181

پاکستان، سعودی عرب مشترکہ اعلامیہ ، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ

دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں اور ان کے انسانی حقوق کی پامالیوں کی سخت الفاظ میں مذمت

اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان اور سعودی عرب نے عرب امن اقدام کے مطابق مشرقِ اوسط میں جامع اور دیرپا امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے 1967 ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کا دارالحکومت یروشلیم ( بیت المقدس) ہو۔

سعودی عرب کے ولی عہد ، وزیر دفاع اور نائب وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق دونوں ملکوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے عزم کا ا عادہ کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانبین کی کامیابیوں کو سراہا ہے اور قربانیوں کو تسلیم کیا ہے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں اپنا حصہ بٹائے۔ پاکستان اور سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی ممنوعہ فہرست میں شامل تنظیموں کو سیاسی بنانے سے گریز کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے اسلام آباد میں پاکستان کی قیادت کے ساتھ بات چیت کے دوران میں وزیراعظم عمران خان کی بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششوں اور کرتارپور بارڈر کراسنگ کھولنے کے اقدام کو سراہا ہے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی خطے میں دیرینہ تصفیہ طلب مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور امن اور استحکام کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔

دونوں ملکوں نے افغانستان میں جاری بحران کے سیاسی حل اور وہاں امن واستحکام کے فروغ کی اہمیت سے اتفاق کیا ہے تاکہ پڑوسی ممالک میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین اپنے آبائی ملک میں لوٹ سکیں اور وہاں قیام امن میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔سعودی عرب نے پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین کی گذشتہ کئی عشرے تک فراخدلانہ مہمان نوازی کو سراہا ہے ۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ سپریم رابطہ کونسل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم عمران خان اس کے شریک چئیرمین ہوں گے۔اس کونسل کے اجلاس دونوں ملکوں میں باری باری منعقد ہوں گے۔

دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت ، سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے اور عوام اور کاروباری طبقے کے درمیان روابط بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔طرفین نے تجارت کے فروغ ، صنعتی اور تجارتی نمائشوں میں ایک دوسرے کے وفود کی شرکت اور نجی شعبے کی دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے سے بھی اتفاق کیا ہے۔

سعودی ولی عہد کے اس تاریخی اور کامیاب دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تیل ،معدنیات ، پیٹرو کیمیکلز سمیت مختلف شعبوں میں بیس ارب ڈالرز سے زیادہ مالیت کے سمجھوتے طے پائے ہیں۔ان سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

سعودی ولی عہد نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور سازگار کاروباری مواقع مہیا کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات کو سراہا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) سے پیدا ہونے والے ترقی کے مواقع کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ خطے کی اقتصادی ترقی اور خوش حالی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں شراکت دار بنے۔ 

اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے مختلف عقیدوں کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں اور ان کے انسانی حقوق کی پامالیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی ولی عہد نے دورے کے اختتام وزیراعظم عمران خان کا اپنی شاندار، پُرجوش اور والہانہ انداز میں میزبانی پر شکریہ ادا کیا ہے۔اس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت و تن درستی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ بھی بہت جلد پاکستان کے دورے پر آئیں گے۔ انھوں نے مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سعودی عرب کے کردار کو سراہا ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سعودی عرب پہنچنے والے لاکھوں فرزندانِ توحید کی شاندار میزبانی پر خادم الحرمین الشریفین اور ان کی حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں