52

یوم حقوق نسواں پر عورتوں کا مؤثر ترین ابلاغ-اویس احمد

-آٹھ مارچ کو پاکستان میں عورتیں گھروں سے نکلیں اور کمال کر دیا۔ یہ عورتوں کے حقوق کا عالمی دن تھا۔ ہر سال یہ دن اسی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ گذشتہ برس آٹھ مارچ کے دن پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی مہم نے ایک نئی کروٹ لی جب دو مختلف انداز کے نعروں نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ نعرے ”اپنا کھانا خود گرم کرو“ اور ”میرا جسم میری مرضی“ تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ نعرے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے۔ بیشتر مردوں نے جارحانہ طور پر ان نعروں کی مذمت کی تو عورتیں بھی خم ٹھونک کر ان نعروں کا دفاع کرنے پر اتر آئیں اور پھر گویا ایک جنگ چھڑ گئی۔ کافی دن تک یہ بحث چلتی رہی اور پھر بغیر کسی انجام تک پہنچے ختم ہو گئی کیونکہ مارکیٹ میں نئے مسائل آ چکے تھے۔

اس مرتبہ آٹھ مارچ کو نئے پاکستان میں عورتوں نے آزادی مارچ کا انعقاد کر ڈالا اور ”لے کر رہیں گے آزادی“ کے سلوگن کے تحت اجتماعات منعقد کیے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب بھی اسے کسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اتنی ہی شدت سے ابھر کر سامنے آتا ہے۔ گذشتہ برس کے دو نعروں پر آنے والے ردعمل کے بعد اس برس عورتوں نے مزید نعرے مارکیٹ میں متعارف کروا دیے۔ اس مرتبہ کے نعرے گذشتہ برس کی نسبت نہ صرف بے باکانہ بالکہ جارحانہ بھی تھے۔ اور امید کے عین مطابق ان نعروں کو لے کر ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔

گذشتہ برس کی طرح اس برس بھی بحث کا رخ ان نعرے نما مطالبات کی مخالفت اور دفاع کی جانب ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ سوچنے کی زحمت کم لوگ ہی کر رہے ہیں کہ آخر عورتوں کو یہ نعرے کیوں لگانے پڑ رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر نعرے کا کوئی نا کوئی پس منظر ہوتا ہے اور اسی پس منظر کو پیش منظر تک لانے کے لیے مؤثر ترین ابلاغ نہایت اہم ہے اور اس مرتبہ عورتیں یہ مؤثر ترین ابلاغ اپنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔

عورتوں کے آزادی مارچ کے نعروں کی گونچ اب فضا میں پھیل رہی ہے۔ گذشتہ برس تک یہ نعرے صرف سوشل میڈیا کی حد تک رہے تھے۔ اس مرتبہ یہ نعرے پاکستان کے مین اسٹریم الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا تک بھی جا پہنچے ہیں۔ حسب توفیق لوگ نعروں کی تائید اور مذمت کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں عورتیں مردوں کو آڑے ہاتھوں لیتی دکھائی دیتی ہیں جو ان مطالبات کی گہرائی کو سمجھنے کی بجائے محض سطحی طور پر مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔

ایک اہم سوال جس کی طرف دھیان کم کم ہی جا رہا ہے یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ کیا اب مردوں اور عورتوں کے مابین کھلی لڑائی والی صورت حال پیدا ہونے جا رہی ہے یا سنجیدگی سے مسائل کے حل کی تلاش میں شانہ بشانہ ساتھ چلنے کا عزم پیدا کیا جا رہا ہے؟

گذشتہ برس میں نے اپنے ایک بلاگ ”عورتیں بھی کم عمر لڑکوں کو ہراساں کرتی ہیں“ میں اسی موضوع کو چھیڑا تھا۔ اب بھی میں اپنی اسی بات پر قائم ہوں کہ عورتوں کی آزادی کی بنیادیں مردوں کی تذلیل کی بنیاد پر نہیں رکھی جا سکیں گی۔ مرد اور عورت دونوں کو یہ بات سمجھنا پڑے گی کہ لڑائی جھگڑے، ضد اور انا کے ساتھ مسائل کا حل نہیں نکل سکتا۔ ٹھنڈے دماغ سے اس پر غور کرنا ہوگا۔

مردوں کے لیے بات قابل شرم ہونی چاہیے کہ ان کے ناروا سلوک کی وجہ سے عورتیں اس حد تک مجبور ہو گئی ہیں کہ انہیں کسی لگی لپٹی کے بغیر واشگاف انداز میں اپنی شکایات سامنے لانا پڑیں۔ میری رائے میں یہ عورتوں کی کامیابی سے زیادہ مردوں کی ناکامی ہے۔ بحیثیت ایک مرد میں اس بات کا قائل ہوں کہ مرد کی جانب سے عورت کو شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ صنفی امتیاز کی بجائے انسانی مساوات کو مدنظر رکھ کر اگر معاملات چلائے جائیں تو ایسی شکایات کا تناسب کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔

اس سلسلے میں سب سے مؤثر کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنے بچوں کو یہ تربیت دینا ہو گی کہ وہ انسانوں کو عورت اور مرد کی بجائے انسان سمجھ کر معاملات کریں۔ والدین کے ساتھ ساتھ یہ تربیت اسکولوں کے ابتدائی نصاب کا حصہ بنائی جانی چاہیے جہاں انسانی مساوات اور حقوق و فرائض کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔ ہمارا سماجی تانا بانا چالیس برسوں میں بہت بری طرح بکھرا ہے۔ اس کو از سر نو مضبوط کرنا آسان کام نہیں ہے۔

کالم کے آخر میں عورتوں کو آزادی مارچ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات کی امید کرتا ہوں کہ اس برس کا آزادی مارچ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد میں کوئیک مارچ ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں