93

تعلق کا اصول الاصول [The prime principle of relationship] ۔ قسط دوم

آپ کے تعلق کا بنیادی اصول کیا ہے یعنی وہ اصل اور بنیاد کیا ہے، جس پر آپ ایک تعلق کو گھمائے یا چلائے جا رہے ہیں یا گھمانا یا چلانا چاہتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ دیکھیں، تعلق کی بنیادیں بہت سی ہو سکتی ہیں، بعض طبعی ہیں اور بعض غیر طبعی۔ طبعی تعلق اس کو کہتے ہیں جو انسانی طبیعت کا حصہ ہے اور اس تعلق کو قائم کرنے کے لیے انسان کو محنت نہیں کرنی پڑتی جیسا کہ والدین سے محبت، اولاد سے محبت، بہن بھائیوں سے محبت وغیرہ۔ تو یہاں تو تعلق کی واحد وجہ وہ رشتہ ہوتا ہے کہ جس رشتے کو قائم کرنے میں آپ کا کچھ اختیار نہیں ہے جیسا کہ آپ کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ میں فلاں کی اولاد ہو سکتا ہوں۔ تو پہلی قسم کے تعلقات یعنی طبعی تعلقات ہم بناتے نہیں ہیں کہ ہمارے پاس ان میں کوئی چوائس نہیں ہے تو ہم ان کے بنانے میں نہیں البتہ ان کے چلانے میں کچھ اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ البتہ کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں ہم انسان بناتے ہیں جیسا کہ شادی کا تعلق، دوستی کا تعلق، استادی شاگردی کا تعلق، پڑوسی کا تعلق، کاروباری تعلق وغیرہ۔ اور اس تعلق کو ہم کچھ اصولوں کی بنیادی پر قائم بھی کرتے ہیں اور چلاتے بھی ہیں۔

تو انسانوں سے تعلقات میں یہ دوسری قسم کے تعلقات دراصل ہمارے تمام نظام تعلق کی اصل بنیاد بن رہے ہوتے ہیں کہ یہ تعلقات ہمیں تعلق بنانا بھی سکھا رہے ہوتے ہیں اور چلانا بھی۔ پہلی قسم کے تعلقات میں ہم مجبور ہوتے ہیں کہ نہ تو ہمیں انہیں بنانے کا اختیار ہے اور نہ ہی توڑنے کا لہذا ہمیں بس انہیں چلانا ہی ہے۔ اور یہی ان طبعی تعلقات کی اصل آزمائش ہے کہ ہر حال میں انہیں چلانا ہے کہ قطع رحمی سے منع کیا گیا ہے۔ تو کچھ تعلقات ہم پر لاد دیے گئے ہیں اور پھر کہا گیا ہے کہ ان کا بوجھ اٹھا کر دکھا دو اور یہی تمہاری کامیابی ہے۔ تو بوجھ اٹھوانے کا لفظ ان کے لیے استعمال کیا کہ جن کے اپنے بہن بھائیوں سے تعلقات اچھے نہیں ہیں یا والدین کو اولاد اور اولاد کو والدین سے شکایات ہیں اور جینوئن ہیں۔ ایک انسان تمہیں دے بھی کیا سکتا ہے؟ کچھ نہیں۔ ایک انسانی تعلق کتنا پائیدار ہو سکتا ہے؟ ہر تعلق کی تقدیر زوال ہے۔ ایک ہی پلیٹ میں کھانے والے بہن بھائیوں کی محبت کس قدر مثالی ہوتی ہے لیکن جیسے ہی شادیاں ہوتی ہیں اور اولادیں بڑی ہو جاتی ہیں تو جائیداد اور رشتوں کے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ ماں کی بیٹے سے محبت کس قدر مثالی ہوتی ہے لیکن جیسے ہی اس کی بیوی آتی ہے، ماں کی محبت کا انجام تکلیف بن جاتا ہے۔

تو یہ تو وہ رشتے ہیں کہ جنہیں ہم توڑ ہی نہیں سکتے ہیں اور نہ ہی کبھی ختم کر سکتے ہیں لیکن ان کا مقدر بھی زوال ہے تو وہ رشتے جو ہم اپنی مرضی سے قائم کرتے ہیں، ان کی تقدیر کیسے عروج ہی عروج ہو سکتی ہے؟ جس طرح ایک نئی چیز آپ کو چار دن خوشی دیتی ہے، اسی طرح ایک نئے رشتے کا بھی سرور ہوتا ہے۔ آپ نیا موبائل لے لیں، چار دن اس کے ساتھ کھیلیں گے، خوش بھی رہیں گے، پھر وہ پرانا ہو جائے گا۔ اب آپ کو ایک نئی خوشی کے لیے ایک نیا کھلونا چاہیے، یہ جدید آدمی کے نظام تعلق کا المیہ ہے کہ اسے خوش رہنے کے لیے ہمیشہ ایک نئے تعلق کی تلاش میں رہنا پڑتا ہے اور خوشی پھر بھی اس کا مقدر نہیں ہے۔ تو شوکیس میں پڑے ہوئے موبائل سے شاید ایک سال بھی تعلق قائم رہ جائے لیکن جیسے ہی وہ ہاتھ میں آیا تو چار دن سے زیادہ نہیں رہے گا۔ تو محبوبہ یا معشوق کی محبت بھلے دس سال کی ہو لیکن جب تک فراق ہے تو آتش شوق بھڑکتی رہتی ہے لیکن جیسے ہی وصال نصیب ہوتا ہے تو بس ایک ہی بوسے میں وہ سب بخار اتر جاتا ہے جسے عشق کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی لیے تو شادی کے بعد نہ محبوبہ رہتی ہے اور نہ ہی معشوق۔ تو محبت کی لذت لینی ہے تو یا تو فراق میں تڑپنا آپ کا مقدر ہے اور یا پھر وصال کی صورت اس تعلق کا زوال۔

میں آپ ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہوں گے کہ شادی کے لیے ایک دوسرے پر مرتے تھے، جان نکلتی تھی، اپنے خون سے اپنے محبت نامے لکھتے تھے لیکن شادی کے چند سال بعد گالم گلوچ اور لعن طعن کی زندگی کے سوال کچھ نظر نہیں آتا۔ اس زوال سے صرف ایک انسانی تعلق مستثنی ہے کہ جس کا سنٹرل ریفرنس خدا بن چکا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن مجید کہتا ہے کہ قیامت کے دن انسان اپنے بھائی، اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا جیسا کہ سورۃ عبس میں ہے۔ اور دوسری طرف قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ قیامت والے دن دوست بھی کام آئیں گے جیسا کہ سورہ الزخرف میں ہے بلکہ وہاں الفاظ یہ ہیں کہ قیامت والے دن خلیل یعنی جگری دوست، ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقین کے۔ پہلا نقطہ تو یہ ہوا کہ جس رشتے کی بنیاد تقوی یعنی اللہ کا ڈر ہو گا، وہ دنیا تو کیا قیامت کے دن بھی راحت کا باعث بن جائے گا، بھلے اختیاری رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرا نقطہ یہ ہے کہ عربی میں محبت کے لیے درس درجات ہیں اور محبت کا آخری درجہ “خلت” ہے کہ یہ ایسی محبت ہے جو انسان کے رگ وپے میں سما جائے اور اسی سے لفظ خلیل بنا ہے۔ اور ایسی انسانی محبت سے منع نہیں کیا گیا بشرطیکہ اس کا سینٹرل ریفرنس خدا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشی کو کہا تھا کہ میرے سامنے مت آنا کہ تمہیں دیکھ کر میں ڈسٹرب ہو جاؤں گا۔ تو یہ چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی اخیر محبت تھی حالانکہ حبشی تائب ہو چکا، اسلام قبول کر چکا، اور اس کا گناہ معاف ہو چکا۔ اور پھر وہ اللہ کا بندہ ساری زندگی آپ کے سامنے نہیں آیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوسری شادی کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے تکلیف میں خطبہ دے دیا حالانکہ دوسری شادی جائز تھی۔ تو یہ بیٹی سے اخیر محبت تھی ناں۔ تو خدا کے سینٹرل ریفرنس ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ انسانوں سے محبت نہیں ہو سکتی، بس اتنا ہے کہ کسی انسان کی محبت، حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہ کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطبے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے لیے حلال کو حرام نہیں کر سکتا یعنی دوسری شادی کو لیکن مجھے اپنی بیٹی کی محبت کی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے یا پہنچے گی۔ اسی طرح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کا استعمال ترک کر دیا تو اللہ عزوجل نے سورۃ تحریم میں کہا کہ اے نبی! کیا آپ اپنی بیویوں کی رضامندی تلاش کر رہے ہیں؟

حضرت مغیث اور بریرۃ رضی اللہ عنہما کی علیحدگی کے بعد مغیث مدینہ کی گلیوں میں روتے پھرتے تھے لیکن بریرہ دوبارہ تعلق نہیں چاہتی تھیں، یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مغیث پر ترس آیا تو آپ نے بریرہ کو بلوا بھیجا اور کہا کہ مغیث سے رجوع کر لو۔ وہ بھی سمجھدار تھیں۔ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! حکم ہے یا مشورہ؟ تو آپ نے کہا: مشورہ ہے۔ تو کہنے لگیں: مجھے رجوع نہیں کرنا ہے۔ تو کوئی آپ کا آئیڈیل ہو گا لیکن آپ اس کے آئیڈیل نہیں ہیں ناں یا نہیں رہے لہذا یہ تعلق اب قائم نہیں ہو سکتا یا قائم نہیں رہ سکتا تو اس کے پیچھے بھاگنے کا فائدہ۔ پھر یہ کہ انسانی تعلق مال دولت، حسب نسب، حسن وجمال کی بنیاد پر قائم ہو، اس سے منع نہیں کیا لیکن ساتھ ہی فرما دیا کہ عورت سے شادی چار وجہ سے کی جاتی ہے لیکن دین کے ساتھ کامیاب ہو جاؤ۔ تو تعلق کی بنیاد اگر مادی ہو گی تو وہ تعلق اپنی انتہاء میں اذیت ہی تو ہے اور کیا ہے۔

اور مادی (material) تعلق کہ جس میں سنٹرل ریفرنس آبجیکٹ یا محبوب ہو، کی تقدیر زوال ہے کہ مادے (matter) کی یہی تقدیر ہے۔ دوسرا مادی تعلق میں سنٹرل ریفرنس بھی آبجیکٹ یا آپ کا محبوب نہیں بلکہ آپ کا اپنا نفس ہی ہوتا ہے، یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ مثلا مادی تعلق میاں بیوی سے بھی ہو گا تو لین دین کا تعلق ہو گا اور کیلکولیٹڈ ہو گا کہ اتنا لیا اور اتنا دیا اور اسی مادی اصول پر چل رہا ہو گا اور اذیت اس کا مقدر ہے۔ تعلق میں ایثار تو اس وقت آتا ہے جبکہ تعلق کا سنٹرل ریفرنس خدا بن جائے نہ کہ آپ کا نفس کہ آپ نے رشتہ ہی دین کی بنیاد پر قائم کیا ہو۔ یہاں آپ کو نہ بھی ملے تو آپ خدا کے لیے دوسرے کا کر جاتے ہو۔ لیکن اپنے نفس کے لیے چھوڑنا بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے۔ تو جب تعلق میں سنٹرل ریفرنس اپنا نفس تھا تو تعلق نہ ملنے کی اذیت اخیر ہو گی۔ اور اہم بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں کہ اس تعلق کی بنیاد خدا ہے حالانکہ اس کی بنیاد خدا نہیں بلکہ نفس ہوتا ہے۔ اور اس تعلق میں خدا کا ذکر ایک رسم کے طور تو ہوتا ہے لیکن وہ سنٹرل ریفرنس نہیں ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو کسی صوفی شیخ سے تعلق بیعت میں بھی سنٹرل ریفرنس خدا نہیں رہ جاتا، شیخ بن جاتا ہے۔ [جاری ہے]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں