66

ریاستِ مدینہ کا نام لینے والے عمران خان ہوشیار رہیں! انصار عباسی

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ ماضی میں لیے گئے قرضوں کی وجہ سے حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر چھ ارب روپے صرف سود کی مد میں ادا کرنا پڑتےہیں۔ خان صاحب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سود کی لعنت کا خاتمہ نہ ہوگا تو یہ ناسور دیمک کی طرح پاکستان کی معیشت کو بالکل کھوکھلا کر دے گا۔ حکومتِ پاکستان پر سود کا دبائو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے اس لعنت کی روک تھام کے لیے کوئی خاص اقدام نہیں کیا۔ میاں نواز شریف کی پہلی حکومت نے جو بہت بڑا ظلم کیا وہ یہ کہ اس لعنت کے خاتمے کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کے بجائے سود کے نظام کے تحفظ کے لیے شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور آج تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ معاملہ عدالتوں کے بیچ کچھ اس طرح پھنس چکا ہے کہ شاید آئندہ بیس تیس سالوں میں بھی اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی کوئی توقع نہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ مسلم لیگی حکومت نے سود جیسے گناہِ کبیرہ کو تحفظ دے کر بہت بڑا ظلم کیا لیکن اگر موجودہ وزیراعظم عمران خان، جو ریاستِ مدینہ کے رول ماڈل کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، بھی سود کے خاتمے کے بجائے اس لعنت کو ہی بڑھاوا دیتے رہیں گے تو پھر سمجھ لیں کہ یہ بہت بڑے نقصان کی بات ہو گی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ جو پہلے ہو گیا اُسے کیسے ٹھیک کیا جائے اور اُس کو درست کرنے میں کتنا وقت لگے گا، زیادتی کی بات یہ ہے کہ ریاستِ مدینہ کا نام لینے والی حکومت نے گزشتہ چھ ماہ میں جو مزید قرضے لیے وہ بھی سودی قرضے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے لیے جانے والے قرضے بھی سود پر مبنی ہیں۔ آئی ایم ایف سے لیے جانے والا قرضہ بھی سودی ہو گا۔ چلیں! اگر یہ کہا جائے کہ باہر کی دنیا سے ہم بلاسود قرضے کی شرط ابھی نہیں منوا سکتے تو پھر عمران خان صاحب کم از کم اس بات پر ضرور غور کریں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے قریباً تین ہزار ارب روپے سے زیادہ کا جو قرضہ تحریک انصاف کی حکومت اب تک لے چکی ہے، وہ بھی سودی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ حال ہی میں تحریک انصاف حکومت کی طرف سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے پاکستان بنائو اسکیم کے تحت مخصوص مدت کے لیے پاکستان میں ڈالرز ڈیپازٹ کرنے پر جس منافع کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ بھی سودی ہے۔ اس کے علاوہ نیا پاکستان گھر اسکیم میں بھی مغربی ممالک کی طرح سودی بنیاد پر لوگوں کو گھر خریدنے کی تجویز دی جائے گی۔ یعنی ایک طرف چھ ارب روپے روزانہ سود کی ادائیگی جس کا بجا طور پر وزیراعظم رونا رو رہے ہیں، آئندہ مزید بڑھتی جائے گی کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت جو نئے قرضے لے رہی ہے وہ بھی سود پر ہی مبنی ہیں تو دوسری طرف بیرونِ ملک پاکستانیوں کو پاکستان بنائو اسکیم اور اندرون ملک پاکستانیوں کو نیا گھر اسکیم کے تحت سودی کاروبار میں جھونکا جا رہا ہے، جو سراسر نقصان کا سودا ہے۔ میری وزیراعظم عمران خان صاحب سے درخواست ہے کہ اگر وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ سود کے ناسور نے پاکستان کی معیشت کو اس قدر بدحال کر دیا ہے تو اس لعنت کے خاتمے کے بجائے اس کو بڑھاوا دینے سے گریز کیا جائے۔ تحریک انصاف میں موجود روشن خیال طبقہ‘ ہو سکتا ہے کہ خان صاحب کو سودی کاروبار جاری رکھنے کے لیے دنیا بھر کی مثالیں دے، لیکن میری خان صاحب سے گزارش ہوگی کہ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے اُنہیں اسلامی احکامات کو پڑھ لینا چاہیے جن کا حوالہ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی اپنی کچھ تقاریر میں دے چکے ہیں۔ خان صاحب کی حکومت بجا طور پر پاکستان میں سیاحت کی صنعت کو ترقی دینا چاہتی ہے، جس سے پاکستان اربوں ڈالرز سالانہ کما سکتا ہے لیکن خان صاحب کو اپنے اُن وزراء اور مشیروں سے ہوشیار رہنا چاہئے جو اُن کو مشورہ دے رہے اور دے سکتے ہیں کہ سیاحت کی صنعت کو اگر ترقی دینا ہے تو شراب کے معاملے پر نرمی اختیار کرنا ہو گی۔ ایک نجی چینل کے ایک تجزیہ کار نے ’مشروب‘‘ اور ’’ثقافت‘‘ کے حوالے دے کر خان صاحب کو یہ بھی مشورہ دیا کہ شراب کے ساتھ ساتھ اُن خاص ’’محلوں‘‘ کی ثفاقت کو بھی فروغ دیا جائے جو مجروں اور بدکاری کے حوالے سے مشہور رہے۔ ان تجزیہ کار صاحب کا رونا تھا کہ وہ کیسے دن تھے جب ’’خاص مشروب‘‘ پاکستان کی قومی ائیرلائن میں بھی ملتا تھا جبکہ خاص محلوں کی ثقافت والے اب خلیجی اور دوسرے ملکوں کو جا چکے ہیں۔ امید ہے عمران خان شراب اور بدکاری کے ذریعے سیاحت کے فروغ کی ہر تجویز کو ردّ کر دیں گے اور اسی بات کی اُن سے توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں