45

کیا اسلام عورتوں کا دشمن ہے؟ ابوبکر قدوسی …

میں کبھی یہ عنوان نہ باندھتا ، اور ابھی بھی اس حوالے سے نہیں لکھوں گا – یار لوگوں کا بس نہیں چلتا کہ کھل کے اسلام کا نام لیں – لیکن انہی دوستوں میں جو تازہ تازہ لبرل ہووے ہیں ایسے سادہ لوح لوگ بھی ہیں جو اسلام سے کسی نہ کسی درجہ محبت کرتے ہیں ، اور بہت محبت نہ بھی کریں تو اسلام کو کم از کم اپنا مذھب ضرور جانتے ہیں –
اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام عورت کے خلاف ہے ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مولوی عورتوں کے خلاف ہیں ؟
اور کیا الگ الگ سوال ہیں ؟
اصل معامله یہ ہے کہ لوگ مولوی کو عورت کا دشمن قرار دیتے ہیں ، اس کی آزادی کا دشمن سمجھتے ہیں ، اس کے ساتھ ناانصافی کرنے والا جانتے ہیں – جب کہ اسلام کی اس تعبیر کو صاف ماننے سے انکار کر دیتے ہیں جس میں عورتوں کے ایسے احکام دکھائی پڑتے ہیں جو عورتوں کو حدود و قیود کے تحت لاتے ہیں – اس طرح مولوی کے بہانے وہ اسلام کا انکار کرتے ہیں –
دیکھئے مولوی کا انکار اسلام کا انکار نہیں ، نہ ہی مولوی اسلام ہے – آپ انھیں محض اسلام کا نمائندہ کہہ سکتے ہیں ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کہ ان کی ہر بات اسلام ہو گی – آپ ان سے دلیل طلب کر سکتے ہیں ، آپ ان کی بات پر بحث کر سکتے ہیں ، انہیں دلیل کی بنیاد پر جھٹلا بھی سکتے ہیں …….. لیکن ایسا نہیں کہ مولوی آپ کے سامنے قران کی آئت پڑھے تو آپ کہیں کہ میں نہیں مانتا —- مولوی نبی کی حدیث کا کوئی حکم بیان کرے تو آپ کہیں کہ نہیں جی حدیث ہی صرف دین نہیں ہے –
پچھلے دنوں جن عورتوں نے مرد کی ” حاکمیت ” کا انکار کیا ہے ان کا بہانہ بھی مولوی تھا –
آپ کو یاد نہیں ہمیں یاد ہے کہ خاتون وکیل عاصمہ جہانگیر نے عورت کی گواہی کے قرانی اصول پر کس درجہ بدزبانی اور دریدہ دھنی کا مظاہرہ کیا تھا – کیا اس روش کو آپ محض مولوی کا انکار قرار دیں گے ؟
قطعا ایسا نہیں ، یہ اسلام کا انکار ہے – آپ میری بات کو تلخ تر کہیں گے ، لیکن میرا سوال ہے کہ تاویل کے پھندے میں اسلام کے واضح احکام کو لانے کا کس کو حق ہے ؟
جی کسی کو بھی ایسا حق نہیں – اسلام کے احکامات کھلے کھلے ہیں ، صاف صاف ہیں – ان میں کوئی جھول نہیں – زمانہ کی جدتیں آپ کو انکار کا حق دیتی ہیں – انکار کیجئے اور اسلام کے دائرے سے نکل جائیے – دیکھئے ہم آپ پر فتوی نہیں لگاتے ، کافر کہیں آپ کو ، توبہ توبہ توبہ …
لیکن یہ کیا کہ آپ کہیں میں قران کی فلاں بات نہیں مانتی … فلاں نہیں مانتی ..لیکن پھر بھی اسلام میرا مذھب ہے —-
دیکھے ایسا نہیں ہوتا ، میری بہن ایسا نہیں ہوتا .. کیا کوئی عیسائی کہے کہ میں عیسی کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا …تو آج کل کے عیسائی اسے عیسائی تسلیم کریں گے ؟
کوئی ہندو ہونے کا بھی دعوی بھی کرے اور ساتھ میں بھگوان ، رام کی بات کا انکار کرے ، ویدوں کے احکامات کو ماننے سے انکار کرے ؟؟
جی اسے کوئی ہندو نہیں کہے گا …
اسلام ان مذاہب سے کہیں زیادہ منظم ، مرتب اور جدید مذھب ہے – اس میں عورتوں کے مردوں کے احکامات اور حدود و قیود کا واضح تعین کیا گیا ہے –
مولوی کی تعبیر غلط ہو سکتی ہے – اس سے اختلاف کیجئے ، لیکن اسلام کا انکار کرنا آپ کے لیے “انکار ” کے دروازے کھول دے گا –
ممکن ہے کوئی دوست میری بعض باتوں کو تلخ کہے ، لیکن شاید ان کو خبر نہیں کہ خواتین کے مظاہرے میں صرف ہمارے ہاں کے مرد کی نفی نہ تھی بلکہ اسلامی احکام کا مذاق بھی تھا – میں وہ تصاویر کس حد تک پوسٹ کے ساتھ لگاؤں …. ان کو کوئی شریف آدمی دیکھ بھی نہیں سکتا جس کو یہ عورتیں اٹھا کے سڑکوں پر نکلی ہوئی تھیں –
آزادی ہے نہ یہ برابری …مرد کی حاکمیت کا انکار ہے نہ حقوق کا جھگڑا —- اصل میں میں کچھ خواتین این جی اوز ..باہر سے پیسا لے کر ہمارے معاشرتی نظام کو برباد کرنے کے درپے ہیں – ان کا مقصد پاکستان کو ایک سکس فری معاشرہ بنانا ہے – اگر ان کو عورتوں کے حقوق سے کوئی دل چسپی ہوتی تو کبھی نہ کبھی ضرور بازار حسن کی مظلوم عورتوں کے لیے باہر نکلتیں …ان کو اس بے حیائی کی زندگی سے نجات دلانے کے لیے باہر نکلتیں ..لیکن یہ نکلی تو اس کے لیے کہ ……
میرا بدن تمہارا میدان جنگ نہیں ….
اس سادہ سے جملے کا مطلب ہے کہ مجھے میری مرضی کے بغیر آپ ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے – اور یہ جملہ شوہر کو بولا جا رہا ہے –
اسلام میں عورتوں کے جو حقوق ہیں ، ان کی جو عزت ہے اس کا یہ نام نہاد آزادی پسند خواتین سوچ بھی نہیں سکتیں –
اسلام میں عورت گھر سے باہر جا کے کوئی مشقت والا کام نہیں کرے گی – اس کو کمانے کا اور پیسے لانے کا کوئی سیاپا نہیں کرنا ہو گا – اس کے مرد کی ڈیوٹی ہے کہ جائے ، اپنی جان کھپائے ، خون جلائے ، جوانی کو سڑکوں پر برباد کرے اور تمام دن کی کمائی لا کے بیوی کے ہاتھ پر رکھے —– عورت کو آزادی ہے کہ تمام دن فراغت میں عیش کرے ، محلے میں سہیلیوں کے ساتھ گپیں لگائے ، پیکج کرے اور تمام دن بہنوں سے بات کرے –
جس وقت ہم دکانوں پر ، دفتروں میں لوگوں کے ساتھ جان کھپا رہے ہوتے ہیں ، یہ عورتیں گھر میں آرام کر رہی ہوتی ہیں – اب تو بچے بھی بمشکل دو ہوتے ہیں ، فرصت ہی فرصت —
خاوند کما کے لاتا ہے ، اس کی کمائی کا ایک بڑا حصہ پھر اسی عورت کی خوشنودی پر صرف ہو جاتا ہے – آپ ذرا انارکلی بازار نکل جائیے ، طارق روڈ کا چکر لگائیے – شاہ عالمی یا اعظم کلاتھ مارکیٹ چلے جائیے …ہر طرف عورتوں کی جیولری ، کپڑے اور میک اپ کے سامان سے بازار بھرے پڑے ہیں …آپ کی ذاتی معیشت کا بیشتر حصہ کپڑے اور زیور کی نذر ہو جاتا ہے …کس کس کی بات کروں کہاں کہاں کی بات کروں ….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں