43

سلیم اور جمیل کی تلاش! عطا ء الحق قاسمی

میں دو افراد کو ایک مدت سے تلاش کر رہا ہوں مگر اپنی تمام تر کوشش کے باوجود وہ مجھے نہیں مل سکے۔ اُن میں سے ایک کا نام سلیم اور دوسرے کا جمیل ہے۔ خصوصاً سلیم کی تلاش میں تو میں نے بہت مشقت اٹھائی، جہاں پتہ چلا کہ سلیم نام کا شخص فلاں جگہ رہتا ہے، میں وہاں پہنچا حتیٰ کہ میں نے سندھ، بلوچستان، کے پی، پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے دورے کئے۔ ہر جگہ بہت سے سلیم ملے مگر مجھے وہ سلیم نہیں ملا جس کی مجھے تلاش تھی۔ میں نے مختلف اداروں میں کھوج لگایا کہ شاید وہاں وہ سلیم مجھے مل جائے جس کی مجھے تلاش ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پھیرے لگائے، اُس سلیم کی تلاش میں جو مجھے نہیں مل رہا تھا۔ میں نے اپنے دوست جواد شیرازی سے رابطہ کیا۔ اُنہیں کوہ پیمائی کا بہت شوق ہے وہ مجھے کے ٹو کے بیس کیمپ تک لے گئے، آگے بھی جانے کا ارادہ تھا مگر میری ہمت بس اتنی سی تھی۔ جہاں اُنہوں نے سلیم نامی بہت سے دوسرے افراد کے علاوہ راستوں کی رہنمائی کرنے والے سلیم نامی ایک شخص سے بھی ملایا۔ گپ شپ بھی لگائی مگر یہ بھی وہ سلیم نہیں تھا۔

بات لمبی ہوتی جا رہی ہے مگر آپ کو تفصیل بتانا ضروری ہے، اپنے مطلوبہ سلیم کی تلاش میں، میں عدالتوں میں بھی گیا، سائلوں سے بھی ملا، ڈاکٹروں کو چھان مارا، مسجدوں، مندروں اور کلیساؤں میں اسے تلاش کیا، امراء سے ملا، غریبوں سے ملاقات کی، سلیم ہر جگہ پر ملے مگر ’’وہ‘‘ سلیم کہیں نہیں ملا۔ ایک دفعہ مجھے ایک بوتل ملی جس میں کسی جادوگر نے ایک جن کو قید کیا ہوا تھا۔ جن نے مجھ سے کہا اگر تم مجھے اس بوتل سے نکال دو تو میں تمہیں وہ راز بتاؤں گا تم جس کی تلاش میں ہو۔ میں نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے۔ اس نے اپنا نام سلیم بتایا تو میں نے بوتل واپس دریا میں پھینک دی۔

اب آپ مجھ سے یہ پوچھنے کا اختیار رکھتے ہیں کہ آخر وہ سلیم کون تھا جس کی تمہیں تلاش تھی۔ تو چلیں آپ کو بتائے دیتا ہوں یہ سلیم وہ ہے جس کی مثال آپ کو بھی دعا کی صورت میں کئی بار دی جاتی ہو گی کہ خدا تمہیں عقل سلیم عطا کرے۔ تو بس یہ وہی سلیم ہے میں جاننا چاہتا تھا بلکہ ایسے کسی سلیم سے ملنا چاہتا تھا اور کریدنا چاہتا تھا کہ آخر اس میں عقل کی وہ کونسی قسم ہے جو اتنی نایاب ہے کہ صرف اسی کے پاس ہے اور ہر کوئی عقل کے حوالے سے اسی کی مثال دیتا ہے، مگر میں جن سلیموں سے ملا وہ سب کے سب بےوقوف تھے۔ ان سب کی ترقی، کامیابی یا کسی جائز خواہش کے راستے میں ایسی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں کہ ان میں سے کوئی پاگل ہو گیا، کوئی جیل چلا گیا، کسی نے ہنسی خوشی پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈال لیا، کوئی وہ نہ بن سکا جو اُس کا حق تھا، کسی کو جادو گر نے بوتل میں بند کر کے دریا میں پھینک دیا اور تمام تر طاقت کے باوجود عقلِ سلیم سے محرومی کی بدولت اُس کی ساری عمر بوتل کی قید میں گزر گئی۔ غریب، غریب ہی رہا، امیر، امیر سے امیر تر ہوتا چلا گیا، مذہبی پیشوا کڑھتے ہی رہ گئے کہ لوگ مذہب سے دور ہوتے جارہے ہیں مگر کوئی بھی ’’عقل سلیم‘‘ سے کام نہ لینے کی وجہ سے اس دوری کے اسباب جاننے کی کوشش نہ کی۔

جب مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ عقلِ سلیم کیا ہوتی ہے جو اتنی کمیاب ہے اور جن کے پاس ہے وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے پاگل پن کا شکار ہو کر الٹی سیدھی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں اور پھر اُس کے نتائج بھگتتے ہیں۔ تو میں نے ایک بار پھر برادرم جواد شیرازی سے رابطہ کیا اور اُنہیں اپنی الجھن بتائی۔ اُس پر اُنہوں نے بھرپور قہقہہ لگایا اور کہا بھائی جان اگر آپ مجھے پہلے بتاتے کہ آپ سلیم کی نہیں عقلِ سلیم کی تلاش میں ہیں تو آپ کو کے ٹو تک نہ جانا پڑتا۔ میں آپ کو یہیں بتا دیتا بلکہ ایسے بہت سے سلیموں سے ملا دیتا جنہوں نے عقلِ سلیم سے کام لے کر ملک کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا اور پھر خود ہی اُسے ٹھیک کرنے کے لئے اُس کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔ بھائی جان! عقلِ سلیم کا کسی سلیم نامی شخص سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ علامتی طور پر اور اچھے معنوں میں ہمارے بزرگ ہمیں عقلِ سلیم کی دعا دیتے تھے۔ میں نے جب جواد کا یہ جواب سنا تو اپنے سر پر ’’دھت تیرے کی‘‘ کہتے ہوئے ایک دو ہتڑ رسید کیا اور آئندہ کے لئے عہد کیا کہ اصل عقل سلیم کے مطابق زندگی کے بہت سے قیمتی سال ضائع کر لئے، اب آئندہ کے لئے اللہ مجھے ’’عقل سلیم‘‘ عطا کرے۔

باقی رہ گیا جمیل، تو اب میں اس کے متعلق اپنا زیادہ سر نہیں کھپاؤں گا کیونکہ ’’عقل سلیم‘‘ میری زندگی کا خاصا وقت ضائع کرچکی ہے۔ بہرحال جمیل نامی بے شمار لوگوں سے ملا لیکن اُن میں سے کوئی ایک بھی وہ نہیں تھا جس کے متعلق بچپن سے سنتا چلا آیا تھا بالآخر دانشور وجاہت مسعود کام آئے اور میرا وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لئے کہا ’’جس جمیل کو آپ ڈھونڈ رہے ہیں یہ کوئی خاص جمیل نہیں ہے، بلکہ یہ وہی جمیل ہے جو خود آپ بھی کئی لوگوں کو پرسہ دیتے ہوئے کہتے چلے آئے ہیں اللہ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے‘‘۔ تاہم میں اس جواب سے زیادہ مطمئن نہیں ہوا کیونکہ میں نے ایک شعر سنا تھا جو آپ بھی سن لیں

ہم نے کیا کیا نہ تیرے ہجر میں محبوب کیا
صبر ایوب کیا کیا، گریۂ یعقوب کیا

اس شعر کے حوالے سے میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ جب صبر کا مشورہ دینے کے لئے حضرت ایوبؑ ایسے پیغمبر کی مثال موجود ہے تو ’’مسنگ پرسن‘‘ کے پرسے کے لئےجمیل کی مثال دینے کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے مواقع پر اللہ تمہیں ’’صبر ایوب‘‘ عطا کرے، بس تو کہا جا سکتا ہے یہ خواہ مخواہ صبر جمیل کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔ بہرحال اب اسے غلط العام سمجھ کر درگزر کریں اور قوم اِس وقت جن پریشانیوں سے گزر رہی ہے صدقِ دل سے دعا کریں کہ اللہ اُسے صبر جمیل عطا کرے۔ صبر جمیل سے کام نہیں بنے گا، اللہ اُسے صبر ایوب عطا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں