79

بین المسالک ہم آہنگی کے اصول ۔مولانا شاہد اللہ

مسلمانوں کی آپس میں مختلف مسالک ،مکاتب فکر اور فرقوں کے درمیا ن اختلاف ایک فطری عمل ہے، مگر اختلاف کو فرقہ واریت کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ اختلاف کو رحمت سمجھا جائے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں،لہٰذا بین المسالک ہم آہنگی کے لئے ہمیں معاشرے میں کچھ بنیادی اصول اپنانے ہوں گے، جس کی وجہ سے ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور امن سے رہ سکتے ہیں۔ماضی میں اکابر کی بے شمار مثالیں ہیں جس کو اپنا کر ہم معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

امام مالک کی وسعت قلبی!

اما م مالک رحمةاللہ علیہ سے خلیفہ َوقت نے درخواست کی کہ ان کی تصنیف موَطا کو خلافت کی عمل داری والے تمام علاقوں میں نافذ کر کے تمام لوگوں کو اس پر عمل کا پابند بنا دیا جائے تو امام مالک نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا اورخلیفہ کو ایسا کرنے سے منع کر دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ لوگوں تک دین کے بارے میں مختلف باتیں پہنچی ہیں اور انہوں نے مختلف احادیث سن رکھی ہیں، مختلف علاقوں کے لوگوں تک جس جس انداز سے دین پہنچا وہاں کے لوگوں نے اسے اختیارکر لیا، اب جس چیز کو وہ درست سمجھ کر اختیار کر چکے ہیں انہیں اس سے روکنا بہت سنگین ہو گا، اس لئے لوگ جس حال میں ہیں ان کو اسی پر رہنے دیا جائے۔ (الموَطا بروایة محمد بن الحسن، 6/1، باب تاریخ تاَلیف الموَطاطبع دارالقلم،1991ء ، تحقیق،تقی الدین ندوی)

مختلف مسالک کے مابین مذہبی اختلافات ایک ناقابل تردید اور ناقابل تبدیل حقیقت ہے۔ قرآن نے اعتقادی اختلافات کے باب میں حق وباطل کو آخری درجے میں واضح کرنے کے بعد بھی مخالف مذہبی گروہوں کے خیالات زبردستی تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ اختلاف ایسے ہی برقرار رہیں گے اور ان کا فیصلہ قیامت کے روز خدا کی بارگاہ میں ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم علیہ الصلاة و السلام سے بھی فرمایا:

فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ( الرعد:40)

تمہارا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے۔ حساب کتاب لینا ہمارا کام ہے۔

قبولیت اور برداشت !

اب اس بات کا امکان موجود نہیں کہ دومختلف مسالک اپنا اپنا قدیمی یا مروج مسلک ترک کر دیں اورعبادات کے بارے میں احکام سے قطع نظرکرتے ہوئے عقائد و احکام کے کسی نئے پروگرام اور نظام پر اتفاق کر لیں یا پھر کسی ایک مذہب کے ماننے والے اپنے عقائد و نظریات اور نظام عبادات کو ترک کر کے دوسرے مذہب کو پوری طرح اختیار کر لیں۔ ہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں آگاہی کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول یا برداشت کرنے کی بنیاد پراتحاد کرلیا جائے۔

شائستگی اور خیر خواہی !

رواداری اور مسلکی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کو اہلِ بدعت،اور کافرو گستاخ کہنے کی بجائے ،اپنے نقطہ نظر کو مثبت انداز میں واضح کیا جائے، دوسرے کی اصلاح ہمدردی اورخیرخواہی کے جذبے کے تحت شائستگی سے کی جائے،اسے اپنا رقیب اورمخالف سمجھنے کی ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

مقدسات کا احترام!

مسلمانوں کے مابین محبت رسولﷺ، محبتِ آل رسول، احترام صحابہ کرام اوراحترام ازواج مطہرات کی بنیاد پر قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام مسالک کے علمائے کرام کودوسرے مسلک کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ہر مسلک کے اندر ایک مختصر طبقہ انتہا پسندانہ نظریات اور نفرتو ں کا پرچا ر کرتا ہے۔اس حوالے سے یہ امر نہایت اہم ہے کہ تاریخ اسلام کی ایسی شخصیات جو کسی بھی مکتبہ فکر کے نزدیک محترم ہوں ان کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی، نہ صرف صراحتاً توہین سے اجتناب کرنا ہوگا بلکہ اشارةً و کنایةً بھی ایسا کرنے سے پرہیز کرنا ہوگا۔

بدگمانی سے بچنا!

قرآن پاک میں مسلمانوں کومخاطب کر کے کہا گیا :

یٰاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِِثْم وَّلاَ تَجَسَّسُوا (الحجرات:12)اے ایمان والو! بہت بد گما نی سے بچو یقین جانوکہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اورجاسوسی نہ کرو ۔

مسلمانوں کے مابین بہت سارے اختلافات محض غلط فہمی یا ایک دوسرے سے بدگمانی کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے اختلافات میں شدت پیدا ہوتی ہے اور فریقین کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہے، لیکن جب ایسے دو افراد یا گروہ باہم ملتے ہیں جن کے درمیان مخاصمت اور عداوت ہو تو باہمی تبادلہَ خیال کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے نقطہَ نظر سے واقفیت ہوتی ہے اور ایک دوسرے کی حسن نیت اور پاکیزہ مقصد کے بارے میں اطمینان حاصل ہوتا ہے تو آپس میں الفت و محبت اور وحدت ویگانگت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

دوسرے مسالک کے بارے میں رائے قائم کرنے کا اصول!

مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے اپنے ایک خطاب میں ، جو بعد میں ایک رسالے اختلاف رحمت ہے، فرقہ بندی حرام ہے کے عنوان سے طبع ہوا، مختلف فرقوں کے باہمی اختلافات کے حوالے سے کہا کہ مختلف مکاتبِ فکر کے اختلافات کو اس تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے کہ ایک کا موقف یقیناً غلط اور دوسرے کا یقیناً صحیح ہے، بلکہ اس حوالے سے دیکھنا چاہیے کہ جس پر ہمارا اطمینان ہے اس کے صحیح ہونے کا غالب امکان ہے اگرچہ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ وہ غلط ہو۔اسی طرح دوسرے کا موقف ہمارے غالب گمان کے مطابق مبنی برِ خطا ہے، اگرچہ احتمال اس کا بھی ہے کہ وہ صحیح ہو۔کسی بھی وقوع پذیر ہونے والے واقعہ پر بلاتحقیق ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا نفرت اور فساد کو پھیلانے کے مترادف ہے

توہین اور گستاخ کے فتاویٰ سے اجتناب !

گستاخ رسولﷺ کو سزا دینا اسلامی حکومت کا کام ہے کیونکہ کوئی گستاخ رسول ﷺ ہے یا نہیں ہے اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اگر عوام کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو وہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے شک کی بنیاد پر بھی لوگوں کو قتل کریں گے جس کی مثالیں موجود ہیں،قانون کو ہاتھ میں لینا جرم ہے اس لئے اس پر مقدمہ چلایا جائے۔

آپ دوسروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں!

اللہ تعالیٰ نے یہ بات قرآن مجید میں بطور اصول واضح کر دی ہے کہ ہر شخص اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے۔ کسی شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی اور نہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے سکتا ہے۔ ہر فرد اپنے اعمال اور اقوال کا ذمہ دار ہے۔ ارشاد فرمایا:

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَة وِّزْرَ اُخْرٰی O وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِِنْسَانِ اِِلَّا مَا سَعٰی(النجم:38-39)

یہ کہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور یہ کہ انسان کو (آخرت میں)وہی ملے گا جو اُس نے (دنیا میں)کمایا ہے۔

فرقہ وارانہ اختلاف کی مذمت اور باہمی محبت کی تلقین

اسلا م میں مسلکی منافرت اورمذہبی انتہا پسندی کی ہرگز گنجائش نہیں۔

اللہ کا فرمان ہے :

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ O فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ O عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (الحجر:91-92)

اور جنھوں نے قرآن کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پروردگار کی قسم ، ہم ان سب کاضرور مواخذہ کریں گے کہ وہ کیا کچھ کیا کرتے تھے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَھمُ وَکَانُوْ اشِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ اِنَّمَآ اَمْرُھُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ (الانعام:159)

جن لوگوں نے اپنے مذہب کو بانٹ دیا اور فرقہ ، فرقہ ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُ ن سے کوئی تعلق نہیں۔اُن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور وہ انھیں جتا دے گا جووہ کرتے رہتے ہیں۔

قرآن کی بہت سی آیتوں میں مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیا گیا ہے اور مسلکی اختلاف کو مسلمانوں کی قوت میں کمزوری کا باعث بتایا گیا ہے۔ارشاد ربانی ہے:

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران:103 )

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے :

وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ (الانفال :46)

اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ )متفرق اور کمزور ہو کر(بزدل ہو جاوَ گے اور تمہاری ہوا (یعنی قوت )اکھڑ جائے گی ۔

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مسلمانوں کی باہمی محبت اور مودت کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ہی جسم ہو، جس میں ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو ساراجسم بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے ۔(صحیح مسلم، رقم 2586، باب تراحم الموَمنین و تعاطفھمالبخاری رقم 6011، باب رحمة الناس و البھائم)

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم میر

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے !

یونس بن عبدالا علیٰ ، امام شافعی کے خاص تلامذہ میں سے تھے، کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے زیادہ عقل مند انسان کوئی نہیں دیکھا،میرا ان کے ساتھ ایک مرتبہ کسی مسئلہ پر مناظرہ ہو گیا، کچھ عرصہ کے بعد جب میری ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم اس کے باوجود بھائی بھائی رہیں چاہے کہ ہمارا کسی ایک مسئلے میں بھی اتفاق نہ ہو۔ یعنی تمام مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کے باوجود اخوت کے رشتے میں کوئی فرق نہ آئے۔

(فرقہ وارانہ ہم آہنگی برصغیرکی دینی روایت میں برداشت کا عنصر، مفتی محمد زاہد)

سماجی روابط معاشرے کی ضرورت ہیں !


کسی مسئلے کے بارے میں اگر ہم سمجھتے ہیں کہ کسی گرو ہ سے ہمارا اختلاف ہے اور ہمار ے پاس اس سلسلے میں منطقی دلائل موجود ہیں تو ہمیں اس مسلک یا گروپ سے ہی قطع تعلقی اختیار نہیں کر لینی چاہیے۔ اختلافات کے باوجود سماجی روابط رکھنے اور ملنے جلنے میں ہی معاشرے کی بہتری ہے۔

تمام مسالک ایک دوسرے کے بارے میں آگاہی حاصل کر کے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں ۔دوسرے مسلک کوامت مسلمہ کا حصہ سمجھتے ہوئے بین المسالک اتحاد قائم کرنا دین اسلام میں مطلوب ہے۔ ارشاد ربانی ہے،


وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران:103 )


اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔

اس آیت میں واضح طور پر فرقہ پرستی اور مسلکی اختلاف کی نفی کی گئی ہے۔ یہ آیت اخوت و اتحاد کی دعوت اور تفرقہ و انتشار کی مذمت، دونوں پہلوؤں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ ظہور اسلام کا مقصد تمام نوع انسانی کو ایک مرکز پر لانا اور ایک دائمی وحدت کے رشتہ میں منسلک کرنا ہے۔ سرور کائناتﷺنے فرمایامسلمانوں کی باہمی محبت اور مودت کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ہی جسم ہو، جس میں ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو ساراجسم بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم،حدیث نمبر 2586)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں