47

سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اور ہماری ذمہ داری-شاہد رشید

آج دنیا ایک گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جس تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی ہے، ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ پچھلی چند دہائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا بھرکے لوگ ایک دوسرے کے نزدیک آ گئے ہیں، اب ہزاروں میل کی دوری کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ دور دراز بیٹھ کر لوگ بیک وقت اپنے عزیزوں کی آواز کو اپنے کانوں سے سن اور لب ولہجہ وصورت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی تعلقات کی نت نئی شکلیں پیدا کرکے انکے دائرے کو وسیع ترکردیا ہے۔ یکم جنوری 1983کو انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد دنیا میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ آن لائن دنیا نے 1990میں مزید ترقی کی منازل اس وقت طے کیں جب کمپیوٹر ماہرین نے ورلڈ وائیڈ ویب (www) کی ایجاد میں کامیابی حاصل کر لی۔ انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا نے جد ید دنیا میں روابط کو ایک نئی شکل دی۔ دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرنیوالے صارفین کی تعداد یورپی ممالک میں پائی جاتی ہے جن کی تعداد 46 فیصد ہے، براعظم افریقہ اپنی پسماندگی و غربت کے باعث اس آن لائن دنیا سے بہت پیچھے ہے جہاں صر ف کل آبادی کے 2فیصد لوگ ہی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، 2000کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں کچھ ایسی سوشل میڈیا سائٹس سامنے آئیں جنہوں نے ناصرف لوگوں کو ایک دوسر ے سے قریب کر دیا بلکہ ہزاروں کلومیٹرز کے فاصلوں کو بھی ختم کر دیا۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹوئٹر اور سنیپ چیٹ جیسی سائٹس نے مرد و خواتین، نوجوان اوربوڑھوں کیساتھ ساتھ بچوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 50ملین سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود ہیں جن کو لوگ استعمال کررہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستا ن میں فیس بک استعمال کرنیوالوں کی تعداد سب سے زیادہ 30ملین سے زائدہے۔ سوشل میڈیا افراد اور اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط ہونے، خیالات کا تبادلہ کرنے، اپنے پیغامات کی ترسیل اور انٹرنیٹ پر موجود دیگر بہت سی چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئرکرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں اس میں انتہائی تیز رفتار ترقی ہوئی ہے اور اب سوشل میڈیا نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی کا محور و مرکز بن چکا ہے۔ آج ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیکنڈوں میں دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے جس طرح ہر چیزکے مثبت و منفی اثرات ہوتے ہیں، جو اس کو استعمال کرنے والوں پر منحصر ہوتے ہیں، اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی دونوں قسم کے اثرات ہیں۔ سوشل میڈیا کا مقصد رابطوں کو فروغ دینا تھا لیکن لوگوں نے اسکے مقاصد کو نظر اندازکرنا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی اخلاقی و سماجی خرابیوں نے فروغ پایا اور ایسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اورمکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے اور باہمی انتشار اور خلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔ معاشرے میں بیشتر افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے کیلئے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، تصاویر اور خاکوں میں ردوبدل جیسے طریقوں کے ذریعے غلط استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر یا افواہ کی تحقیق سے بھی پہلے وہ پوری دنیا میں نشر کر دی جاتی ہے۔ معلومات درست ہوں یا غلط،کوئی اس جھنجھٹ میں پڑتا ہی نہیں ہے۔ نوجوان نسل کے ذہن ودماغ پرسوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہوچکا ہے، وہ اپنے کام اور پڑھائی کے اوقات بھی سوشل میڈیا پر صرف کر رہا ہے، جس سے انکی تعلیم پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پرکسی قسم کی کوئی روک تھام کا نظام موجود نہیں، ہر شخص اچھی بری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے۔ کوئی شخص بلاروک ٹوک کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پرکیچڑ اچھال سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مخالفین کیخلاف پروپیگنڈے کی مکمل آزادی کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے معاشروں میں پاکستانی سماج بھی شامل ہے، جہاں ہر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات اسکے مثبت اثرات کے مقابلے میں زیادہ شدت سے فروغ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کا منفی استعمال دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے افراد فیس بک پر مخالف سیاست دانوں کیلئے انتہائی نازیبا زبان استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ فیس بک سمیت بیشتر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اس طرح کی زبان استعمال کرنے اور اس نوعیت کی تصاویر اور وڈیوز اپ لوڈ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اس رجحان کے باعث نہ صرف فیس بک پر بلکہ عملی زندگی میں بھی مختلف سیاسی و مذہبی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان کدورتیں اور دوریاں بڑھ رہی ہیں جس کی روک تھام اشد ضروری ہے۔

گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس پی آر میں انٹرن شپ مکمل کرنیوالے طلباوطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو سب سے زیادہ باصلاحیت اور متحرک نوجوان عطا کئے ہیں اور ملک کا مستقبل ان ہی نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا نوجوان اپنی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کو ترقی اور امن کی نئی بلندیوں سے ہمکنار کرینگے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذات پر اعتماد رکھیں، قانون و میرٹ کی پاسداری کریں، اور کامیابی کے حصول کیلئے شارٹ کٹ اختیار نہ کریں۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی وہ سوشل میڈیا پر چلنے والے مخالفانہ بیانیہ سے ہوشیار رہیں۔ لکھے پڑھے نوجوانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ وہ آئی ایس آئی ایس (داعش) اور اس کی ذیلی تنظیموں کا خصوصی نشانہ ہیں۔ زندگی میں آپ کی کامیابی، اللہ پر پختہ یقین، والدین کی خدمت اور سخت محنت کے تین اصولوں میں مضمر ہے۔اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونیوالی ان منفی سرگرمیوں کو روکا کیسے جائے جو ہمارے معاشرے میں اقدار کی تباہی، غیراخلاقی سرگرمیوں کے فروغ اور انتشار پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں؟ جبکہ اس طرح کی زیادہ تر سرگرمیاں فیک آئی ڈیز کی مدد سے سرانجام دی جاتی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی آئی بنانے والے صارفین کی لوکیشن کو تلاش کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کیلئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز یونٹ کو بھرپور کوششیں کرنا ہونگی۔ سوشل میڈیا اور خاص طور پر مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک پر جاری منفی اور غیراخلاقی سرگرمیاں ہمارے معاشرے میں نفرت، انتشار اور بے راہ روی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں، متعلقہ اداروں کو اس پر سخت ایکشن لینا چاہئے جبکہ اساتذۂ کرام اور والدین کی یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور نئی نسلوں پر کڑی نظر رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا کا کیا استعمال کر رہے ہیں۔اور کیا وہ انتہاپسندانہ نظریات کی طرف مائل تو نہیں ہو رہے ہیں ۔آجکل انتہاپسندانہ تنظیمیں کا اصل ہدف نئی نسل ہی ہے اور وہ اپنے نظریات کا پرچار کررہی ہیں۔آرمی چیف نے بھی اسی جانب توجہ مبذول کروائی ہے کہ نئی نسل ان سے ہوشیار اور محتاط رہیں اور اپنی مکمل توجہ تعلیم پر دیں۔ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس کی مدد سے ہم تمام انتہاپسندانہ نظریات کو شکست دیکر ایک ترقی یافتہ ملک کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں