45

غزوہ ہند اور ہماری غلط فہمیاں … ایک فکری تحریر

غزوہ ہند اور ہماری غلط فہمیاں … ایک فکری تحریر

بھارت کی حالیہ جنگ کی دھمکیوں کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے کہ پاکستانی نوجوان سوشل میڈیا پر غزوہ ہند کی بات کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد ان نوجوانوں کی ہے جن کے شب و روز بھارتی فلمیں، ڈرامے اور گانے دیکھتے سنتے گزر جاتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ ایک پوسٹ لکھ کر پاکستانیوں کی غزوہ ہند کے بارے میں چند خوش فہمیوں اور بہت سی غلط فہمیوں کی نشاندہی کر دوں۔

احادیث کی روشنی میں یہ تو ثابت ہو گیا کہ غزوہ ہند برحق ہے اور ضرور برپا ہو گی۔مگرغزوہ ہند کے بارے میں ہم ایک بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں جسے دور کرنا بہت ضروری ہے۔

سب سے پہلے یہ بات سمجھ لی جائے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی ہر جنگ غزوہ ہند نہیں ہے، نا تو پینسٹھ اور اکہتر والی جنگیں غزوہ ہند تھیں اور نا ہی اب اگر کوئی جنگ چھڑی وہ غزوہ ہند ہو گی۔

حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ بَعْضِ الْمَشْيَخَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْهِنْدَ، فَقَالَ: «لَيَغْزُوَنَّ الْهِنْدَ لَكُمْ جَيْشٌ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَأْتُوا بِمُلُوكِهِمْ مُغَلَّلِينَ بِالسَّلَاسِلِ، يَغْفِرُ اللَّهُ ذُنُوبَهُمْ، فَيَنْصَرِفُونَ حِينَ يَنْصَرِفُونَ فَيَجِدُونَ ابْنَ مَرْيَمَ بِالشَّامِ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ تِلْكَ الْغَزْوَةَ بِعْتُ كُلَّ طَارِفٍ لِي وَتَالِدٍ وَغَزَوْتُهَا، فَإِذَا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَانْصَرَفْنَا فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرِّرُ، يَقْدَمُ الشَّامَ فَيَجِدُ فِيهَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَلَأَحْرِصَنَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَأُخْبِرُهُ أَنِّي قَدْ صَحِبْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: «هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ»

بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيد ، صَفْوَانَ سے وہ اپنے بعض مشائخ سے وہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا الله ان مجاہدین کو فتح عطا کرے گا حتی کہ وہ ان ہندووں کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور الله ان کی مغفرت کرے گا پھر جب مسلمان واپس جائیں گے تو عیسیٰ ابن مریم کو شام میں پائیں گے۔ ابو بریرہ نے کہا اگر میں نے اس جنگ کو پایا تو نیا، پرانا مال سب بیچ کر اس میں شامل ہوں گا پس جب الله فتح دے گا اور ہم واپس ہوں گے تو میں عیسیٰ کو شام میں پاؤں گا اس پر میں با شوق ان کو بتاؤں گا کہ میں اے رسول الله آپ کے ساتھ تھا۔ اس پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم مسکرائے اور ہنسے اور کہا بہت مشکل مشکل۔ (کتاب الفتن نعیم بن حماد)

ہند کے بارے میں احادیث اور امام مہدی علیہ السلام کے دور کے بارے میں احادیث کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ غزوہ ہند بعین اس وقت برپا ہو گی جس وقت حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا وقت قریب قریب ہو گا۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نزول حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بیعت خلافت کے سات یا نو سال بعد ہو گا۔ اس بات کی تائید کےلیے ایک اور روایت پر غور کریں جو کہ مسند ااسحاق میں ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما الهند فقال ليغزون جيش لكم الهند فيفتح الله عليهم حتى يأتوا بملوك السند مغلغلين في السلاسل فيغفر الله لهم ذنوبهم فينصرفون حين ينصرفون فيجدون المسيح بن مريم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہندوستان کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ ایک لشکر ہندوستان میں جہاد کرے گا اور اللہ انہیں فتح عطا فرمائے گا یہاں تک کہ سندھ کے بادشاہوں کو وہ زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے۔ اللہ ان کے گناہ معاف فرما دے گا، پھر وہ پلٹیں گے تو شام میں حضرت عیسی علیہ السلام کو پائیں گے۔

بظاھر ایسا لگتا ہے کہ اس زمانے میں پاکستان ، ہندوستان اور افغانستان کا پورا کے پورا علاقہ ایک مملکت “ہند” ہو گا نا کہ آج کل کی طرح جیسے ہندوستان کو ایک الگ ریاست کے طور پر ہند کہا جاتا ہے۔ جب کہ روایت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غزوہ ہند آخری زمانے میں ہو گا جب حضرت عیسی علیہ سلام یا تو اس دنیا میں تشریف لا چکے ہونگے یا تشریف لانے والے ہونگے ۔

آپ اس کو ایک مثال سے ایسے سمجھ لیں کہ اگر فرض کریں حضرت امام مہدی کی خلافت دو ہزار بیس میں قائم ہو تو اس حساب سے غزوہ ہند دو ہزار پچیس سے دو ہزارستائیس کے درمیان برپا ہو گی۔ (یہ صرف مثال دینے کے لئے سال بتایا گیا ہے حقیقت میں کب ہو گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے)

نعیم بن حماد کی کتاب الفتن میں موجود حدیث کے مطابق غزوہ ہند میں مسلمان جب ہندوستان کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے اس وقت وہ شام میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو پائیں گے۔ جب شام میں امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میں الملحمۃ الکبریٰ برپا ہو گی اور وہاں مسلمان اس عظیم ترین سعادت سے مستفید ہو رہے ہوں گے تو یہاں مشرقی جانب کے مسلمان کہیں اس عظیم سعادت سے محروم نا رہیں تو ان کے لئے اللہ پاک نے بالکل اسی دور میں غزوہ ہند کا تحفہ رکھا کہ یہاں کے مسلمان اپنے پیارے نبی کی روحانی قیادت و سرپرستی میں افضل ترین جہاد اور افضل ترین شہادت کی سعادت حاصل کر سکیں۔ اسی لئے اسے غزوہ ہند کہا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ پاک بھارت کے درمیان ہونے والی کسی بھی اور جنگ کو جہاد عظیم تو کہا جا سکتا ہے غزوہ ہند کہنا کسی صورت بھی درست نہیں۔

دوسری ایک اہم بات بتاتا چلوں کہ کوئی بھی عظیم سعادت آزمائیش کی بھٹی سے گزر کر کندن بنے بغیر نہیں ملتی۔ اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فیس بک پر بیٹھ کر انگلیاں چلا کر سود کھا کر، جھوٹ بول کر، ظلم دیکھ کے خاموش ہو کر، ملاوٹ کر کے، ناپ تول میں کمی کر کے، نمازیں غارت کر کے، فلمیں گانے اور ناچ گانے کر کے، شرابیں پی کے اور دنیا کا ہر برا کام کر کے بھی غزوہ ہند کی سعادت نصیب ہو جائے گی تو ان لوگوں سے بڑا بے وقوف اور کوئی نہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جہاں چھوٹی معصوم بچیوں کو گینگ ریپ کے بعد قتل کر دیا جاتا ہو اور ظلم و ستم کا نظام اسی طرح قائم و دائم رہے، ظالم دندناتا پھرے اور عوام خاموش تماشائی بنی رہے کیا ایسی قوم اس قابل ہے کہ اسے غزوہ ہند جیسی عظیم سعادت سے نوازا جائے؟ رب کعبہ کی قسم ہرگز نہیں۔

آپ اس وقت فلسطین، شام، عراق وغیرہ کا حال دیکھ لیں اللہ تعالٰی ان لوگوں کو امام مہدی اور ملاحم کے لئے آزمائش کی بھٹی میں ڈال کر کندن بنا رہا ہے تاکہ جب جہاد عظیم کا وقت آئے تو صرف پاک صاف اور اخلاص والے لوگ ہی اس سعادت کا حصہ بنیں۔ ایسا ہی کچھ یہاں پر غزوہ ہند سے پہلے ہو کر رہے گا، بلکل ویسا نا سہی لیکن اس قوم کو ایک زبردست قسم کی مار پڑ کے رہے گی اور غزوہ ہند میں کرینہ، قطرینہ، عالیہ وغیرہ کو حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے فیس بکی مجاہد اس بھٹی میں ڈال کر ضرور جلائے جائیں گے یہاں تک کہ صرف اخلاص والے باقی رہ جائیں اور وہ قوم تیار ہو جائے جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قیادت و سربراہی میں غزوہ ہند لڑنے کے قابل ہو جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بہت بڑی نعمتوں سے نوازا ہے، اور ان سب نعمتوں میں بہت بڑی نعمت پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کے وہ نوجوان ہیں جو ہر وقت دشمن سے نمٹنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ غزوہ ہند کے صف اول کے سپاہی ضرور ہیں لیکن عوام کی مجموعی بد اعمالیاں دنیا کی بہترین فوج کے ہونے کے باوجود اللہ کے عذاب کو نہیں ٹال سکتیں۔ وہ کون سا گناہ ہے جو پاکستان میں نہیں ہوتا؟ وہ کون سا ظلم ہے جو پاکستان میں نہیں ہوتا؟ پھر ہم میں ایسی کونسی خاص بات ہے جو ہمیں آزمائے بغیر ہی اتنی بڑی سعادت سے نوازا جائے؟

اللہ کا واسطہ ہے آنکھیں کھول لیں اس سے پہلے کے آپ آنے والی سخت آزمائش میں سرخرو ہونے کی بجائے جل کر بھسم ہونے والوں میں شامل ہو جائیں اللہ اس ملک کی حفاظت کرے۔ آمین
رائٹر: نامعلوم
ترتیب واضافہ: کلیم حیدر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں