109

مقروض اور قرض خواہ کے لیے تعلیمات – خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 24جمادی ثانیہ 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان “مقروض اور قرض خواہ کے لیے تعلیمات” ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ حقوق العباد کا تحفظ اسلام کے قطعی اصولوں میں شامل ہے، انہی اصولوں میں مقروض اور قرض خواہ دونوں کے لئے مؤثر تعلیمات شامل ہیں۔ انہوں نے استطاعت رکھنے والے مقروض لوگوں کو جلد از جلد قرض واپس کرنے کی ترغیب دلائی اور کہا کہ ایسی صورت میں ٹال مٹول سے کام لینا ظلم بھی ہے اور قرض خواہ کی حق تلفی بھی۔ اگر مقروض قرض ادا کرنے کا عزم رکھے تو اللہ تعالی اس کی مدد فرماتا ہے۔ مقروض میت کا نبی ﷺ نے خود جنازہ ادا نہیں فرمایا۔ احادیث کے مطابق قرض ایسا گناہ ہے کہ متعدد بار شہادت سے بھی معاف نہیں ہو سکتا۔ روزِ قیامت قرض کا تصفیہ نیکیوں اور گناہوں کے تبادلے سے کیا جائے گا۔ دوسری جانب قرض خواہ افراد کو مہلت دینے یا قرض معاف کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنگ دست کو مزید مہلت دینا واجب ہے، اور اگر کوئی اللہ سے معافی کی امید پر قرض معاف کر دے تو یہ بہت عظیم عمل ہے، نیز جزوی یا کلی طور پر قرض معاف کرنے سے روزِ قیامت کی سختیوں سے نجات ملتی ہے، آخر میں انہوں نے کہا کہ مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنی چاہیے، وگرنہ اللہ تعالی ایسے آجر کے خلاف مدعی ہو گا، آخر میں انہوں نے سب کے لئے جامع دعا کروائی۔

عربی خطبہ کی ویڈیو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اردو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے کلک کریں۔

پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اسی نے متقی لوگوں کے لئے راہ نجات اور مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام اور اعلی صفات ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے ، چنیدہ نبی اور برگزیدہ رسول ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام نیکو کار و متقی صحابہ کرام پر سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں؛ کیونکہ تقوی اپنانے والے کو اللہ تعالی سعادت مند بنا دیتا ہے، اور وہ کبھی شقاوت میں نہیں پڑے گا۔

مسلمانو!

حقوق العباد کا تحفظ اور نگہداشت اسلام کے قطعی اصولوں میں شامل ہے، جبکہ کچھ لوگ حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کے شکار ہیں اور قرض کی واپسی میں بالخصوص سستی کرتے ہیں، قرض انسان پر چیزوں کی خریداری، یا قرضے یا مزدور کی مزدوری وغیرہ کی شکل میں ہو سکتا ہے۔

مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے آپ کو ان قرضوں سے پاک رکھے، اور اپنے ذمے اپنے بھائیوں کے حقوق ادا کر دے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} اپنی دولت کو آپس میں باطل طریقے سے مت ہڑپ کرو۔[البقرة: 188]

ہر مسلمان پر حتماً فرض ہے کہ سب لوگوں کے حقوق پورے کے پورے بنا کسی کٹوتی اور کمی کے ادا کر دے۔ یہ بہت ہی واضح گناہ اور عظیم جرم ہے کہ انسان قرضوں کی ادائیگی سے بھاگے، یا قرض خواہ کے سامنے سے کترائے، یا ادائیگی میں ٹال مٹول کرے اور بلا وجہ تاخیر کرے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (مالدار شخص کا ٹال مٹول سے کام لینا ظلم ہے) متفق علیہ

ادائیگی کا وقت آنے پر بلا وجہ تاخیر ٹال مٹول کہلاتا ہے، لہذا جو شخص قرضوں کی اقساط ادا کرنے یا مکمل قرضہ چکانے کی استطاعت رکھتا ہے لیکن پھر بھی ادائیگی نہیں کرتا تو وہ حرام کا مرتکب ہو کر قرض خواہوں پر ظلم کر رہا ہے، اور ظلم کا انجام دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں تباہی اور بربادی ہے۔

اسلامی بھائیو!

اسلام میں قرض کا معاملہ بہت سنگین اور اہمیت والا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: “رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کسی مقروض فوت شدہ آدمی کو لایا جاتا تو آپ ﷺ دریافت فرماتے:”(کیا میت نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟)”تو اگر بتلایا جاتا کہ: میت نے ادائیگی کے لئے مال چھوڑ ا ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے وگرنہ فرماتے:”(تم خود ہی اپنے ساتھی کا جنازہ ادا کر دو) متفق علیہ

اس لیے قرض کی ادائیگی پر توجہ نہ دینے والے!

نہ ہی قرض خواہوں کا خیال کرنے والے!

اپنے پروردگار اور اللہ تعالی سے ڈر! اور سب لوگوں کو ان کے حقوق پہنچا دے!

صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے لیکن قرض معاف نہیں کیا جاتا)

اس لیے مسلمانو! اگر آپ قرض چکانے کی حیثیت میں ہو تو آپ کے ذمے جو کچھ بھی ہے اس کی فی الفور ادائیگی کر دیں، اور لوگوں کو ان کی رقوم واپس لوٹا دیں۔

مسلمانو! اپنے ذمے قرض ادا کر دیں، لوگوں کا مال واپس کرتے ہوئے ٹال مٹول سے بچیں، آپ ادائیگی کی استطاعت رکھتے ہیں تو وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے قرض واپس کر دیں؛ کیونکہ روزِ قیامت لوگوں کے حقوق کا تصفیہ نیکیوں اور گناہوں کے تبادلے سے ہو گا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جس کسی نے دوسرے کی عزت یا کسی اور چیز پر ظلم کیا ہو وہ آج ہی اس سے معاف کروا لے قبل ازیں کہ وہ دن آئے جس میں درہم و دینار نہیں ہوں گے، اس دن اگر ظالم کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کی مقدار اس کا نیک عمل [مظلوم کے لیے]لے لیا جائے گا۔ اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ ظالم کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔) بخاری

اس لیے قرض لینے والے ! قرضوں کی فوری ادائیگی کے لئے بھر پور کوشش کرو، اور اگر تم ادائیگی کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی قرض ادا نہیں کرتے ، ٹال مٹول سے کام لیتے ہو تو تم اپنے آپ کو روزِ قیامت کے خطرات میں جھونک رہے ہو؛ جیسے کہ سنن نسائی میں محمد بن جحش رضی اللہ عنہ سے حسن سند کے ساتھ مروی ہے کہ : (“ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر اپنی ہتھیلی اپنی پیشانی پر رکھی اور فرمایا: (سبحان اللہ! کس قدر سخت حکم نازل ہوا ہے؟) اس پر صحابہ گھبرا گئے لیکن خاموش رہے۔ اگلے دن میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ نازل ہونے والا سخت حکم کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر کوئی آدمی اللہ تعالی کے راستے میں شہید کیا جائے، پھر اسے زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے اور اس کے ذمے قرض واجب الادا ہو تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا حتی کہ اس کے ذمے واجب الادا قرض اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے۔)

مسلمان بھائی!

لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے پختہ عزم رہیں، اور قرض چکانے کے لئے اپنی نیت اچھی رکھیں، اللہ تعالی آپ کے لیے راستہ بنا دے گا، اور بند دروازے بھی کھول دے گا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص لوگوں سے قرض واپسی کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا فرما دیتا ہے، اور جو شخص ہڑپ کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالی اسے تلف فرما دیتا ہے) بخاری

اے قرض خواہو !

تم بھی سخاوت، نرمی اور آسانی والا معاملہ کرو، اگر کوئی شخص تنگ دست ہے تو اسے فراخی تک مہلت دینا واجب ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ} اور اگر وہ تنگ دست ہو تو فراخی تک اسے لازمی مہلت دو۔[البقرة: 280]

مفلس اور نادار افراد کو مہلت دینا اور انہیں معاف کر دینا بہت فضیلت والا عمل ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (ایک تاجر لوگوں کو قرضہ دیا کرتا تھا، تو جب وہ کسی تنگ دست کو دیکھتا تو وہ اپنے لڑکوں کو کہتا کہ اسے قرض معاف کر دو، امید ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی معاف کر دے، تو اللہ تعالی نے اسے معاف فرما دیا) متفق علیہ

صحیح مسلم کی ایک روایت میں اضافہ ہے کہ: (اللہ تعالی فرماتا ہے: اِس سے زیادہ معاف کرنے کا حق ہمارا بنتا ہے، اس تاجر کو معاف کر دو)

ایک اور بخاری و مسلم کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ: (جو شخص کسی تنگ دست پر آسانی کرے تو اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرماتا ہے) متفق علیہ

اس لیے مسلمان بھائی! نادار پر شفقت کرتے ہوئے اسے مہلت دے کر عظیم اجر والا عمل کر گزریں، یا قرض معاف ہی کر دیں تو اس کا اجر و ثواب تو بہت ہی عظیم ہو گا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اللہ تعالی اسے روزِ قیامت کی سختیوں سے نجات دے دے تو وہ تنگ دست سے مکمل یا جزوی قرضہ معاف کر دے۔) مسلم

یا اللہ! ہمیں تیری حلال روزی کے ذریعے تیری حرام کردہ چیزوں سے مستغنی کر دے، اور اپنے فضل کے ذریعے تیرے سوا ہر کسی سے مستغنی کر دے۔ یا اللہ! ہمارے نبی اور رسول جناب محمد -ﷺ- پر درود و سلام نازل فرما۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو نیک لوگوں کا ولی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ، وہی حق اور واضح ہے۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ ساری خلقت کے سربراہ ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

اسلامی واجبات اور فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ مزدور کی مزدوری پوری پوری ادا کریں؛ اس لیے مزدوری میں کٹوتی کرنا یا ادائیگی میں تاخیر کرنا حرام ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو) اس حدیث کو بعض محققین نے حسن قرار دیا ہے۔

اس لیے مزدور کے حقوق ہڑپ کرنا یا ادائیگی میں تاخیر کرنا حرام ہے، اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: میں قیامت کے دن تین آدمیوں کے خلاف مدعی ہوں گا: )ان میں سے ایک یہ بھی ذکر فرمایا: (وہ شخص جس نے کسی مزدور سے پورا کام لیا لیکن اس کو اجرت نہ دی۔) بخاری، جبکہ بخاری کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں ہے کہ: (جس کے خلاف میں مدعی بن گیا تو اس پر غالب ہو جاؤں گا۔)

یہ بات ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالی نے ہمیں جلیل القدر عمل کا حکم دیا ہے کہ ہم کثرت کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھیں، یا اللہ! ہمارے نبی اور رسول محمد ﷺ پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما ۔ یا اللہ! تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین اور قیامت تک اچھے طریقے سے ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما دے۔ یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ اور اعلانیہ سب گناہ معاف فرما دے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں کے حالات بہتر فرما دے، یا اللہ! ان کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! ان کی مشکلات دور فرما دے۔

یا اللہ! تمام بیمار مسلمانوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! مقروض لوگوں کو اتنا عطا فرما کہ ان کی ضروریات پوری ہو جائیں۔

یا اللہ! ہمارے حکمران اور ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں ان کی رعایا کا بھلا ہو۔

یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ یا اللہ! تو غنی اور حمید ہے، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں پرنٹ / ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں