68

شریعت میں احسان کا پہلو اور زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ – خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن حذیفی حفظہ اللہ نے21 شعبان 1440کا خطبہ جمعہ بعنوان “شریعت میں احسان کا پہلو اور زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ” مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ دین اسلام سراپا احسان ہے، اس کے تمام احکامات اور ہدایات میں انسانیت کے لئے خیر خواہی پائی جاتی ہے، حتی کہ حدود اور سزائیں بھی فرد اور معاشرے پر اللہ کا احسان ہیں کہ دونوں جرائم کے خاتمے یا کمی کے باعث سکون کا سانس لیتے ہیں، نیز حرابہ کے علاوہ حدود اور سزائیں مجرموں کی اخروی معافی کا باعث بھی ہوتی ہیں۔ قدرتی آفات سے تحفظ انہی شرعی احکامات پر عمل سے مل سکتا ہے۔

پھر انہوں نے کہا کہ زکاۃ خلقت پر احسان ہے، اس سے زکاۃ دینے اور لینے والے دونوں کا بھلا ہوتا ہے، زکاۃ لینے والا تو واضح ہے دینے والے کو اس طرح کہ دنیا میں اس کا مال بڑھ جاتا ہے اور آخرت میں عذاب سے بچ جاتا ہے۔ پھر انہوں نے سونے، چاندی، مال مویشی ، زرعی اجناس اور تجارتی سامان کی زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ بتایا، اور زکاۃ ادا نہ کرنے پر اخروی عذاب کی مفصل حدیث بیان کی۔ زکاۃ مسلمانوں کی باہمی یکجہتی اور رحمدلی کا مظہر ہے، رسول اللہ ﷺ نے غریب لوگوں کی مدد کے لئے خصوصی ترغیب دلائی اور یہاں تک کہا کہ تمہیں انہی غریبوں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، انہوں نے نفل صدقہ کرنے کے فضائل بھی بیان کیے پھر دوسرے خطبے میں اتوار کے روز سعودی عرب میں زلفی شہر کی ایک چیک پوسٹ پر خود کش حملے کی مذمت کی اور منحرف لوگوں کو دعوت فکر دی اور کہا کہ دہشت گردی کے نتائج پر نظر رکھیں وگرنہ اللہ تعالی کی جانب سے سخت وعید کے لئے تیار رہیں، آخر میں انہوں نے خود کشی کی مذمت کی اور پھر جامع دعا کروائی۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں غالب اور نوازشیں کرنے والے اللہ کے لئے ہیں، اللہ تعالی نے اپنی مخلوق پر ظاہری اور باطنی نعمتیں بہا دی ہیں تو اس پر ایمان والے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور کافر ناشکری کرتے ہیں، ہمارا رب جسے چاہے دائمی اور ابدی طور پر اپنا فضل عطا کرتا رہتا ہے، کوئی اطاعت گزار اللہ کا حق ادا نہیں کر سکتا جبکہ کوئی بھی نافرمان ناشکری کر کے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، اللہ تعالی اپنی ذات، اسما اور صفات کے ساتھ سب سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالی اپنی عظمت، عزت اور جلال کے ساتھ بلند و بالا ہے۔ ساری مخلوقات ہر لمحے اسی کی محتاج ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، حمد و بادشاہت اسی کی ہے، اسے اپنے بندوں پر مکمل اقتدار حاصل ہے سب اسی کے مطیع ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ﷺ ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر اس دن تک اپنی رحمت، سلامتی اور برکتیں دائمی طور پر نازل فرما جس دن انہیں اٹھایا جائے گا۔

حمد و صلاۃ کے بعد: اپنے رب سے ڈرو، جس نے تقوی اپنایا وہ بھلائیاں پا گیا، اور بلند درجات حاصل کر کے کامیاب ہو گیا، جبکہ تقوی سے پہلو تہی کرنے والے کو بد بختی اور ذلالت نے گھیر لیا اور وہ گہری کھائیوں میں جا گرا۔ مسلمانو! تمہارا دین سراپا احسان ہے، اس میں اپنے ساتھ بھی احسان اور ساری خلقت کے ساتھ بھی، یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کا کوئی بھی حکم ہو یا ممانعت ، یا کوئی شرعی رہنمائی تو اس میں اپنے ساتھ بھی احسان ہوتا ہے اور ساری خلقت کے ساتھ بھی۔ یہی چیز بندوں کے لئے دنیاوی سعادت اور اخروی نعمتوں کی ضامن ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} اللہ تعالی تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالنا چاہتا وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک بنا دے اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کر دے تا کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔ [المائدة: 6] اسی طرح فرمایا: {وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} اللہ جانتا ہے پر تم ہی نہیں جانے۔[البقرة: 216]

ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

حتی کہ مجرموں پر قائم کی جانے والی حدود اور سزائیں بھی مجرم پر احسان ہیں؛ کیونکہ ان سے مجرم آئندہ جرائم نہیں کرتا اور دوسروں کو اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے تو وہ بھی جرائم سے دور رہتے ہیں، اسی طرح حدود مجرم اور گناہ گاروں کے گناہوں کا کفارہ بھی بن جاتی ہیں، آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فرمایا جس پر عہد نبوی میں حد قائم کی گئی تھی کہ: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطہ زن ہو رہا ہے) اس حدیث کو بخاری و مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

حدود گناہوں کے لئے کفارہ صرف انہی سزاؤں میں بنتی ہیں جن سے جرم دھل جائے؛ اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جرائم اور زمین پر [دہشت گردی اور حرابہ کے ذریعے]فساد پھیلانے والے مجرموں کو حدود پاک نہیں کر سکتیں، اس لیے حرابہ کی دنیا میں حد کفارہ نہیں بنتی ، اسی لیے دنیا میں حد کے ساتھ اسے اخروی عذاب بھی ملے گا، اللہ تعالی نے حرابہ کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا: { ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ} یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔ [المائدة: 33]

اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود کا نفاذ پورے معاشرے کے ساتھ بھی احسان ہے کہ ان کے نافذ ہونے سے معاشرہ ظلم و زیادتی اور برائیوں سے پاک ہو جاتا ہے اور معاشرے میں امن و استحکام مضبوط ہوتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (دھرتی پر ایک حد کا نفاذ اہل زمین کے لئے اس سے بھی بہتر ہے کہ ان پر چالیس دن تک بارشیں برسیں) احمد، نسائی اور ابن ماجہ نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔

اللہ تعالی کا خلقت پر عظیم ترین احسان یہ ہے کہ شرعی احکامات پر عمل کر کے قدرتی آفات سے تحفظ حاصل کر لیں، چنانچہ قدرتی آفتوں سے تحفظ شرعی احکامات کی تعمیل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ} وہ اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (نکال دے) یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بھڑا دے، اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ! ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضح کر رہے ہیں تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لے لیں۔ [الأنعام: 65]

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: (رسول اللہ ﷺ نیند سے گھبرا کر اٹھے اور فرمایا: لا الہ الا اللہ! عربوں کے لیے انتہائی قریب ہو جانے والے شر کی وجہ سے تباہی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھل گیا ہے۔ اور آپ نے ہاتھ سے نوے کی گرہ لگائی۔ پھر سیدہ زینب بنت حجش کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: ” اللہ کے رسول ! کیا ہم نیک لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک ہو جائیں گے؟ “تو آپ ﷺ نے فرمایا: (ہاں، جب برائیاں بہت بڑھ جائیں گی) اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ نوے کی گرہ لگانے سے مراد یہ ہے کہ شہادت والی انگلی کو اسی کی جڑ میں رکھ کر دائرہ بنایا کہ یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے۔ برائیاں بڑھ جانے سے مراد یہ ہے کہ جب منشیات، شراب نوشی، زنا اور قوم لوط کا عمل بہت زیادہ عام ہو جائے گا۔مسلمان! دیکھو کہ ہم پر اللہ کی کتنی رحمت ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے لیے شریعت بھی ایسی بنائی ہے جس میں ہم پر بھی احسان ہے اور ساری خلقت پر بھی؛ کیونکہ تمہارا پروردگار بخشش، محبت اور رحمت کرنے والا ہے، وہ علم و حکمت، تونگری اور کرم والا ہے۔ شریعت کے عظیم ترین احکام میں زکاۃ بھی شامل ہے جس کی یاد دہانی ہمیں یہ ماہ مبارک کرواتا ہے، جو کہ نیکیوں کی عظیم بہار بھی ہے، تو زکاۃ میں اپنے آپ پر اور ساری خلقت پر اتنا احسان ہے کہ جس کا اندازہ مسلمان نہیں لگا سکتا، اس کے بارے میں اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔

قرآن کریم میں زکاۃ اور نماز ایک ساتھ ذکر ہوتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا} نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کیا کرو نیز اللہ کو قرض حسن دیتے رہو، تو جو بھی بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں اس حال میں موجود پاؤ گے کہ وہ (اصل عمل سے) بہتر اور اجر کے لحاظ سے بہت زیادہ ہوگی۔ [المزمل: 20]

زکاۃ ادا کرنے والے کے ساتھ زکاۃ اس طرح احسان ہے کہ اس کے مال میں برکت شامل ہو جاتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ} تم جو کچھ بھی [اللہ کی راہ میں]خرچ کرو گے تو اللہ اسے واپس لوٹا دے گا، اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔[سبأ: 39]

زکاۃ مال کو آفتوں سے محفوظ بناتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ: (بر و بحر میں کوئی بھی مال تلف ہو تو وہ زکاۃ روکنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔) طبرانی نے اسے معجم الاوسط میں روایت کیا ہے۔

اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (صدقے یا زکاۃ کا مال کسی مال میں رہ جائے تو اسے تباہ کر دیتا ہے۔) طبرانی

زکاۃ ادا کر کے انسان اپنا فائدہ کرتا ہے وہ اس طرح کہ عذاب سے تحفظ مل جاتا ہے، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان کا حقِ [زکاۃ ]ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہو گا اسی سونے چاندی کو اس کے لئے آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا اور انہیں جہنم کی آگ میں گرم کر کے اس کے پہلو، پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا، جب وہ ٹھنڈی ہو جائیں گی، انہیں پھر سے اس کے لئے [گرم کر کے]لایا جائے گا، وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا، حتی کہ تمام بندوں کا فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا) پھر آپ ﷺ سے پوچھا گیا: ” اللہ کے رسول ﷺ! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ “آپ ﷺ نے فرمایا: (اونٹوں کا جو بھی مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا -ان کے حق میں یہ بھی شامل ہے کہ اونٹوں کو پانی پلانے کے دن[آس پاس لوگوں کے لئے]ان کا دودھ نکالے-، تو جب قیامت کا دن ہوگا ان کے مالک کو ایک وسیع چٹیل میدان میں ان اونٹوں کے سامنے لٹا دیا جائے گا، اور اونٹ دنیا میں جتنے بھی موٹے تازے تھے ان سے بھی فربہ ترین حالت میں ہوں گے، ان میں اونٹ کا ایک بچہ بھی غائب نہیں ہوگا، یہ سب اسے اپنے قدموں سے روندیں گے اور اپنے منہ سے کاٹیں گے، جیسے ہی آخری اونٹ گزرے گا پہلا اونٹ دوبارہ پہنچ چکا ہو گا، وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا) پھر آپ ﷺ سے پوچھا گیا: ” اللہ کے رسول ﷺ! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ “آپ ﷺ نے فرمایا: (گائے اور بکریوں کا جو بھی مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا اسے ایک وسیع چٹیل میدان میں لٹا دیا جائے گا، اور اس کا کوئی ایک جانور بھی غائب نہیں ہو گا۔ وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور اپنے سمو سے روندیں گے، جیسے ہی آخری جانور گزرے گا پہلا جانور دوبارہ پہنچ چکا ہو گا، وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا) اس حدیث کو بخاری اور مسلم سمیت دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔

زکاۃ دینے والا شخص اپنا فائدہ اس طرح بھی کرتا ہے کہ اسے زکاۃ کا اجر بڑھا چڑھا کر دیا جائے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} جو بھی ایک نیکی لایا تو اس کے لیے دس گنا زیادہ اجر ہو گا۔[الأنعام: 160] تو ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر 700 گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ ملے گا، جیسے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں موجود ہے۔

قیامت کے دن حالت یہ ہوگی کہ کوئی بھی ایک نیکی کسی کو دینے کے لئے تیار نہیں ہو گا، چاہے کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو!

زکاۃ اگر غریب لوگوں کے ساتھ احسان ہے تو یہ غریبوں کا اللہ تعالی کی طرف سے امیر لوگوں پر فرض کردہ حق بھی ہے، زکاۃ در حقیقت تکافل ، باہمی رحم، پیار ، ترس اور مسلمانوں کی باہمی یکجہتی کا مظہر ہے، باہمی تعاون اور رحمدلی کے بغیر زندگی کا کوئی مزہ بھی نہیں ہے۔

نبی ﷺ نے غریب، مساکین اور کمزور لوگوں کے بارے میں وصیت فرمائی اور یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالی ان کی وجہ سے مدد بھی کرتا ہے اور روزی بھی دیتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تمہیں مدد اور روزی تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی ملتی ہے۔) بخاری نے اسے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا: (مجھے کمزور لوگوں میں تلاش کیا کرو؛ بیشک تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی تمہیں مدد اور روزی عطا کی جاتی ہے) اس حدیث کو ابو داود نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی منکسر اور متواضع دل رکھنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

غریب لوگ مالدار لوگوں سے ضائع ہونے والے اپنے حقوق کے متعلق جھگڑا کریں گے، جیسے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (مالدار لوگوں کے لئے روز قیامت غریبوں کی جانب سے تباہی ہو گی، غریب کہیں گے: پروردگار! انہوں نے ہمارے وہ حقوق غصب کیے جو تو نے ان پر ہمارے لیے فرض کیے تھے ، اس پر اللہ تعالی فرمائے گا: مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! میں لازمی طور پر تمہیں اپنے قریب کروں گا اور انہیں یقیناً اپنے سے دور رکھوں گا) اس حدیث کو طبرانی نے معجم الاوسط اور معجم الصغیر میں روایت کیا ہے۔

سونا اور چاندی جب نصاب تک پہنچ جائے تو اس میں اللہ تعالی نے زکاۃ فرض کی ہے، ہر ایک کے نصاب میں سے چالیسواں حصہ زکاۃ فرض ہے، تو سونے کا نصاب 85 گرام یا اس کے مساوی نقدی نوٹ ہیں۔ جبکہ چاندی کا نصاب چاندی کے عربی 56 ریال [تقریباً 595 گرام چاندی] یا اس کے مساوی نقدی نوٹ ہیں، تو اس نصاب میں سے اور جو اس سے زائد ہو اس کی بھی زکاۃ ادا کرے۔

اگر دولت نقدی نوٹوں کی صورت میں ہو تو اس میں اصول یہ ہے کہ ہر ایک سو ریال میں سے اڑھائی ریال زکاۃ ادا کرے۔

زیور جو بطور خزانہ ہو یا استعمال کے لیے ہو تو نصاب پورا ہونے کی صورت میں ہر دو پر اہل علم کے صحیح ترین موقف کے مطابق زکاۃ واجب ہے؛ کیونکہ زکاۃ کی فرضیت میں کتاب و سنت کے دلائل عام ہیں۔

بکریوں کا نصاب چالیس بکریاں ہیں اور ان کی زکاۃ میں ایک بکری زکاۃ کے طور پر دینا ہوگی، چالیس سے زیادہ بکریوں کی تفصیل اہل علم سے پوچھ سکتے ہیں۔

گائے کا نصاب 30 گائیں ہیں ، ان کی زکاۃ میں ایک سالہ بچھڑا دینا ہو گا، اونٹوں کا نصاب پانچ اونٹ ہیں اور ان کی زکاۃ میں ایک بکری دینی ہوگی، اس سے زائد ہوں تو ان کی تفصیل اہل علم سے پوچھ سکتے ہیں۔

سامان تجارت کچھ بھی ہو ، زمین یا گاڑیاں وغیرہ جس چیز کو بھی خرید و فروخت اور تجارت کے لئے رکھا گیا ہے ان میں زکاۃ ہے، ان کی مجموعی قیمت میں سے چالیسواں حصہ ایک سال کے بعد ادا کیا جائے گا۔

اناج، کھجور، اور کشمش جیسی زرعی پیداوار جنہیں بنیادی غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ان میں بھی زکاۃ ہے، چنانچہ جب ان کا نصاب پورا ہو جائے اور ان کی آبپاشی بغیر محنت کے ہو تو دسواں حصہ اور اگر ان کی آبپاشی محنت کے ساتھ ہو تو بیسواں حصہ زکاۃ ہے، جیسے کہ احادیث میں یہ تفصیل موجود ہے۔ زرعی اجناس کا نصاب نبی ﷺ کے زمانے کے 300 صاع ہیں، اور ایک صاع کی مقدار تقریباً 2 کلو 40 گرام ہے۔

زکاۃ کے علاوہ جو کچھ بھی مسلمان واجب یا مستحب خرچے کرتا ہے اس پر بھی اجر و ثواب ملتا ہے، مسلمان خصوصی طور پر ماہ رمضان میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خیر و بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (جو کوئی پاک اور عمدہ چیز کا صدقہ کرے -اور اللہ تعالی پاک اور عمدہ چیز ہی قبول فرماتا ہے- تو رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے، اگرچہ ایک کھجور ہی ہو۔ وہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتی جاتی ہے حتی کہ پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالی اس چیز کو اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے کو پالتا ہے۔) بخاری ، مسلم

ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بھلائی کرنے والا بری موت سے بچ جاتا ہے، چھپ کر مخفی صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے، صلہ رحمی عمر میں اضافے کا باعث بنتی ہے) طبرانی نے اسے معجم الکبیر میں روایت کیا ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (صدقہ پروردگار کے غصے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔) اور علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (صدقہ کرنے میں تاخیر مت کرو؛ کیونکہ آزمائش صدقے پر غالب نہیں آ سکتی)
اے مسلم! تم اللہ کا کرم اور جود و سخا دیکھو، اللہ تعالی نے کس طرح ڈھیروں خیر و بھلائیاں عطا کی ہیں، معمولی اور تھوڑی سی مقدار خرچ کرنے کو پسند بھی کیا اور پھر اس پر ڈھیروں اجر و ثواب بھی بتلایا۔ اگر تمام مالدار حضرات اپنی زکاۃ ادا کریں تو مسلمانوں میں کوئی بھی فقیر نہ رہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ} آپ میرے ایمان لانے والے بندوں کو کہہ دیں کہ وہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اسی میں سے خفیہ اور اعلانیہ خرچ کریں، قبل ازیں کہ وہ دن آ جائے جس میں خرید و فروخت یا تعلق داری کچھ بھی نہ ہو گا![إبراهيم: 31]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہ جلال اور کرم والا ہے، اس کا غلبہ ناقابل تسخیر ہے، میں معلوم اور نامعلوم سب نعمتوں پر اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، وہی احسان اور انعام کرنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بادشاہ ، پاکیزہ، اور سلامتی والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہر قسم کی خیر و بھلائی کی لوگوں کو دعوت دی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد -ﷺ- پر ، ان کی آل، اور صحابہ کرام پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد: اپنے پروردگار سے ڈرو، اور قرب الہی حاصل کرنے کے لئے نیکیاں کرو اور گناہوں سے دور رہو؛ تو تم زندگی میں اور مرنے کے بعد ہر قسم کی کامیابیاں پا جاؤ گے۔

لوگو!

اللہ تعالی نے تمہیں تمہارے دشمن شیطان سے خبردار کر دیا ہے، یہی شیطان تمہیں ہمہ قسم کی بھلائی سے روکتا ہے اور ہر قسم کی برائی کی دعوت دیتا ہے، صرف اس لیے کہ شیطان کے پیروکار بڑھ جائیں اور گمراہ ہو جائیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ (5) إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} لوگو! یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے؛ اس لیے دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی کوئی دغا باز تمہیں دھوکا دے سکے [5] بلا شبہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اسے اپنا دشمن سمجھو، وہ اپنے پیروکاروں کو اس لیے بلاتا ہے کہ وہ بھی جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔[فاطر: 5، 6]

گزشتہ اتوار کو رونما ہونے والے المناک حادثے میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا یہ انتہائی گھناؤنا جرم، فساد اور بھیانک پاپ ہے، یہ مسلمانوں کی اجتماعیت اور حکمران کے خلاف بغاوت ہے، اس میں معصوم اور محترم جانوں کو قتل کرنے کا اقدام ہے۔ یہ ملکی امن و استحکام پر جارحیت ، اور سنسنی و دہشت پھیلانے کا باعث ہے۔

ہم سب اس امید میں تھے کہ منحرف لوگ عبرت حاصل کر لیں گے اور شیطان نے ان کے لئے جن ماضی کے کاموں کو مزین کر دیا ہے ان سے باز آ جائیں گے اور جادۂ حق اپنائیں گے، دہشت گردی سے رک جائیں گے، لیکن وہ اب تک اسی پر مصر ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات سے اعلان جنگ کرے، دھرتی پر فساد پھیلانے کی کوشش کرے تو وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ} بری سازش ہمیشہ سازشیوں کو ہی گھیرے میں لیتی ہیں۔ [فاطر: 43]

امن و امان میں رخنے ڈالنا بہت بڑی خیانت ہے، امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری سب پر ہے، لیکن پھر بھی اگر کوئی دھرتی پر فساد پھیلانے کی کوشش کرے تو اسے دنیا و آخرت میں شرعی اور تقدیری سب سزائیں ملیں گی۔

سیکورٹی پر مامور جوانوں کے لئے دعائیں کرنا، ان کی پہرے پر معاونت کرنا واجب عمل ہے، نہ کہ انہی کو نشانہ بنایا جائے! اگر کوئی کسی مسلمان کو قتل کر دے تو اس کی سزا دائمی اور ابدی طور پر جہنم ہے۔

اللہ تعالی نے ہمیں دئیے ہوئے امن و امان کو جتلاتے ہوئے فرمایا: {أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ} کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو پرامن بنا دیا ہے جبکہ ان کے ارد گرد کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ [العنكبوت: 67]

ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے نتائج پر غور و فکر کریں!

کیا وہ یہ چاہتے ہیں اتنی افراتفری پھیل جائے کہ جس سے جمعہ اور نماز با جماعت کا نظام ہی معطل ہو جائے!

یا وہ ایسی انارکی چاہتے ہیں جس میں قتل و غارت عام ہو جائے، اور عزتیں لٹ جائیں!

یا وہ ایسی بے چینی کے خواہاں ہیں جس میں مال و دولت اور املاک تباہ و برباد ہو جائیں!

یا اس خود کش حملے میں ملوث شخص محض اپنے آپ کو مارنا چاہتا تھا! حالانکہ اللہ تعالی نے خود کشی کرنے والے کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29) وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا } اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالی تم پر نہایت مہربان ہے۔ [29] اور جو زیادتی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ پر ہمیشہ سے بہت آسان ہے۔ [النساء: 29، 30] اگر کسی خود کش حملہ آور نے کسی نام نہاد مفتی کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے ایسا کیا تو بھی اسے اس فتوے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اللہ تعالی ہمیں گمراہ کن فتنوں سے بچائے اور ہمیں جہنم سے محفوظ رکھے۔

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جس نے لوہے کے ہتھیار سے خود کشی کی تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں اس سے اپنے پیٹ پر وار کرتا ہو گا، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا) اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اللہ کے بندو!

{ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا) اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر کثرت کیساتھ درود پڑھو ۔

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا كَثِيْراً۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، یا اللہ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، فضل، احسان اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمیں گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں تیرے نبی ﷺ کے سیدھے رستے پر قائم دائم کر دے۔

یا اللہ! ہمیں حق بات کو حق سمجھنے کی توفیق دے اور پھر اتباعِ حق بھی عطا فرما، یا اللہ! ہمیں باطل کو باطل سمجھنے کی توفیق دے اور پھر اس سے اجتناب کرنے کی قوت بھی عطا فرما۔ یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمارے لیے باطل کو پیچیدہ مت بنانا ؛ مبادا ہم گمراہ ہو جائیں، یا ارحم الراحمین!یا اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی تکالیف دور فرما دے، یا اللہ! مقروض مسلمانوں کے قرضے چکا دے۔ یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما دے، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! ہمیں اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے محفوظ فرما۔یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو انسانی اور جناتی شیاطین، شیطانی چیلوں اور لشکروں سے پناہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا ذالجلال والا کرام! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمانوں کو اور ان کی اولادوں کو بھی شیطان مردو سے محفوظ فرما، یا ذالجلال والا کرام! یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمارے گناہ معاف فرما دے، یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ، اور جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے ہمارے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی پست و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! یا اللہ! اپنے دین ،قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! مسلمانوں کو شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کو مکاروں کی مکاری اور جارحین کی جارحیت سے حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! غداروں کی غداری سے ہمارے ملک کو محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن و امان کا گہوارہ اور مستحکم بنا دے، یا رب العالمین! یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! اے ہمارے پروردگار! ہمیں ایک لمحے یا اس سے بھی کم وقت کے لئے بھی ہمارے اپنے رحم و کرم پر مت چھوڑنا۔یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہر نیکی کے کام میں انکی مدد فرما، اُن کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں صحت و عافیت سے نواز، یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما ، یا اللہ! ان کی بھی تمام بھلائی کے کاموں کے لئے مدد فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! دونوں کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرما، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! تو ہی رب العالمین ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک، اول تا آخر، جامع ، ظاہری اور باطنی ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں ، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام کار بہترین فرما دے۔

ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے سب معاملات سنوار دے، یا ذالجلال والا کرام! یا اللہ! ہمیں تیرے حلال رزق کے ذریعے تیرے حرام کردہ امور سے بچا لے، تیری اطاعت کے ذریعے تیری نافرمانی سے محفوظ فرما دے، اور تیرے فضل کے ذریعے غیروں سے بچا لے۔

یا اللہ! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ مت کرنا، اور ہمیں اپنی طرف سے خصوصی رحمت سے نواز بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے.

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90] صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں