101

خدا سے تعلق۔ قسط پنجم

خدا سے تعلق کی جب ہم بات کرتے ہیں تو اس کی مختلف سطحیں (levels) اور جہتیں (dimensions) ہیں۔ خدا سے تعلق کی تین جہتیں (dimensions) اہم ہیں؛ محبت، خوف اور امید۔ ان تینوں میں سے اگر ایک بھی کم ہے تو خدا سے تعلق ناقص ہے، مکمل نہیں۔ خدا سے محبت کرنے سے مراد اس کی حسی محبت ہے یعنی ایسی محبت کہ جس کی گرماہٹ دل میں محسوس ہو۔ اسی طرح اس کے خوف سے مراد کسی شیر یا بھوت کے ڈر کے جیسا ڈر نہیں ہے بلکہ وہ خوف مراد ہے جو اس کی محبت کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہو جیسا کہ بچے کا ماں کی ناراضگی سے ڈر جانا کہ اگر وہ ناراض ہو گئی تو میں متاثر ہو جاؤں گا۔ اور ماں کی اسی ناراضگی کے ڈر سے وہ ماں کی نافرمانی سے بچتا ہے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے بندوں کی یہ صفت قرآن میں بہت بیان ہوئی ہے کہ وہ اللہ کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اور امید سے مراد ہے کہ اللہ عزوجل سے مایوس نہ ہو جائے کہ مایوسی کفر کی علامت ہے اور اللہ عزوجل اپنے تعلق کی نسبت سے اسے بالکل پسند نہیں کرتے ہیں۔ کسی بھی معاملے میں اللہ سے مایوس ہو جانا تو یہ اللہ سے تعلق میں نقص ہے لہذا جائز نہیں۔ اور یہ امید بھی محبت ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ تو اللہ سے تعلق کی اصل جہت محبت ہی ہے کہ جس نے اللہ کے ناراض ہو جانے کے خوف کے سایوں اور اللہ سے توقعات اور امیدوں کی کرنوں کو جنم دیا ہے۔

خدا سے حسی محبت کیسے ممکن ہے جبکہ نہ تو ہم اسے دیکھ سکتے ہیں، نہ چھو سکتے ہیں، نہ سونگھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ذات کے بارے کچھ تخیل کر سکتے ہیں یعنی سوچ سکتے ہیں کہ وہ کیسا ہے یا کیسا ہو گا، کتنا حسین ہے، اس کا جمال کیسا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور انسان کی مجبوری یہ ہے کہ اس کا تمام نظام تعلق یا نظام محبت حس پر قائم ہے یعنی ہمیں کسی کو دیکھ کر، اسے چھو کر، اس کو سونگھ کر، اسے سوچ کر اس سے محبت محسوس ہوتی ہے۔ تو اتنی ایبسٹریکشن کے ساتھ اس قدر محبت کیسے ممکن ہے کہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں بیان فرمایا کہ اہل ایمان تو اللہ کی محبت میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ اور کافروں پر تنقید یوں کی کہ انہوں نے اللہ کے ایسے شریک (partners) بنا رکھے ہیں کہ جن سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی کہ اللہ سے کرنی چاہیے۔ تو ایک تو اللہ کا مطالبہ یہ ہے کہ مجھ سے ایسی محبت کرو جو اور کسی سے نہ ہو ورنہ تو تم نے اسے میرا شریک بنا دیا ہے۔ اسے بعض اہل علم نے شرک فی المحبۃ کا نام دیا ہے کہ ایک شرک محبت کا بھی ہے کہ جب کسی کی محبت اللہ کی محبت سے بڑھ جائے یا اس کے برابر ہو جائے تو یہ شرک ہے اور اللہ عزوجل کو اس پر بہت غیرت آتی ہے۔ تو محبت میں شرک سے بچنے کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ جب اللہ اور کسی اور محبوب میں سے کسی ایک ہی کو راضی کرنا ممکن ہو تو پھر اللہ عزوجل کو ہی ترجیح دے، چاہے اس ترجیح پر دل آمادہ نہ ہو۔

اللہ عزوجل کی حسی محبت ایک روحانی تجربہ ہے جس کا اظہار بہت سے لوگوں نے کیا ہے اور صوفیاء میں تو اس کا اظہار عام ہے۔ مجھے خود ذاتی طور اس کا تجربہ ہوا ہے لیکن یہ کچھ ایپی سوڈز تھے جو دو تین دن تک رہتے تھے۔ جب میں نے احمد جاوید صاحب کی جمعہ کی مجلس میں جانا شروع کیا، اور تقریبا تین سال اہتمام سے جاتا رہا، اب درس وتدریس کی کچھ مصروفیات کی وجہ سے تعطل آ گیا، تو میں نے اس عرصے میں کوشش کی کہ جو وہ اصلاح نفس کے حوالے سے اپنی اصلاحی مجالس میں تجویز کریں، اس پر ممکن طور عمل کروں۔ عمل کے اس عرصے میں مجھے کچھ روحانی تجربات بھی ہوئے جن میں سے ایک اللہ عزوجل کی حسی محبت کا تجربہ بھی تھا جو بعض اوقات دو دو دن تک جاری رہتا تھا۔ اللہ عزوجل کی حسی محبت کو اگر میں ڈیفائن کروں تو وہ دل کا ایک درد ہے کہ جس میں بہت ہی عجیب قسم کی مٹھاس ہے جو فزیکلی محسوس ہوتی ہے۔ شاید اسے ہی حدیث میں حلاوت کا نام دیا گیا ہے۔ درد واقعتا درد ہے جو فزیکلی محسوس ہوتی ہے لیکن اس مٹھاس کی وجہ سے اس درد سے نکلنے کو دل نہیں کرتا اور آپ ایک عجیب سرور کی کیفیت میں ہوتے ہو اور آپ یہ کہتے ہو کہ بس یہی دنیا یعنی کیفیت اچھی ہے، اسی میں زندگی گزر جائے۔

لیکن جب میں اس سے باہر آتا تو دوبارہ اس میں جانے سے ڈرتا تھا کہ وہیں رہ جاؤں گا۔ اس لیے جب بھی میں اس کیفیت سے نکل رہا ہوتا تھا تو وہاں رہنے کی کوشش نہیں کرتا تھا کہ علمی اور تحریکی شعور بھی غالب تھا اور وہ یہ کہتا تھا کہ اصلاح معاشرہ کا کام چھوٹ جائے گا جو کہ ایک دینی فریضہ ہے۔ اور اصلاح معاشرہ کا کام لوگوں سے تعلق کے بغیر ممکن نہیں ہے جبکہ خدا سے تعلق کے اس نوعیت کے تجربے کے بعد ایک کمزور انسان کے لیے واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شاید یہ اس تعلق کی لذت ہے کہ بہت سے بڑے نام بھی اسی تعلق میں گم ہو جاتے ہیں اور انسانی تعلقات کے حوالے سے اعتدال پر نہیں رہ جاتے۔ بابا فرید کو جب اطلاع ملی کہ ان کا بیٹا فوت ہو گیا ہے تو کہنے لگے سگ بچہ یعنی کتے کا بچہ مر گیا ہے۔ مجدد الف ثانی نے مکتوبات میں ان پر نقد کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا فوت ہوا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ سگ بچہ مر گیا ہے! تو خدا سے حسی محبت کا تعلق قائم ہو جانے کے بعد اس میں اور بندوں سے تعلق میں توازن رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ مجھے جب بھی وہ ایپی سوڈز یاد آتے ہیں تو دل اس طرف کھچتا ہے لیکن ڈر یہ لگتا ہے کہ شاید کمزور اتنا ہوں کہ اسی میں گم نہ ہو جاؤں اور یہ اللہ کا بھی مطلوب نہیں ہے کہ اسی میں گم ہو جاؤ۔ اور رہا اس کیفیت کے بعد توازن تو وہ اللہ کے خاص بندوں کو ہی حاصل ہو پاتا ہے۔ میں نے جاوید صاحب سے اس بارے سوال کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وقت کےساتھ آ جاتا ہے۔

تو اللہ سے تعلق بھی ایک آزمائش ہی ہے کہ جب اللہ سے حسی محبت حاصل ہو گئی تو اب اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف رخ کرنے کو دل نہیں کرتا، لیکن اللہ نے حکم دے دیا ہے کہ مخلوق خدا کا رخ رکھو، ان کی اصلاح بھی کرو اور خدمت بھی، اور یہی اصل کام ہے، نہ کہ مصلے پر کھڑا ہو کر میری محبت کے راگ الاپنا تو یہ کرنا ہے۔ رہا یہ سوال کہ اللہ کی حسی محبت کیسے حاصل ہوتی ہے؟ مجھے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شاید یہ صحبت سے حاصل ہوتی ہے یعنی ایسے آدمی کی صحبت سے کہ جسے اللہ عزوجل کی محبت حاصل ہو چکی ہو کہ وہ محبت ایسے ہی ایک دل سے دوسرے دل میں منتقل ہوتی ہے جیسے کہ برف کی سل سے ٹھنڈک اور آگ کے الاؤ سے حرارت اپنے ماحول میں منتقل ہوتی ہے لیکن شاید ایک شرط ہے کہ وہ دل ریسیپٹو موڈ (receptive mode) میں ہونا چاہیے ورنہ تو نبی کی صحبت اور توجہ بھی فائدہ نہ دے گی جیسا کہ منافقین کو فائدہ نہ ہوا۔ میں یہ محسوس کرتا تھا کہ جب احمد جاوید صاحب کی جمعہ کی مجلس میں شریک ہوتا تو اگلے دو تین دن یہ کیفیت طاری رہتی۔ لیکن میں نے اس کا تجربہ بھی کیا کہ کبھی کسی وقت میں پانچ سات منٹ کی یکسوئی حاصل کی اور وہ کیفیت دل میں پیدا ہو گئی۔ شاید یہ ایسا ہے کہ ایک مرتبہ کی صحبت سے کوئی حس بیدار ہو گئی تو اب اس کو بس کچھ یکسوئی چاہیے ہوتی ہے جو اسے مل جائے تو وہ دوبارہ ایکٹیویٹ ہو جاتی ہے۔

میں نے اس تجربے کے بعد بہت سے دوستوں کو احمد جاوید صاحب کی مجلس میں بھیجا، بہت سے گئے بھی، کچھ نہیں بھی گئے، لیکن کسی سے اپنا تجربہ شیئر نہیں کیا، وہ ابھی کر رہا ہوں۔ اور اسی لیے کر رہا ہوں کہ جو دو چار لوگ لہ کی محبت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے کچھ رستہ اور اس کے مسائل واضح ہو جائیں جیسا کہ مجھے سمجھ میں آئے ہیں۔ کچھ دوست احباب اس کیفیت کی اور تشریح کرتے ہیں مثلا یہ کہ یہ روح کا درد ہے جو عبادت کے اہتمام کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن میں اس کی تشریح یوں نہیں کروں گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے عبادات کے اہتمام کے تجربات بھی کیے ہیں اور ان کی کیفیات کو بھی حاصل کیا ہے۔ کیفیات کیفیات میں بہت فرق ہے۔ مجھے ہر تجربہ سنجیدگی سے کرنے کی توفیق میسر رہی ہے، اسی لیے کہ خود کے تجربے سے علم حاصل ہو کہ یہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ تو قرآن مجید کے ساتھ رات کھڑا ہونے سے جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں، وہ بالکل اور ہیں۔ ان کا خلاصہ سورۃ النور کی آیت 35 ہے۔ اور ان کیفیات کا تجربہ مجھے کوئی بیس سال پہلے قرآن اکیڈمی میں قیام کے دوران ہوا۔ ان کیفیات کا تعلق دل کی نسبت سینے سے زیادہ ہے۔

ایک مرتبہ کسی دوسرے شہر سے آئے ہوئے ایک بزرگ دوست سے ملاقات ہوئی جو احمد جاوید صاحب سے ملاقات کر کے تشریف لائے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی ملاقات کیسی رہی؟ تو کہنے لگے کہ حضرت نے توجہ فرمائی ہے۔ میں نے کہا کہ توجہ کیا ہوتی ہے؟ کہتے ہیں کہ شیخ کی توجہ سے دل میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ جاوید صاحب نے ان کی طرف توجہ کی تھی یا نہیں۔ لیکن مجھے جاوید صاحب کے مزاج کا علم ہے کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرتے۔ اصل میں ہوتا یہ ہے اور یہ تجربہ مجھے بھی جاوید صاحب کی صحبت میں بہت بار ہوا کہ آپ کا دل اپنی بیٹ مِس (beat miss) کرتا ہے۔ اور یہ تجربہ مجھے کمال الدین شیخ صاحب کی بھی صحبت میں ہوا۔ ایک ہی مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی، بس ان کے ساتھ بیٹھا ہی ہوں کہ دل نے یہ حرکت شروع کر دی۔ پھر میری تلاوت تھی تو دوران تلاوت بھی یہی کیفیت جاری رہی۔ تو وہ ہمارے ہاں یونیورسٹی میں ایک گیسٹ اسپیکر کے طور آئے تھے، انہیں مجھ پر ہی بھری مجلس میں توجہ کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ میں اتفاق سے ان کے پاس بیٹھ گیا تھا اور ان کے ساتھ اور بھی لوگ بیٹھے تھے۔ اور جاوید صاحب کی مجلس میں، میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جب وہ بول رہے ہوتے تھے تو دل پر یہ کیفیت طاری ہوتی تھی لہذا یہ توجہ کرنے والی بات تو بالکل غلط ہے اور نہ ہی یہ کیفیت محض توجہ سے پیدا ہوتی ہے بلکہ از خود بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

اور اس کیفیت کا تعلق محبت سے نہیں، خشیت سے ہے کہ اللہ کے کسی نیک بندے کی خشیت اس کی صحبت میں بیٹھنے سے از خود آپ میں منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہے، اللہ کے حکم سے، نہ کہ اس کی توجہ کی وجہ سے۔ اور اس میں دل اپنی بیٹ مِس کرتا ہے اور اسے قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ مومن تو بس وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کیا جائے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں۔ تو یہ دل کی لرزش ہے، جو خشیت کی ایک کیفیت ہے۔ اس کا شیخ کی توجہ سے تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس کیفیت کے نتیجے میں محبت والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، یہ بات کسی حد تک درست ہے۔ اگر اس کا تعلق شیخ کی توجہ سے ہوتا تو مجھے یہ تجربہ نہ ہوتا کہ میں کچھ یکسوئی کے ساتھ اس کو حاصل کر لیتا۔ لیکن کیا یکسوئی بھی اپنی طرف توجہ کرنا ہی ہے تو میرا جواب ہے نہیں۔ یکسوئی اللہ کی طرف توجہ کا نام ہے۔

البتہ اس کیفیت کا تعلق صحبت سے ہو سکتا ہے بلکہ ہے۔ اور کچھ عرصے بعد شاید آپ صحبت سے بھی بے نیاز ہو جاتے ہو اور خود سے ہی اس کیفیت میں جا سکتے ہیں۔ بس ذرا یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ تو اللہ سے تعلق میں اصل یکسوئی ہے۔ یکسوئی ہی سے یہ تعلق حاصل ہوتا ہے اور یکسوئی ہی سے برقرار رہتا ہے۔ اور یکسوئی کا مطلب ہے کہ سب کچھ سے منقطع ہو کر صرف اللہ ہی کی طرف توجہ کر لو۔ جس کا ذکر سورۃ المزمل میں بھی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو ٹائیٹل قرآن مجید نے دیا ہے، یعنی حنیف، اس میں بھی ہے۔ حنیف اسی کو کہتے ہیں ناں جو سب تعلقات سے منقطع ہو کر صرف اللہ کے تعلق کی طرف متوجہ ہو گیا ہو۔ اور یہ عارضی طور ہی مطلوب ہے۔ اور اسی کو حدیث میں احسان کہا گیا ہے یعنی اللہ کی ایسے عبادت کرو جیسا کہ اسے دیکھ رہے ہو۔ جیسا کہ اسے دیکھ رہے ہو ، سے یہی مراد ہے کہ اگر اسے دیکھ رہے ہوتے تو اس وقت جو محبت، خوف اور امید کی کیفیات پیدا ہوتیں، ان کیفیات کے ساتھ عبادت کرو۔

اللہ سے حسی محبت کا ایک تجربہ مجھے خواب میں بھی ہوا، اللہ عزوجل کو دیکھ کر، لیکن خواب چونکہ کوئی حجت نہیں ہے، اور شیطان کی طرف سے بھی ہوتا ہے لہذا میں اسے شیئر نہیں کر رہا کہ یہ روحانی تجربہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی، لیکن میرا ذاتی طور احساس یہی ہے کہ وہ صحیح تجربہ تھا، بھلے اس میں غلطی کا امکان ہے۔ اور خدا کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے، میں علمی طور اس موقف کا قائل ہوں جیسا کہ ابن تیمیہ نے کہا ہے۔ اور یہاں سے بھی خدا سے حسی محبت کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ البتہ خدا سے حسی محبت کا ایک اور ذریعہ خدا کے اسماء وصفات ہیں۔ اگر آپ ان اسماء وصفات کو ان کے حقیقی لغوی معانی پر جاری کریں جیسا کہ سلف صالحین اور آئمہ اربعہ کا موقف ہے تو خدا سے حسی محبت کرنا کچھ مشکل نہیں رہ جاتا۔ لیکن جب آپ کتاب وسنت میں موجود اللہ عزوجل کی اسماء وصفات سے مراد ان کے مجازی معنی لے لیتے ہیں تو آپ پھر ایبسٹریکشن میں چلے جاتے ہیں، جہاں یہ بھی معلوم نہیں پڑتا کہ خدا اور بت میں کیا فرق ہے۔

اب پچھلے ہی دنوں ایک صاحب بحث کر رہے تھے کہ حدیث میں یہ جو آتا ہے کہ اللہ عزوجل رات کے آخری تہائی حصے میں آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں تو یہاں مراد اللہ عزوجل نہیں بلکہ ان کی رحمت تشریف لاتی ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں اللہ کے آنے کا ذکر ہے۔ تو کہنے لگے کہ اس طرح تو اللہ حرکت کرے گا۔ تو میں نے کہا کہ اللہ کی حرکت سے آپ کو تکلیف کیا ہے۔ تو کہنے لگے کہ جو حرکت کرتا ہے، اس میں تغیر آتا ہے اور اللہ کی ذات میں تغیر کیسے ممکن ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں یہ اچھا ہے کہ خدا کی ذات کو ایک بت بنا لو، جس کی حرکت پر بھی تم نے پابندی لگا دی ہو۔ اب ایسے خدا سے کوئی کیسے محبت کر سکتا ہے جسے عقلی موشگافیوں نے انسان سے بھی ناقص بنا رکھا ہو۔ تو خدا نے اپنے آپ کو غیاب میں رکھتے ہوئے اپنے حضور (presence) کے کچھ مظاہر ہمیں توحید اسماء وصفات کی صورت عنایت فرما دیے اور ہم بے وقوفوں کی طرح ان کے حقیقی لغوی معنی کا انکار کر کے خدا سے محبت کے ایک بہت بڑے رستے کو، جو خود اسی نے دیا ہے، بند کر بیٹھے ہیں۔ اور یہی کمال محبت ہے کہ نہ کامل حضور ہے اور نہ ہی کمال غیاب۔ واللہ اعلم بالصواب [جاری ہے]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں