50

سوشل میڈیا کا معاشرے میں بڑھتا ہوا کردار​-محمد عاصم حفیظ

تیونس میں آنیوالے چنبیلی انقلاب کی گونج پوری دنیا میں محسوس کی جا رہی ہے ۔ تجزیہ نگار حیران ہیں کہ کس طرح صحافتی آزادیوں سے محروم ایک قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور چند دنوں کے اندر ملک میں انقلاب برپا کر دیا ۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ صدر زین العابدین سعودی عرب میں جلاوطن ہو چکے ہیں ، ان کے کئی رشتہ دار ہلاک ، زخمی یا گرفتار ہیں جبکہ عوامی طاقت کا یہ طوفان آنیوالے دنوں میں مزید کیا تبدیلیاں لائے گا اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ تیونس میں آنیوالے اس انقلاب کی یقینا بہت سی وجوہات ہوں گی جن میں بیروزگاری ، غربت ، لاقانونیت وغیرہ شامل ہیں تاہم اس انقلاب کا جو پہلو سب سے اہم ہے وہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے ۔ ظلم سے ٹکرانے کی خواہش تیونس کے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں سالوں سے پرورش پا رہی ہو گی لیکن اس کو طاقتور آواز سوشل میڈیا نے ہی بنایا ۔ ملک میں صحافتی آزادی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا عوامی جذبات کی صیح ترجمانی کرنے سے قاصر تھا ۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بدولت ہی یہ ممکن ہوا کہ لاکھوں لوگوں کی خواہش ایک لاوا بن کر پھوٹی اور ملک میں انقلاب برپا کر ڈالا ۔ میڈیا کی نئی صورتوں میں شمار کئے جانیوالے انٹرنیٹ اور موبائل فون پیغامات اب سیاست میں بھی اہم ترین کردار ادا کرنے لگے ہیں ۔ انہوں نے عوام کو اظہار کی طاقت دی ہے اور محکوم لوگ اپنے جذبات کی بھڑاس نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ یہ صورتحال مختلف ممالک پر ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے حکمرانوں کا ہوش اڑانے کے لئے کافی ہے ۔ تیونس کے صدر زین العابدین کے فرار کے ساتھ ہی عرب دنیا میں ایک لطیفہ تیزی سے گردش کرنے لگا ۔ یہ پیغام مغربی طاقتوں کی پشت پناہی پر کئی سالوں سے حکومت پر قابض مصری صدر حسنی مبارک کے لئے تھا ۔ اس کی عبارت کچھ یوں تھی کہ زین العابدین کو جدہ لیجانے والا طیارہ شرم الشیخ میں مزید سواریاں لینے کے لئے اترے گا ۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکمرانوں سے تنگ اور سامراج سے آزادی کے خواہشمند نوجوان طبقے کے حوصلے اس حد تک بلند ہوچکے ہیں کہ وہ اب نظام حکومت کو بزور طاقت بدلنے کے لئے پرتول رہے ہیں ۔ یہ کہانی صرف تیونس یا مصر کی نہیں بلکہ اس کو عوامی خواہشات کا خون کرنیوالے ہر حکمران کے لئے تنبیہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ابلاغ عامہ کے ماہرین تو کافی عرصے سے اس موضوع پر بحث کا آغاز کر چکے ہیں کہ آنیوالے دور میں سوشل میڈیا عالمی سیاست میں اہم ترین کردار ادا کرے گا ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس حوالے سے کمتر درجہ رکھتے ہیں کیونکہ مالکان اور چند مخصوص صحافیوں کو رام کرکے ان کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن موبائل فون اور انٹرنیٹ میڈیا کے بارے میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ چنبیلی انقلاب ذرائع ابلاغ کی ان نئی اقسام کا پہلا کارنامہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ چند سالوں میں ایسی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ جب موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بدولت بڑے پیمانے پر عوامی طاقت کا اظہار کیا گیا۔ شاید بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں شدت اختیار کرجانیوالی تحریک آزادی کے پیچھے بھی اسی سوشل میڈیا کی طاقت کارفرما ہے ۔ فیس بک پر اعلان ہوتا ہے کہ ٹھیک اس وقت کرفیو توڑا جائے گا ، موبائل فون سے ایس ایم ایس بھیجے جاتے ہیں ۔ پیغام رسانی تیزی سے وقوع پذیر ہوتی ہے اور اعلان کے مطابق ہزاروں افراد بیک وقت سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں ۔ بھارتی فوج کے لئے یہ صورتحال یقینا پریشان کن ہوتی ہے کیونکہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنیوالے ایک دو کشمیریوں کو شہید کرنا تو ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن ہزاروں کی ریلی پر گولی چلانا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ اور اگر گولی چلا بھی دی جائے تو شہید یا زخمی ہونیوالوں کی ویڈیوز اور تصاویر منٹوں میں انٹرنیٹ پر پھیلا دی جاتی ہیں جس سے بھارتی حکومت بڑے پیمانے پر لعن طعن کا نشانہ بنتی ہے اور عوامی اشتعال میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ موبائل فون کے ذریعے پیغام رسانی سے عوامی طاقت کے اظہار کی ایک اور مثال فلپائن میں سامنے آئی کہ جب دو ہزار ایک میں صدر جوزف ایسٹراڈا کو معافی دینے کے معاملے پر لاکھوں افراد دارالحکومت منیلا میں جمع ہو گئے ۔ یہ سب لوگ تیزی سے پھیلائے جانیوالے ستر لاکھ سے زائد ایس ایم ایسز کے نتیجے میں جمع ہوئے تھے جن میں پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ آخر کار پارلیمنٹ کے ارکان نے عوامی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ، صدر کے خلاف الزامات سامنے لائے گئے اور تین دن کے اندر جوزف ایسٹراڈا کو عہدہ چھوڑنا پڑا ۔ٍ امریکہ ، پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی حکمران ان دنوں وکی لیکس ویب سائٹ کی کاررستانیوں کے باعث پریشان ہیں ۔ یہ بھی آن لائن میڈیا کی طاقت کا نتیجہ ہے کہ ایسا مواد جو کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے زریعے سامنے لانا شاید ممکن ہی نہ ہوتا وہ ویب سائٹ کے زریعے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وکی لیکس کی ویب سائٹ پر مواد آنے کے بعد ہی دیگر ذرائع ابلاغ اس کو زیر بحث لائے ہیں ۔ تیونس کے انقلاب میں بھی وکی لیکس کے انکشافات کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ ان میں صدر اور اس کے حواریوں کی جانب سے کرپشن کے قصے سامنے آئے تھے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر اب بہت سی حکومتیں ، ادارے ، جماعتیں اور رہنما اس کو کافی اہمیت دینے لگے ہیں ۔ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز ٹوئٹر پر اپنے کاو ¿نٹ کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں اور ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ چند دن کے اندر لاکھوں مداحوں کا نیٹ ورک بنانا ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ ہوگوشاویز نے امریکہ مخالف نظریات میں اپنے حامی کیوبا اور بولیویا کے حکمرانوں کو بھی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر اپنے اکاو ¿نٹ بنانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ اپنے پیغامات کو تیزی سے پھیلایا جا سکے ۔ نائیجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن سوشل میڈیا کے اس قدر گرویدہ ہیں کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل صدارتی انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے کا اعلان کسی پریس کانفرنس یا تقریر کی بجائے فیس بک پر سٹیٹس لکھ کر کیا ۔ ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں انٹرنیٹ پر شئیر کیے جانیوالے مواد پر نظر رکھتی ہیں ۔ سی آئی اے نے امریکی ریاست فلاڈلفیا سے تعلق رکھنے والی کولین لاروز کو فیس بک پر اس کے مشکوک پیغامات کی بنیاد پر ہی گرفتار کیا تھا ۔ امریکی اداروں نے دعوی کیا کہ جہاد جینز کے نام سے مشہور یہ عورت اپنے ایک مسلمان ساتھی کے ساتھ ملکر بھرتی مہم چلا رہی تھی اور اس نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے کئی افراد کو جہاد کے لئے بھرتی کیا تھا ۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل برطانیہ میں کچھ پاکستانی طلبہ کو مشکوک ای میلز کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے انٹرنیٹ پر اپنے خلاف مواد کا جواب دینے کے لئے ڈیجیٹل آو ¿ٹ ریچ ٹیم بنائی گئیں ہیں ۔ ان کا کام انٹرنیٹ پر کہیں بھی جاری ہونیوالے مواد کا توڑ کرنا ہے ۔ اگر آپ کسی بھی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ یا پھر سوشل فورمز پر مشتمل ویب سائٹ پر امریکہ کے خلاف کوئی تحریر لکھیں گے تو امریکی محکمہ خارجہ کے تحت قائم اس ڈیجیٹل آو ¿ٹ ریچ ٹیم کے ارکان فوری طور پر اس کا جواب دیں گے ۔ اس ٹیم کے ارکان نہ صرف انگش کے ساتھ ساتھ اردومواد پر بھی نظر رکھتے ہیں ۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ فیس بک کے بانی مارک ذکربرگ کم عمرترین ارب پتی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور انہوں نے ایک دو سالوں کے اندر اتنی دولت سمیٹی ہے کہ جو نیویارک ٹای ¿مز اور سی این این کے مالکان کئی عشروں میں حاصل نہیں کر سکے ۔ ہمارے ہاں پاکستانی سیاسی جماعتیں بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ کر رہی ہیں ۔ عدلیہ کی آزادی کے لئے چلائی گئی تحریک کو پرجوش بنانے میں انٹرنیٹ نے بھی اہم ترین کردار ادا کیا تھا ۔ ایس ایم ایس ، ای میلز اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے زریعے بھرپور مہم چلائی گئی جس کے انتہائی مفید نتائج برآمد ہوئے تھے۔حال ہی میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے ہر شہر کی سطح پر ای میل اور فیس بک اکاو ¿نٹ بنائے گئے ہیں جن کی مدد سے اپنے رہنماو ¿ں کی سرگرمیوں کو عام کیا جاتا ہے ۔ فیس بک کے یہ اکاو ¿نٹ مخالف سیاسی جماعتوں پر تنقید اور کسی خاص مسئلہ پر رائے عامہ ہموار کرنے میں بھی اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں ۔ عمران خان کی جماعت بھرپور انٹرنیٹ مہم چلا رہی ہے جبکہ ایس ایم ایس کے ذریعے بھی نوجوان نسل کو متاثر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ اسی طرح سابق صدر پرویز مشرف کو بھی اپنے فیس بک صفحے پر لاکھوں مداحوں کی موجودگی پر ناز ہے ۔ ملک کی تمام چھوٹی بڑے سیاسی ، سماجی اور مذہبی جماعتوں کی ویب سائٹس موجود ہیں اور ہر کوئی اپنے استطاعت کے مطابق ذرائع ابلاغ کی اس قسم کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔
چنبیلی انقلاب اور دیگر مقامی و عالمی واقعات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ذرائع ابلاغ کی یہ نئی اقسام آنیوالے وقت میں عوامی طاقت کے اظہار کا اہم ترین ذریعہ بننے والی ہیں ۔ لوگ اس قسم کے میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں اور ہر ایک کو کھل کر اپنے جذبات کے اظہار کا موقع بھی مل جاتا ہے ۔ سوشل اور سائبر میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ اس کے درست استعمال کے لئے کوششیں تیز کی جائیں ۔اس قسم کا میڈیا ہمارے ملک میں طاقتور حلقوں کے استحصال کا شکار طبقات کے لئے امید کی نئی کرن بھر کر ابھرا ہے اور لوگ بھرپور طریقے سے اس کو اظہار خیال کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ خاص کر دینی اور نظریاتی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے پیغام رسانی کا استعمال بڑھائیں ۔ نیوز لیٹرز ، بلاگز ، آڈیو ویڈیو شئیرنگ ویب سائٹس ، سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ ان وسائل کو انتشار اور بدامنی پھیلانے کی بجائے اچھی روایات کی ترویج کے لئے استعمال ہونا چاہیے ۔ سماجی اور دینی حلقے بھرپور منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ اصولوں پر عمل پیرا ہو کر غیر ملکی کلچر کے اثرات میں کمی ، بہودگی اور فحاشی کی روک تھام ، ملکی روایات کے فروغ جیسی منازل حاصل کر سکتے ہیں ۔مختلف سماجی اور دینی تنظیموں کی جانب سے ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جو کہ انٹرنیٹ پر جاری ہونیوالے ایسے مواد کا جواب دے سکے جو کہ ملک اور مذہب کے خلاف ہو ۔ اسی طرح موبائل کلپس سے عوامی شعور کی بیداری کا کام لیا جا سکتا ہے تو ایس ایم ایس روزانہ کی بنیاد پر اچھی باتوں کو پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔ ای میلز ، آن لائن گروپس ، چیٹنگ اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھا کر بڑے پیمانے پر پڑھے لکھے طبقے تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ موبائل ٹونز معاشرتی اقدار کے اظہار کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں تو دوسری جانب آن لائن آڈیو ویڈیو چیٹنگ فورمز کے ماحول کو بھی مثبت طریقے سے بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اچھی ویب سائٹس کے ذریعے ملک اور مذہب کے بارے میں بیرونی پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا جا سکتا ہے ۔ فیس بک اور ٹوئیٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کی اہمیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہ ہر قسم کے مواد کو پھیلانے کا باعث ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر اس میدان کو شرپسندی پھیلانے پر مامور قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو اس سے معاشرتی بگاڑ جنم لینے کا خدشہ ہے اس لئے صحیح اسلامی اور ملکی روایات کے امین حلقوں کا فرض ہے کہ وہ اس بارے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ انٹرنیٹ اور موبائل فون پر لوگوں کی جانب سے پھیلائے گئے پیغامات اور ان کے جذبات کا احساس کرے ۔ ضروری نہیں کہ عوامی اشتعال کے بے قابو ہونے کا ہی انتظار کیا جائے بلکہ بہت سے طوفانوں کو اچھی منصوبہ بندی سے روکا جا سکتا ہے ۔ ایسی ڈیجیٹل آو ¿ٹ ریچ ٹیمیں بنائی جائیں جو کہ اعلی حکام تک عوامی جذبات پہنچائیں اور ان خدشات سے آگاہ کریں جو کہ ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی کے پیش نظر انداز حکمرانی بھی بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ معلومات کی فراوانی کی بدولت اب عوام ہر ظلم پر احتجاج کرتے ہیں ، بھرپور اظہار خیال کرتے ہیں اور اپنے جذبات کو بڑے پیمانے پر پھیلا دیتے ہیں ۔ حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ انہیں میڈیا کے اس جدید چیلنج سے کس طرح نمٹنا ہے ۔ جہاں صاحب اقتدار حلقے عوامی رائے کا احترام کرتے ہیں وہاں مثبت معاشرتی تبدیلی آتی ہے اور ترقی کے دروازے کھلتے ہیں اور جہاں عوامی خواہشات کا گلہ دبانے کی کوشش ہوتی ہے وہاں ” چنبیلی انقلاب “ برپا ہوتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں