7

گیارہویں پارے کا خلاصہ-علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

گیارہویں پارے کا آغاز سورہ توبہ سے ہوتا ہے ۔سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے مہاجر اور انصار صحابہؓ میں سے ایمان پر سبقت لے جانے والے صحابہؓ کا ذکر کیا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہو ااور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی جنتوں کو تیار کر دیا ہے‘ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ مدینہ میں رہنے والے بہت سے لوگ منافق ہیں اور بہت سے لوگ منافقت کی موت مر رہے ہیں؛ اگر چہ رسول اللہ ﷺ ان کو نہیں جانتے تھے ‘مگر اللہ تعالیٰ ان سے اچھی طرح واقف ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ایسے لوگوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں دُگنا عذاب دوں گا ۔
گیارہویں پارے میں اللہ نے ان منا فقین کا ذکر کیا ہے‘ جو بغیر کسی سبب کے جنگِ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ اس سورت میں اللہ تعالی نے اس بات کابھی ذکرکیاہے کہ نیکی کرنے والوں نے اگراللہ کی راہ میں کوئی چھوٹی بڑی رقم خرچ کی یاکسی وادی کوطے کیاتواس عمل کوان کے نامہ اعمال میں لکھ دیاگیاہے ‘تاکہ اللہ تعالی ان کے کاموں کاان کواچھابدلہ عطافرمائے ۔
رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پرصحابہ کرامؓ سے مالی تعاون کاتقاضاکیاتوحضرت عثمانؓ نے سات سواونٹ مع سامان اللہ کے راستے میں خرچ کردیے تھے۔ حضرت عمرؓنے اپنے مال کانصف حصہ اللہ کے راستے میں وقف کردیا‘جبکہ جناب ابوبکر ؓ نے اپنا سارا مال رسول اللہﷺکی خدمت میں پیش کردیا۔ رسول اللہﷺ نے پوچھاگھرمیں کیاچھوڑ کرآئے ہو؟توجناب ابوبکرؓ نے جواب دیا گھرمیں اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی محبت کوچھوڑ کرآیاہوں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا کر لیا ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں‘ اللہ کے دشمنوں کو مارتے ہیں اور خود بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو تے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس تجارت کو انتہائی فائدہ مند تجارت قرار دیا ہے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کے بعض امتیازی اوصاف کا بھی ذکر کیا ہے۔اس سورت کے آخر میں جاکر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی صفات کا ذکرکیا کہ تم میں سے ایک رسول تمہارے پاس آیا جو کہ کافروںپر زبردست ہے‘ مسلمانوں پر لالچ رکھتا ہے کہ وہ جنت میں چلے جائیںاور مومنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس اگر وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کے پیغام سے رو گردانی کر یں تو رسول اللہ ﷺ اعلان فرما دیں کہ میرے لیے اللہ کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘اس پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کیا انسانوں کے لیے یہ تعجب کی بات ہے کہ انہی میں سے ایک مرد پر وحی کو نازل کیا جائے ‘جو اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ان کو ڈرائے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو روشنی عطا کی اور چاند کی منازل کو بھی طے کیا‘ تا کہ تم اس کے ذریعے سالوں اور مہینوں کا حساب لگائو۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ بے شک زمین اور آسمان کی تخلیق اور رات اور دن کے آنے جانے میںاللہ سے ڈر نے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو مخاطب ہو کر کہا کہ اے لوگو !تم تک تمہارے رب کی نصیحت آپہنچی ہے ‘جو شفا ہے‘ سینے کی بیماریوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے لیے۔ اے حبیبﷺ! اعلان فرمائیں‘ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے اہل ایمان کو خوش ہو جانا چاہیے اور یہ قرآن ہر اس چیز سے بہتر ہے‘ جسے تم اکٹھا کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرما دیا کہ ” خبردار اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم‘‘ اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایمان والے اور تقویٰ کو اختیار کرنے والے ہوں گے۔
اس کے بعد سورہ یونس ہے اورسورہ یونس میںاللہ تعالی نے فرعون کاذکرکیاہے کہ اس کے خوف کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لوگ ایمان لانے سے کتراتے تھے ۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت دیکھ کرحضرت موسیٰ ؑنے دعامانگی ”اے ہمارے پروردگار! تونے فرعون اوراس کے مصاحبوں کودنیاکی زینت اورمال عطاکیاہے‘ تاکہ وہ لوگوں کوتیرے راستے سے برگشتہ کرے ۔ اے پروردگار!توان کے مال اوردولت کونیست ونابود فرمااوران کے دلوں کوسخت بناتاکہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں‘ جب تک کہ دردناک عذاب کونہ دیکھ لیں‘‘۔
اللہ نے موسیٰ ؑکی دعاکو قبول فرمالیااورہرطرح کاعذاب دیکھنے کے باوجود بھی فرعون ہدایت کوقبول کرنے پر آمادہ نہ ہوا‘ یہاںتک کہ جب موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے لوگوں کولے کرنکلے تواس نے اپنے لشکرسمیت ان کاتعاقب کیا۔ جب موسیٰ ؑ سمندرکوپارکرگئے تواللہ نے سمندر کی لہروں کوآپس میں ملادیا ۔ فرعون سمندرکے وسط میں غوطے کھانے لگا۔ اس حالت میںفرعون نے پکار کرکہا: ”میں ایمان لایاکہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا کہ جس پربنی اسرائیل ایمان لائے اورمیں فرمانبرداروں میں سے ہوں‘‘۔ اللہ نے فرعون کے ایمان کوقبول کرنے سے انکارکردیا اورکہاکہ کیااب ایمان لائے ہو ؟ اس سے پہلے تک توتوُنافرمانی اور فساد برپاکرنے والوں میں سے تھا۔پس ‘آج ہم تیرے جسم کوسمندرسے نکال لیں گے ‘تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے اللہ کے عذاب کی نشانی بن جائے اور بہت سے لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں ۔اس واقعے سے ہمیں نصیحت حاصل ہوتی ہے کہ انسان کو دنیا اور اقتدار کے نشے میں اندھے ہوکر اپنے انجام اور آخرت کو فراموش نہیں کردینا چاہیے ‘اس لیے کہ اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم یونس ؑ کا بھی ذکر کیا ہے کہ جب یونس ؑاپنی قوم کی نافرمانیوں پر ناراض ہوکر ان کو خیرباد کہہ دیتے ہیں تو وہ اللہ کی بارگاہ میں آکر باجماعت اپنے گناہوں پر معافی مانگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اجتماعی توبہ اور استغفار کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم پر ناراض ہوجائیں اور وہ اللہ کی خوشنودی کے لیے اجتماعی توبہ کاراستہ اختیارکرے ‘تواللہ تعالی اس کی خطاؤں کومعاف کردیتاہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیںبھی اپنی بارگاہ میں آکراجتماعی توبہ کرنے کی توفیق دے‘ تاکہ ہماری اجتماعی مشکلات کاخاتمہ ہوسکے۔ اللہ‘ ہمیں قرآن میں مذکورمضامین سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔(آمین)
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں