250

چلو پارٹی شروع کریں – بلال شوکت

آج صبح خبر سننے پڑھنے کو ملی کہ نیوزی لینڈ کے شہر چرچ کرائسٹ میں دو مساجد پر چار جنونی اشخاص نے مسلحہ حملہ کیا اور لگ بھگ 49 مسلمان نمازیوں کو شہید اور 50 کو شدید زخمی کردیا۔ یہ بات کسی اچنبھے سے کم نہیں کہ قاتل نے سارے واقعہ کی سوشل میڈیا پر لائیو سٹریمنگ بھی کی۔ ساری قتل و غارت سے پہلے بالکل گرینڈ ٹھیفٹ آٹو, پب جی اور دیگر اس طرح کی گیمز کی طرح کا حلیہ بنایا اور یہ بول کر قتل عام شروع کیا کہ “چلو پارٹی شروع کریں۔”

اس واقعے میں چاروں حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں مرکزی ملزم “برینٹن ٹیرنٹ” ہے, جس کی عمر 28 سال اور آسٹریلیا کا شہری ہے۔

حکام کے مطابق “برینٹن ٹیرنٹ” مسلمان اور سیاہ فام مخالف اور انتہاپسند مسیحی گروہ (Ku Klan Klax) کا کارندہ ہے جس نے ناروے کے دہشت گرد “اینڈرز بریوک” سے متاثر ہو کر دہشت گردی کی یہ ہولناک واردات سرانجام دی۔ بریوک نے 2011ء میں ناروے میں فائرنگ کرکے 85 افراد کو ہلاک کیا تھا۔

کتنے دکھ اور تکلیف کی بات ہے کہ مسلمان کا خون اب اس قدر سستا اور بے مول ہوچکا ہے کہ جس کا دل کرے وہ اس خون کی ہولی منالے, پارٹی کہہ کر لاشیں گرادے۔ خیر باتیں، وہ بھی جلی کٹی جتنی مرضی کرلیں اور سنا لیں پر وہ پھر بھی کم ہی رہیں گی اور سب سے اہم بات کہ صرف باتوں سے کچھ بگڑتا کسی کا تو دنیا کب کی اجڑ چکی ہوتی، لیکن یہاں منہ کے ساتھ ہاتھ چلانا بھی ضروری ہے جو کہ ایک اصول ہے اور اس اصول کو طاغوت تو سمجھ گیا پر ہم بھول گئے۔

جیسا کہ مرکزی ملزم “برینٹن ٹیرنٹ” آسٹریلوی نژاد گورا ہے جس کا تعلق سفید فام یا گوری چمڑی والی شدت پسند تظیم “Ku Klax Klan” سے ہے جو دنیا بھر میں سفید فاموں اور عیسائیوں کے متشدد خیالات کی حفاظت اور ترویج کا کام کرتی ہے۔ یہ ایک مکمل عصبی بنیادوں پر چلنے والی تنظیم ہے جس کی جڑیں اندرون خانہ فری میسن اور الیومناٹی سے بھی منسلک ہیں کہیں نا کہیں۔ یہ بھی غور طلب بات ہے کہ یہ “Ku Klax Klan” دراصل ان وائکنگز، گوتھکس، فرینکس، نائٹ ٹیمپلرز، پوٹوکی اور صلیبی قبیلہِ متشدد و مذہبی جنونی عیسائیوں کی باقیات ہے جن کو چھٹی عیسویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی تک مسلمانوں سے مختلف نوعیت کی شکستوں سے دوچار ہونا پڑا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ یہ ایک سفید فام صلیبی اور صہیونی جماعت ہے جن کا خود اپنے ہم مذہب مگر مخالف فرقے رومن کیتھولک اور یہودیت سے بھی جھگڑا ہے اور ان کو کنٹرول کرنے والے اور کوئی نہیں بلکہ خفیہ معاشرے والے “اشکنازی” ہیں جنہیں آج ہم عرف عام میں “فری میسن” کے نام سے جانتے ہیں۔

اب آتے ہیں آج والے واقعے پر، جو کہ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا واقعہ ہے جس کو قوم اور حکومت دہشت گردی کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دستیاب معلومات کی روشنی میں یہ حملہ سوشل میڈیا پر لائیو آن ایئر کیا گیا اور اس کا کم سے کم دورانیہ سترہ سے پچیس منٹ نوٹ کیا گیا ہے اب تک، جس کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ سوالیہ نشان یہ ہیں کہ اتنا لمبا دورانیہ حملے کا رہا جبکہ کسی ایجنسی نے ریسپانس نہیں دیا، نیوزی لینڈ سے تو پھر پاکستان کی پولیس بہتر ہے جو اتنے عرصے میں بندے پھڑکا کر دو دفعہ جائے واردات گھوم کر تھانے آجاتی ہے۔

پھر اس بات کو کس طرح رد کریں کہ یہ ایک سوچی سمجھی اور خطرناک سازش تھی جس کو باقاعدہ پلان کر کے انجام دیا گیا اور جس کی خبر دو دن قبل قاتل خود فیس بک پر سٹیٹس ڈال کر دے چکا تھا۔ سب سے اہم یہ کہ نیوزی لینڈ کے حملہ آوروں سے برآمد ہونے والے اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹوں کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں، ان پر انہوں نے ماضی میں مسلمانوں اور عیسائی ریاستوں کے درمیان ہونے والی صلیبی جنگوں اور ان جنگوں کو لڑنے والے جنونی صلیبی جنگجوؤں اور بادشاہوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر جنگیں وہ تھیں جن میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اس کے علاوہ دور حاضر کے ان جنونی صلیبی دہشتگردوں کے نام بھی درج تھے جنہوں نے گزشتہ دس سالوں میں مسلمانوں اور سیاہ فاموں کو قتل کرکے اس تنظیم کے لیئے کارنامے انجام دیئے تھے۔ درج ذیل وہ چند نام، واقعات اور تاریخیں ہیں جو ان صلیبی دہشت گردوں کے اسلحے اور بلٹ پروف جیکٹوں پر درج تھے۔

اب آپ کو میں ان کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہوں جسے جان کر ایک بار آپ ضرور حیران اور پریشان ہوں گے کہ ہمیں ہماری تاریخ پڑھنے اور اس کو ازبر کرنے پر دیسی لبرلز کی طعنہ زنی ختم نہیں ہوتی کہ یہ نسیم حجازی اور عنایت اللہ کے گھوڑوں پر سوار قوم ہے جو مطالعہ پاکستان پڑھ کر ہر کسی پر چڑھ دوڑنے کو تیار رہتی ہے، پر درحقیقت دنیا اور بلخصوص یہود و ہنود اور عیسائی ہمارے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں اور کس قدر ہم سے تاریخ پڑھ کر نفرت کرتے ہیں، یہ آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں۔ ایک نکتہ بتاتا چلوں تفصیل سے پہلے کہ یہ صرف وہ عبارتیں اور نام ہیں جو میں باریک بینی سے پڑھ کر تحقیق کر سکا ورنہ جو سمجھ میں نہیں آئے، وہ الفاظ بھی کم نہیں، اور یہ کہ ان سب درج الفاظ کی تاریخ چھٹی صدی سے اکیسویں صدی تک ہے جو کہ اس بات کی گواہ ہے کہ ان چاروں حملہ آوروں کا دماغی توازن تو درست تھا مگر نظریاتی توازن درست نہیں تھا۔

خیر پہلے نام کی تفصیل سے بات آگے بڑھاتے ہیں۔

1-Anton Lundin Petterson
22 اکتوبر 2015ء کو 21 سالہ Anton Lundin Petterson مسلح کاروائی کرنے کی غرض سے Kronan School in Trollhättan, Sweden میں داخل ہوتا ہے۔ وہ ایک اسسٹنٹ ٹیچر قتل اور ایک طالب علم کو شدید زخمی کرتا ہے جبکہ ایک اور طالب علم اور استاد کو خنجر کے وار سے زخمی کرتا ہے جس میں سے استاد بعد میں جانبر نہیں ہوتا اور چھ ہفتے بعد 3 دسمبر کو جاں بحق ہوجاتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ سویڈن میں بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ درج ہوتا ہے۔ 2015ء میں ٹھیک 1961ء کے بعد، ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جس علاقے میں وہ اسکول واقع تھا، جہاں اس دہشت گرد نے حملہ کرکے دو لوگ قتل اور کل چھ افراد کو زخمی کیا، وہ مہاجرین کی بستیوں سے گھرا علاقہ تھا۔

2-Alexandre Bissonnette
کینیڈا کے شہر کیوبک سٹی میں 29 جنوری 2019ء کی شام مسجد پر حملہ کرنے والا ایک اور صلیبی دہشت گرد Alexandre Bissonnette جس پر بڑے پیمانے پر قتل عام (6 نمازی جاں بحق اور انیس زخمی ہوئے) ثابت ہوا اور اس کو کینیڈا کے وزیرآعظم جسٹن ٹرینڈو کی مداخلت سے کرمنل لاء کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ اس پر دہشت گردی ایکٹ لاگو ہونا چاہیے تھا۔ اس کو 8 فروری 2018ء کو چالیس سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی بغیر پیرول کی گنجائش کے لیکن اس دہشت گرد نے 8 مارچ 2018ء کو اس سزا کے خلاف اپیل درج کی۔

3-Odo The Great
اوڈو یا یوڈو Odo the Great (also called Eudes or Eudo) بھی آٹھویں صدی کے اوائل کا ہسپانوی جنگجو اور بادشاہ گزرا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے 721 میں پہلی دفعہ بنو امیہ کو پیچھے دھکیلا سپین کی سرزمین پر، اسی وجہ سے اس کو Odo The Great کہا اور لکھا جاتا ہے۔ یہ 735ء میں مرا تھا۔

4-Tour 732AD
معرکہ بلاط الشہداء، حملہ آور نے اپنی بندوق پر لکھا (Tours 732) اس نے دراصل Battle of Tours کا حوالہ دیا جسے عربی میں معرکہ بلاط الشہداء کہا جاتا ہے۔ معرکہ بلاط الشہداء اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی 15 اہم جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ 10 اکتوبر 732ء میں فرانس کے شہر ٹورز کے قریب لڑی گئی جس میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

اندلس کے حاکم امیر عبد الرحمٰن نے 70 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج کے ذریعے اپنی پڑوسی عیسائی ریاست فرانس پر حملہ کیا تھا۔ مسلمانوں نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے فرانس کے علاقوں غال، وادی رہون، ارلس اور دبورڈیکس پر قبضہ کرلیا۔ مسلمانوں کی کامیابی سے مسیحی دنیا خوف زدہ ہوگئی۔ فرانس کے بادشاہ نے دیگر عیسائی ممالک سے مدد طلب کی تو انہوں نے امدادی فوجیں روانہ کیں۔ توغ کے قریب دونوں افواج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی۔ مسیحیوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اس کے باوجود وہ بہت بہادری سے لڑے۔ 10 روز تک جنگ کے بعد مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اگر مسلمان یہ جنگ جیتے تو آج یورپ سمیت پوری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔

مشہور مورخ ایڈورڈ گبن نے اپنی معرکہ آرا تاریخ “تاریخ زوال روما” میں لکھا ’’عرب بحری بیڑا بغیر لڑے ہوئے ٹیمز کے دہانے پر آ کھڑا ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ آج آکسفورڈ میں قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا اور اس کے میناروں سے پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کی تقدیس بیان کی جا رہی ہوتی‘‘۔

5-Skanderbeg
اصل نام George Castriot (Albanian: Gjergj Kastrioti, 6 May 1405 – 17 January 1468) اور معروف نام سکندر بیگ ہے, البانی رئیس اور عسکری کمانڈر تھا۔ ایک لمبا عرصہ 1443 سے 1447 تک ترک خلافت کا حصہ اور وفادار رہا لیکن بعد میں باغی ہو گیا اور پھر البانیہ اور مقدونیہ کی ریاست پر قابض ہوکر مرتے دم تک وہاں حکومت کرتا رہا۔ اس کی تاریخ خاصی دلچسپ اور لمبی ہے پر مختصر یہ کہ یہ اولین صلیبی دستوں میں بطور سپہ سالار رہا اور پوپ کے جھنڈے تلے مسلمانوں سے جنگیں لڑی اور خاصا نقصان پہنچایا۔

6-Charles Martel
ایک صیلبی حملہ آور نے اپنے اسلحے پر “چارلس مارٹل” Charles Martel کا نام بھی لکھا تھا جو دراصل فرانس کا کیتھولک حکمران تھا جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسیحی افواج کی قیادت کی تھی اور مسلمانوں کو شکست دی تھی۔

7-Fourteen Words or 14#1488
فورٹین ورڈز, 14 یا 14/88 اس سلوگن کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نسل پرستی کی عظیم اور نایاب مثال مانا جاتا ہے، جو کہ یہ ہے “We must secure the existence of our people and a future for white children,” جو عام طور پر ان الفاظ کے ساتھ خاصا مشہور ہے کہ “Because the beauty of the White Aryan woman must not perish from the earth.”

یہ نسلی تفاخر پر مبنی سلوگن دراصل ڈیوڈ لین کی اختراع تھی جو دنیا میں پہلی سفید فام دہشتگرد تنظیم Order کا بانی تھا۔ ڈیوڈ لین سفید فام متشدد صلیبیوں میں بہت عزت اور احترام رکھتا ہے آج کی تاریخ تک اور اس کا 14 ورڈ پریس مقولہ خاصا اہمیت اور شہرت رکھتا ہے Ku Klax Klan اور اس کی ذیلی سفید فام اور نسل پرست تنظیموں میں۔

8-Clavijo 844AD
ہسپانوی تاریخ میں Clavijo 844AD کو بہت اہمیت حاصل ہے, یہ وہاں کے کلچر میں مکمل داستان کی صورت اہمیت رکھتا ہے جس کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ یہ ایک مذہبی جنگ تھی، صلیبیوں اور مسلمانوں کے مابین، جس میں ظاہر سی بات ہے کہ صلیبی کامیاب اور مسلمان بدترین ہار کا شکار ہوئے۔ اس جنگ کا زمانہ 844 درج ہے، پر اس کی حقیقت خاصی ڈرامیٹک ہے جس کی وجہ سے اس کو ماورائی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔

9-Bragadine
صلیبی جنگجوؤں نے حو لباس زیب تن کرکے مسلمانوں کے خلاف سبھی صلیبی جنگیں لڑیں، وہ Bragadine کہلاتا ہے جس کی تیاری میں دھات اور کپڑے کا استعمال ہوتا تھا اور جو بظاہر محفوظ ذرہ بکتر لگتی تھی، یہ لباس عیسائی عوام میں عزت و احترام رکھتا تھا کہ اسے مذہبی جنونی المعروف صلیبی زیب تن کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام فوبیا اب حد سے بڑھ کر دہشت گردی میں تبدیل ہوگیا ہے – رجب طیب ایردوان
10-Palayur Church
ایک حملہ آور کی میگزین پر درج یہ نام Palayur Church بھی بہت دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ عیسائی مورخین دعوی کرتے ہیں کہ یہ 52 عیسویں صدی میں ایک سینٹ تھامس نے کیرالہ جنوبی ہند میں لمبے سفر کے بعد پہنچ کر خود بنائی تاکہ عیسائیت کی تبلیغ دور دراز علاقوں تک پہنچ سکے۔

11-Vienna 1683AD
ایک حملہ آور نے اپنی بندوق کے میگزین پر ویانا 1683 بھی لکھا تھا، اس نے دراصل جنگ ویانا کا حوالہ دیا تھا۔ 1683ء میں یہ صلیبی جنگ خلاف عثمانیہ اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کے دسویں عظیم فرمانروا سلیمان عالیشان کے دور میں مسلمان فوج نے 1529ء میں آسٹریا کے دار الحکومت ویانا کا محاصرہ کرلیا۔ موسم، راستوں کی خرابی اور رسد کی کمی کی وجہ سے محاصرہ بے نتیجہ رہا اور سلطان کو واپس آنا پڑا، لیکن یورپ کے وسط تک مسلمانوں کے قدم پہنچنے کے باعث ان کی اہل یورپ پر بڑی دھاک بیٹھ گئی۔

ویانا کا دوسرا محاصرہ 1683ء میں سلطان محمد چہارم کے دور میں ہوا جس کی قیادت ترک صدر اعظم قرہ مصطفٰی پاشا نے کی۔ دوسرے محاصرے میں مسلمانوں کو قرہ مصطفٰی پاشا کی نااہلی کے باعث جنگ میں بدترین شکست ہوئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی وسطی یورپ میں ان کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے رک گئی بلکہ یہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

12-Acre 1189AD
وادی عکرہ یا عکہ اور صلیبیوں کی شدید پٹائی کا ذکر تو تاریخ میں جب تک درج ہے ان کی تکلیف اسی طرح نکلتی رہے گی۔ جی ہاں آج والے دہشت گردی کے واقعہ میں صلیبی اس تکلیف کا ازالہ کرنے ہی آئے تھے، لہذا اپنے اسلحے پر اسے بھی درج کیا اور مسلمانوں کو پیغام دیا کہ جو حشر صلاح الدین ایوبی نے ہمارا کیا وہ اب تمہارا ہم کریں گے۔ بے شک ہم بھول گئے پر وہ نہیں بھولے، کہتے ہیں کہ یہ وہ جنگ تھی جو صلیبیوں نے خود چھیڑی تھی مسلمانوں کے خلاف، مطلب ایوبی کے خلاف فیصلہ کن محاذ سمجھ کر اور یہیں ان کی بدترین ہار ان کے گلے لگی اور یروشلم ہاتھ سے نکلنے کا جواز بنا۔
اس کی تفصیل آپ کو داستان ایمان فروشوں کی میں پڑھنے کو مل جائے گی۔

13-Sigismund
یہ وہ کردار ہے جو پندرہویں صدی میں سامنے آیا، جس کی تاریخ میں دو مسیح مسالک کی جنگ درج ہے، جس میں اس نے خاصا اہم کردار ادا کیا تھا، جنگ میں کیتھولک عیسائی مسلک کی جانب سے۔ مزید جاننا ہو تو تحقیق کرلیں پر یہ عیسائیت میں ایک ہیروئیک کردار کے طور پر جانا جاتا ہے، تبھی آج والے صلیبی دہشت گردوں نے اسلحے پر اس کا نام درج کیا۔

14-Feliks Kazimierz “Szczęsny” Potocki
یہ کردار بھی ویانا والی جنگی مہم میں موجود تھا اور اس کی دھاک عیسائی عوام میں تبھی بیٹھی جب متحدہ صلیبی افواج نے ترک افواج کو پیچھے دھکیلا اور سامنا کیا۔ یہ مشہور یورپی شاہی قبیلے پوٹوکی کا چشم و چراغ تھا اور کٹر صلیبی اور سفید فام تھا اس لیے آج تک صلیبی انتہا پسندوں کا چہیتا ہے۔

15-Marcantonio Colonna
ایک اور صلیبی حملہ آور نے جیکٹ پر Marcantonio Colonna لکھا تھا۔یہ بھی اطالوی بحری فوج کا کمانڈر تھا جس نے جنگ لیپانٹو میں حصہ لیا تھا اور اس جنگ سے خاصا مشہور ہو کر صلیبیوں کا تاحیات ہیرو بن گیا۔

16-Sebastiano Venier
ایک اور صلیبی حملہ آور نے اپنی بلٹ پروف جیکٹ پر دوسری عبارت لکھی ’sebastiano venier‘ ۔ “سباستیانو وینئر” اطالوی کمانڈر تھا جس نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لیپانٹو میں اطالوی دستے کی قیادت کی تھی۔

جنگ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو یورپ کے مسیحی ممالک کے اتحاد اور خلافت عثمانیہ کے درمیان لڑی جانے والی ایک بحری جنگ تھی جس میں مسیحی اتحادی افواج کو کامیابی نصیب ہوئی۔ مسیحی فوج میں اسپین، جمہوریہ وینس، پاپائی ریاستیں، جینوا، ڈچ آف سیوائے اور مالٹا کے بحری بیڑے شامل تھے۔ یہ معرکہ یونان کے مغربی حصے میں خلیج پطرس میں پیش آیا جہاں عثمانی افواج کا ٹکراؤ عیسائی اتحاد کے بحری بیڑے سے ہوا جس میں انھیں شکست ہوئی۔

یہ بھی دنیا کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ یہ 15 ویں صدی کے بعد کسی بھی بڑی بحری جنگ میں عثمانیوں کی پہلی اور بہت بڑی شکست تھی جس میں عثمانی اپنے تقریباً پورے بحری بیڑے سے محروم ہو گئے۔ اس جنگ میں ترکوں کے 80 جہاز تباہ ہوئے اور 130 عیسائیوں کے قبضے میں چلے گئے جبکہ 15 ہزار ترک شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے، اس کے مقابلے میں 8 ہزار اتحادی ہلاک اور ان کے 17 جہاز تباہ ہوئے۔

الغرض یہ درج نام، عبارتیں اور تاریخیں چیخ چیخ کر دنیا کو باور کروا رہی ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مخصوص مذہب نہیں ہوتا اور دنیا واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے تو اس میں سبھی طرح کے متشدد اور انتہا پسند گروپس کے خلاف یکساں کارروائی کرے، ورنہ صرف مسلمانوں کی نسل کشی کرنی اور ان کا مستقبل تاریک کرنا ہے تو اپنے پرکھوں کی طرح باقاعدہ صلیبی جنگوں کا اعلان کرے۔

تفصیل تو ابھی میں اور بھی بتاتا لیکن تحریر کی طوالت کو محسوس کر کے اسی پر اکتفاء کررہا ہوں اور جاتے جاتے بتاتا چلوں کہ جو جو اس صلیبی دہشت گردی کو جائز قرار دینے کا جواز مسلم فوبیا بیان کریں گے یا کر رہے ہیں، وہ درپردہ خفیہ معاشرے اور نسل پرست و متشدد مذہبی تنظیم کے رکن ہیں۔ مسلمانوں کو کتنی تکلیف ہوئی، اس کا اندازہ او آئی سی کی پراسرار خاموشی سے ہوگیا۔ اور یہ جملہ کہ “چلو پارٹی شروع کریں” ہماری اوقات بتا اور سمجھا گیا، اگر سمجھیں تو۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے اور ہدایت سے سرفراز کرے۔
بشکریہ دلیل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں