77

حکومت کی حج پالیسی: کیوں اور کیسے؟۔انور غازی

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ءکی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق اس سال حکومت عوام کو کسی بھی قسم کی کوئی سبسڈی نہیں دے گی۔ گویا امسال حج اخراجات میں گزشتہ سال کی بنسبت ایک لاکھ 26 ہزار روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

قارئین! حجاج کرام کی خدمت کرنا اور ان کو سہولتیں دینا ہر زمانے کے حکمرانوں کی عادت رہی ہے۔ خیرون القرون سے لے کر آج تک زائرینِ حج و عمرہ کی خدمت کو ہر حکمران اپنی سعادت سمجھتا چلا آرہا ہے۔ حجاج کرام کو سہولیات کی فراہمی پچھلے چودہ سو سال سے جاری ہے۔

بعثت اسلام سے پہلے بھی حج کے دنوں میں جب پورے عرب سے حجاج کرام مکہ آتے تھے تو اہل مکہ انہیں اپنے گھروں میں ٹھہراتے تھے۔ انہیں اپنے اونٹ ذبح کرکے کھلاتے تھے، انہیں پانی پلاتے تھے اور خیمے لگانے میں ان کی مدد کرتے تھے۔ اسلام کے ظہور کے بعد ان سہولتوں میں اضافہ ہو گیا، مختلف خلفاءکے دور میں حجاج کے لیے سہولتوں کے مختلف پیکیج دئیے گئے۔حضرت عمرؓ کے دور میں حجاج کرام کی رہائش اور خوراک مفت تھی۔

حضرت معاویہؓ کے دور میں حکومت نے مکہ سے مدینہ آنے والے زائرین کے لیے سرکاری سواری کا انتظام کر رکھا تھا، چھ سو کلومیٹر کے اس فاصلے کے دوران زائرین کو پانی پلانے کی سبیلیں لگی تھیں، یہ سبیلیں حکومت لگاتی تھی اور حکومت ہی اسے چلانے کا بندوبست کرتی تھی۔

خلیفہ ہارون رشید کا دور زائرین کے لیے انتہائی شاندار دور تھا، اس دور میں زائرین کو خوراک، رہائش، پانی اور بعض اوقات آمد و رفت کی سہولت تک مفت فراہم کی جاتی تھی۔ خلیفہ نے اپنے تمام گورنروں کو حکم دے رکھا تھا، وہ حجاج کرام کے لیے خصوصی انتظامات کریں، ان کے لیے قافلے ترتیب دئیے جائیں، ان کے لیے راشن اور ادویات کا انتظام کیا جائے۔

اس کے دور میں ایک بار ڈاکوﺅں نے حاجیوں کا ایک قافلہ لوٹ لیا جب تک خلیفہ ہارون رشید نے ڈاکوﺅں سے مال واپس نہ لے لیا اس نے سارا کاروبارِ سلطنت معطل رکھا۔

دراصل بات یہ ہے کہ حاجی اللہ تبارک وتعالیٰ کا مہمان ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت کرتا ہے، اس کی جملہ ضروریات کا خیال رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خوش ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پوری دنیا سے جانے والے حجاج کرام کو ہر ملک کوشش کرتا ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ سہولت دے، اس کی خدمت کرے۔ بھارت پاکستان کا ہمسایہ ہے، یہ ایک غیر مسلم سٹیٹ ہے، وہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں سے اگر کوئی مسلمان حج کے لیے جانا چاہے تو وہاں دو قسم کے پیکیج ہیں۔ وہاں لوگوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اگر اپنے طور پر حج کے لیے جانا چاہیں تو وہ جا سکتے ہیں حکومت انہیں ٹکٹ اور بعض دوسرے حکومتی معاملات میں 30 فیصد رعایت دے دیتی ہے۔

اس کے برعکس اگر کوئی بھارتی مسلمان حکومت کے ذریعے حج کرنا چاہے تو حکومت انتہائی کم پیکیج میں اسے یہ سہولت فراہم کرتی ہے۔ بھارت کی حکومت زائرین کو اپنی خوراک، ادویات اور برتن تک ساتھ لے جانے کی اجازت دے دیتی ہے، لہٰذا بھارتی مسلمان حج کے لیے جب سعودی پہنچتے ہیں تو وہ سامان سے لدے پھندے ہوتے ہیں ،جبکہ ان کے مقابلے میں پاکستانی حکومت کسی زائر کو خوراک، ادویات اور ضروری برتن ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ بھارت کے بعد ایران کی باری آتی ہے۔ ایران حکومت حجاج کرام کے پچاس فیصد اخراجات برداشت کرتی ہے۔

حکومت ہر سال اخراجات کا تخمینہ لگاتی ہے، ان اخراجات کا نصف حاجی ادا کرتے ہیں اور باقی پچاس فیصد حکومت اپنے خزانے سے جمع کراتی ہے۔ انڈونیشیا کی حکومت بھی حج کے سلسلے میں حاجیوں کی مدد کرتی ہے وہاں حاجی کو حج کے دوران صرف کرائے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ حجاز مقدس میں حج کے دوران رہائش اور خوراک کا بندوبست حکومت کرتی ہے۔ اس بندوبست کے سلسلے میں وہ انڈونیشیا کے امراءاور تجار سے مدد لیتی ہے۔ انڈونیشیا میں حکومت نے ایک حج فنڈ قائم کر رکھا ہے۔ انڈونیشیا کے امرا اس فنڈ میں پیسے جمع کراتے رہتے ہیں، سال کے آخر میں اس رقم سے حجاج کرام کے لیے رہائش گاہوں اور خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے۔

اس بندوبست کے نتیجے میں حاجی اضافی خرچ سے بچ جاتے ہیں۔ انڈونیشیا ائیر لائن بھی حج سیزن میں اپنے کرایوں میں کمی کر دیتی ہے، ائیر لائن زائرین سے صرف اتنی رقم وصول کرتی ہے جتنی فلائٹس کے دوران خرچ ہوتی ہے۔ ائیر لائن حج فلائٹس پر منافع وصول نہیں کرتی۔

انڈونیشیا کی ائیر لائن حج کے دوران اپنے ملازمین کو ایک عجیب و غریب پیشکش کرتی ہے، وہ ملازمین سے پوچھتی ہے: ”اگر آپ لوگ اپنی تنخواہ یا اپنی تنخواہ کا کوئی حصہ حجاج کرام کی خدمت میں خرچ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کرسکتے ہیں۔“ ائیر لائن کے بعض ملازمین اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اور بعض پوری پوری تنخواہ حج فنڈ میں جمع کرا دیتے ہیں۔

یہ فنڈ بھی بعد ازاں حجاج کرام کو سہولیات فراہم کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش حکومت حج کے اخراجات میں 20 فیصد حصہ ڈالتی ہے، وہاں کی وزارت مذہبی امور حجاج کرام سے پورے اخراجات وصول کرتی ہے۔ حج کے بعد تمام اخراجات کی جمع تفریق ہوتی ہے، اس حساب کتاب کے بعد حکومت 20 فیصد رقم دے دیتی ہے۔ یہ رقم بعد ازاں حجاج کرام میں تقسیم کر دی جاتی ہے لہٰذا بنگلہ دیش میں جب حاجی واپس آتے ہیں تو انہیں وزارت مذہبی امور کی طرف سے چیک ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

سری لنکا کی حکومت ان سے بھی چند قدم آگے ہے۔ وہاں سے کوئی مسلمان حج پر جانا چاہے تو وہ حج کے لیے بلاسود قرضہ حاصل کر سکتا ہے۔ چین حاجیوں کو حج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تجارت تک کی اجازت دے دیتا ہے۔ وہاں سے حجاج کرام مختلف قسم کا سامان ساتھ لاتے ہیں، سعودی عرب میں یہ سامان بیچتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنے اخراجات پورے کرلیتے ہیں۔

کہنے کا مطلب ہے دنیا کی تمام حکومتیں اپنے اپنے ملک کے مسلمانوں کو حج کے معاملے میں سہولتیں دیتی ہیں لیکن حکومت پاکستان ہر سال حجاج کرام پر حج مشکل سے مشکل کرتی چلی جارہی ہے۔ کبھی ہوائی جہازوں کے کرائے بڑھا دئیے جاتے ہیں، کبھی رہائش گاہوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، کبھی سروس چارجز بڑھا دئیے جاتے ہیں اور کبھی خوراک کے نرخ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

اس وقت پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں حج کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔ حکومت حج سے چھ سات ماہ پہلے ہی زائرین سے درخواستیں لینا شروع کر دیتی ہے، ان درخواستوں کے ساتھ حج فیس بھی لے لی جاتی ہے۔ یہ فیس اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ حکومت اس فیس پر باقاعدہ سود وصول کرتی ہے، آج تک اس ملک میں کسی نے یہ نہیں پوچھا کیا حج کی فیس پر سود وصول کیا جا سکتا ہے؟

اگر ہم حج کے اس پیکیج کا تجزیہ کریں تو یہ معلوم کرکے حیرت ہوتی ہے پوری دنیا میں حکومتِ پاکستان حج کی سب سے زیادہ فیس وصول کر رہی ہے۔ افسوس کہ امسال حکومت نے حج کے پیکیج کی قیمت مزید بڑھادی ہے۔ یہ حجاج کرام کے ساتھ بھی ظلم ہے اور حج کے مناسک کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمرہ اور حج کے خلاف یہ ”کارروائیاں“ بھی ہماری روشن خیالی کا حصہ ہوں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں