108

سعودی عرب کو تنہا کرنے کی ناکام کوشش-مشاری الذايدی

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ کامیاب غیر ملکی دورے سے خمینیت ، الاخوان المسلمین اور بائیں بازو کی سعودی عرب کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کی مہم ناکام ہوگئی ہے۔انھوں نے سعودی عرب کو تنہا کرنے کے لیے ایک سیاسی دیوار کھڑا کرنے کی کوشش کی تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ چند روز کے دوران میں متحدہ عرب امارات ، بحرین ، تیونس ، موریتانیہ، الجزائر اور ارجنٹینا کے دورے کیے ہیں۔بیونس آئرس میں جی 20 سربراہ اجلاس میں ان کی موجودگی اہمیت کی حامل تھی۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد سعودی عرب کے دشمنوں کا مقصد بڑا واضح ہو چکا ہے۔اس مقصد کا تعلق کسی کو سزا دینے یا سچائی کو منظر عام پر لانے سے نہیں ۔اس کا خالصتاً قانونی اور مجرمانہ پہلو سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

ہر غیر جانبدار اور عاقل شخص کی نظر میں خاشقجی کیس کو سعودی عرب کو شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں سیاسی اور اقتصادی ترقی سے روکنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ سعودی عرب کے خلاف مہم اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ سے دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے کوشش جمال خاشقجی کے قتل سے قبل ہی شروع ہوچکی تھی۔ امریکا کے بائیں بازو کے میڈیا یا مغربی میڈیا نے بالعموم الاخوان المسلمین اور خمینیت کی گپ بازی اور یاوہ گوئی کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔

بین الاقوامی اتحاد

مغربی میڈیا نے یمن میں جنگ کے جواز کو مسخ کیا اور صرف سعودی عرب کے کردار کو نمایاں کرنے اور نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جبکہ قانونی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے برسرپیکار بین الاقوامی اتحاد کو یکسر نظر انداز کردیا ہے اور صرف اور صرف سعودی عرب پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے ۔ اس کو غریب ، بے یارومددگار اور مقہور یمنی عوام کے خلاف ایک جارح کے طور پر پیش کیا ہے۔

امریکا میں واشنگٹن پوسٹ ، نیویارک ٹائمز اور سی این این اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دا گارجین ایسے موقر اخبار نے بھی یہی بیانیہ پیش کیا ہے۔ان کے علاوہ بعض یورپی میڈیا اداروں کی عربی زبا ن میں میڈیا سروس نے بھی یہی سعودی مخالف نقطہ نظر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ان میں فرانس 24 اور جرمنی کے ڈویچے ویلے چینلز خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

مذکورہ بالا میڈیا ادارے یمن کی صورت حال کی اس انداز میں تصویر کشی کررہے ہیں کہ کسی ملیشیا کو ایران یا پاسداران انقلاب سے میزائل ، تربیت اور ہتھیار نہیں مل رہے ہیں اور ان کے حق میں کوئی پروپیگنڈا بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ ان کی میڈیا کوریج سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے شہروں پر کوئی میزائل داغے نہیں جارہے ہیں اور نہ ان سے لوگ مررہے ہیں۔ان کی تصویر کشی سے یہ پتا چلتا ہے کہ حوثی گینگ اور جتھوں کو مسترد کرنے والے یمنی عوام سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔یمن میں کوئی قانونی حکومت نہیں اور نہ یمنی صدر کے تحت حکومت حوثی باغیوں کے خلاف لڑرہی ہے۔

ان کے بیانیے سے تو لگتا ہے کہ حوثیوں کو مجرم ٹھہرانے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بین الاقوامی قرار دادوں کا کوئی وجود ہے اور نہ ان کے ذریعے یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کی گئی ہے۔بائیں بازو کا یہ میڈیا مذکورہ بالا حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے یمن کی ایک ایسی تصویر پیش کررہا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ صرف اور صرف ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ایک جارحیت ہے۔

ان سب پر مستزاد سعودی عرب کا الاخوان المسلمین اور انتہا پسند گروپوں کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار ہے جس کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس جنگ کو مملکت کی پالیسی میں سب سے مقدم قرار دے رکھا ہے۔ان تمام چیزوں کے ساتھ سعودی عرب کے دلیرانہ معاشی اقدامات نے اخوان المسلمین ، بائیں بازو اور خمینیت کے تاریک سہ فریقی اتحاد کو سیخ پا کردیا ہے۔

چناں چہ انھوں نے جمال خاشقجی کے کیس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انھیں یہ غلط فہمی ہوگئی تھی کہ سعودی عرب کو تنہائی کا شکار کرنے کے لیے وہ میڈیا کی اس مہم میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔

https://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2018/12/06/%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4-.html

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں