185

تعلق کی وجوہات اور اقسام [Relationships: Reasons and Kinds]۔ قسط چہارم

تعلق کی وجوہات کئی ایک ہوتی ہیں؛ ایک وجہ تو طبعی ہے یعنی بعض لوگوں سے تعلق انسانی طبیعت میں شامل ہوتا ہے یعنی پیدائشی طور ہم میں موجود ہوتا ہے۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں؛ ایک وہ جو نسبی رشتہ دار ہیں کہ جن سے کوئی خون کا رشتہ ہے جیسا کہ والدین، بہن بھائی، اولاد اور خاندان وغیرہ۔ اسی طرح وہ لوگ جو ایک علاقے، مادری زبان، قوم یا مذہب وغیرہ سے تعلق رکھتے ہوں تو انہیں بھی یہ تعلق وہاں طبعا محسوس ہوتا ہے جہاں ان کا علاقہ نہ ہو یا ان کی مادری زبان نہ بولی جاتی ہو یا ان کی قوم یا مذہب کے پیروکار نہ ہوں۔ لاہور جیسے کروڑوں کے شہر میں جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ میرے گاؤں کا آدمی ہے تو مجھے طبعا اس کی طرف ایک کشش محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح یورپ کے کسی دور دراز علاقے میں مجھے کوئی پنجابی اسپیکنگ یا پاکستانی یا مسلمان مل جائے تو خوشی ہو گی۔ اسی طرح گھنے جنگل اور بے آب وگیاہ صحرا میں مجھے کوئی انسان بھی نظر آئے گا تو بہت خوشی ہو گی۔

تو ہمارے تعلقات کے سرکلز ہوتے ہیں، ہم ان سرکلز کو اپنے تعلق کی ضرورت پورا کرنے کے لیے حسب حال بڑا اور چھوٹا کرتے رہتے ہیں۔ کہیں انہیں آبائی شہر کے لیول پر لے آتے ہیں، تو کہیں قوم کی سطح پر۔ اسی طرح طبعی تعلق کی ایک بڑی وجہ روحوں کی ملاقات بھی ہے جو اس دنیا میں آنے سے پہلے عالم ارواح میں ہوئی ہے۔ انہیں عرف عام میں سَول مَیٹس کہتے ہیں۔ یہ عموما وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جن سے آپ کو بلاوجہ تعلق محسوس ہوتا ہے، ان کی طرف ایک کشش محسوس ہوتی ہے۔ اگر تو کسی کی طرف کشش کی وجہ مادی ہے یعنی اس کی شہرت، مال ودولت یا اقتدار واختیار وغیرہ تو یہ مراد نہیں ہے بلکہ بلاوجہ کشش ہو، یعنی انسان اس کو جسٹیفائی نہ کر سکتا ہو کہ وہ مجھے کیوں اچھا لگتا ہے۔ کوئی وجہ نہیں، بس اچھا لگتا ہے۔ اس پر بھی میں نے لکھا ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق ایک ایسا تعلق ہے کہ اگر سول میٹ بھی مل جائے تو بھی انتہائی پیچیدہ بھی رہے گا اور آزمائش سے بھرا ہوا بھی۔ لہذا تعلق کوئی بھی ہو، آزمائش سے خالی نہیں ہے یعنی قربت کا تعلق۔ البتہ جس تعلق میں دوری اور فاصلہ ہو، اس میں آزمائش کم ہو جاتی ہے۔

اور تعلق کی دوسری وجہ یا قسم غیر طبعی ہے جیسا کہ کاروباری تعلق مثلا سیلز مین کا کسٹمر سے تعلق، مالک کا ملازم سے تعلق وغیرہ۔ یہ عرف عام میں پروفیشنل تعلق کہلاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے طبعی تعلقات کو بھی پروفیشنل تعلق بنا دیا ہے۔ استاذ شاگرد کا تعلق طبعی تعلق تھا لیکن اب پروفیشنل بن چکا ہے کہ اسٹوڈنٹ ایک کسٹمر ہے اور استاذ سیلز مین ہے اور ڈگری ایک پراڈکٹ ہے۔ اسی طرح دوستی کا تعلق بھی طبعی تعلق تھا اور میاں بیوی کے تعلق کے بعد سب سے اہم ترین تعلق یہی ہے کہ حدیث میں ہے کہ انسان اپنے جگری دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا جگری دوست دیکھ کر بنایا کرو۔ تو انسانی تعلق صرف تعلق کی ضرورت پورا نہیں کرتا بلکہ وہ آپ کی شخصیت کے بناؤ اور بگاڑ (personal grooming) میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے لہذا تعلق بنانے میں انتخاب کا مزاج رکھنا بہت عمدہ صفت ہے۔ ہر کوئی ایسا نہیں ہوتا کہ اس سے دوستی لگائی جا سکے یا کی جا سکے۔ ٹھیک ہے جہاں ہمارے پاس انتخاب نہ ہو تو پھر ہم میسر لوگوں میں سے ہی کسی سے تعلق بنا لیتے ہیں کہ اچھا پارٹنر یا دوست نہیں مل رہا تو جو میسر ہے، اس پر گزارا کر لیں لیکن جہاں انتخاب کی گنجائش ہو تو وہ انتخاب کرنا چاہیے۔

پھر تعلق کی ایک اہم وجہ بلکہ اہم ترین وجہ ایمان ہے۔ اس کے اہم ترین ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کی اذیت (pain) کو کم کرتا ہے، وہ اذیت جو کسی بھی تعلق کا لازمی جزو ہوتی ہے۔ مجھے اپنے شوہر کا کرنا ہے، بھلے وہ میرا حق پورے سے ادا نہیں کر رہا، یا مجھے اپنی بیوی کا کرنا ہے، چاہے وہ میرے حق میں کوتاہی کر رہی ہے، تو یہ ایمان کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ ایمان ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اس کرنے کا ریوارڈ ملے گا، یہاں نہیں تو کہیں اور، پارٹنر سے نہ سہی، خدا سے سہی۔ یہ ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلق تو ایک آزمائش ہے یعنی اس کی حیثیت ثانوی ہے، اصل حیثیت میری کامیابی کی ہے جو آزمائش میں پورا اترنے میں ہے۔ ایمان ہی ہمیں تعلق میں ایثار اور قربانی سکھاتا ہے کہ جس کے بغیر کوئی بھی تعلق ایک اچھا تعلق نہیں بن سکتا۔ ایمان ہی ہمیں صبر سکھلاتا ہے کہ جس سے ایک تعلق کی درد کم ہو جاتی ہے یا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔ ایمان ہی ہمیں شکر گزار بناتا ہے کہ جس سے ایک تعلق کی راحت اور آسائش میں بھی سنٹرل ریفرنس خدا بن جاتا ہے۔ ایمان ہی وہ جذبہ ہے جو ہمارے ہر تعلق کی راحت اور اذیت دونوں کے لیے خدا کی ذات کو سینٹرل ریفرنس بنائے رکھتا ہے۔

تو طبعی تعلقات بلکہ ہر تعلق میں ایمان کی وجہ کو بھی ایک وجہ بنائیں۔ اور ایک لیول پر ایمان آپ کے تعلقات کی طبعی وجہ بھی بن جاتا ہے اور یہاں آپ اللہ کے محبوب بن جاتے ہو جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص کسی دوسری بستی میں کسی سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا تو ایک فرشتہ انسانی شکل میں اس کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ تو اس نے بتلایا کہ فلاں بستی میں فلاں سے ملاقات کے لیے جا رہا ہوں؟ تو فرشتے نے کہا کہ کیا اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے کہ جس کے سبب اس سے ملنے جا رہا ہے؟ تو ا س نے کہا نہیں۔ بس اللہ کے لیے اس سے ملنے جا رہا ہوں یعنی وہ اللہ کی وجہ سے مجھے محبوب ہے۔ تو فرشتے نے کہا کہ اللہ عزوجل نے مجھے بھیجا ہے کہ تجھے یہ بتلا دوں کہ اللہ تجھ سے اسی طرح محبت رکھتے ہیں جس طرح تو اس بندے سے اللہ کے لیے محبت رکھتا ہے۔ یہ اللہ عزوجل کو کسی تعلق میں سنٹرل ریفرنس بنا لینے کا اعلی درجہ ہے کہ اس سے تعلق کی وجہ بھی محض اللہ ہی ہو۔ مجھے اپنی بیوی کا اس لیے کرنا ہے کہ اللہ نے بیوی سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور مجھے شوہر کا اس لیے کرنا ہے کہ اللہ نے شوہر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ تو اب تعلق کی اساس محض لین دین نہیں ہے بلکہ ایمان ہے۔ تو یہ محبت نیکوکار سے تو ہو گی ہی ہو گی، اللہ کے کسی گناہ گار بندے سے بھی ہو سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ اللہ کے لیے ہو یعنی اس مقصد سے ہو کہ میرے اس تعلق کے نتیجے میں یہ اللہ کی طرف آ جائے یا اللہ سے جڑ جائے۔ یا اس لیے ہو کہ اللہ سے مجھے اس کا ریوارڈ ملے گا۔

انسانی تعلقات میں سب سے پیچیدہ تعلق میاں بیوی کا تعلق ہے۔ یہ سب سے زیادہ راحت کا باعث بھی ہے اور درد کا بھی۔ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اس کے درد کا رونا زیادہ روتے ہیں اور راحت کا ذکر نہیں کرتے۔ شاید اس کی وجہ انسان کی نفسیات ہو کہ وہ ہے ہی ایسی کہ کسی کی اچھائی کو بھول جاتا ہے اور برائی کو یاد رکھتا ہے۔ تو آزمائش اس تعلق میں بھی ہے لیکن اگر اس تعلق میں دو تہائی راحت ہے اور ایک تہائی اذیت ہے تو یہ بہترین ازدواجی تعلق ہے، بس اسے چلائیں۔ میاں بیوی کی کاؤنسلنگ کرتے ہوئے میں اکثر یہ کہتا ہوں کہ دیکھیں، آپ کو یہ یاد ہے کہ اس نے آپ کو گالی دی، لعن طعن کی، شاؤٹ کیا، لیکن کیا اس نے آپ کو کبھی تحفہ لے کر دیا، گولڈ کا تحفہ ہو تو تعلق کی کیا ہی بات ہے، کبھی سیر پر لے گیا ہو، کبھی ہوٹلنگ کی ہو، کبھی شاپنگ کروائی ہو، کبھی ہنسی مزاح کیا ہو، کبھی تعریف کی ہو۔ اسی طرح بیوی نے کبھی نہ چاہتے ہوئے آپ کی بات مانی ہو، آپ کے گھر پر اپنا روپیہ پیسہ خرچ کیا ہو، آپ کے لیے بچے پیدا کئے ہوں، آپ کی اولاد کی تربیت کی ہو، گھر کی صفائی ستھرائی کھانے پکانے کا دھیان کیا ہو، اگر وہ یہ سب کر چکا یا کر چکی ہے، تو بھئی آپ کے تعلق میں خیر کی ایک بہت بڑا جہت موجود ہے، بس آپ کو پازیٹو ہونے کی ضرورت ہے جیسا کہ قرآن مجید نے کہا کہ اگر تمہیں اپنی بیویوں میں کوئی بات بری لگے جیسا کہ ناشکری کرنا تو ہو سکتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان میں بہت خیر رکھا ہو، بس ذرا سوچو تو سہی۔ لیکن شیطان ایسی خیر کی سوچ آنے نہیں دے گا۔

تو اچھی سوشل لائف گزارنے کے لیے مردہ تعلقات کو زندہ کریں، چاہے رشتہ داروں کے ہوں یا دوستوں کے، اور نئے اور اچھے تعلقات بنائیں۔ اور جو تعلق روح کے لیے اذیت بن جائے تو اس سے نکل جائیں۔ لیکن اس سے نکل کر پھر اس کی پَین سے ریلیف کسی تعلق میں ہی ملے گا، لاتعلقی میں نہیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے تعلق میں جو درد آزمائش کے طور موجود ہے تو اس کو دوسرے تعلقات سے ریلیف دیں جیسا کہ دوستی کے تعلق سے۔ مجھے اگر بعض اوقات لگتا ہے کہ میری بیوی یا شوہر سے مجھے محبت نہیں مل رہی تو میں اپنے والدین سے لے لوں، اپنی اولاد سے لے لوں، اپنے دوستوں سے لے لوں، اپنے شاگردوں سے لے لوں۔ ضرور میں نے سب کچھ اسی سے وصول کرنا ہے کہ وہ بھی تو ایک انسان ہے اور کمزور ہے۔ پھر تعلق کی تکلیف کو وقتا فوقتا نکالیں، اندر نہ رہنے دیں۔ ورنہ جمع ہو ہو کر بغض کا ڈھیر بن جائے گی اور پھر ایک دن آپ بوائلر کی طرح پھٹ جائیں گے۔ اور تکلیف مہذب طریقے سے نکالیں جیسے ہنسی مزاح میں کچھ کہہ دیا کہ جھگڑا بھی نہ بنے اور اس آرٹ کو سیکھیں۔ پھر اپنے کسی دوسرے تعلق میں اپنے کسی پہلے تعلق کی تکلیف کا اظہار اچھے انداز میں کر دیں کہ جس سے وہ آپ کی خوبی بن جائے اور اگلے کی برائی بھی نہ بنے اور آپ کو ایپری سیئیشن بھی مل جائے۔

میں صبح ساڑھے سات بجے یونیورسٹی کے لیے گھر سے نکلتا ہوں، بچوں کو اسکول چھوڑا، مغرب کے وقت واپسی ہوئی، کھانا کھایا، بیوی بچوں کے پاس کچھ وقت گزارا، پھر عشاء کے بعد کلاس لی، ساڑھے نو دس بجےتھکے ہارے گھر داخل ہوئے، تو بیگم صاحبہ نے داخل ہوتے ہی کہا کہ ڈاکٹر صاحب کچن میں برتن آپ کا انتظار کر رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب کچن میں گئے، آرام سے سارے برتن دھو ڈالے۔ اب میرا نفس تو یہی کہتا ہے کہ یہ زیادتی ہے کہ بندہ سارا دن کام کرے، پھر دین کا کام کرے تو نفس اور چوڑا ہوتا ہے، اور گھر داخل ہوں تو بیگم صاحبہ برتن دھونے کا کہہ دیں۔ تو یہ ایک معاملے کو دیکھنے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں نے اس کے حصے کا وقت اپنے تئیں دین کو دیا ہے یا دین نہ سہی اپنی پسند کی ایکٹوٹیز کو یا اپنا کیریئر بنانے کو دیا ہے تو لہذا اب اس کو کمپنسیٹ کرنا لازم ہے اور اس کی صورت یہی ہے۔ کچھ دن پہلے گھر میں داخل ہوا، بیگم صاحبہ جھاڑو لگا رہی تھیں، میں فورا آگے بڑھا، میری جان، اتنی تکلیف کیوں کرتی ہیں، جھاڑو ہاتھ میں پکڑا اور جھاڑو لگانا شروع کر دیا۔ اور یہ یہاں لکھنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ کر دیا تھا تو اب سمجھاتے وقت ذہن میں آگیا تو لکھ دیا۔ اگر تو بتلانے کے لیے کریں گےتو یہ ایک اور اذیت ہے۔ تو بلاوجہ بھی کمپنسیٹ کرتے رہا کریں، بھلے اپنی طرف سے سے زیادتی نہ بھی سمجھ آ رہی ہو۔ اس کا تعلق پر خوشگوار اثر پڑتا ہے، چاہے عارضی ہی سہی۔

تو عورتوں کو ہمدردی لینی آتی ہے، مرد اس معاملے میں نکمے ہیں لہذا پھر سارا غصہ شاؤٹنگ، گالم گلوچ یا طلاق طلاق کی فائرنگ میں نکالتے ہیں۔ تو ایک تو آپ بھی ہمدردی لینا سیکھیں کہ جس سے پَین کو ریلیف ملے کہ جیسے میں نے اپنی کچھ تعریفیں کر دیں، آپ بھی اپنے والدین اور دوستوں کے سامنے اپنی کچھ تعریفیں کر کے ہمدردی وصول کر لیا کریں۔ اس طرح آپ کو ازدواجی زندگی کی گاڑی کو مزید کچھ کلومیٹرز چلانے کے لیے فیول میسر آ جائے گا۔ یہی کام دوستوں کے تعلق میں بھی کریں۔ ان سے تکلیف پہنچے تو اپنے پارٹنر سے ڈسکس کر کے ہمدردی وصول کر لیں۔ دوسرا میں شعوری طور یہ کوشش کرتا ہوں کہ اپنے پارٹنر کی پازیٹو باتوں کو سوچوں، تو اس سے پَین کو، اگر کوئی پہنچی بھی ہو کسی وقت، تو اس کو بہت ریلیف مل جاتا ہے کہ اس میں تو یہ یہ خیر ہے اور یہ بہت بڑی خیر ہے اور یہ تو کسی کسی میں ہو سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ میری ازدواجی زندگی آئیڈیل ہے۔ عام لوگوں کے جیسی ہی ہے۔ میری بیگم کو بھی مجھ سے ہزار گلے اور شکایات ہیں، رویوں کے بھی اور بھی، اور ان میں بہت سی جینوئن بھی ہوں گی یا ہیں کہ میں ایک انسان ہوں۔ لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مجھے یہ احساس ہے کہ میں اس کا کرتا بھی ہو۔ اگر اسے مجھ سے تکلیف پہنچتی ہے تو راحت بھی ملتی ہے۔ یہ ہر پارٹنر کو دوسرے کے بارے سوچنا چاہیے۔ ہر شادی شدہ زندگی مسائل کا انبار نہیں ہوتی، اس میں راحت بھی موجود ہوتی ہے۔ ہم اس کا ذکر نہیں کرنا چاہتے بلکہ سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ بی بی اگر تمہیں اس سے اتنی ہی اذیت ملتی ہے تو خلع لے لو۔ خلع نہ لینا ہی تو دلیل ہے کہ اس تعلق میں راحت بھی مل رہی ہے۔ یہی حال اس مرد کا بھی ہے کہ جو طلاق نہیں دے رہا کہ اسے اس تعلق میں کچھ مل رہا ہوتا ہے، بھلے وہ کہہ رہا ہو کہ مجھے اس سے کچھ نہیں ملتا۔

تیسرا اپنی کل دنیا ایک تعلق ہی کو نہ بنا لیں ورنہ تکلیف ہی تکلیف مقدر بن جائے گی۔ میاں بیوی ایک دوسرے سے نکلتے ہی نہیں ہیں۔ بھئی، اپنے رشتہ داروں میں جا کر اٹھیں بیٹھیں تا کہ کسی اور تعلق کا بھی احساس پیدا ہو۔ بیوی کو بھی اس کے میکے چھوڑ کر آیا کریں، آنے جانے دیں۔ خود بھی دوستیاں لگائیں اور بیوی کو بھی سہیلیوں کی طرف چھوڑ کر آیا کریں۔ پارٹنر کا مزاج نہیں بھی ہے تو اسے دوست یا سہیلیاں بنانے کا مشورہ دیں، اس سے آپ سکھ میں رہیں گے۔ میں تو شکر کروں کہ میری بیوی یا شوہر اپنی کسی سہیلی یا دوست سے میری شکایتیں لگا لے کہ اس سے اس کے اندر کا غبار نکل جائے گا اور میرے ساتھ تعلق سیدھا ہو جائے گا، یہ ہر شوہر یا بیوی کی سوچ ہونی چاہیے۔ بس وہ سہیلی یا دوست دیندار اور خیر خواہ ہو، بے وقوف نہ ہو کہ جس کا مقصد بھڑکانا ہو بلکہ سمجھدار ہو کہ سن کر سنی ان سنی کر دے یا اس کو سمجھتی یا سمجھتا ہو کہ یہ کیتھاریسس ہے اور کچھ نہیں یا ہمدردی وصول کرنا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ جب آپ کی کل کائنات ایک ہی رشتہ بن جائے گا تو کل پَین بھی پھر اسی رشتے سے آئے گی اور پھر برداشت نہیں ہو پائے گا۔ [جاری ہے]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں