64

عورت کی آزادی اور اسلام

سب تعریفیں اس اللہ عزوجل کی جس نے انسان (عورت و مرد) کو صرف اپنی عبادت کے لیے بنايا اور کروڑوں درود و سلام ہمارے پیر و مرشد، امام المرسلین محمّد بن عبداللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کی ذریعہ دین حنیف ہمارے ہاں پہنچا اور جن کی کاوشوں کی بدولت آج ہم مسلمان کہلانے کی لائق ہیں۔ الحمداللہ
یاد رکھو کہ دین میں ہر نئی چيز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراھی جہنم میں جاتی ہے (متفق علیہ)

عورت عربی لفظ ہے جس کا لغوی معنی ‘پردہ یا ستر” کے ہیں اور اس کا اصطلاحی معنی ہیں” کسی چيز کو چھپانا”۔

ہر وہ چيز جو ستر ہے اس کو عورت کہتے ہیں، مرد کے جسم کا وہ حصہ جو چھپا ہوا ہے اس کو بھی عورت کہتے ہیں۔

اس معنی سے پتہ چل گیا کہ عورت کو عورت کیوں کہا گیا ہے کیونکہ وہ ایک ڈھکی چھپی چيز ہے اور اس کو جتنا چھپاؤ گے اتنی اس کی عزت بنے گی۔ الحمداللہ

میں نے یہ نہیں کہتا کہ عورت کچھ بھی نہیں کر سکتی، وہ بہت کچھ کرسکتی ہے مگر اسلام نے اس کو اس چيز کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس سے معاشرہ پر غلط اثرات پڑتے ہیں اور اس سے عورت کی وہ عزت و نفس جو اللہ تعالی نے قائم کی ہےاس پہ حرف آتا ہے۔

اسلام نے “غض بصر” پر بڑا زور دیا ہے۔ جس کا معنی ہیں آنکھیں نیچی کرنا۔ سب سے پہلا حکم جو مردوں اور عورتوں کا دیا گیا وہ یہی ” غض بصر” تھا۔ اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر وقت نظریں نیچی رکھو مگر اس کا مطلب ہے کہ اس چيز سے اجتناب رکھو اور حدیث کی مطابق آنکھوں کی زنا سے بچو
۔
اور اس کا حکم قرآن میں مرد و عورت دونوں پر واجب ہے، مگر آج کے دور میں اگر عورت بن سنور کر باہر جائے گی تو کیا مرد کی نگاہ اس پر نہیں پڑی گی۔۔۔۔؟ کیا معاشرہ میں فتنہ نہیں برپا ہوگا۔ ۔ ۔ ۔؟

یہ ہوئی نہیں سکتا کہ عورت کی مرد پر اور مرد کی عورت پر نظر ہی نہ پڑے، اس لیے تو حدیث میں آیا ہے کہ پہلی نظر معاف ہے مگر دوسری نظر حرام ہے۔

مگر کچھ چيزيں ایسی بھی ہیں کہ اجنبی عورت کو دیکھنا پڑتا ہے، جیسا کہ:

1/ بیماری کی حالت میں ڈاکٹر دیکھ سکتاہے
2/ کسی عورت کی جان بچانا ہو تو اسے بچانے کے لحاظ سے دیکھ سکتا ہے
3/ اگر کسی سے شادی کا ارادہ ہو تو شادی سے پہلے دیکھ سکتا ہے
اب دیکھا جائے تو یہ سب کچھ مجبوری کی حالت میں جائز ہے اور

یہ ہی مجبوری نوکری میں بھی ہے، مگر آج کل 90٪ عورتیں بغیر مجبوری کے نوکری کرتی ہیں جس کا انہوں نے نام ” عورت کی آزادی” دیا ہے جو نام مغرب سے سمگل ہوکے آيا ہے۔

یہاں پر ایک حدیث یاد آرہی ہے جس میں اس چيز کو بہت واضع کیا ہے۔

” ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا صحابی عبداللہ ابن ام مکتوم (رض) آئے، اس دوراں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ پاس تھیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ ابن ام مکتوم سے پردہ کرو، تو جواب ملا کہ یہ تو نابینا ہے نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی پہچان سکتا ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا کہ یہ تو نابینا ہے تم تو نابینا نہیں ہو نا، تم تو اس کو دیکھ سکتی ہو۔”

سبحان اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا ترتیب تھی معاشرہ کی۔ ۔ ۔ ۔!
اگر دیکھا جائے تو یہ حدیث ہی کافی ہے کہ عورت کو بغیر مرضی باہر جانا چاہیے کہ نہیں، جج، وکیل، فوجی یا فائٹر بننا تو دور کی بات ہے۔

مگر میں صرف اس بات پر اکتفا نہیں کروں گا اور بات کو اور آگے بڑھاؤں گا کہ جیسے آپ سب کو اور معلومات مل جائے۔ انشااللہ

اب بات کو میں موڑوں گا عورت کے چہرے کے اوپر کیونکہ یہ ایک اہم چيز ہے عورت کے اندر، مرد کی سب سے پہلی نگاہ ہی عورت کے چہرہ پر پڑتی ہے اور پھر اس چيز کو میں اسی ٹاپک پر لے آؤں گا کہ عورت کا باہر جانا کیسا ہے۔

اللہ عز وجل نے سورۃ احزاب میں فرمايا ہے کہ:
” اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہدو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال دیا کریں، اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہچانی جائيں گی اور ستایا نہ جائے گا۔ ”

یہ آیت اتری ہی عورت کے چہرے کے اوپر ہے۔ اس میں لفظ “جلابین” جلباب کے جمع ہیں جس کا مطلب ہے ” چادر” اور ” ادناء” کے معنی ” ارخاء” یعنی لٹکانے کے ہیں۔

اور اس کا مطلب چہرہ چھپانا ہے، چاہے وہ گھونگھٹ سے ہو یا نقاب سے ہو۔
اب دیکھتے ہیں کہ مفسرین قرآن نے اس آیت کا کیا مطلب نکالا ہے؟

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہےکہ:

“اللہ تعالی نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ اگر وہ کسی ضرورت کی خاطر باہر نکلیں تو سر کے اوپر سے اپنی چادروں کے دامن لٹکا کر اپنے چہروں کو ڈھانپ دیں”( تفسیر ابن جریر جلد دوم)

علامہ ابن جریر طبری اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
” اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو کہدو کہ اگر گھروں سے کسی مجبوری کی حالت میں نکلیں تو لونڈیوں کے سے لباس نہ پہنیں کہ سر اور چہرے کھلے ہوں بلکہ اپنے اوپر چادر لٹکا دیا کریں کہ کسی کو پتہ کہ شریف عورتیں جارہی ہیں اور کوئی فاسق حرکت نہ کرسکے۔”
(تفسیر ابن جریر جلد سوم)

علامہ نیشاپوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
” ابتدائے عہد اسلام میں عورتیں زمانہ جاہلیت کی طرح صرف” دوپٹہ اور قمیص” میں باہر نکلتی تھیں اور شریف عورتوں کا لباس بھی اس سے مختلف نہیں تھا پھر اللہ تعالی نے حکم دےدیا کہ شریف عورتیں اپنے سر اور چہروں کو چپائيں تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ شریف عورتیں ہیں نہ کہ “فاحشہ-”
( تفسیر غا‏ب القرآن بہ حاشیہ ابن جریر)

زمانہ جاھلیت میں اشراف کی عورتیں اور لونڈياں بغیر پردہ کے گھومتی تھیں اور بدکار قسم کے لوگ ان کا پیچھا کرتے تھے تو حکم نازل ہوا کہ اپنے جسم بمع چہرہ کو چپاؤ کہ شریف عورت اور فاحشہ عورت میں تمیز ہو۔
ان چيزوں سے پتہ چلا کہ صحابہ کرام کے دور سے لے کر آٹھویں صدی تک اس آیت کا مطلب ایک ہی لیا گیا جوکہ اس کے الفاظ سے ہم نے سمجھا ہے۔

اگر آپ احادیث کی طرف بھی نگاہ دوڑائيں تو آپ کو یہی مطلب ملے گا۔
ہاں یہ اور بات ہے کہ حالت احرام میں خصوصی طور پر چہرہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، اب مجھے اتنا پتہ نہیں کہ کیوں دی گئی، جب پتہ چلے گا تو بتادوں گا۔ انشااللہ

حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ:
” سوار ہمارے قریب سے گذرتے تھے اور ہم عورتیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتی تھیں۔ بس جب وہ لوگ ہمارے سامنے آجاتے تھے تھ ہم اپنی چادریں اپنےسروں کی طرف سے اپنے چہروں پر ڈالدیتی اور جب وہ گذر جاتے تو منہ کھول لیتی تھیں”۔
(سنن ابو داؤد)

فاطمہ بنت منذر کا بیان ہے کہ ہم حالت احرام میں اپنے چہروں پر کپڑا ڈال دیا کرتی تھیں۔ ہمارے ساتھ ابوبکر (رض) کی بیٹی اسماء (رض) ہوتی تھیں اور انہوں نے ہم کو اس سے منع نہیں کیا۔
(موطا از امام مالک)

ان احادیث کا مطلب ہی یہی ہے کہ عورت کو ہر حال میں مرد سے پردہ کرنا چاہیے اور اگر حالت احرام میں ( جب کہ عورت کو اجازت ہے منہ کھولنے کی) بھی مسلمان عورتیں مردوں کو سامنے پاکر منہ ڈھانپ لیتی تھیں۔

اور پردہ؛ شریف عورت اور فاحشہ میں فرق کرتا ہے۔ قرآن کی اوپر دی گئی آیت کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو عورت بغیر پردہ (دوپٹہ اور قمیص) میں باہر نکلتی ہے وہ اسلام کی روء سے شریف عورت نہیں بلکہ فاحشہ کی کیٹیگری میں آتی ہے۔ استغفراللہ

کچھ لوگوں کی کی تھیوری جو عورت کو باہر نکال کر آزادی دینے کی بات کرتی ہے اس کو اللہ تعالی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رجیکٹ کردیا اور جو انہوں نے بات کی جس کا مطلب یہ ہی نکتا ہے کہ وہ لوگ 1400 سال پہلے والے اسلام کو اس دور میں نافظ کرنے کے خلاف ہیں یہ دو رخ انہوں نے بنائيں ہیں اسلام تو 1400 سال پہلے ہی واضع کرچکا تھا کہ عورتوں کی کیا زمیواریاں ہیں، وہ مغرب کی ” آزادی عورت” کے اصول کے قائل ہیں جسے مغرب کی ہی عورتوں نے دھکیل دیا اور ہر روز سیکڑوں کی تعداد میں عورتیں مسلمان ہوتی ہیں اور اس مغربی آزادی کو لعنت مار کر برقہ پہن کر، نوکریاں چھوڑ کر اور شادی کرکے چاردیواری میں قید ہونا پسند کرتی ہیں کیونکہ یہ ہی ان کی عزت اور وقار ہے اس سے ہی اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

چلیں اب چلتے ہیں اس ٹاپک کے دوسری رخ پر۔ انشااللہ
پہلے رخ میں یہ بتادیا کہ عورت کا مطلب کیا ہے، عورت کا عزت کس لباس میں ہے، شریف اور مسلمان عورت کا ڈریس کیا ہونا چاہيے اور عورت گھر سے کس وقت باہر نکل سکتی ہے۔ ۔ ۔۔ ؟

اب دوسرے رح میں بتائيں گے کہ عورت کی عزت و نفس اور وقار باہر نکلنے میں ہے یا گھر کی چاردیواری میں بیٹھنے سے ہے۔۔ ۔ ۔ ؟ انشااللہ

لباس اور ستر کی حدود مقرر کرنے کے بعد آخری حکم جو عورتوں کو دیا گیا وہ یہ ہے:
” اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھی رہو اور زمانہ جاہلیت کے سے بناؤ نہ دکھاتی پھرو”-
( الاحزب)

وقرن بفتح قاف پڑھا ہے جس کا مصدر “قرار” ہے۔ اس لحاظ سے ترجمہ یہ ہوگا کہ: ” اپنے گھروں میں ٹھری رہو یا جمی بیٹھی رہو”۔

تبّرج کے دو معنی ہیں ایک زینت اور محاسن کا اظہار اور دوسرا چلنے میں ناز و انداز۔
آپ اب اپنے آس پاس خاص طور پر مغرب کی عورتوں کو دیکھیں کہ کس طرح ناز و نخرے اور جسم کے انداز کو گھما بڑھا کر چلتیں ہیں اور اپنی کمر کو مخصوص انداز میں مٹکا کے چلتی ہیں۔ ان کی اس انداز کو بھی اللہ تعالی نے رجیکٹ کیا ہے۔

اگر آپ اس آیت کو غورو فکر سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ عورت کا بغیر کسی شرعی عذر کے باہر نکلنا اللہ تعالی کو پسند نہیں ہے اور عورت کا گھر کی چار دیواری کے اندر بیٹھنا ان کے وقار و عزت کو دوبالا کرنا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
” اپنی عوتوں کو مسجدوں سے نہ روکو مگر ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔”
(ابو داؤد)۔

اس کا مطلب ہے کہ عورتوں کی فضیلت کی جگہ ان کے گھر ہیں نہ کے باہر حالانکہ اللہ کےگھر بھی ان کے لیے فضیلت کا مقام نہیں بلکہ اپنے گھر۔

جس طرح مرد کی نماز مسجد میں افضل ہے اسی طرح عورت کی نماز اپنے گھر میں افضل ہے نہ کہ مسجد میں۔
اور جب عورتوں کو مسجد جانے کی اجازت مل گئي تو وہ بھی کچھ شرائط کے ساتھ۔

1 / صرف عشاء اور فجر کی وقت، اس لیے کہ دونوں اوقات اندھیرے کے ہیں اور عورتوں کی پردہ نشینی بھی نہ ہوگی۔

ابن عمر (رض) سے روايت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ” عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں میں آنے دو”۔(ترمذی)

2/ مسجد میں زینت کرکے اور خوشبو لگا کر نہ آئيں۔
قبیلہ مزینہ کی ایک بہت بنی سنوری عورت مسجد میں بڑے زیب و زینت کے ساتھ آئي تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:

” اے لوگوں اپنی عورتوں کو زیب و زینت کے ساتھ مسجد میں آنے سے روکو۔”
( موطا)

3/ عورتیں مسجد میں مردوں کے خلط ملط نہ ہوں اور نہ ہی اگلی صفوں میں کھڑی ہوں۔

حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ:
” میں اور یتیم (رض) (حضرت انس کے بھائی) ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور میری ماں ام سلیم (رض) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئی۔”
(بخاری)

4/ عورتیں مسجد میں آواز بلند نہ کریں۔
” اگر نماز میں امام کو کسی چيز کے بارے میں متوجہ کرنا ہو تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں دستک دیں-”
(بخاری)

ان تمام حدود کو بروئے کار لانے کے بعد بھی حضرت عمر(رض) کو عورتوں کے خلط ملط ہونے کا اندیشہ ہوا اور آپ نے مسجد میں عورتوں کے لیے دروازہ مختص کیا اور مردوں کو کس دروازے سے آنے کی اجازت نہیں تھی۔ (ابوداؤد)

اور جنگوں میں پردہ کے احکامات کو نرم کیا گیا ہے کہ عورتیں جنگوں میں حصہ لے سکتی ہیں مگر سواء زخمیوں کو پانی پلانے، تیمارداری کرنے اور علاج کرنے کے علاوہ کچھ نہیں وہ لڑنے کے لیے نہیں ہیں۔

اور جب جنگ ختم ہوجاتی ہے تو عورتوں پر پردہ کے احکامات پھر سے فرض ہوجائيں گے۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی پردہ کی نوعیت کسی جاہلی رسم و راج جیسی نہیں ہے، جہاں حقیقی ضرورت پیش آتی ہے تو پردہ میں نرمی کی جاتی ہے اور نہ صرف ہاتھ اور چہرہ بلکہ ستر کے بھی کچھ حصے کھولنے کی کمی کا بھی حکم ہے۔ لیکن جب ضرورت دفع ہوجاتی ہے تو پھر حجاب کو انہیں حدود پر قائم کیا جاتا ہے۔
اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ اس دین میں سختی نہیں ہے موقع مناسب کے کمی کی جاسکتی ہے مگر وہ بھی قرآن اور حدیث کے احکامات کے مطابق۔

یہ نہیں کہ جب مرضی چاہو حجاب اتاردو اور باہر نکل جاؤ اور نوکری کرنا شروع کردو بغیر کسی شرعی عذر کے۔

آج کل کے لوگوں نے عورت کی آزادی کو غلط رنگ میں پیش کیا ہے اور وہ خدیجہ (رض) کا مثال دیتے ہیں کہ ” وہ بھی تو کاروبار کرتی تھیں” تو یہ ان کا کاروبار کرنے کا جو دور ہے وہ ان کے اسلام لانے کے پہلے دور کا ہے نہ کہ بعد کا او کبھی کبھار فاطمہ جناح کی سیاست میں انے کا ذکر کرتے ہیں، تو ان کو میرا یہ جواب ہے کہ فاطمہ جناح یا ان کا کردار اسلام کی عکاسی نہیں کرتا ہاں اچھا ہی ہوتا کہ وہ لوگ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مثال پیش کرتے۔ عورت کی اپنی بھی پہچان ہے اور وہ پہچان اس کے ولی سے ہے، اکیلی عورت کی کوئی پہچان نہیں ہے، اکیلے سفر تو عورت کر نہیں سکتی اسلام کے مطابق، اور وہ بات کرتے ہیں اکیلی عورت کی پہچان کی، ہر چيز کا ایک اسلامی اصول ہے اور وہ عورت کی پہچان کا صحیح طور پر عکاسی کرتا ہے۔

اگرکچھ لوگوں کے پاس میری ان ساری باتوں کا جواب ہے تو پلیز قرآن اور حدیث سے قائل کرنے کی کوشش کریں۔

اللہ ہمیں اور آپ سب کو اسلام کو صحیح معنی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں