45

اب بتائیں! دہشت گرد کون؟؟-کارزار/ انور غازی

یہ پرامن ترین ملک نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والوں کی بدترین دہشت گردی ہے۔ 2 مساجد میں نماز جمعہ سے قبل سفید فام مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے49 نمازیوں کوشہید اور 20سے زائد کو زخمی کردیا ہے۔ فوجی وردی میں ملبوس ایک مسلح جنونی شخص نے ہیگلے پارک کے قریب ڈینزایونیو کی النور مسجد میں ایک بجکر 40 منٹ پر داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی اور اس کی لائیو ویڈیو بھی بناتا رہا جو کہ سوشل میڈیا پر وائر ہوچکی ہے۔

قارئین! مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کی یہ پہلی دہشت گردی نہیں ہے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ یاد کریں! 6 نومبر 2017ءکو امریکی ریاست ٹیکساس میں دہشت گردی کا خوفناک واقعہ سامنے آیا تھا۔ ٹیکساس کے پٹسٹ چرچ میں دن ساڑھے گیارہ بجے لوگ مذہبی رسومات میں مصروف تھے۔ ایک مسلح شخص چرچ میں داخل ہوا اور اس نے مذہبی رسومات میں مگن نہتے لوگوں پر فائر کھول دیا۔ فائرنگ سے ایک بچے سمیت 27امریکی ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔یہ حملہ آور کون تھا؟

یہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں تھا بلکہ امریکا کا اپنا ہی ریٹائرڈ فوجی شہری تھا۔ اس واقعے سے صرف پانچ دن پہلے یکم نومبر 2017ءکو امریکی شہر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں دہشت گردی کا ایک اور واقعہ پیش آیا تھا۔ سیف اللہ سائپوف نے پہلے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر ماری۔ پھرسائیکل سواروں پر ٹرک چڑھا دیا۔سائیکل سواروں کو روندنے کے بعد اس نے ٹرک کو سکول بس سے جا ٹکرایا اور اس کے بعد ٹرک سے باہر نکل کر فائرنگ شروع کر دی۔ اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔

اس سے پہلے 2 اکتوبر 2017ءکو امریکی شہر لاس ویگاس میں میوزک کنسرٹ ”منڈالے بے“ میں فائرنگ ہوئی اور اس فائرنگ کے نتیجے میں 58 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ آوراسٹیفن پیڈووک تھا۔ اس کا تعلق نیواڈا سے تھا۔ یہ رئیل سٹیٹ کا بزنس مین تھا اور امریکی شہری تھا۔ 14 ستمبرکو 2017ءامریکی ریاست واشنگٹن کے علاقے اسپوکین کے فری مین ہائی سکول میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب علم ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ یہ حملہ آور کلیب شارب بھی گرفتار ہوا اور یہ بھی امریکی شہری تھا۔

آپ کو یاد ہوگا 14 جون 2017ءکو امریکی ریاست فلوریڈا کے جنوبی شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 50سے زائد افراد ہلاک اور 53سے زائد زخمی ہوئے۔ امریکا و یورپ میں پے درپے دہشت گردی کے یہ واقعات اور ان واقعات میں امریکی شہریوں کی شناخت ہونا فکر انگیز نکتہ ہے۔ وہ امریکا جو پوری مسلم امہ کو دہشت گرد،انتہا پسند اور شدت پسند کے القابات سے نوازتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی یا اس نوعیت کا کوئی واقعہ ہو اس کے تانے بانے مسلمانوں سے جوڑے جاتے ہیں، مگر سوال یہ ہے امریکا و یورپ میں ان پے درپے دہشت گرد حملوں میں امریکیوں کی شناخت کے باوجود امریکی دہشت گرد کیوں نہیں؟

وہ امریکا دہشت گرد کیوں نہیں جس نے عراق میں جوہری ہتھیاروں کا جواز گڑھ کرلاکھوں عراقیوں کو تہ تیغ کردیا۔وہ امریکا دہشت گرد کیوں نہیں جس نے ایک شخص اسامہ بن لادن کی تلاش کا بہانہ بنا کرلاکھوں معصوم افغانوںکوگاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ وہ امریکا دہشت گرد کیوں نہیں جس نے سرزمین شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں جانوں کو فضا میں تحلیل کر دیا۔ وہ امریکا دہشت گرد کیوں نہیں جس کا چہیتا اسرائیل روزانہ فلسطینیوں کے سر کاٹ رہا ہے۔وہ امریکا دہشت گرد کیوں نہیں جو چیچنیا اور برما کے مسلمانوں کے بہتے خون ناحق پر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔

وہ امریکا دہشت گرد کیوں نہیں جو اپنے لے پالک بھارت کے ذریعے کشمیر میں آزادی کے متوالوں کی گردنیں اڑا رہا ہے۔ اب ہم ماضی بعید کے اوراق سے چند حقائق آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ 1881 میں روس کے سر الیگزینڈر دوئم کو قتل کرنیوالا Ignus ایک عیسائی دہشت گرد تنظیم کا رکن تھا۔6 ستمبر 1901کو امریکی صدر ولیم کو کسی مسلمان نے نہیں ایک عیسائی نے قتل کیا۔ امریکی صدر کینیڈی اور صدر ریگن کا قاتل بھی مسلمان نہیں تھے یکم اکتوبر 1910 میں لاس اینجلس ٹائمز اخبار پر حملہ ہوا۔ 21 لوگ لقمہ اجل بن گئے۔

ذمہ داری جیمز اور جوزف نے قبول کی اور یہ بھی عیسائی تھے۔28 جون 1914 کو بوسنیا کے ایک سرب غیر مسلم نے آسٹریا کے ڈیوک کو قتل کر ڈالا۔یہی واقعہ پہلی جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہوااور پھر لاکھوں لوگ اس جنگ کی نذر ہو گئے۔اس قتل و غارت گری میں بھی کوئی مسلمان ملوث نہیں تھا۔16 اکتوبر 1925کو بلگیریا میں ایک چرچ پر غیر مسلم کمیونسٹ پارٹی نے حملہ کر دیااور 105 لوگ مارے گئے۔9 اکتوبر 1934کو یوگوسلاویہ کے بادشاہ الیگزینڈر کو قتل کرنے والا Lada بھی مسلمان نہیں غیر مسلم تھا۔1968 میں گوئٹے مالا کے سفیر کا قاتل بھی ایک عیسائی تھا۔1969 میں برازیل کے سفیر کو قتل کرنے والے بھی مسلمان نہیں تھے۔1995 میں دو دہشت گردوں ٹیموتھی اور ٹیری نے اوکلوہامامیں بارود سے بھرا ہوا ٹرک ایک عمارت سے ٹکرادیا۔ 166 لوگ ہلاک ہوئے اور ظاہر ہے یہ دونوں دہشت گرد بھی مسلمان نہیں تھے۔22جولائی 1946ءکو کنگ ڈیوڈ ہوٹل پر حملہ ہوا۔ 91 لوگ مارے گئے۔

مورودالزام اسرائیلی وزیر اعظم بیگن ٹھہرااور اسے بعدازاں نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں عیسائی ہٹلر نے یہودیوں کوتہ تیغ کیا۔ ہولوکاسٹ کی یہ تاریخ بھی گواہ ہے کہ دہشت گرد مسلمان نہیں تھے۔ جاپان کی بدھ مذہب کو ماننے والی فوج نے بہت سارے لوگ زیر زمین ریلوے سٹیشنوں پر گیس سے مار دیئے۔ دہشت گرد مسلمان نہیں تھے۔آئر لینڈ کے گوریلوں نے ایک سو سال سے زائدبرطانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجائے رکھی۔ بہت سے دھماکے کیے۔

یہ بھی مسلمان نہیں عیسائی دہشت گرد تھے۔سری لنکا کے تامل گوریلوں نے بھارت کی بدنام زمانہ ایجنسی را کی مدد سے سری لنکا میں خودکش حملے کر کے سری لنکا میں خون کی نہری بہا دیں۔ یہ تمام دہشت گرد بھی مسلمان نہیںہندو تھے۔ 5 جون 1984 کو ہندوستان کی حکومت نے سکھوں کے گولڈن ٹمپل پر حملہ کیا۔ ایک سو سے زائد سکھ مارے گئے۔ بدلے میں سکھوں نے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو قتل کر دیا۔ اس دہشت گردی میں بھی کوئی مسلمان ملوث نہیں تھا۔بھارت میں عیسائی دہشت گرد تنظیم ATTF قتل و غارت کرتی ہے۔

نیشنل لبریشن فرنٹ تری پورہ نے ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا۔آسام کی دہشت گرد تنظیم ULFA نے 1999ءسے لے کر 2006ءتک 749 دہشت گردی کی وارداتوں کی مرتکب ہوئی۔ بھارت کے 600 اضلاع میں آج بھی ماﺅنواز باغی متحرک ہیں۔ یہ سب غیر مسلمان ہیں۔ آپ خود ہی فیصلہ کرلیںسٹالن نے 15 لاکھ سے زائد لوگوں کو قتل کیا۔ماو¿زے تنگ نے قریباً 20 لاکھ افراد کا گلہ کاٹا۔ مسولینی کے ہاتھوں 4 لاکھ لوگ تہ تیغ ہوئے۔ اشوکا نے 40 ہزار مسلمان قتل کیے اور جارج بش نے 5 لاکھ عراقیوں کے چیتھڑے اڑا دئیے مگر اس کے باوجود مسلمان اور مسلم ممالک ہی دہشت گرد ہیں۔

آپ ان حقائق کو دیکھیں اور اس کے بعد اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا مسلمان دہشت گرد ہیں۔ عیسائی، یہودی اور ہندو جن کے مظالم سے تاریخ اوراق لہولہان ہیں کیا وہ امن پسند اور تہذیب یافتہ ہیں۔ حقائق کی اس کوکھ میں جھانکیں تو یوں محسوس ہوتا ہے پوری دنیا میں مسلمان مظلوم اور غیر مسلم ظالم ہیں۔ مسلمانوں کی طرف سے جو اکا دکا دہشت گردی کے جو واقعات سامنے آتے ہیں یہ انہی مظالم کا ردعمل ہیں۔ دینِ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے اور امن و امان کی ہی تعلیم دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں