118

اخلاص خطبہ مسجد الحرم (بیت اللہ)

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی
جمعۃ المبارک 01 رجب المرجب 1440ھ بمطابق 8مارچ 2019ء
عنوان: اخلاص خطبہ مسجد الحرم (بیت اللہ)
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
خطبے میں کی جانے والی باتیں
(1) جو کام اللہ کے لیے ہوتا ہے، وہی باقی رہتا ہے، جبکہ غیر اللہ کے لیے کیے جانے والے کام بے فائدہ رہتے ہیں۔ (2) جو بڑائی جتانے یا دنیا حاصل کرنے کے لیے کوئی کام کرتا ہے، وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ (3) نیکیوں کی قبولیت میں اخلاص اولین شرط ہے۔ (4) اہل اخلاص کو لوگ ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ (5) چند اعمال کا تذکرہ جو اہل اخلاص کے اخلاص کی وجہ سے ہمیشہ یادرکھے گئے۔ (6) اہل علم اور اللہ کی طرف بلانے والوں کو اخلاص اپنانے کی کوشش میں رہنا چاہیے۔
اقتباس
اللہ کے لیے کام کرنے کی برکت یہ ہے کہ
کہ کام کا فائدہ دیر تک باقی رہتا ہے اور اس کا اثر لوگوں میں نظر آتا ہے۔ دیکھیے کہ انبیاء ﷩ کی دعوت میں کتنی برکت تھی۔ ان کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی تھی۔ اسی لیے ان کی دعوت انتہائی نفع بخش ثابت ہوئی۔ اسی طرح اماموں، مصلحین، ہدایت کی راہ پر چلنے والوں اور ہدایت کی راہ دکھانے والوں اور ان کے بعد آنے والوں کی دعوت کی برکات بھی دیکھیے۔ کتنے لوگوں نے ان کی دعوت کی گھنی چھاؤں سے فائدہ اٹھایا اور ان کے صاف اور میٹھے چشمے سے سیراب ہوئے۔
پہلا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے معافی کا سوال کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت عطا فرما دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر اور صحابۂ کرام پر۔
بعدازاں!
ایک ایسا بنیادی قاعدہ کہ جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور اس کا خیال رکھنا چاہیے، وہ بنیادی اصول کہ جو ہر انسان کو معلوم ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ
جو کام اللہ کے لیے ہوتا ہے، اس کا اثر ہمیشہ باقی رہتا ہے اور جو غیر اللہ کے لیے ہوتا ہے، وہ بہت جلدفنا ہو جاتا ہے۔ جو کام اللہ کے لیے ہوتا ہے، اس کی قبولیت کی امید بھی ہوتی ہے، وہ بڑھتا بھی ہے اور اس کا اثر باقی بھی رہتا ہے، جبکہ دوسرے تمام اعمال یقینی طور پر مٹ جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’پھر آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وه شخص، کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو، رکھی ہو۔‘‘ (التوبہ: 109)
، علامہ قرطبی ﷫ فرماتے ہیں:
’’یہ آیت اس چیز پر دلیل ہے کہ جس کام کی ابتدا پرہیز گاری کی نیت سے، صرف رضائے الٰہی کی خاطر اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی جائے گی، وہ کام دیرپا اثر رکھے گا، کرنے والے کو سعادت ملے گی، اللہ کی طرف اٹھایا جائے گا اور اس کےہاں ایک مقام پائے گا۔ ‘‘
آدم کے بیٹوں کے واقعے میں ہمارے لیے بڑی عبرت اور ایک شاندار سبق ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا “میں تجھے مار ڈالوں گا” اس نے جواب دیا “اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔‘‘ (المائدہ: 27)
اب چونکہ ہابیل، اللہ سے ڈرنے والا تھا، اس نے اللہ کے لیے خیرات کی اور اخلاص اپنایا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے قبول بھی کر لیا، جبکہ قابیل سے قبول نہ کیا، کیونکہ وہ پرہیز گار نہ تھا۔ اسی طرح اہل ایمان میں سے سمجھدار لوگوں نے اللہ سے دعائیں کی، تو اللہ نے ان کی دعائیں نقل کرنے کے بعد یہ تبصرہ فرمایا کہ:
’’جواب میں ان کے رب نے فرمایا، میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میر ی راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کر دوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ اُن کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ (آل عمران: 195)
، تو کسی کا عمل ضائع نہیں ہو گا، بلکہ ہر محنتی کو محنت کا صلہ ضرور ملے گا۔ اہل ایمان کو اپنے اعمال پر اور اللہ کی راہ میں ہونے والی محنت کی بہترین جزا ملے گی۔
اس کے برعکس:
جس کی نیت نیک نہ ہو گی، جس کے اعمال غیر اللہ کے لیے ہوں گے اور جس کے اعمال، محنتیں اور نیتیں دنیا کے گرد گھومتی ہوں گی، اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے۔‘‘ (الفرقان: 23)
جو کام بھی غیر اللہ کے لیے ہوتا ہے، نہ وہ فائدہ مند ہوتا ہے اور نہ اس کا اثر دیر پا ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
’’جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔‘‘ (الرعد: 17)
، (صحیح مسلم) میں
سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ
’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دورِ جاہلیت میں ابن جدعان صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھلاتا تھا۔ کیا اسے ان چیزوں کا کوئی فائدہ ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
نہیں وہ کام اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائیں کے۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ
’’اے پروردگار! روزِ جزا میرے گناہ معاف کر دینا!‘‘
، چونکہ وہ کفر پر تھا، اس لیے اسے صدقے، یتیموں کی کفالت، مسکینوں کو خوراک کی فراہمی اور مہمان نوازی کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ کیونکہ اس کا مقصد آخرت نہ تھا، بلکہ وہ تو بس فخر، دکھاوا اور دنیا کی شہرت چاہتا تھا۔ وہ کبھی آخرت کا طلبگار نہیں تھا۔ اس کے لیے اس نے کبھی کچھ نہیں کیا۔ وہ تو قبر سے نکلنے، جنت اور جہنم کو مانتا ہی نہیں تھا۔ اسے دنیا ہی میں اپنی نیکیوں کا صلہ مل گیا تھا۔ لوگوں کی زبانوں پر اس کی تعریف تھی، اس کا ذکر ہر شخص کے منہ میں تھا۔ دنیا میں یہی اس کی جزا ہے اور آخرت میں اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’جو لوگ بس اِسی دنیا کی زندگی اور اس کی خو ش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی (15) مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے۔‘‘ (ہود: 15۔16)
، اس آیت کے الفاظ عام ہیں۔ یعنی دنیا کو اپنا مقصد نہیں بنانا چاہیے اور اس کا خیال ہر چھوٹے اور بڑے کام میں رکھنا چاہیے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘( الشوریٰ: : 20)
، اسی طرح فرمایا:
’’جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں بالآخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا (18) اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی ۔‘‘ (الاسراء:: 18۔19)
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں:
’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
’’روزِ قیامت سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا، وہ شہید ہو گا، اسے بلایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ فرمائے گا:‘‘
ان نعمتوں سے تم نے کیا کیا؟ وہ کہے گا:
’’میں تیری راہ میں لڑتا رہا، یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا‘‘ اللہ فرمائے گا:
تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو اس لیے لڑا تھا کہ لوگ کہیں:
’’فلاں تو بڑا دلیر ہے‘‘ سو لوگوں نے کہا۔
پھر حکم ہو گا اور اسے گھسیٹ کر لیجایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا ہو گا اور وہ اس کی تلاوت کرنے والا ہو گا۔ اسے بلایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ پوچھے گا:
’’ان نعمتوں سے تم نے کیا کیا؟ وہ کہے گا:
تیرے لیے سیکھا اور سکھایا اور تیرے لیے قرآن کی تلاوت کی۔ اللہ فرمائے گا:
تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے اس لیے سیکھا کہ کہا جائے
فلاں تو بڑا عالم ہے۔ سو لوگوں نے کہا۔ تو نے قرآن کی تلاوت کی کہ کہا جائے:
’’وہ تو بڑا قاری ہے‘‘ سو لوگوں نے کہا۔ پھر حکم ہو گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر لیجایا جائے گا اور جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ پھر ایسے شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ نے نوازا ہو گا اور دنیا کے مال کی مختلف قسموں سے نوازا ہو گا۔ اسے بلایا جائے گا اور اللہ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ پوچھے گا:
ان نعمتوں سے تم نے کیا کیا؟ وہ کہے گا:
’’میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں خرچ کرنا تجھے پسند ہو، بلکہ ایسی تمام جگہوں میں تیرے لیے خوب خرچ کیا‘‘ اللہ فرمائے گا:
تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے یہ اس لیے کیا کہ لوگ کہیں:
’’وہ تو بڑا فراخ دل ہے۔‘‘ سو لوگوں نے کہا۔ پھر حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹ کر لیجایا جائے گا اور جہنم میں گرا دیا جائے گا۔‘‘ (اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)،
ان لوگوں نے بظاہر بڑے ہی نیک کام کیے تھے، مگر چونکہ ان کے کاموں میں اخلاص نہیں تھا، ان کا مقصد رضائے الٰہی نہ تھا، بلکہ وہ لوگوں کی تعریف چاہتے تھے تو ان کی محنت ضائع ہو گئی اور ان کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔
اے مسلمانو!
یہ ایک عظیم اصول ہے کہ ’’ جو اللہ کے لیے کیا جائے گا، وہ دیر پا اثر رکھے گا، اور جو غیر اللہ کے لیے کیا جائے گا، وہ بہت جلد مٹ جائے گا ‘‘۔ اس اصول کے تحت بہت ساری چیزیں آ جاتی ہیں۔ جیسے عبادات۔ ہر عبادت اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ ہر عبادت کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہونی چاہیے۔
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’میں سارے شریکوں سے بے نیاز ہوں۔ جو کسی کام میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے، میں اسے اور اس کےشرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘
(اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
(ابن ماجہ) کی روایت میں ہے کہ:
’’تو پھر میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ وہ اسی کے حوالے ہے جس کو وہ میرے ساتھ شریک بناتا ہے۔‘‘
اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کے لیے کیا جائے اور جس کا مقصد اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہو۔‘‘
(اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے)
علامہ ابن الجوزی ﷫ فرماتے ہیں:
’’جب عبادت گزار کا دھیان لوگوں کے دل مائل کرنے کی طرف پھرتا ہے، تب ہی شرک اس کی نیت پر حملہ کرتا ہے، کیونکہ عبادت گزار کو چاہیے کہ وہ صرف اسی پر مطمئن ہو جائے کہ وہ جس کے لیے عبادت کر رہا ہے، وہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
اخلاص میں اس چیز کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ
لوگوں کا دل مائل کرنا، اپنا مقصد نہ بنایا جائے۔ تاہم ایسا غیر ارادی طور پر بھی ہو سکتا ہے، بلکہ انسان کے نا چاہتے ہوئے بھی اس کے دل میں یہ خیال آ سکتا ہے۔ رہی بات اس شخص کی، جو عبادت ہی لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہے، تو اس کی عبادت ضائع ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ کے یہاں تو وہ مقبول نہیں ہوتا اور لوگوں کے یہاں بھی اسے کوئی قبولیت نہیں ملتی، کیونکہ کچھ ہی عرصے بعد لوگوں کے دل اس سے بے زار ہو جاتے ہیں، اس کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور عمر گزر جاتی ہے۔
اے مسلمانو!
ریا کار کی ایک مثال، اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ وہ شخص جو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے، اللہ کے لیے نہیں! بتایا گیا ہے کہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور اس کے خرچ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے یہاں نیکیوں سے خالی پیش ہوتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
’’کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو۔‘‘ (البقرۃ: 266)
اخلاص اپنانے والے کی خوش بختی کے کیا کہنے! اخلاص، نیکیوں کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔ جو اپنی عبادت اللہ کے لیے خاص کر لیتا ہے اور اپنی عبادت کا مقصد اس کا اجر وثواب بنا لیتا ہے، ریا کاری اور طلبِ شہرت سے بچ جاتا ہے اس کا ایمان، ایمانِ کامل بن جاتا ہے۔ صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو اللہ کے لیے دے، اللہ کے لیے روکے، اللہ کے لیے محبت کرے، اللہ کے لیے نفرت کرے، اللہ کے لیے رشتہ دے، اس کا ایمان مکمل ہے۔‘‘
اللہ کے لیے دینے کا معنیٰ یہ ہے کہ
زکوٰۃ ہو یا نفقہ، کفارہ ہو ،صدقہ ہو یا ہدیہ، وہ سب صرف اللہ ہی کے لیے نکالے۔ اللہ کے لیے روکنے معنیٰ یہ ہے کہ
وہ اپنا مال وہاں خرچ نہ کرے جہاں خرچ کرنے سے اللہ نے روکا ہو، تاکہ اللہ راضی ہو جائے۔ روکنے کا مقصد خواہشات کی تکمیل، کنجوسی یا تھڑ دلی نہ۔ اللہ کے لیے محبت اور نفرت کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ
اس کی محبت یا نفرت اسی بنیاد پر ہوتی ہے کہ یہ چیز اللہ سے قریب یا دور کرتی ہے۔ محبت اور نفرت میں نفس کا محرک ختم ہو جاتا ہے۔ وہ صرف ایسے ہی انداز میں محبت یا نفرت کرتا ہے جس سے اللہ راضی ہو جاتا ہے۔ اللہ کے لیے رشتہ دینے کا معنیٰ یہ ہے کہ
وہ اپنی شادی، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں یا ما تحتوں کی شادی نبی اکرم ﷺ کی ہدایات کے مطابق کرتا ہے، اس میں بھی اس کی نیت اللہ کا قرب حاصل کرنا ہی ہوتی ہے۔ جو شخص ایسا ہو، اس کا ایمان مکمل ہے۔ یعنی:
جو اپنی ساری زندگی اللہ کے لیے وقف کر دے، اس کی جزا یہ ہوتی ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہو جاتا ہے۔
ایمانی بھائیو!
مؤمن اپنی ساری عبادتیں اللہ کے لیے خالص کر لیتا ہے اور اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کر لے جس کا فائدہ اس کی موت کے بعد بھی جاری رہے، کوئی ایسا کام نہ کرے جس کا گناہ اسے موت کے بعد بھی ملتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔‘‘ (یٰس:12)
، شیخ سعدی ﷫ فرماتے ہیں:
’’آثار سے مراد یہ ہے کہ ان کے کھاتے میں وہ بھلے یا برے کام بھی لکھے جاتے جن کا اصل محرک اور سبب وہ اپنی زندگی میں یا اپنی موت کے بعد بنے تھے۔‘‘
اس سے مراد وہ کام ہیں جو انسان کی باتوں، کاموں یا رویے کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ ہر وہ کام، جو کوئی دوسرا کرتا ہے، صرف اس لیے کہ کسی نے اسے سکھایا ہے، بتایا ہے، اسے نصیحت کی ہے، اچھا حکم دیا ہے یا برائی سے روکا ہے، کوئی علم سکھایا ہے، دنیا وآخرت کے لیے مفید کتابیں چھوڑی ہیں، نماز پڑھی ہے، زکوٰۃ دی ہے، صدقہ یا احسان کیا ہے اور اسے دیکھ کر دوسرا شخص بھی ویسا ہی کرنے لگا ہے، کوئی مسجد بنائی ہے، لوگوں کے فائدے کی کوئی جگہ تعمیر کی ہے، یا کوئی ایسی نیکی کی ہے تو ان سارے کاموں کے اثرات انسان کے نامۂ اعمال میں لکھ دیے جائیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص برا کام کرتا ہے تو اس کے اثرات بھی اسی کے کھاتے میں لکھے جائیں گے۔ سبحان اللہ! کتنے لوگ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قبولیت سے نوازا ہے۔ لوگ ان کے گزر جانے کے بعد بھی انہیں یاد رکھتے ہیں، ان کےنیک اعمال ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اور کتنے ایسے ہیں جو ہلاک ہو گئے اور نیست ونابود ہو گئے۔ بس ان کی کہانیاں بچیں اور وہ لوگوں کے لیے عبرت بن گئے۔
اللہ کے بندو!
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جن لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بلند کیا ہے اور لوگ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا ذکر خیر کرتے ہیں، وہ اخلاص والے ہیں ہیں، جو شہرت اور لوگوں کی زبانوں پر آنے یا نہ آنے سے بے فکر ہیں۔ فضیل بن عیاض ﷫ کہتے ہیں:
’’جو یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کا ذکر خیر کریں، لوگ اس کا ذکر خیر نہیں کرتے، اور جو یہ ناپسند کرتا ہے، لوگ اس کا ذکر خیر کرتے ہیں۔‘‘،
ابو بکر بن عیاش ﷫ سے کہا گیا:
’’لوگ مسجدوں میں بیٹھتے ہیں اور لوگ ان کے پاس بیٹھ کر ان سے علم حاصل کرتے ہیں، اس پر انہوں نے کہا:
’’جو لوگوں کے لیے بیٹھتا ہے، لوگ تو اس کے پاس آتے ہیں، مگر سنت کے پیروکار جب مرتے ہیں تو ان کا ذکر خیر باقی رہ جاتا ہے اور بدعت والے جب مرتے ہیں تو ان کا ذکر ان کے ساتھ ہی دفن ہو جاتا ہے۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:
’’چونکہ اہل سنت رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے محبت کرتے ہیں، تو انہیں اس آیت کا فیض ضرور نصیب ہو جاتا ہے کہ
اورہم نےتمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا۔‘‘ (الشرح: 4)
، اسی طرح اہل بدعت رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو ناپسند کرتے ہیں تو وہ کسی نہ کسی طرح اس آیت کی ضد میں آ جاتے ہیں کہ
’’تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔‘‘ (الکوثر: 3)
، اس امت میں اہل سنت اور اہل اخلاص ہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بلند کیا ہے، اور ذکر باقی رکھا ہے۔ اللہ ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ائمہ اربعہ، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابن المبارک، امام بخاری، امام مسلم، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور علامہ ابن القیم جیسے معروف بزرگ ہیں۔
اسلامی بھائیو!
اللہ کے لیے کام کرنے کی برکت یہ ہے کہ
کہ کام کا فائدہ دیر تک باقی رہتا ہے اور اس کا اثر لوگوں میں نظر آتا ہے۔ دیکھیے کہ انبیاء ﷩ کی دعوت میں کتنی برکت تھی۔ کیونکہ ان کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی تھی۔ اسی لیے ان کی دعوت انتہائی نفع بخش ثابت ہوئی۔ اسی طرح اماموں، مصلحین، ہدایت کی پر چلنے والوں اور ہدایت کی راہ دکھانے والوں اور ان کے بعد آنے والوں کی دعوت کی برکات بھی دیکھیے۔ کتنے لوگوں نے ان کی دعوت کی گھنی چھاؤں سے فائدہ اٹھایا اور ان کے صاف اور میٹھے چشمے سے سیراب ہوئے۔
یہ اللہ کا اصول ہے کہ نیکی کرنے والے کو اور لوگوں کا بھلا کرنے والے کو اس کی نیکی سے بہتر جزا دی جاتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ان کی نیکیوں کا فائدہ ان کی زندگی میں بھی نظر آتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ خلیفۃ المؤمنین سیدنا عثمان نےرُومہ نامی کنوا ں خرید کر لوگوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس کام میں اللہ نے اتنی برکت ڈالی کہ وہ چشمہ آج بھی موجود ہے۔ بلکہ وہ اسلامی تاریخ کے مشہور ترین وقف کی حیثیت سے باقی ہے۔ اسی طرح ہارون رشید ﷫ کی بیوی زبیدہ علیہا رحمۃ اللہ نے جب دیکھا کہ حجاج کرام کو پانی حاصل کرنے میں خاصی دشواری ہوتی ہے، بڑی مشقت کے بعد تھک ہار کر وہ پانی حاصل کر پاتے ہیں تو انہوں نے عین زبیدہ نامی نہر بنانے کا حکم دیا۔ یہ میٹھے پانے والی گہری نہر ہے جو مسلمانوں کے نیک کاموں کا شاہکار ہے۔ تھوڑا ہی وقت گزرا ہے کہ اس کا پانی اہل مکہ کے گھروں تک پہنچتا تھا۔
جب امام مالک ﷫ نے اپنی کتاب ’’موطأ امام مالک‘‘ لکھنی شروع کی تو لوگوں نے کہا:
’’اس تصنیف کا کیا فائدہ ہو گا؟ تو آپ ﷫ نے فرمایا:
’’جو کام اللہ کے لیے کیا جائے، وہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ ‘‘ کتنا عظیم جملہ ہے۔ یہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ یہ بہت پھیلا، مشہور ہوا اور زبان زد عام ہو گیا۔ موطا امام مالک بھی آج تک موجود ہے۔ مشرق ومغرب میں مسلمانوں نے اسے قبول کیا ہے۔ اللہ نے اس کے ذریعے بہت لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔سلف علما کی تحریروں سے اللہ تعالیٰ نے بہت لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ اس دور میں بھی لوگ فیض یاب ہوئے اور آج بھی ہوتے ہیں۔ ان کی کتابیں لوگوں نے بڑی خوشی سے پڑھیں اور حیرت انگیز طریقے سے پھیل گئیں۔ طالب علم بڑے اہتمام کےساتھ انہیں پڑھنے لگے، سمجھنے لگے اور ان کی شروحات لکھنے لگے اور انہیں مختصر کرنے لگے۔
اس عظیم قاعدے کی ایک شکل لوگوں کے تعلقات میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔‘‘ (الزخرف:67)
ابن کثیر ﷫ فرماتے ہیں:
’’یعنی:
ایسی ہر دوستی اور ساتھ جو غیر اللہ کے لیے ہو، وہ قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے گا۔ ہاں جو تعلق اللہ کے لیے ہو گا، وہ تو ہمیشہ قائم رہے گا۔ اسی طرح ابن القیم ﷫ فرماتے ہیں:
’’<554>سوچ بچار اور جائزے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جو شخص غیر اللہ کے لیے کسی کے ساتھ محبت کرتا ہے، اسے فائدے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے اور نعمتوں سے زیادہ عذاب ملتا ہے‘‘:
سیدنا ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو ایمان کی مٹھاس محسوس کرنا چاہتا ہو، وہ دوسروں سے صرف اور صرف اللہ کے لیے محبت ۔‘‘
(اسے امام احمد نے روایت کیا ہے)۔
’’اسی قاعدے کی ایک شکل صدقہ اور خیرات کی شکل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اہل ایمان اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔‘‘ (البقرۃ:: 272)
، اہل ایمان اپنا مال اللہ کی راہ میں اس کے دین کی نصرت کے لیے دیتے ہیں۔ ایسے ہی مال بڑھتے ہیں اور زیادہ ہوتے رہتا ہے۔ اللہ ان میں برکت ڈالتا ہے اور جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کا حق ادا کر دیتا ہے، اللہ اس کے مال کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور بہت زیادہ کر دیتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اِسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔‘‘ ( البقرۃ: 261)
، سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کی طرف پاکیزہ چیز ہی اٹھائی جاتی ہے۔ سو جو نیک کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے وصول کرتا ہے، پھر اس کی پرورش یوں کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ صدقہ ایک پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘
بہر حال!
اخلاص کے ساتھ دیے جانے والے صدقے ہی انسان کو ایسی بھلائی کی طرف لیجاتے ہیں جس سے بہتر کوئی بھلائی نہیں۔ یہ انسان کو اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔ رہی بات کافروں کی، تو وہ اپنے مال حق کا راستہ روکنے کے لیے، اہل ایمان کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے مال بالآخر ضائع ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنے خرچ کا کوئی فائدہ نہیں ملتا۔ اہل باطل کی تمام امیدیں خاک میں مل جائیں گی اور انہیں ندامت کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے۔‘‘ (الانفال: 36)
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! دیکھو! کتنا فرق ہے ان دونوں میں۔ ایک وہ کہ جو اپنا مال اللہ کی خوش نودی کے لیے خرچ کرتا ہے، جس کی زندگی قربانیوں، عطاؤں اور دین کی نصرت سے بھری ہے۔ جس نے اپنے نفس کو اللہ کے لیے وقف کر دیا ہے، اور دوسرا وہ جو شیطان کی اطاعت کرتے ہوئے اپنا مال خرچ کرتا ہے، تاکہ اللہ کا راستہ روکا جائے اور اللہ کے نو ر کو بجھایا جائے۔
میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ سے ہر گناہ اور کوتاہی کی معافی مانگتا ہوں۔ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا! میرا رب بڑامعاف کرنے والا اورنہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وثنا، بس اللہ ہی کے لیے ہے۔ نبیِّ مصطفیٰ، ہمارے امام سیدنا محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والوں پر درود وسلام!
بعدازاں!
اللہ کے بندو!
اللہ تعالیٰ ہی زندہ وجاوید ہے۔ وہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے۔ ساری مخلوق فنا ہو جانے والی ہے۔ اللہ کا اجر وثواب ہی باقی رہے گا۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ جنت والوں پر کبھی موت نہ آئے گی۔ جو اس کے لیے کام کرے گا، اور کما حقہ محنت کرے گا، وہ کامیاب اور کامران ہو گا۔ دنیا ختم ہو جانے والی ہے، دنیا والے جلد رخصت ہونے والے ہیں۔ دنیا کے لیے کیا گیا ہر کام عنقریب ختم ہو جانے والا ہے اور فنا ہو جانے والا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو کبھی ہمارے ذہنوں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ہمارے دلوں میں راسخ ہونی چاہیے۔ جی ہاں! جوکام اللہ کے لیے کیا جائے گا، اسی کا اثر ہمیشہ باقی رہے گا۔ جو انسان اللہ کے لیے کام کرتا ہے، اس کا عمل زندہ رہے گا اور اس کے اثرات اور ذکر جمیل ہمیشہ موجود رہیں گے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’رہے وہ لوگ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔‘‘ (الکہف: 30)
، اسی طرح فرمایا:
’’ان کو سچی ناموری عطا کی۔‘‘ (مریم: 50)
یعنی:
ہم نے انہیں نیک نامی عطا فرمائی! لوگ انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرنے لگے۔ علما اور داعی ہی وہ لوگ ہیں جنہیں اس الٰہی قاعدے پر صحیح طرح غور کرنا چاہیے۔ انہیں مکمل یقین کرنا چاہیے کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے گا، وہی دیر پا اثر رکھنے والا ہو گا۔ جو اللہ کے لیے کیا جائے گا، وہ ہمیشہ رہے گا اور بڑھتا جائے گا اور جو غیر اللہ کے لیے ہو گا، وہ ادھورا رہ جائے گا اور بیچ میں ہی رک جائے گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:
’’جس کام میں اللہ کی مدد شامل نہ ہو، وہ کبھی نہیں ہوتا۔ اور جو کام اللہ کے لیے نہیں ہوتا، اس کا اثر بھی جلد ختم ہو جاتا ہے‘‘ اسی طرح آپ ﷫ نے فرمایا:
’’ہر وہ کام جس کا مقصد رضائے الٰہی نہ ہو، وہ باطل ہے، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ جس کام میں اللہ کی مدد شامل حال نہیں ہوتی، وہ کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ اللہ کے بغیر کسی کے پاس کوئی قدرت یا طاقت نہیں ہے۔ جو کام اللہ کے لیے نہیں کیا جاتا، وہ کبھی درست نہیں ہوتا، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور اس کا اثر بھی نہیں ہوتا۔‘‘
اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو اللہ کے بندو! ہمیں چاہیے کہ اخلاص اپنانے کے لیے اور ہر کام اللہ کے لیے خالص کرنے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کریں۔ یہی قیامت تک اعمال کی بقا کا ذریعہ ہے اور اسی سے نجات اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔
سیدنا علی فرماتے ہیں:
’’سنو! تم مہلت کے دنوں میں ہو، جن کے بعد مقررہ وقت آنے والا ہے۔ جو مہلت کے دنوں میں اور مقررہ وقت آنے سے پہلے اپنے عمل کو اللہ کے لیے خالص کر لے گا، وہی بہترین عمل کرے گا اور اپنی مراد پا لے گا۔ جبکہ کوتاہی کرنے والا خود کو گھاٹے میں ڈالے گا اور اس کی امیدیں ہی اسے نقصان پہنچائیں گی۔‘‘
علامہ ابن حزم ﷫ فرماتے ہیں:
’’سمجھدار انسان کو چاہیے کہ وہ فضیلت والے نیک کام کرنے کی کوشش کرے، وہ کام جن سے اسے نیک نامی نصیب ہو اور جن کی بدولت لوگ اسے نیک الفاظ میں یاد کریں۔ ایسے ہی کاموں کی بدولت وہ قرب الٰہی پانے میں کامیاب ہو جائے گا اور لوگوں کے یہاں بھی ناموری پا لے گا۔ لوگ اسے رہتی دنیا تک یاد رکھیں اور اس کا ذکر کبھی ختم نہیں ہو گا۔‘‘
سنو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! درود وسلام بھیجو نبی مصطفیٰ، رسول مجتبیٰ ﷺ پر۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہی حکم دیا۔ پروردگار نے پاکیزہ فرمان جاری کیا۔ فرمایا:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: 56)
،
اے اللہ! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی بیویوں پر، آپ ﷺ کی نسل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی بیویوں پر، آپ ﷺ کی نسل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ! اے پروردگار عالم! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا کر دے! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما! دشمنان دین کو تباہ وبرباد کر دے! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وسلامتی اور کشادگی نصیب فرما!
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھ میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے، تیری خوش نودی کے طالب اور پرہیز گار ہوں۔
اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ہمارے حکمران کو ان باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے نیکی اور پرہیز گاری کی طرف لیجا۔
اے اللہ! ہمارے کمزور بھائیوں اور ان مجاہدین کی مدد فرما جو تیری راہ میں جہاد کرتے ہیں اور سرحدوں پر پہرہ دیتے ہیں۔
اے اللہ!تو ان کا مدد گار، معین اور نصرت کرنے والا بن جا۔
اے اللہ! ہمیں قول وعمل میں اخلاص نصیب فرما! ہمارے سارے اعمال نیک بنا اور ان کا مقصد اپنی خوشنودی حاصل کرنا بنا۔
اے اللہ! ہم تجھ سے ظاہر اور خفیہ، ہر حال میں تیری خشیت کا سوال کرتے ہیں۔ خوشی کی حالت میں اور غصے کی حالت میں کلمۂ حق کہنے کی توفیق مانگتے ہیں۔ خوشحالی اور بدحالی میں اعتدال مانگتے ہیں۔
پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں