43

آج کی عورت آزادی کی خواہاں کیوں؟

(آج کی عورت آزادی کی خواہاں کیوں)

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

آج کی عورت کو جہاں بھی دیکھو آزادی کی طلبگار نظر آتی ہے،حالانکہ جتنی آزادی عزت اور مقام اسلام نے عورت کو دیا ہے اتنا کسی مذہب نے آج تک نہیں دیا۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج کی عورت آزادی چاہتی ہیں؟

آج جہاں بھی دیکھیں عورت اور مرد کے درمیان سرد جنگ جاری ہے ، عورت کو شوق ہے مرد کی برابری کرنے کا تو مرد کو خدا بننے سے فرصت نہیں۔

بیشترمسلم عورتیں اپنی اقدار کو فراموش کر چکی ہیں۔وہ پردے جیسی نعمت کو اپنا تحفظ سمجھنے کی بجائے بوجھ سمجھتی ہیں،اور بیجا پابندیوں کو سہہ کر آزادی کے نعرے لگاتی پھرتی ہیں، صاف ظاہر ہے کہ یہ بغاوت ہے۔اصل میں میری ان معصوم بہنوں کو چاہئے کہ قرآن کو سمجھ کر مطالعہ کریں،اپنے فرائض ادا کرتی ہوئی اسلام کی روشنی میں اپنے حقوق کا مطالعہ کریں ۔اور اپنی کھوئی ہوئی عزت و مقام کوواپس حاصل کریں

بھائیو!ظاہری بات ہے کہ اگر کوئی افسر کے رتبے کا اہل ہو کر بادشاہ بن بیٹھے وہ بھی ظالم بادشاہ تو رعایا اسکے ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائے گی۔آپ خود اپنے افسر سے اپنی اچھی کارکردگی پر ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں،اور حاصل بھی کرتے ہیں،تنخواہ اور ترقی میں دن بہ دن اضافہ ۔تو عورت کو دن بہ دن پرانی یا بور سمجھ کر اسکے ہی بچوں کے سامنے ذلیل کریں طلاق کی دھمکیاں دیں ،گھر سے نکالیں۔اگر آج آپ عزت نہیں کریں گے تو کل آپ کے بچے کیسے اپنی ماں کی عزت کریں گے؟ اور اگر وہ اپنی ماں کی عزت نہیں کریں گے ،نہ ہی اپنی کر پائیں گے، تو معاشرے کے اچھے شہری کیسے بن سکیں گے؟

تو ایک مسلم شوہر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ خدا یا مجازی خدا بن کر اپنی بیوی ،اپنے ہی لباس ، اپنے جیون ساتھی ،اپنے بچوں کی ماں ،اپنی عزت کو فرعونیت دکھائے ؟

بنا بات کے اپنی ہی عزت کو ذلیل کرکے اپنی مردانگی کو قوت پہنچائے، بلکہ ایک مرد میں اتنی اہلیت ہونی چاہئے کہ وہ پیار سے ہی کام لے کر اپنی ہر جائز بات منواسکے اوراسکی جائز بات کو مانے بھی۔

اس حقیقت کو بھی دیکھے کہ مرد آٹھ گھنٹے ڈیوتی کرتا ہے تو عورت چوبیس گھنٹے۔

گھر کی صفائیاں،جھاڑ پونچھ،کپڑے و برتن دھونے،استری کرنا،کھانا پکانا،بچوں کی ٹیچر،گورنس،چوکیدار،اورآپکی محبوبہ سب فرائض بخوبی ادا کرتی ہے۔

بدلے میں کوئی تنخواہ یا تعریف تو دور،ذلیل کیا جاتا ہے کہ سارا دن کرتی کیا ہو سوائے سونے کے؟

تو عورت تو بد دل ہوگی یا نہیں؟

دوسری طرف عورت کو بھی لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ہر وہ بات مانے جو اللہ اور اسکے رسول ؐ کے حکم کے خلاف نہ ہو،اور اسکی ہمت میں بھی ہو۔

اسکے علاوہ وہ اپنے شوہر کو اپنا افسر مان کر عزت کرے،اسکی اور اپنی عزت کی اور اپنے گھر نیز بچوں کی حفاظت کرے،اسکی کمائی کو فضول ضائع مت کرے،اگر مرد شوہر کے رشتے میں ایک درجہ زیادہ رکھتا ہے،دوسری طرف عورت ماں کے رشتے میں تین درجے اوپر ہے۔

عورت اگر یہ سب احکامات پر عمل کرے تو ہر دن ایک حج اور ہر رات ایک جہاد کا درجہ پا سکتی ہے۔

اب آپ خود بتائیں کہ اتنی عزت،ایسا اجر، ایسا مقام اور کہاں ملے گا؟

برائی فرد میں ہو تو اسکو معاشرے میں مت تلاشو۔شکائت اپنے شوہر سے ہے تو دینِ اسلام کے تو خلاف مت جاؤ۔آزادی کے نعرہ مت لگاؤ،آزادی تو دینِ اسلام میں روزِ اول سے ہی بہت ہے،اور جو پابندی محسوس ہو اسکو آپ سمجھ نہیں پائیں ،اصل میں وہ آپکے ہی مفاد میں ہے۔اپنے بچوں میں صحت مند معاشرے کا وجود بٹھائیں نہ کہ آزادی کی خواہش کے ذریعے اپنے ہی دین سے فرار پانے کی کوشش۔

قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تو آپ کو اپنے حقوق و فرئض کا بخوبی علم ہوگا۔اپنی حدود کا شعور حاصل کریں،مردوں سے برابری نہیں اچھے سلوک کی ڈیمانڈ کریں۔

اپنے حقوق کے لئے کوشش کریں ،اپنے ہی جیسی دوسری عورتوں کی مدد کرکے اور شعور کے ذریعے، مگر آزادی کی ناحق خواہش کو ختم کر دیں ۔اسی میں دینِ اسلام کی اور ہر مسلم عورت کی بہتری ہے۔

اپنے ہی جیسی دوسری عورتوں کی طرفداری کریں انکی مدد کریں،اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے دماغ میں عورت کی عزت کرنا سکھائیں ،حقوق کی پہچان کرایں۔

خدارا مغرب کی اندھی تقلید میں اپنے معیار کو کھونے مت دیں،اپنی اقدار کو ابھی بھی وقت ہے زندہ کر سکتی ہیں ۔

بلکہ اپنے اعلیٰ کردار سے غیر مذہب کی عورتوں کو متاثر کر کے اپنے حلقہ دین میں شامل کریں۔

والسلام۔۔روبی احمد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں