145

سعودی ولی عہد کی آمد سے پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے: نور الحق قادری

پاکستان سعودی دوستی اظہار تشکر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے پاکستان سعودی عرب تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ سعودی عرب کے ساتھ روحانی تعلق ہے۔ پاکستان سعودی عرب مل کر مسلم امہ کے مسائل حل کریں گے۔

کانفرنس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر مشکل دور میں سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی۔ الحرمین الشریفین کی حفاظت کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں کسی کو حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دیں گے۔ پاک سعودیہ دوستی ہر آزمائش میں پوری اتری ہے۔ کانفرنس میں ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان آمد کے حوالے سے خیرمقدمی قرارداد منظور کی گئی۔

پیر کو تحریک دفاع حرمین شریفین کے زیراہتمام پاک سعودی دوستی اظہار تشکر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، قبلہ ایاز، انصار الامہ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل، صدر تحریک دفاع حرمین شریفین مولانا علی محمد ابو تراب، صدر نشین بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی احمد یوسف الدرویش، سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما آصف لقمان قاضی، حنیف جالندھری، امیر زمان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ تمام شعبوں اور مکاتب فکر کی نمائندگی کانفرنس میں موجود ہے جو کہ ایک اچھا شگون ہے۔ تحریک دفاع حرمین شریفین نے ہمیشہ حرمین شریفین کے حوالے سے آواز بلند کی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔ ان کا گرم جوشی سے استقبال کریں گے۔ یہ بڑے عرصے کے بعد کسی سعودی اعلیٰ عہدیدار کا پاکستان کا سرکاری دورہ ہے۔ پاکستانی حکومت اور قوم ولی عہد کے اس دورے کو بڑی اہمیت دیتی ہے جو ماحول خطے میں ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ اس دورے کے مثبت نتائج حاصل ہوں۔ پاک سعودیہ دوستی سدا بہار ہے اور یہ قائم و دائم رہے گی۔ دورے سے دوستی کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی۔ پاکستان اور سعودی عرب مختلف مسائل پر ایک پیج پر ہیں اور ایک مضبوط سیاسی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کا شمار پاکستان کے سب سے اہم سیاسی دوستوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان نے بھی ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کی مدد کی ہے۔ سعودی عرب کی ترقی میں مزدوروں کا خون شامل ہے۔ پاکستان سے سب سے زیادہ محنت کش سعودی عرب جاتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ دینی اور روحانی تعلق ہے۔ 25لاکھ سے زائد عمرہ زائرین پاکستان سے سالانہ جاتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب امہ کے اتحاد کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران مسلم امہ کی یکجہتی اور مسائل کے حل پر بات کریں گے۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات مثالی رہے ہیں۔ ہم سے کوتاہی ہوئی مگر سعودی عرب نے کوتاہیوں پر دل گرفتہ ہونے کی بجائے ہماری ہر مشکل میں مدد کی اور ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔ پاکستان دو لخت ہوا تو اس وقت تک بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا جب تک پاکستان نے خود بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کر لیا۔ سعودی عرب امت مسلمہ کے لئے سوچتا ہے، یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کو حکومت نے تعاون فراہم نہیں کیا مگر اس وقت بھی جمعیت علمائے اسلام نے حرمین شریفین کے دفاع کے لئے اعلان کیا کہ ہم کسی کو حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے۔ خادم حرمین نے عازمین کو بے شمار سہولیات دی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ رشتہ عام رشتوں کی طرح نہیں ایمانی رشتہ ہے اور اب یہ معاشی و معاشرتی رشتہ بھی ہو جائے گا۔ مظلوم مسلمان سعودی عرب اور پاکستان کی طرف سے دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں مل کر ہمارے مسائل حل کریں۔ ولی عہد کے پاکستان آنے پر ان کا خیرمقدم کریں گے۔

مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ بھائی ہونے کے تقاضے پورے کئے۔ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کی چاہے وہ زلزلے ہوں، سیلاب ہوں یا سقوط ڈھاکہ، مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ جب دنیا پاکستان کے حوالے سے کہہ رہی تھی کہ یہ معاشی طور پر دیوالیہ ہو جائے گا۔ سعودی عرب نے مدد کر کے سب کے منہ بند کر دیئے۔ سعودی عرب کی طرف سے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ولی عہد کے دورے سے معاشی مسائل حل ہوں گے۔ سعودی عرب کے ساتھ ایمان کا رشتہ ہے کسی صورت اس پر کمپرومائز نہیں کر سکتے۔ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب مزید ترقی کرے گا۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ آج تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں اور پورے پاکستان کی طرف سے پیغام دیتے ہیں کہ اگر حرمین شریفین پر کوئی مشکل گھڑی آئی تو پاکستان کا ہر شہری سعودی عرب کے تحفظ کے لئے پہلی صف میں کھڑا ہو گا۔

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کے صاحبزادے آصف لقمان قاضی نے کہا کہ آج امت کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ پہلے عرب مہمان جب پاکستان آتے تھے تو ان کا شاندار استقبال کیا جاتا تھا اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دورے سے پاک سعودیہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کی۔

مولانا حنیف جالندھری نے کہا کہ حرمین کے ساتھ ایمان کا رشتہ ہے۔ مسلمان کے تین وطن ہوتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوتا ہے جہاں رہتا ہے اور ایک ایمانی وطن ہوتا ہے اور ایمانی وطن پر باقی دونوں وطن قربان کئے جا سکتے ہیں کیونکہ سب سے اہم رشتہ ایمان کا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد کے دورے میں ان کے ساتھ تعلیم کے حوالے سے بھی معاہدے کئے جانے چاہئیں تاکہ پاکستانی وہاں جا سکیں اور وہاں سے یہاں آ سکیں۔

مولانا علی محمد ابو تراب نے کہا کہ مسلمانوں کا قبلہ مدینہ منورہ سعودی عرب میں ہے۔ ہر مسلمان نماز پڑھتے ہوئے مکہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے۔ اسلام کا مرکز حرم ہے اور اہل سعود اس کے خدمت گار ہیں۔ دفاع حرمین شریفین ایمان کا حصہ ہے۔ سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف چھتیس ممالک کا اسلامی و عسکری اتحاد بنایا جس کا سربراہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بنایا گیا جو پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ سعودی عرب اور حرمین کے دفاع کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اپنی، جان اور اولاد سب اس پر قربان کر دیں گے۔

مولانا امیر زمان نے کہا کہ ولی عہد کے پاکستان آنے پر ہمیں خیر مقدمی قرارداد منظور کرنی چاہئے کیونکہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑا رہا۔ مولانا امیر زمان نے خیرمقدمی قرارداد پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں