189

تعلق کی اہمیت اور ضرورت [The significance of relationship] ۔ قسط سوم

تعلق پر ہمارے پہلی قسط کا خلاصہ یہ تھا کہ آزمائش/امتحان ہر تعلق کا حصہ ہے اور آزمائش کو آپ کسی بھی تعلق سے جدا نہیں کر سکتے۔ اور آزمائش/امتحان محبت میں بھی ہے اور نفرت میں بھی۔ اور ہر تعلق میں راحت بھی ہوتی ہے اور اذیت بھی۔ اور دونوں پہلوؤں سے وہ تعلق آزمائش/امتحان ہوتا ہے کہ اس تعلق کی نہ تو راحت آپ کو خدا سے دور کرے اور نہ ہی اذیت خدا کو بھلوا دے تو یہ کامیابی ہے۔ تو اس کو بھول جائیں کہ تعلق تو ہو لیکن آزمائش/امتحان نہ ہو کیونکہ ہر تعلق کی یہ تقدیر ہے کہ اس میں آزمائش/امتحان ہے۔ دوسری قسط میں ہم نے یہ بات کی تھی کہ تعلق کی آزمائش/امتحان میں کامیابی یہ ہے کہ اس تعلق کا سینٹرل ریفرنس خدا کو بنا لیا جائے۔

سینٹرل ریفرنس بنانے کے کئی درجات ہیں۔ ان میں سے کم از کم درجہ یہ ہے کہ میری ہر محبت اور نفرت میں خدا کا حکم غالب رہے نہ کہ میری جبلت اور خواہش۔ کسی تعلق میں خدا کے لیے نفرت کے مظاہرے کر کے “البغض فی اللہ” کے نعرے نہیں لگانے بلکہ یہ کہ جس سے نفرت ہو گئی ہے، کسی بھی وجہ سے، بھلے ذاتی وجہ ہو، اس نفرت میں بھی خدا کے حکم کو نہیں بھولنا ہے یعنی ظلم اور زیادتی نہیں کرنی۔ اور یہ مشکل کام ہے۔ اسی طرح اگر کسی سے محبت ہو گئی ہے، بھلے کوئی بھی وجہ ہو، طبعی محبت ہو یا اتفاقی، تو اب جو ہو گیا تو اس پر تو اختیار نہیں ہے، البتہ اس محبت کے نتیجے میں جو تعلق پیدا ہو رہا ہے، اس تعلق میں اللہ کے حکم کو غالب رکھنا ہے یعنی عدل کرنا ہے اور حرام کو حلال نہیں بنانا۔

اور خدا کو سینٹرل ریفرنس بنانے کا اعلی درجہ یہ ہے کہ ہر محبت اور نفرت میں خدا واسطہ بن جائے۔ تو تعلقات میں آزمائش ہے لیکن اس آزمائش کا حل یہ نہیں ہے کہ تعلقات ہی سے نکل جائیں اور لاتعلقی کی طرف مائل ہو جائیں جیسا کہ بدھا نے کہا تھا کہ ہر درد کی وجہ انسانی تعلق ہے لہذا تعلق ہی سے نکل جاؤ تو پَین سے نکل جاؤ گے۔ انسان ایک سماجی حیوان ہے کہ جو اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ تعلق بنا کر خوش رہتا ہے، یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ پھر انسان کا مادہ (root word) انسیت ہے کہ جسے اپنے جیسوں سے الفت اور محبت محسوس ہو۔ تو مسئلے کا حل لاتعلقی یا رہبانیت کی زندگی نہیں ہے بلکہ اس سے مسائل بڑھیں گے یعنی ذہنی اور نفسی مسائل۔ تو انسانوں سے تعلق بنانا اور رکھنا ہمارے نفس کا ایک فطری تقاضا ہے، جسے پورا کریں گے تو نفس راحت میں رہے گا ورنہ اذیت میں زندگی گزار دے گا۔

تو کچھ تعلقات تو خدا نے ہمیں دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے جسے قرآن مجید نے نسبی تعلق کہا ہے یعنی والدین، بہن بھائی وغیرہ۔ اور کچھ تعلقات ہم خود سے اس دنیا میں بناتے ہیں کہ جنہیں قرآن مجید نے صہری یعنی سسرالی تعلق کہا ہے جیسا نکاح وغیرہ سے قائم ہونے والے تعلقات۔ تو ہمارے تعلقات کی دو بڑی جہتیں ہیں؛ ایک خدا سے تعلق اور دوسرا انسان سے تعلق۔ خدا سے تعلق کو میں اگلی کسی پوسٹ میں ڈسکس کروں گا۔ رہا انسان سے تعلق تو اس کی بھی کئی جہتیں ہیں جیسا کہ نسبی/غیر اختیاری اور سسرالی/اختیاری تعلق دو جہتیں ہیں۔ ان دو قسموں میں اختیاری تعلق ہی ہمارے نظام تعلق کی اصل اساس بن رہا ہوتا ہے۔ اور اختیاری تعلقات مثلا میاں بیوی، استاذ شاگرد، پڑوسی، کولیگ، کاروباری شریک وغیرہ میں سب سے قریبی تعلق شریک حیات یعنی میاں بیوی کا ہوتا ہے۔ تو جس شخص کی ازدواجی زندگی (marital life) نہیں ہے، اس کا نظام تعلق کبھی معتدل نہیں ہو پائے گا یعنی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا۔ یا جس کی ازدواجی زندگی ڈسٹرب ہے تو اس کا پورا نظام تعلق ڈسٹرب ہو جائے گا۔ نظام تعلق کے ڈسٹرب ہونے سے مراد اندر سے ڈسٹرب ہونا ہے کہ بعض اوقات انسان بظاہر اپنے آپ کو سنبھال لیتا ہے اور اپنے اوپر مصنوعی خول چڑھا لیتا ہے لیکن اسے اندر کا سکون، اطمینان اور خوشی حاصل نہیں ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے سورۃ الروم میں میاں بیوی کے تعلق کے لیے خاص طور محبت، رحمت اور سکون تین الفاظ استعمال کیے ہیں اور یہی تین چیزیں انسان کی بنیادی ضرورت ہیں۔ تو میں پہلے بھی لکھتا رہا ہوں کہ محبت ہو جائے، کوئی پریشانی نہیں ہے، شادی کر لیں، کس نے منع کیا ہے، لیکن شادی کے بغیر محبت کا تعلق چلانا خدا کو اس تعلق کا سینٹرل ریفرنس نہ بنانا ہے اور یہ بالآخر دنیا میں بھی اذیت ہے اور آخرت میں بھی تکلیف ہے۔ اگر جہاں محبت ہو گئی، وہاں یک طرفہ محبت ہے، یا دو طرفہ ہے لیکن شادی کا امکان نہیں تو اس تعلق سے نکل جائیں، اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے، کہ اس حالت میں یہ تعلق سوائے دنیا اور آخرت کی اذیت اور تکلیف کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اور یہ بھی میں نے لکھا ہے کہ ایسا تعلق کسی خاص انسان کا تعلق نہیں ہوتا بلکہ لَو انرجی ہوتی ہے جسے ریلیز ہونے کے لیے کوئی آبجیکٹ چاہیے ہوتا ہے۔ آپ اسے وہ آبجیکٹ فراہم کر دیں تو آپ کے نفس کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ تو اس سے شادی نہ بھی ہو، اس کے کفو یعنی برابر کے رشتہ میں ہو جائے تو بھی مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

تو میاں بیوی کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے کہ جس سے ہمارے نظام تعلق کی تمام بنیادیں سیراب ہوتی ہیں۔ اس کو قائم کرنا اور قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ کوئی بات نہیں اگر ایک تجربہ ناکام ہو گیا تو دوسرا کر لیں اگر تو دوسرے کے حالات ہیں اور کامیابی کے امکانات بھی ہیں۔ آپ دوست، پڑوسی اور کاروباری پارٹنر بھی تو بدلتے رہتے ہیں۔ اور اسلام نے طلاق اور خلع کی صورت میں اس کا دروازہ کھلا رکھا ہے لکن ہماری سوسائٹی نے اس کو ایک ایسا گناہ کبیرہ بنا دیا ہے کہ جس سے یہ تعلق سوائے بوجھ کے اور کچھ نہیں رہ گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طلاق اور خلع کا تناسب بہت بڑھ گیا اور چھوٹی چھوٹی وجوہات پر علیحدگیاں ہونے لگیں جو کہ درست نہیں ہے۔ لیکن بہر حال دونوں رویوں میں توازن کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ ذرا سی بات پر علیحدگی اور دوسرا یہ کہ اب جینا مرنا ہی اس کے ساتھ ہے۔

تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دی، عمر نے دی، عبد اللہ بن عمر نے دی، عبد الرحمن بن عوف نے دی، مغیرہ بن شعبہ نے دی، حسن بن علی تو اتنی طلاقیں دیتے تھے کہ حضرت علی نے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ دیا کہ میرے بیٹے کو رشتہ نہ دو۔ رضی اللہ عنہم۔ اسی طرح دور نبوی میں خلع کے کیسز بھی عام ہیں۔ حبیبہ بنت سہل نے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول! میں اپنے شوہر کے دین اور اخلاق کو برا نہیں کہتی لیکن مجھے وہ پسند نہیں ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے علیحدگی کروا دی۔ توعرب معاشرے میں طلاق اور خلع ایک نارمل پریکٹس تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ مطلقہ اور خلع یافتہ سے دوسری شادی بھی وہاں بہت عام تھی۔ تو جب ہمارے معاشروں میں دوسری شادی، اور خاص طور مطلقہ اور خلع یافتہ سے، ایک جرم بن گئی تو طلاق اور خلع بھی ایک جرم ہی بن گئی۔ لہذا اب رشتہ نبھانے میں ہی خیر معلوم ہوتی ہے۔

تو شادی شدہ زندگی گزاریں، تعلق کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ لیکن اگر شادی شدہ زندگی میں ہی تعلق کے مسائل پیدا ہونا شروع ہو جائیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ آپ زبردستی رشتہ نبھا رہے ہوتے ہو یعنی اسے گھسیٹ رہے ہو۔ اور اپنے پارٹنر سے آپ کو جو پَین ملتی ہے تو آپ اس کے ریلیف کے لیے کسی اور جگہ دل لگا لیتے ہو۔ تو اگر واقعتا دل سے سمجھتے ہیں کہ اس دوسرے سے آپ کی فریکوئنسی میچ کر گئی ہے تو اب اس تعلق میں خدا کو سنٹرل ریفرنس بنانا یہ ہے کہ پچھلے خاوند سے طلاق لے کر اس اگلے سے نکاح کر لیں، یا پہلی کے ساتھ دوسری بھی کر لیں، خدا نے آپ کو اس کی اجازت دی ہے لیکن بغیر نکاح کے اس تعلق کو قائم رکھنا تو یہ خدا کو اس تعلق میں سنٹرل ریفرنس نہ بنانا ہے۔

تو یہ بھی امکان ہو سکتا ہے کہ آپ کو پہلا پارٹنر اچھا نہ ملا ہو اور دوسرا اچھا مل جائے کہ اس کی کئی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں کہ دوسری شادی کامیاب ہو گئی۔ لیکن ایسے کیس میں یہ بھی امکان برابر طور موجود ہوتا ہے کہ خود آپ میں ہی اپنے پارٹنر سے توقعات کا لیول اتنا ہائی تھا کہ وہ آگے بھی پورا نہ ہو پائے جیسا کہ پہلے سے پورا نہ ہو پایا تھا۔ تو اس بڑے فیصلے سے پہلے یہ اینالسس ضرور کر لے کہ بعض اوقات مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی انیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے لہذا پارٹنر بدلنے سے نہ تو کوئی پرنسیس ملتی ہے اور نہ ہی کوئی سول میٹ۔ البتہ مرد اور عورت کی کیٹیگری بدل جائے تو کوئی بڑا فرق پڑ سکتا ہے لیکن اس نئے تعلق میں آزمائش نہیں ہو گی تو یہ خام خیالی ہے، اس سے نکل آئیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ اس میں پہلے کی نسبت آزمائش کم ہو۔

تو تعلق انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ اور تعلق کی اصل ضرورت بھی میاں بیوی کے تعلق سے ہی پوری ہوتی ہے یعنی ازدواجی زندگی سے۔ معتدل زندگی گزارنے کے لیے اس تعلق کو استوار کرنے اور قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن ہمیں اپنے تعلق کی کل ضرورت میاں بیوی کے تعلق سے پوری نہیں کرنی، یہ ایک بڑی غلطی ہے جو ہم کرتے ہیں۔ جب میاں بیوی کل تعلق ایک دوسرے سے لینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہاں اس تعلق میں توازن نہیں رہ جاتا، توقعات بڑھ جاتی ہیں جو پوری نہیں ہوتیں، شکوے شکایات پیدا ہوتے ہیں، جو بالآخر نفرت اور بغض پر منتج ہوتے ہیں۔ تو میاں بیوی کے تعلق کے علاوہ بھی تعلقات ہیں، ان کا احیاء کریں۔ ماں باپ اور بہن بھائیوں سے ان کے حصے کی محبت وصول کریں، دوستوں سے بھی محبت لیں، شاگردوں سے لیں، اولاد اور بچوں سے پیار لیں، پڑوسی اور کولیگ سے لیں۔ جب ان سب رشتوں سے تعلق ختم کر دیں گے اورصرف ایک ہی سے باقی رہ جائے گا تو ان سب کے حصے کی محبت بھی اس ایک سے ڈیمانڈ کریں گے تو پھر مایوسی ہی ہو گی اور کیا ہو گا کہ ایک انسان آپ کو کتنا تعلق دے سکتا ہے۔ تو ماڈرن لائف اسٹائل یعنی انڈیویجوئل ازم نے بھی اس مسئلے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ [جاری ہے]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں