قیام ہو یا قعدہ میں اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ کا فرمان ہے: {إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ} بلا شبہ انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔ [العاديات: 6]۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے شرعی احکامات بتلائے اور حدود مقرر فرمائیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر روزِ قیامت تک رحمتیں نازل فرمائے ۔

قرآن کریم کی سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت کے آخر میں اللہ تعالی کے دو بول ہیں، ان میں اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} سجدہ ریز رہ اور قرب حاصل کر۔[العلق: 19]

اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اپنے رب کے قریب ترین بندہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے [سجدے میں ]کثرت سے دعائیں کیا کرو) مسلم

سجدہ بندے کی اعلی اور افضل ترین کیفیت ہے، سجدے میں عزیز و کریم پروردگار کے سامنے انکساری کا لطف ملتا ہے، سجدہ رحمن و رحیم کی خوبصورت غلامی ہے، اور سجدے میں خیر و برکت کے بے پناہ لمحات ہیں۔

سجدے میں ناقابل بیان لذت ہے، اس دوران حاصل ہونے والی شرح صدر کو قلم بند نہیں کیا جاسکتا، مسلمان دوران سجدہ زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے پر آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحیح بخاری میں نبی ﷺ کا قیام بیان کرتے ہوئے کہا: (آپ اس دوران اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ تم آپ ﷺ کے سر اٹھانے سے قبل پچاس آیتیں پڑھ جاؤ) بخاری

سجدے کرنے والے کا چہرہ نور ایمان سے منور ہو جاتا ہے، اس کا دل کامل اطمینان کا حامل ہوتا ہے، نیز سجدہ دل میں سکینت ڈال دیتا ہے اور جلال و وقار کا لبادہ پہنا دیتا ہے، [سجدہ ریز صحابہ کرام کے بارے میں ]اللہ تعالی کا فرمان ہے: {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} سجدوں کے علامتی اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں ۔[الفتح: 29]

اللہ تعالی سجدے کے دوران دعا کرنے والوں کے قریب ہوتا ہے، وہ راز و نیاز کی باتیں کرنے والوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور اللہ سے امید لگانے والوں کی سنتا ہے، تو جو بھی اللہ کے قریب ہو تو وہ اللہ کے ہاں وافر نوازشیں اور بلند مقام پاتا ہے ؛ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ (88) فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ} اگر وہ مقربین میں سے ہے تو اس کے لئے راحت، عمدہ رزق اور نعمتوں والی جنت ہوگی [الواقعہ: 88، 89]

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} کا مطلب ہے کہ آپ کو ہر سجدے میں بلندی ، رفعت، قربت اور منزلت ملے گی؛ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو بھی بندہ اللہ کے لئے کوئی ایک سجدہ بھی کرے تو اللہ تعالی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اور ایک برائی مٹا دیتا ہے، نیز ایک درجہ بھی اس کا بلند کر دیتا ہے؛ اس لیے کثرت سے سجدے کیا کرو) ابن ماجہ نے اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} پر عمل اس لیے کہ اللہ تعالی کی عطائیں نہ ختم ہونے والی ہیں؛ اسی لیے قربِ الہی حاصل کرنے والوں کو اللہ تعالی اپنے فضل سے انبیائے کرام، صدیقین، شہدا اور صالحین کے مرتبے عطا کر دیتا ہے۔

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} پر عمل اس لیے کہ سجدے میں ایمان اور صدق دل کی علامات بھی واضح ہو جاتی ہیں، ایسے ہی یقین اور کامل اطاعت گزاری بھی عیاں ہوتی ہے۔

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} کیونکہ سجدہ ایسی عبادت ہے جس پر ساری کائنات کا اتفاق ہے۔

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} اس لیے کہ اگر آپ اپنے رب اور خالق سے مانگتے ہوئے سجدہ ریز ہو جائیں، اپنے مولا کے سامنے گڑگڑائیں تو آپ دنیاوی جنت میں ہیں! جب تمہارے کان آیات قرآن سے مزین ہوں، قرآنی آیات تمہارے دلوں کو موہ لیں تو خاشعین کی طرح سجدے میں گر جاؤ، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا (106) قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا} اور ہم نے قرآن کو موقع بہ موقع الگ الگ کر کے نازل کیا ہے تاکہ آپ اسے وقفہ وقفہ سے لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور اسے بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے۔ [106] کہہ دیں: تم اس پر ایمان لاؤ، یا ایمان نہ لاؤ، بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں۔ [الإسراء: 106 – 107]

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} پر ہر اس وقت عمل کریں جب آپ کو اپنے اعمال میں کمی کوتاہی محسوس ہو، آپ کو اپنے گناہوں اور غفلتوں پر تکلیف ہو، آپ توبہ اور استغفار کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیں ، اللہ تعالی نے اپنے نبی داود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ (24) فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ} اور داؤد سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، تو پھر اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور پوری طرح رجوع کیا۔ [24] پس ہم نے بھی ان کی یہ بات معاف کر دی، یقیناً وہ ہمارے نزدیک بڑے مرتبے والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں۔ [ص: 24، 25]

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} پر اس وقت عمل کریں جب تم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، تم مشکلات میں گھر جاؤ، تم بھنور میں پھنس جاؤ؛ کیونکہ سجدہ ہر پریشانی کا علاج ہے۔

سجدہ رحمن کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ رضائے الہی کا موجب بھی بنتا ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ جس وقت لوگ روزِ قیامت میدان محشر میں کھڑے ہوں گے اور شفاعت کے لئے کوشش کر رہے ہوں گے ، وہ انبیائے کرام سے کہتے کہتے رسول اللہ ﷺ تک پہنچیں گے اور کہیں گے: “اے محمد! -ﷺ- آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہماری کیا حالت ہے اور ہم کتنی تکلیف میں ہیں!” تو اس پر رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے: (میں تمہاری سفارش کرتا ہوں) اس پر آپ ﷺ عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو جائیں گے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: (میں اپنے پروردگار سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی اور میں اللہ تعالی کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا جو میں اب نہیں کر سکتا، اللہ مجھے اسی وقت سکھائے گا ، میں پھر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے ، کہیے! تمہاری بات سنی جائے گی۔ مانگیے! عطا کیا جائے گا۔ سفارش کیجیے! تمہاری سفارش بھی قبول کی جائے گی۔) بخاری ،مسلم

جب بھی آپ پر خیر و بھلائی کی برکھا برسے ، رحمن کی نوازشیں ہوں ؛ تو آپ اللہ کی نعمتوں پر شکر کرتے ہوئے سجدہ ریز ہو جائیں ایک بار نبی ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ نے لمبا سجدہ فرمایا اور پھر جب سجدے سے سر اٹھایا تو فرمایا: (میرے پاس جبریل آئے تھے تو انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی، اس پر میں نے اللہ کے لئے سجدہ شکر کیا) احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:
لا متناہی تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل ،اور صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

کتنی خوبصورت بات ہے کہ مسلمان رمضان کی راتوں میں سجدوں کی نگہت، لذت اور فضیلت سے بہرہ ور ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا} اور رات کے کچھ حصے میں اسی کے لئے سجدہ کریں اور لمبی رات تک اس کی تسبیح کیا کریں۔ [الإنسان: 26]

رمضان میں نیکیوں کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے! سجدوں اور دعاؤں کے دوران اپنے رب کی جانب تیزی سے بڑھو؛ کیونکہ یہ بہت بڑی محرومی ہے کہ انسان اللہ تعالی کے سامنے سجدہ ریزی سے محروم کر دیا جائے۔

جس نے دنیا میں اکڑ کر اللہ کو سجدہ نہ کیا تو وہ آخرت میں بھی سجدہ نہیں کر پائے گا حالانکہ اسے سجدہ ریز ہونے کی دعوت دی جائے گی، جیسے کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (ہمارا پروردگار اپنی پنڈلی سے پردہ ہٹائے گا تو ہر مومن مرد اور عورت اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے ، اور جو دنیا میں ریاکاری اور شہرت کے لیے سجدے کرتے تھے وہ باقی رہ جائیں گے۔ وہ سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کی کمر تختے جیسی بن جائے گی) بخاری

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما دے، ہمارے معاملات آسان فرما دے، ہماری پریشانیاں حل فرما دے۔ یا اللہ! ہم تجھ تیری رضا اور جنت مانگتے ہیں، یا اللہ! ہم تیری ناراضی اور جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہر قسم کی فوری یا تاخیر سے ملنے والی تمام بھلائیاں مانگتے ہیں ، یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہر قسم کے فوری یا تاخیر سے پہنچنے والے تمام نقصانات سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق مانگتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے جہنم کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے روزے ،قیام ، رکوع اور سجدے قبول فرما۔ یا اللہ! ہمارے روزے ،قیام ، رکوع اور سجدے قبول فرما۔

یا اللہ! مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! ہمارے سب معاملات خود ہی سنبھال لے، یا اللہ! ہماری پریشانیاں ختم فرما دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جو تیری رضا کے موجب ہوں اور تجھے پسند ہوں، یا اللہ! ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے لئے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو ہمہ قسم کی بھلائی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان دونوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا۔

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب اللہ اور شریعت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں