85

آپس کی لڑائی بعد میں، پہلے انڈیا سے نمٹیں!عطاء الحق قاسمی

کروڑوں بھوکے ننگے عوام کا ملک ہندوستان اپنی ’’معاشی ترقی‘‘ کے نام پر بدمعاشی پر اترا ہوا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس کے حکمران اور ان کا میڈیا پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس شور شرابے کے باوجود ہوش کے ناخن لیتے ہوئے حق سچ کی بات کرتے ہیں۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ پوری دنیا میں بھارتی لابی نے پاکستان کے خلاف ایک نفرت انگیز مہم چلا رکھی ہے۔ جس کے اثرات سامنے آتے رہتے ہیں۔ عامر خاکوانی نے صحیح لکھا ہے کہ پلوامہ حملہ کو غیر معمولی عجلت سے پاکستان کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی، ایسی عجلت جس سے کسی سازش یا طے شدہ منصوبے کی بو آتی ہے اور یوں پورے ملک میں پاکستان کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دوڑا دی گئی۔

مگر آپ یقین کریں ایسا پہلی بار نہیں ہوا، انڈین میڈیا موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور موقع نہ بھی ملے وہ پاکستان کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے میں ہمہ وقت ایک ’’مشنری اسپرٹ‘‘ کے ساتھ مصروف رہتا ہے۔

ایک بار میں کسی کانفرنس کے سلسلے میں دہلی میں تھا۔ میں نے اپنے ہوٹل کے کمرے میں ٹی وی آن کیا تو ہر چینل پر پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف ایک اشتعال انگیز مہم جاری تھی۔ اسی روز غالباً کسی بھارتی جاسوس کو پاکستان میں پھانسی دی گئی تھی۔ ٹی وی چینل کی یہ مہم اتنی اشتعال انگیز تھی کہ ہوٹل کے منیجر نے خود مجھے کہا کہ صاحب آج آپ ہوٹل سے باہر نہ نکلیں۔ پبلک کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے۔ یہ شدت مودی کی حکومت کے دوران دن بدن شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ میں نے محسوس کیا کہ ہندوستان کے ادبی اداروں کے کارکن جو ہمیں ہمیشہ بطور ادیب بہت گرم جوشی سے ملتے تھے، وہ بھی ڈر گئے ہیں اور اب انہوں نے نہ صرف پاکستانی ادیبوں کو مدعو کرنا بند کر دیا ہے بلکہ کوئی اکا دکا چلا بھی جائے تو اس سے ملتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ کہیں کل کلاں ان پر پاکستانی ایجنٹ کا الزام نہ لگے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ’’ریختہ‘‘ کے نام سے ایک بہت موقر ادارہ ہندوستان میں ہر سال مشاعرہ اور دوسری ادبی تقریبات منعقد کیا کرتا تھا۔ جس میں پاکستانی ادیبوں کو بھی مدعو کیا جاتا تھا مگر اس دفعہ یہ ادارہ اپنا مشاعرہ ہندوستان کی بجائے دوبئی میں منعقد کر رہا ہے۔ یہ صورتحال کی ایک بہت تشویشناک صورتحال ہے۔

دوسری طرف مہاتما گاندھی کے ہندوستان نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ہی نہیں کر رکھا بلکہ کشمیری مسلمانوں پر بہیمانہ مظالم کی انتہاء کر دی ہے۔ سات لاکھ ہندوستانی فوج وہاں متعین ہے جو ابھی تک ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو جام شہادت پلا چکی ہے اور مسلمان دوشیزائوں کی بے حرمتی کرنا اپنا حق سمجھتی ہے۔ مگر کشمیری مسلمان اب آزادی یا شہادت کے عزم کے ساتھ ان سے برسرپیکار ہے۔ ہندوستانی فوج نے اب گھٹیا ترین ایک حرکت یہ شروع کی ہے کہ وہ بندوق کے چھروں سے نوجوانوں کی آنکھوں کو نشانہ بناتا ہے اور انہیں بینائی سے محروم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ مگر ان سفاکوں کو یہ علم نہیں کہ صورتحال بہت بدل چکی ہے۔ اب تو فاروق عبداللہ بھی انٹرویو دینے لینے والے کے اصرار کے باوجود پاکستان پر الزام دھرنے کو تیار نہیں ہوتے اور جب وہ لیڈی رپورٹر بدتمیزی پر اترتی ہے تو فاروق عبداللہ مائک اتار کر اٹھ جاتے ہیں۔

دوسری طرف ہماری حکومت کی نہ تو کوئی داخلہ پالیسی ہے اور نہ کوئی خارجہ پالیسی! نتیجہ یہ کہ پاکستانی عوام

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

کی تصویر بنے پھرتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ امریکی صدر کے ایلچی نے پاکستان آنا تھا اور اس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ سعودی شہزادے نے پاکستان سے ہندوستان جانا تھا مگر وہ پہلے سعودی عرب واپس گئے اور پھر وہاں سے ہندوستان۔ بھارتی سفارتخانے پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف زہر پھیلانے میں مشغول ہیں اور ان کے مقابلے میں ہمارے سفارتخانوں کی کارکردگی برائے نام نظر آتی ہے۔ ہمارا فارن آفس تو ہمارے وزیراعظم اور صدر کو سفارتی آداب کے بارے میں بتاتے ہوئے بھی ڈرتا ہے اور ٹیبلمینر کے بارے تک میں کچھ نہیں بتاتا۔ سعودی شاہی مہمان تقریر کر رہے ہوتے ہیں اور ان کے برابر بیٹھے ہوئے ہمارے ’’اکابرین‘‘ کھانا، کھانے میں لگ جاتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ میں کدھر کا کدھر نکل گیا ہوں، مجھے بہرحال آخر میں صرف یہ کہنا ہے کہ حکومت، اپوزیشن کو ذلیل کرنا بند کرے اور اس کی بجائے حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر ملکی ترقی کے لئے کام کریں اور ہندوستان کی بدمعاشی کے سدباب کے راستے تلاش کریں۔ خدا کرے میری یہ درد بھری التجا دلوں پر اثر کرے، اس ضمن میں حکومت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر اس نے عقل سے کام نہ لیا تو ان کی پالیسیوں کے طفیل جہاں پاکستانی عوام ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے اصول کے تحت سڑکوں پر نکل آئیں گے وہاں ہمارا ازلی دشمن انڈیا اپنے دانت مزید تیز کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ ہم جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ دشمن سے بھی نمٹ لیں گے، پہلے باہمی جنگ تو ختم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں