107

اپریل فول کی شرعی حیثیت

اپریل فول کی شرعی حیثیت

إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وبعد:

بے شک جھوٹ برے اخلاق میں سے ہے ,جس سے سب ہی شریعتوں نے ڈرایا ہے ،اوراسی پر انسانی فطرتيں بھی متفق هيں، اور اسی کے عقل سلیم اور مروّت والے بھی قائل ہیں.

اورہمارےحنیف شریعت -کتاب وسنت- میں اس سے ممانعت آئی ہے.اوراس کی حرمت پراجماع ہے.اورجھوٹے شخص کیلئے دنیا وآخرت میں برا انجام ہے.
شریعت میں جھوٹ کی بالکل اجازت نہیں ہے سوائےچندایسےمعين امورکی جن بر كسی کا حق مارنا, خون ریزی كرنا اور عزت وآبرو پرطعن کرنا وغيرہ مرتب نہیں ہوتا ہے، بلکہ یہ ایسے مقامات ہیں جن میں (جهوٹ بولنے ) كا مقصد کسی كی جان بچانا ، یا دوشخصوں کے درمیان اصلاح كرانا،یا شوہروبیوی کے درمیان ميل محبت پيدا كرنا ہوتا هے.

اورشریعت میں کوئی دن یا لمحہ ایسا نہیں آیا ہے جسمیں کسی شخص کے لئے جھوٹ بولنا یا اپنی مرضی سے كسی بھی چیزکی خبردیناجائزہے,جبکہ لوگوں میں “اپریل فول”كے نام سے ايك غلط رسم منتشر ہےجس كے بارے ميں انکا گمان ہے کہ شمسی سال کے چوتھے مہنیہ يعنی اپريل کی پہلی تاریخ كو بغیرکسی شرعی ضابطہ کے جھوٹ بولنا جائزہے.

جھوٹ کے حرام ہونے کی دلیل:

1- اللہ کا فرمان ہے:إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللّهِ وَأُوْلـئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ (النحل:105).

“بے شک جھوٹ وہ لوگ گڑھتے ہیں جواللہ کی نشانیوں پرایمان نہیں لاتے اوروہی لوگ جھوٹے ہیں”.

ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“پھراللہ نے خبردیا ہے کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم نہ تو افتراپرداز ہیں اور نہ ہی جھوٹے ہیں،کیونکہ اللہ پرجھوٹ و افتراپردازی بدبخت مخلوق کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے جيسے کفار اور ملحدين لوگ جو لوگوں میں جھوٹ سے معروف ہیں. اور محمد صلى اللہ علیہ وسلم تو لوگوں میں سب سے نیک اور سچے ہیں، اور ایمان و یقین اورعلم و عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ باکمال ہیں،,اور اپنی قوم میں سچائی سے مشہور هيں جسمیں کسی کو شک نہیں بايں طور کہ انکے مابین وہ محمد امین کے لقب سے هی پکارے جاتے ہیں. (تفسر ابن كثير:2/588).

2- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:” منافق کی تیں علامتیں ہیں جب بات كرے توجھوٹ بولے،اورجب وعدہ کرے توخلاف ورزی کرے،اورجب اس كے پاس کوئی امانت رکھی جائے توخیانت کرے”. ( بخاري:33، مسلم: 59 ).

اورجھوٹ کی سب سے بدترین قسم . . مزاح کے طور پر جھوٹ بولنا ھے.
بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ مزاح کے طور جھوٹ بولنا جائزہے،اوریہی وه عذرہے جسكا یکم اپریل یا دیگر ایام میں جھوٹ بولنے کیلئے (پر) سہارا لیا جاتا ہے. لیکن یہ غلط ہے،اورشریعت مطہرہ میں اسکی کوئی اصل نہیں ہے،کیونکہ جھوٹ بولنا چاہے مذاق کے طور پر ہو یا حقیقت میں ہر صورت حرام ہے.

ابن عمررضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں هنسی مذاق کرتا ھوں اورصرف حق بات کہتا ہوں”

(اس حدیث کو طبرانی نے معجم الکبیر 12/391 میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے صحیح الجامع (2494) میں صحیح قراردیا ہے).

اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ہم سے هنسی مذاق کرتے ہیں ؟ فرمایا:”میں صرف حق بات کہتا ہوں”

(اسےترمذی نے روایت کیا ہے حدیث نمبر (1990).

جہاں تک “اپریل فول”کی بات ہے تو تحدید کے ساتھ اس جھوٹ کی اصلیت کا کوئی پتہ نہیں ہے البتہ اسکے بارے میں متعدد آراء ہیں:

بعض کا کہنا ہے کہ یہ 21 مارچ کو دن و رات کے برابر ہونے کے وقت بسنت کے جشن کے ساتھ ایجاد ہوئی، اوربعض کا خیال ہے کہ یہ بدعت قدیم زمانہ ہی سے ہے اور بت پرستوں کا تہوار ہے فصل ربیع کی ابتدا میں معین تاریخ سے مرتبط ہونے کی وجہ سے، کیونکہ یہ بت پرستوں کی بقایا رسومات میں سے ہے. اورکہا جاتا ہے کہ بعض ملکوں میں شکارکے ابتدائی ایام میں شکار ناکام ہوتا تھا چنانچہ یہ اپریل ماہ کے پہلے دن میں گڑھی جانے والی جھوٹی باتوں کیلئے ایک قاعدہ بن گیا.

اوربعض نے اس جھوٹ کی اصليت كے بارے میں اس طرح لکہا ہے کہ:

ہم میں سے اکثرلوگ اپریل فول مناتے ہیں جسکا حرفی یا لفظی معنی “اپریل کا دھوکہ”ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جواس کے پس پردہ پوشیدہ رازکوجانتے ہیں؟

آج سے تقریباً ہزار سال پہلے جب مسلمان اسپین میں حکومت کرتے تھے وہ ايك ایسی طاقت تھے جس کا توڑنا ناممکن تھا اورمغرب کے نصاری یہ تمنا کرتے تھے کہ دنیا سے اسلام کا خاتمہ کردیں اوروہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے .

ان لوگوں نے اسپین میں اسلام کی بڑھوتری کوروکنا اوراور اس كا خاتمہ کرنے كی كوشش كی لیکن اسمیں ناکام ہوئے ,انہوں نے بارہا کوششیں کیں لیکن ناکامی كا سامناهوا. اسکے بعد کفارنے اپنے جاسوسوں کواسپین میں مسلمانوں کی ناقابل شكست قوت کے راز كا پتہ لگانےکیلئے بھیجا توانھوں نے پایا كه تقوی وپرہیزگاری کولازم پکڑناہی اسکا سبب ہے.

جب نصاری نے مسلمانوں کی قوتوں کے رازکوجان لیا توانہوں نے مسلمانوں کی اس قوت کو توڑنے کی حکمت عملی کے بارے میں غورکرنا شروع کردیا اسی بنا پرانہوں نے اسپین میں سگریٹ اورشراب کومفت بھیجنا شروع کردیا.
اس طريقہ كار (tactics) نے مغرب کواچھے نتائج دئے.اوراسپین میں مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل كا عقیدہ کمزورہونے لگا.اوراسکا نتيجہیہ ظاهرہوا کہ مغرب کے كيتهولک(catholic) نصاری نے سارے اسپین کواپنے ماتحت میں کرلیا اورايك ایسے شہرسے مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ کردیا جہاں وہ آٹھ سوبرس سے زیادہ مدت تک اقتدار ميں ره چکی تھی.اوریکم اپریل کومسلمانوں کا آخری قلعہ غرناطہ کا سقوط ہوا اسلئے اسکوبطور”اپریل فول” (APRIL FOOL) دھوکے کا اپریل سمجھتے ہیں.

اوراسی سال سے آج تک اس دن کو مناتے آرہے ہیں اورمسلمانوں کوبیوقوف سمجھتے ہیں. وہ حماقت و بیوقوفی کو صرف غرناطہ کی فوج کے ساتھ خاص نہیں مانتے بلکہ پوری امت اسلامیہ کو بیوقوف بناتے ہیں. اور جب ہم اس جشن میں حاضر ہوں تو یہ انتہائی جہالت کی بات ہے. اور جب ہم اس خبیث فکر کے کھیل میں انكی اندھی نقالی کریں تو یہ ایسی اندھی تقلید ہے جو ہم میں بعض كي انکی پیروی کرنے میں بیوقوفی كو واضح كرتی ہے. اوراگرہم اس جشن کے اسباب کوجان لیتے توکبھی بھی اپنی شکست کا جشن نہ مناتے .

اورجب ہم نے اس حقیقت کو جان لیا توآئیے ہم اپنے نفس سے وعدہ کریں کہ ہم کبھی بھی اس دن کو نہیں منائیں گے. ہم پرضروری ہے کہ اسپین والوں سے سبق سيکھیں اورحقيقي معنوں ميں اسلام بر عمل كرنے والےبن جائيں اوراپنے ایمان کوکبھی بھی کمزورنہ ہونے دیں.)ا.ھ.

اور ہمیں اس جھوٹ کی اصلیت کو جاننے سے زیادہ اس دن جھوٹ بولنے کے حکم کے بارے میں جاننا چاہئے ،اور ہم جزم ویقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی روشن ایام میں اسکا وجود نہیں تھا. اور اسکے ایجاد کرنے والے مسلمان نہ تھے. بلکہ یہ مسلمانوں کے دشمنوں کی طرف سے ہے.

اور اپریل فول میں ہونے والے حادثات بہت ہیں، لوگوں میں سے کتنے ہیں جنکو انکے لڑکے یا بیوی یا دوست کی وفات کے بارے میں خبردی گئی تو تکلیف و صدمہ کی تاب نہ لا کر انتقال کرگئے، اور کتنے ہیں جن کو نوکری کے چھوٹنے یا آگ لگنے یا انکے اہل وعیال کا ایکسیڈنٹ ہونے کی خبردی گئی تووہ فالج ، ستروك یا اسکے مشابہ ديگر امراض سے دوچارہوگئے.اوربعض لوگوں سے جھوٹے یہ کہا گیا کہ انکی بیوی فلاں آدمی کے ساتھ ديکھی گئی تویہ چیزاسکے قتل یا طلاق کا سبب بن گئی. اسی طرح بہت سارے واقعات وحادثات ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں. اور سب کے سب جھوٹ کا پلندہ ہیں جنہیں عقل ونقل حرام ٹھراتی ہے اور سچی مروّت اسکا انکار کرتی ہے.

اوراللہ ہی توفیق دینے والا ہے.
“کذبة ابريل”

(اردو-أردية-urdu)
محمد صالح المنجد

ترجمہ :

شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

(اسلام سؤال وجواب ویب سائٹ سے لئے گئے “اپریل فول” مقالہ کا چندتصرّف کے ساتھ اختصار)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں