99

پلوامہ حملہ ،بھارت ’’قابلِ عمل ‘‘ ثبوت دے ،پاکستان کارروائی کرے گا:عمران خان

بھارتی قیادت کو سمجھنا چاہیے، کشمیر کا مسئلہ افغانستان کی طرح مذاکرات ہی سے حل ہوگا،فوجی طاقت کے استعمال سے نہیں

اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو پیش کش کی ہے کہ اگر وہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گذشتہ جمعرات کے روز بھارتی سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش بم حملے سے متعلق کوئی قابلِ عمل ثبوت فراہم کرتا ہے تو پاکستان اس پر کارروائی کرے گا۔

انھوں نے منگل کی شب اس واقعے کے ردعمل میں جاری کردہ اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں بھارت کو تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ بھارتی قیادت کو تنازع کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور جنگ کے شعلے نہیں بھڑکانے چاہییں۔

انھوں نے بھارت کو پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی اشتعال انگیز کارروائی کی جاتی ہے تو وہ اس کے جواب میں ہچکچائے گا نہیں بلکہ فوری جوابی اقدام کرے گا۔تاہم انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے گی۔

عمران خان نے وضاحت کی ہے کہ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے حالیہ دورے اور اس موقع پر ایک سرمایہ کاری کانفرنس میں مصروف تھے،اس لیے انھوں نے بھارت کے پاکستان کے خلاف عاید کردہ اس بے بنیاد الزام کا کوئی جواب نہیں دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس حملے میں پاکستان کا ہاتھ کارفرما ہے۔چناں چہ میں نے الزام کا کوئی جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا کیوں کہ اگر ایسا کیا جاتا تو پھر تمام توجہ سعودی ولی عہد کے دورے سے ہٹ جاتی اور اس موضوع کی جانب مرکوز ہوجاتی ۔اب سعودی ولی عہد واپس چلے گئے ہیں تو میں بھارتی حکومت کو جواب دے رہا ہے۔

انھوں نے بھارتی حکومت کو مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے اپنے الزام کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان اس طرح کا واقعہ کیوں کرے گا؟ اس کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا؟ایسا کرنے کا تو کوئی احمق ہی سوچے گا۔

انھوں نے کہا :’’میں بھارت کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک نیا پاکستان ہے ، یہاں ایک نئی سوچ ہے ۔آپ بھی خود کو تبدیل کریں۔تنازع کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں ۔بھارت کو ایک نئی سوچ کے ساتھ اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کیوں اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں آرہے ہیں اور جدوجہد آزادی کا جھنڈا گرنے نہیں دے رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہم اس خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔گذشتہ پندرہ سال کے دوران میں ستر ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے اور ہمیں ایک سو ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔لہٰذا ہم بھارت سے تنازع کشمیر کے حل کے لیے بھی مذاکرات کو تیار ہیں۔

عمران خان نے کہا : ’’ہمیں ہندوستان سے یہ آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے ۔اس کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن یاد رکھیں کہ اگر پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو پھر ہم سوچیں گے نہیں بلکہ اس جواب دیں گے مگر ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو افغانستان کی طرح ڈائیلاگ اور بات چیت سے حل کیا جائے‘‘۔

انھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا: ’’ہم جانتے ہیں کہ بھارت میں یہ انتخابات کا سال ہے،اسی لیے بھارتی لیڈر جنگ کا ماحول گرما رہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کررہے ہیں لیکن مجھے بھارتی سیاست دانوں سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ کون سا بین الاقوامی قانون ایک ملک کے خلاف آپ کو یک طرفہ طور پر پراسیکیوٹر اور جج بن کر کارروائی کرنے کی اجازت ہے‘‘۔

انھوں نے خبردار کیا کہ جنگ کا آغاز تو بہت آسان ہے لیکن اس کے بعد معاملہ کس طرف جائے گا ،اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ۔میں بھارتی قیادت سے یہ کہنا چاہوں گا کہ ہوش کے ناخن لیں ۔انھیں سمجھنا چاہیے کہ کشمیر کا مسئلہ بھی افغانستان کی طرح مذاکرات سے حل ہوگا۔افغانستان میں ساری دنیا نے سترہ سال کی جنگ کے بعد دیکھ لیا کہ مسئلے کا حل مذاکرات ہی میں ہے، فوجی طاقت کے استعمال میں نہیں ۔اس لیے تنازع کشمیر کے حل کے لیے بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ہونے چاہییں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں