44

شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان اور بھارت میں مصالحانہ کردار میں کامیاب ہوجائیں گے؟-ڈاکٹر عظیم ابراہیم

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دو سال قبل مملکت کے منظرنامے میں سامنے آنے کے بعد سے ایک طاقتور شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔یمن میں جنگ ، ایران اور مشرقِ اوسط میں اس کی گماشتہ تنظیموں کے خلاف مہم اور مملکت کی داخلی اصلاحات ، یہ سب انھیں ایک پُرعزم شخصیت ثابت کرتے ہیں اور ان امور پر ان کے غیر متزلزل عزم کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان اس وقت سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور ان کے درمیان حدِ متارکہ جنگ ( کنٹرول لائن) اور ورکنگ باؤنڈری پر شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ان دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان اس تازہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ایسی شخصیت ہیں جو ان میں مفاہمت کے لیے کوئی پائیدار سمجھوتا کراسکتے ہیں۔

امریکا ماضی میں روایتی طور پر ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ امریکا کا محکمہ خارجہ پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان مواصلاتی چینل کی بحالی کے لیے فعال انداز میں کام کررہا ہے مگر امریکا اور بھارت کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتری کے باوجود کوئی بہت زیادہ گرم جوشی نہیں پائی جاتی ہے اور وہ اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ امریکا موجودہ کشیدہ صورت حال میں کوئی اہم کردار ادا کرسکے۔نیز پاکستان اور امریکاکے درمیان تعلقات میں بھی حالیہ برسوں میں سرد مہری آئی ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا امریکا کے دائرۂ اثر سے نکلنے کے بعد چین کی جانب زیادہ جھکاؤ ہوگیا ہے۔

چین بھی ثالثی کی کوششوں میں کوئی زیادہ مدد گار ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اس کی بھارت سے علاقائی مخاصمت ہے۔ چین مفاہمت کے لیے اگر کوئی عمل شروع کرتا ہے تو بھارت اس کے ارادوں اور غیر جانبداری پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔

اس بحران میں جہاں تک روس کی مداخلت اور ثالثی کا تعلق ہے تو پاکستان اس کو مسترد کرسکتا ہے کیوں کہ ماسکو کے نئی دہلی سے سرد جنگ کے زمانے سے قریبی دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔ایران نے حالیہ برسوں میں خود کو پاکستان کا روایتی حریف ثابت کیا ہے ،اس لیے تہران جو کچھ بھی پیش کش کرتا ہے تو اسلام آباد اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

اس تناظر میں سعودی عرب ہی ایشیائی طاقت کے طور پر واحد ملک رہ جاتا ہے جس کے پاکستان اور بھارت دونوں سے تعلقات میں گرم جوشی پائی جاتی ہے۔سعودی عرب کے پاکستان سے گذشتہ سات عشروں سے قریبی دوستانہ اور تزویراتی تعلقات استوار ہیں۔ یہ سعودی عرب ہی ہے جس نے پاکستان کے جوہری پروگرام میں مالی معاونت کی تھی اور جوہری تجربات کے بعد مشکل حالات میں اس کا ساتھ دیا تھا۔

سعودی عرب اور بھارت کے درمیان شراکت داری ایک حالیہ مظہر ہے لیکن یہ دونوں ممالک کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔چین اور ایران کے علاقائی تزویراتی ایجنڈوں کے معاملے میں دونوں کے ایک ہی جیسے مفادات اور تشویش ہے۔سعودی عرب اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کو اوّل الذکر کے پاکستان کے ساتھ تاریخی تعلقات پر اثر انداز ہونے والے عامل کے طور پر نہیں دیکھا جارہا ہے بلکہ اس کو تنازع کے ممکنہ حل کے لیے ایک مثبت عامل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید برآں سعودی عرب اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر علاقائی توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سعودیوں کے ارادوں پر طرفین واضح طور پر اعتماد کر سکتے ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان امن کی ثالثی کے لیے اس موقع کو ضائع نہیں جانے دیا۔انھوں نے سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر کو پاکستانی حکومت کے لیے ایک ہنگامی پیغام دے کر بھیجا تھا۔اس پیغام میں کیا لکھا تھا ، اس کا تو کچھ پتا نہیں چل سکا لیکن عادل الجبیر کو پاکستان بھیجنے کی خبر منظرعام پر آنے کے فوری بعد پاکستان نے بھارت کے گرفتار پائیلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کردیا تھا۔اس فیصلے سمیت تمام خاموش سفارت کاری ہوئی ہے لیکن اگر سعودی ولی عہد وزیراعظم پاکستان عمران خان کے فیصلے پر ا ثر انداز ہوئے ہیں تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اس پیچیدہ اور موہوم صورت حال میں کیسے اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

اس بات کا تو ابھی تعیّن کیا جانا ہے کہ سعودی ولی عہد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں مگر ان کی کامیابی اہمیت کی حامل ہوگی کیوں کہ جنگ دونوں فریقوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں