73

‘فیمینزم’ کا سراب

میں اس کا مخالف نہیں کہ عورتیں خود پر معاشرے میں ہونے والی کسی بھی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں. اگر انہیں لگتا ہے کہ ان پر ایسی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جسکے جبری نفاذ کی دین و آئین اجازت نہیں دیتا. یا پھر مردوں کی جانب سے ایسا رویہ اپنایا جارہا ہے جو عورت پر جبر و تذلیل کا سبب ہے تو انہیں حق ہے کہ وہ اپنی بات آگے بڑھ کر کہیں. مگر کسی بھی عورت یا کسی بھی مرد کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اس احتجاج میں ہر طرح کی اخلاقیات کو پامال کر چھوڑے. یا دین اور معاشرے کی ان متوازن مشترکہ اقدار کو بھی بالائے طاق رکھ کر شتر بے مہار بننے کی ضد کرے. جس طرح موٹر سائیکل میں ٹرک کا پہیہ لگانے کا تقاضہ حماقت کے سوا کچھ نہیں، ویسے ہی کسی مسلم آبادی کے معاشرے میں جہاں اکثریت اسلامی اقدار کو ایک بڑی حد تک اپنانے کی خواہاں ہو وہاں حقوق نسواں کی خالص مغربی تعریف کا مطالبہ فقط فساد ہے. آپ کو بتاتا چلوں کہ مغرب میں بھی ‘وومن رائٹس’ پر بات کرنا ایک شے ہے اور ‘فیمینزم’ کی تحریک کو اپنانا بالکل الگ شے. اس وقت امریکہ یورپ میں خواتین ہی کی ایک بہت بڑی تعداد ‘فیمینزم’ کی شدید مخالف ہے. ‘وومن رائٹس’ کے حاملین دلائل و شائستگی سے حقوق کی جدوجہد کرتے ہیں. جبکہ ‘فیمینزم’ ہر وقت عورت کی مظلومیت کا جائز ناجائز رونا روتے ہوئے مردوں سے ایک خاص طرح کی نفرت پیدا کرتا ہے. یوٹیوب ہو، فیس بک ہو یا دیگر ویب سائٹس – آپ کو یہ دونوں تحریکیں ایک دوسرے سے الجھتی ہوئی نظر آتی ہیں. ‘فیمینزم’ کی موجودہ شکل اتنی کریہہ ہے کہ وہ ہر جگہ چاہے وہ چرچ ہو یا مسجد احتجاج کے نام پر ننگی ہو جاتی ہیں. اور پھر نعرہ لگاتی ہیں کہ ‘میرا جسم .. میری مرضی’. یقین نہ آئے تو گوگل کرلیجیئے. اب مسئلہ یہ ہے کہ کیونکہ ‘فیمینزم’ اپنے ظاہر میں عورت ہی کے حقوق کا نعرہ لگاتا ہے، اسلئے بہت آسانی سے نئی عورتیں بالخصوص مشرقی عورتیں اسے اپنا وکیل مان لیتی ہیں اور یوں دانستہ نادانستہ اسی کا فلسفہ اپنا بیٹھتی ہیں.
.
وطن عزیز میں جو حقوق نسواں کے نام پر آج ریلی نکلی ہے، اس سے بھی ہمیں یہی منکشف ہورہا ہے کہ جلد وہ ‘وومن رائٹس’ سے نکل کر ‘فیمینزم’ کی گود میں جا گریں گی. ہمارے مذہب پسند طبقے کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ دلیل سے دین کی دعوت ضرور دیں. انہیں پردے کے بارے میں قران و سنت کی جانب بلائیں مگر یہ ‘لالی پاپ’ یا ‘ٹوفی کے ریپر’ یا ‘نایاب ہیرے’ جیسے مثالیں دے کر پردہ کرنے کی ترغیب نہ دیں. اس سے پڑھی لکھی خواتین کو ترغیب تو بالکل نہیں ملے گی البتہ ان چیزوں سے اپنا تقابل سن کر ضد ضرور بڑھ جائے گی. اسی طرح ان عورتوں کو بھی ہم دعوت فکر دیتے ہیں کہ ان ساری تحریکوں اور بینرز میں ایک بھی پیغام ایسا کیوں نہیں ملا؟ جس میں ان ‘آئٹم سانگز’ کی مذمت کی گئی ہو جو عورت کو ایک گوشت کا ٹکرا بنا کر پیش کرتے ہیں؟ جس کی شاعری میں عورت کو جلیبی، تندوری مرغی اور جانے کیا کیا خطابات دیئے جاتے ہیں؟ جس میں رقص کے نام پر بدن کو ننگا کرکے دیکھنے والو کی بھوکی نظروں کیلئے پیش کیا جاتا ہے؟ ایسا تو نہیں کہ آپ بات عورت کی عزت کی کرتی ہیں مگر حقیقت میں عورت کو اسی بازار میں مزید گھٹیا بنا کر پیش کرنا چاہتی ہیں؟ آپ جہیز کی لعنت سے چھٹکارے کی بات کریں، عورتوں پر گھریلو تشدد کا مسئلہ اٹھائیں، وراثت میں ان کا جائز حصہ دلانے کیلئے بڑھیں، عورت کو تعلیم یافتہ بنانے کا تقاضہ کریں، چھوٹی بچیوں کو ماسی بناکر کام کاج کروانے پر احتجاج کریں، ریپ سمیت کسی بھی جنسی استحصال کے رد کی تحریک چلائیں یا پھر اور کوئی حقیقی حقوق یا عزت نسواں کی بات کریں تو یقین جانیئے کہ ہر تہذیب یافتہ مرد یا عورت آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ مگر خدارا حقوق نسواں کا دلفریب نعرہ لگا کر بچی ہوئی مہذب اقدار کا جناذہ نہ اٹھائیں۔
.
میں کچھ تصاویر یہاں شیئر کر رہا ہوں. آپ پیٹ بھر کر بھی لبرل ہوں تو مجھے یقین ہے کہ اس میں سے کچھ تصاویر (پیغامات)کو آپ اپنی والدہ یا والد کے ساتھ نہیں دیکھ سکیں گے. میں تہہ دل سے معزرت خواہ ہوں کہ انہیں اپنی وال پر لگا رہا ہوں اور ایسی پوسٹ آج لکھ بیٹھا ہوں. مگر مجھے لگا کہ شائد ایسا کرنے سے سب کی نہیں تو کچھ قارئین کو موجودہ صورتحال کا کسی حد تک ادرک مل سکے.
.
====عظیم نامہ====

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں