41

یہ کھانا گرم کرو، موزے ڈھونڈو، دوپٹہ آنکھوں پر باندھو-محمد بلال خان

یہ کھانا گرم کرو، موزے ڈھونڈو، دوپٹہ آنکھوں پر باندھو، وغیرہ وغیرہ کے بازاری طعنے دینے والی جو مخلوق ہے، اور جو ان کے حمایتی ہیں، ان کی اطلاع کیلئے بتاتا چلوں کہ میں 2015 کے اواخر سے اب تک روزگار اور تعلیم کے سلسلے میں نہ صرف اپنا کھانا گرم کرتا ہوں، بلکہ بھائی کھانا بناتا ہے، میں برتن دھوتا ہوں، ہم اپنے کپڑے بھی دھو لیتے ہیں، اپنے جوتے بھی خود پالش کرتے ہیں، اور استری بھی خود کرتے ہیں، ہمارے والد محترم ہمیں شروع سے یہ ترغیب دیتے رہے کہ بہنوں کے معاملے میں بہت حساس رہنا، گھر میں بہنوں کا سلوک ایسا ہے کہ ان کے بس میں ہو تو ہمارے جوتوں پر خاک بھی نہ لگنے دیں، مگر پھر بھی ہم بیشتر کاموں میں ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتے ہیں، مجھے کمیل بھائی کا اچھے سے یاد ہے کہ ہماری والدہ کی طویل علالت کے دوران چھوٹے بہن بھائیوں اور والدین کے کپڑے دھوتے تھے، شاید تب پانچویں جماعت میں تھے، فی الوقت تعلیمی سلسلے میں ہم دونوں بڑے گھر پہ نہیں ہوتے، گھر میں موجودگی کے وقت والدہ دو کام اپنے ہاتھوں سے پسند کرتی ہیں، ایک ہمیں خود کھانا بنا کر دینا، اور ہمارے کپڑے اپنے ہاتھوں سے دھونا، اللہ کے کرم سے بہنوں کا بس چلے تو وہ ہمارے پیروں کو زمین چھونے سے بھی روکیں، مگر ہمیں والدین نے شروع سے یہی ترغیب دی ہے کہ اپنا کام خود کرنا ذمہ داری ہے، ہر ذمہ دار گھر میں والدین اولاد کی یوں تربیت کرتے ہیں، یہی اسلام کی تعلیمات اور مشرقی تہذیب و تمدن ہے، ہماری مشرقی تہذیب میں لڑکی یا عورت حیاداری کرتی ہے تو اسے آوارہ ذہن کی مغربیت زدہ سوچ “محبوس” ہونا کہتی ہے، ہماری عورت فطری نزاکت پسند اور دلجوئی کرنے والی ہوتی ہے، مگر کرائے پر پروان چڑھنے والی بیرونی این جی اوز کے وظیفہ خور عورت کی حق تلفی سمجھتے ہیں، مگر درحقیقت یہ عورت فروش ہیں، عورت کی جسامت، حیاء، اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ یہ دقیانوسی اور برہنہ سوچ اب جسمانی اعضاء، زیرِجامہ اور اپنی ماہواری کو بھی مردوں کے سر تھوپنا چاہتی ہے، اس تمام خجالت اور ذلالت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ اپنے عورت پیدا کیے جانے پر شرمندہ ہیں، بظاہر مرد ذات سے تقابل، مگر درحقیقت مردانہ نفسیات اور فطرت سے مرعوب ہیں، اپنے جینڈر سٹیٹس سے بیزار یہ خواتین شاید مرد پیدا ہونا چاہتی تھیں، مگر قدرت نے انہیں عورت پیدا کیا، جتنی یہ اوپر سے “وومن ایمپاورمنٹ” کے دعوے کریں، درحقیقت یہ مرد بننا چاہتی ہیں، مگر فطرت بدلنا ان کے بس میں نہیں، اسی لیے چوک چوراہوں میں بازاری جملے کستی ہيں، یہ طبقہ دراصل بدترین احساسٍ کمتری کا مارا ہوا ہے۔
(محمد بلال خان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں