92

تعلق کی فلاسفی [philosophy of relationship]۔ قسط اول

تعلق کی فلاسفی [philosophy of relationship]۔ قسط اول
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
تعلق پر گفتگو کرنے سے پہلے تعلق کی فلاسفی کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامک پرسپیکٹو میں اگر ہم گفتگو کریں تو ایک لفظ میں تعلق کی فلاسفی “آزمائش/امتحان” ہے۔ اللہ عزوجل نے تعلق کو ہماری آزمائش/امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ آزمائش/امتحان کو آپ تعلق سے کسی صورت جدا نہیں کر سکتے، کسی بھی تعلق سے۔ یہ دونوں یعنی تعلق اور آزمائش/امتحان آپس میں لازم وملزوم ہیں کہ جہاں تعلق ہے وہاں آزمائش/امتحان لازما ہے۔ تو انسانی تعلق راحت بھی ہے اور اذیت بھی۔ محبت بھی اس کی ایک جہت ہے اور نفرت بھی اس کا لازمہ ہے۔ اور دونوں صورتوں میں ہی یہ آزمائش ہے، کبھی محبت کی صورت میں تو کبھی نفرت کی صورت میں۔ کبھی پروردگار ہمیں محبت سے آزماتے ہیں اور کبھی نفرت سے اور دونوں قسم کے جذبات میں اعتدال پر رہنا ہی آزمائش/امتحان میں کامیابی ہے اور یہی اعتدال انسان سے مطلوب ہے۔

تو محبت اور نفرت انسانی تعلق کے نارتھ اور ساؤتھ پولز ہیں۔ اور اس تعلق کی آزمائش/امتحان میں کامیابی یہ ہے کہ آپ تعلق کی ان دونوں جہتوں یعنی محبت اور نفرت کو اللہ کی بنیاد پر کھڑا کر کے دکھا دیں جیسا کہ سنن ابو داود کی صحیح حدیث میں ہے کہ جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اور اللہ کے لیے نفرت کی، جس نے اللہ کے لیے کسی کو کچھ دیا، اور جس نے اللہ کے لیے کسی کو کچھ نہ دیا، تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ ہمارے خدا نے ہمیں انسانوں سے محبت اور نفرت سے منع نہیں کیا بلکہ بعض جگہ پر اس کا حکم بھی دیا ہے لیکن ہمارا خدا اس حوالے سے بہت غیرت مند ہے کہ اس کو بائے پاس کر کے ہم کسی تعلق میں جڑ جائیں، چاہے وہ چیزوں سے ہو یا اپنے جیسے انسانوں سے۔ تو جس محبت اور نفرت کو ہم خدا کی ذات کو بائے پاس کرتے ہوئے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اپنے نتیجے میں ایک ایسا درد (pain) بن جاتا ہے جو نہ نگلا جاتا ہے اور نہ ہی اگلا جاتا ہے۔

تو جس تعلق میں ،چاہے وہ محبت کا ہو یا نفرت کا، خدا سینٹرل ریفرنس نہ رہ جائے، تو اس تعلق میں کس منہ سے تم خدا سے مدد مانگ سکتے ہو کہ وہ تمہیں اس تعلق میں کامیابی دے یا اس سے تمہاری جان چھڑا دے۔ دیکھو، خدا نے تم سے اپنے لیے تعلق مانگا ہے، اور اپنے لیے ایسا تعلق مانگا ہے کہ وہ تعلق تمہارے تمام تعلقات کا سینٹرل ریفرنس بن جائے۔ تو جب تم نے اسے اس کا تعلق نہیں دیا جبکہ اس نے تم سے وہ تعلق مانگا تھا، یا تو مانگا نہ ہوتا تو اور بات تھی، اور تم نے وہ تعلق جو کہ خدا کا حق تھا، مخلوق میں سے کسی کو دے دیا، تو اب اس کو اس پر غیرت نہ آئے گی تو کیا آئے گا! اسی لیے تو اللہ عزوجل نے سورۃ التوبہ میں کہا کہ اے اہل ایمان، اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں/شوہر، خاندان، مال ودولت، تجارت وکاروبار اور گھروں کی محبت اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے زیادہ ہو جائے تو پھر انتظار کرو کہ اللہ ایسے فاسقوں کو سیدھا رستہ نہیں دکھانے والا۔ تو خدا نے ہر تعلق میں اپنے تعلق کو سینٹرل ریفرنس بنانے پر بالکل بھی کمپرومائز نہیں کیا ہے، ذرا برابر بھی۔ اور یہاں اس آیت میں آٹھ تعلقات کا بیان ہے؛ پانچ قریبی ترین رشتوں اور تین محبوب ترین اشیاء سے تعلق۔ اور آٹھوں تعلقات میں سے کسی ایک تعلق کا بھی خدا کے تعلق سے بڑھنا برداشت نہیں کیا یعنی اس کی محبت کو۔

باقی عمل میں کوتاہی کو قبول کیا ہے اور مارجن بھی دیا اور توبہ کا رستہ بھی کھلا رکھا ہے لیکن تم میرا تعلق کسی اور کو دے دو، تو پھر مجھ سے دور رہو، یہ انداز ہے۔ اور اللہ کے تعلق سے مرد یہ ہے کہ اللہ عزوجل ہمارے ہر تعلق کا سینٹرل ریفرنس بن جائے اور اس کی حسی محبت، حسی، سب سے بڑھ جائے۔ اب یہاں اصل سوال یہ ہے کہ خدا سے حسی محبت کیسے ممکن ہے جبکہ اسے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس کا تصور کر سکتے ہیں اور ہماری حسی محبت کا سارا نظام حواس پر کھڑا ہے کہ مجھے بچے کو دیکھ کر، سینے سے لگا کر، محسوس کر کے، سونگھ کر، اپنے سینے میں محبت محسوس ہوتی ہے؟ اور یہ سب خدا کے ساتھ ممکن نہیں ہے بلکہ اس کا تو تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ تو اتنی ایبسٹریکشن کے ساتھ کسی سے بے پناہ محبت کیسے ممکن ہے کہ میں اس کا تصور بھی نہ کروں اور اس سے بے پناہ محبت بھی رکھوں؟ اس الجھن کو میں آگے چل کر ڈسکس کرتا ہوں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں خدا سے ایسی حسی محبت پیدا کرنی ہے جیسی کسی سے نہ ہو اور یہی ایمان کا کمال ہے۔ جب اللہ عزوجل ہر تعلق کا سینٹرل ریفرنس بن جائے گا تو پھر یہ تعلق نہ دنیا میں ایسی تکلیف اور اذیت کا باعث بنے گا کہ جس سے ایبنارمیلیٹی جنم لے اور نہ ہی آخرت میں خسارے کا باعث ہو گا۔ تو چیزوں سے بھی تعلق رکھنا ہے اور انسانوں سے بھی لیکن خدا کو واسطہ بنا کر، براہ راست نہیں تو یہ تعلق راحت بھی دے گا اور خوشی بھی، چاہے محبت کا ہو، بھلے نفرت کا ہو۔ تو ایک لفظ میں مسئلے کا حل “لاتعلق۔تعلق” ہے جیسا کہ لا الہ الا اللہ میں ہے۔ پہلے سب چیزوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں یعنی تعلق منقطع کر لیں اور مطلق لاتعلقی کی کیفیت میں چلے جائیں، اور پھر اللہ کو سینٹرل ریفرنس بنا کر تعلق جوڑتے اور بناتے چلے جائیں تو ہی آپ تعلق کی اذیت اور پَین سے نکل سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ [جاری ہے]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں