180

دو مرلے کی قبر! عطاء الحق قاسمی

وہ فروٹ مارکیٹ میں مزدوری کرتا تھااور دن میں بارہ گھنٹے کام کرتا۔ وہ بوڑھا تو نہیں تھا لیکن اب اتنا جوان بھی نہیں تھا۔ اس کی عمر 45کے لگ بھگ تھی، لیکن وہ اپنی عمر سے دس پندرہ سال زیادہ لگنے لگا تھا اس کی ماہوار آمدنی اوپر نیچے ہوتی رہتی تھی۔ پیک سیزن میں وہ ڈیڑھ سے دو ہزار روپے یومیہ تک کمانے میں کامیاب ہو جاتا تھا .

 یوں تو مہینے بعد خاصی رقم اس کے پاس ہوتی تھی، البتہ آف سیزن میں اس کے لئے ایک سو روپیہ یومیہ کمانا بھی ممکن نہ تھا تاہم دوسرے مزدوروں کی طرح وہ یہ سیزن بھی منڈی گزارتا۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹا تھا۔ بیٹا 22سال کا تھا ، وہ گڑھی شاہو میں ایک جوس کی دکان پر ویٹر تھا وہاں جوس کی دکانیں قطار اندر قطار تھیں۔

جب کوئی گاڑی آ کر کھڑی ہوتی تو جوس کی دوسری دکانوں کے ویٹروں کی طرح وہ بھی جوس کا مینو ہاتھ میں پکڑے اس کی طرف بھاگتا اور اکثر گاہک کو گھیرنے میں کامیاب رہتا۔ اس کا زیادہ تر گزارہ گاہکوں کی ٹپ ہی سے ہوتا تھا۔

اس کے باپ کی دو ہی خواہشیں تھیں ایک اس کے بچے پڑھ لکھ جائیں اور دوسرے ان کے سروں پر اپنی چھت ہو۔ تمام تر مارپٹائی کے باوجود بیٹا ہر بار اسکول سے بھاگ جاتا تھا۔ نہ پڑھنے کی ایک وجہ اس کی یہ خواہش بھی تھی کہ محنت مزدوری کرکے اپنے باپ کا ہاتھ بٹائے اور اپنی بہنوں کے ہاتھ پیلے کرے۔

وہ اگرچہ خود پڑھ لکھ نہ سکا لیکن اس کے دل میں اپنے باپ کی طرح یہ خواہش موجود تھی کہ اس کی بہنیں باقاعدگی سے اسکول جائیں اور وہ انہیں اپنی زندگی میں کسی تعلیمی ادارے میں کام کرتا دیکھے۔ اس کے باپ کی کم از کم بیٹیوں کی پڑھانے کی خواہش تو پوری ہو رہی تھی لیکن یہ خاندان اوسطاً ماہوار پینتیس چالیس ہزا رروپے کمانے کے باوجود سخت تنگ دستی کی زندگی گزار رہا تھا۔

انہوں نے پندرہ ہزار روپے ماہوار پر ایک کچی آبادی نما بستی میں ایک مکان کرائے پر لیا ہوا تھا جس میں صرف تین کمرے اور ایک چھوٹا دالان تھا۔ اتنے ہی پیسے گھریلو اخراجات پر صرف ہو جاتے تھے۔ بیٹیوں کے چہرے پیلے پڑ چکے تھے محض غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ غربت کا احساس بھی انہیں اندر ہی اندر گھن کی طرح کھائے جا رہا تھا کہ وہ اپنی کلاس فیلوز کے مقابلے میں خود کو بہت حقیر سمجھتی تھیں۔

ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ جیسے بھی ہو ایک چھوٹا سا گھر بنا لے تاکہ اس کی بیٹیوں کے لئے بھی کوئی اچھا بَر مل جائے اور اس کا پندرہ ہزار روپے ماہوار کرایہ بھی بچ سکے اور یوں وہ مہنگائی کا مقابلہ نسبتاً آسانی سے کرسکےگا۔ اس نے دو ہزار روپے ماہوار کی کمیٹی ڈالی جو پانچ سال کے لئے تھی۔

اب اسے پہلے سے زیادہ کام کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کے گالوں کی ہڈیاں مزید پچک گئی تھیں، کاندھوں اور کمر کا درد بھی پہلےسے بڑھ گیا تھا۔ مگر اپنے اور بچوں کے لئے ایک چھت بنانے کا جنون اس کے سر پر سوار تھا چنانچہ وہ ایک مشن کی طرح اپنے کام میں جتا ہوا تھا، کام کے دوران وہ اپنے درد بھول جاتا لیکن رات کو بستر پر لیٹتے وقت اس کے جسم کا جوڑ جوڑدرد کرتا اور اس کے کراہنے کی آواز ڈھیلی چارپائی کے کراہنے سے کہیں زیادہ ہوتی۔

بالآخر ایک روز اس کی کمیٹی نکل آئی اسے یوں لگا اس کا خواب پورا ہونے والا ہے اس نے دو لاکھ روپے پوری زندگی میں نہیں دیکھے تھے۔ اس نے بینک میں اکائونٹ کھولا اور یہ اکائونٹ کھلوانا بھی ایک مشکل ترین مرحلہ تھا جس سے بالآخر وہ گزر گیا۔ اب وہ ہر نئی آبادی کے اشتہارات دوستوں سے پڑھواتا لیکن پلاٹوں کی قیمتیں سن کر اس کی امیدوں پر اوس پڑ جاتی۔

ایک روز رات گئے جب وہ گھر آیا اس نے اپنی ٹوٹی ہوئی چارپائی پر لیٹے خواب دیکھا کہ وہ ایک خوبصورت گھر کے باہر کھڑا ہے جس کے باہر اس کی نیم پلیٹ لگی ہوئی ہے وہ گھر میں داخل ہوا،اس نے دیکھا کہ اس کی دونوں بیٹیاں گھر کے ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھی ایل سی ڈی پر کوئی پروگرام دیکھ رہی ہیں۔

خواب کے دورا ن اسے بار بار یہ سوچ آتی رہی کہ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہا مگر وہ واقعی خواب تھا تاہم جب وہ جاگا تو اس نے سوچا کہ کون کہتا ہے انسان کو وہ خواب نہیں دیکھنا چاہیے جو حقیقت سے دور ہو کیونکہ وہ کئی روز تک اس خواب کے نشے میں مگن رہا۔

بالآخر ایک روز وہ ایک ہائوسنگ اسکیم میں دو مرلے کا پلاٹ خریدنے میں کامیاب ہوگیا، اب اس کی خوشی دیدنی تھی۔وہ کام سے فارغ ہو کر سیدھا گھر نہ جاتا بلکہ راہ میں نظر آنے والے چھوٹے گھروں کے نقشوں پر غور کرتا رہتا تاکہ اسے جو نقشہ پسند آئے اس کے مطابق وہ گھر کی تعمیر شروع کردے۔

اسی دوران وہ 55سال کا ہوگیا تھا اور 70سال کا لگتا تھا۔ ایک دن اسے دو مرلے کا ایک گھر پسند آیا جس کی تین منزلیں تھیں وہ اس کے مالک سے ملا، مالک اچھا آدمی تھا ۔ اس نے کہا تم اس کی ڈرائنگ کسی سے بنوا لینا، ایل ڈی اے سے نقشہ میں منظور کروا دوں گا۔ اس نے مالک سے پوچھا اس گھر پر تمہاری کتنی لاگت آئی تھی ، مالک نے کہا یہی کوئی پچاس لاکھ روپے، یہ سن کر اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔

اس نے دیوار کا سہارا لیا تاکہ خود کو گرنے سے بچا سکے۔ اس روز وہ گھر آیا تو چپ سادھے بیٹھا رہا، نہ اس کے کراہنے کی آواز سنائی دی اور نہ اس کی ڈھیلی چارپائی نے فریاد کی۔ صبح اٹھا تو اس پر فالج کا حملہ ہو چکا تھا۔ اس کے بیٹے نے جوس کی دکان سے چھٹی لی اور اسے سرکاری اسپتال لے گیا جہاں اس کے علاج معالجے کی طرف اتنی ہی توجہ دی گئی جتنی سرکاری اسپتال میں دی جاسکتی ہے ۔

وہ کوما میں چلا گیا تھا ، کوما میں جانے سے پہلے اس نے اپنے بیٹے کو ہکلاتی زبان میں کچھ وصیتیں کیں اور پھر تین دن بعد وہ مر گیا۔ چنانچہ اسے اس کی پہلی وصیت کے مطابق اس کے دو مرلے کے پلاٹ میں دفن کردیا گیا اور اس کی دوسری وصیت کے مطابق وہاں یہ تختی لگا دی گئی ’’اس پلاٹ میں مالک مکان رہتا ہے‘‘۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں