87

کیا نواز شریف کے خاموش قتل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے؟ شرمین بخاری

تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ اگر آپ ماضی کی غلطیوں پر پشیمان ہو کر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں تو شاید آپ کو معافی مل جائے۔ نواز شریف کی طرف سے ”شہید ضیا الحق زندہ باد، مردِ مؤمن مردِ حق ضیاءالحق“ کے نعروں سے لے کر خلائی مخلوق مردہ باد تک کا سفر کافی دلچسپ رہا ہے۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب ماضی میں نواز شریف بھی ایوب اور یحیٰ کے بھٹو اور ضیا الحق کے نواز شریف آج کے عمران خان جیسا کٹھ پتلی کردار ادا کر کے ماضی میں اپنا نام تاریخ کے کالے صفحوں پر لکھوا چکے ہیں۔

لیکن آج وہی نواز شریف سویلین بالادستی کی علامت بن چکے ہیں۔ ان دنوں محترم جیل میں ہیں اور اب تک درست سمت میں ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں آ کر شاید ان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے تب ہی اس نے تاریخ کے ہاتھوں مارے جانے کی بجائے آمروں کے ہاتھوں مر کر تاریخ میں سرخرو ہونے کو ترجیح دی ہو۔ آج کل وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں جوڈیشل مارشل لا کی دست آموز عدالت سے ملی ہوئی سزا کاٹ رہے ہیں۔ آج کل ان کی طبعیت بھی کافی ناساز ہے۔ تین سال پہلے ہونے والی دل کی سرجری اور بڑھاپے نے اب انہیں گھیر رکھا ہے، علاج کی بہتر سہولیات میسر نہیں ہیں۔ حکومت ان کے سخت ناقدین کے پاس ہے جن کے پاس چوری شدہ مینڈیٹ ہے جو عوام کی خدمت کا مینڈیٹ کم اور نامعلوم لوگوں کے مخالفوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا زیادہ ہے۔

ویسے جب آپ نادیدہ ہتھکنڈوں سے ٹکراتے ہیں تو آپ کو ہر طرح کی تکالیف کے لئے تیار رہنا چاہیے خاص کر تب جب آپ خود ماضی میں متنازع رہے ہوں کیونکہ آپ کے سر پر مکافات عمل کی تلوار بھی لٹکتی رہتی ہے۔ نواز شریف اس وقت ریاستی اداروں کی نظر میں پنجاب میں بغاوت کی علامت بن چکے ہیں۔ پاکستان کے ریاستی وجود کی علامت پنجاب میں ہر طرف ایک غیر اطمینانی کی فضا ابھر رہی ہے جس کے پیچھے صرف اور صرف نواز شریف کا نعرہ ”ووٹ کو عزت دو“ ہے۔

اب چونکہ میدان جنگ سج گیا ہے، عوام کو اپنی ووٹ کی حکمرانی کے حاصلات کا راستہ دیا گیا ہے تو اب اگر اس سے کوئی پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سیدھا سادہ پاکستانی اب یہ بات جان گیا ہے کہ ان کی بھوک، مفلسی، کرپشن، سیکورٹی رسک کی وجوہات صرف سیاستدان نہیں ہیں ان کے پیچھے ایک طاقتور استحصالی طبقہ موجود ہے۔ البتہ کچھ لوگ اس بات کا سرعام اندر کے ڈر کو مٹا کر اظہار کر رہے ہیں تو دوسری جانب زیادہ تر پاکستان میں سچ لکھنے اور سچ بولنے پر خود کو غیر محفوظ سمجھنے والے دل ہی دل میں وقت کے قیصر کسریٰ کے خلاف بغاوت پال رہے ہیں، جس کا مستقبل بعید میں خاصا کردار ہوگا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب مکے لہرانے والے آمر نے نواز شریف کے اقتدار پر ڈاکہ ڈالا تھا تب بھی اس نے اسی طرح جوش میں بہت ساری باتیں کی تھیں جن سے بعد میں وہ ان باتوں کو عوام میں لے جانے کی بجائے پیچھے ہٹ گیا تھا اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوگا کہ وہ بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے کہ اکتوبر 1999ء کے بعد کے حالات اور جولائی 2017 ء کے بعد کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تب عوام تک کم سمے میں رسائی کا ذریعہ صرف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہی تھا جس پر اس وقت غیر آئینی غاصبوں کا پہرا تھا لیکن آج سوشل میڈیا کا دور جہاں ایک لیڈر سے کارکن تک فاصلہ صرف ایک موبائل فون ٹچ کا ہے اور آزادنہ انداز میں ہر بات عوام تک پہنچانے کا ماضی کے تناظر میں کافی بہتر کارآمد راستہ ہے۔

اسی وجہ سے نواز شریف کے متعلق بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کی پیش گوئیاں اب تک غلط ثابت ہورہی ہیں۔ جب نواز شریف لندن میں تھے تب احتساب عدالت نے ان کو بیٹی مریم نواز سمیت دس سال قید کی سزا سنائی تو یہ ہی کہا گیا نواز شریف پاکستان واپس کبھی نہیں آئے گا لیکن اس نے فورً واپس آکر جیل جانے بعد مقدمات کا مقابلے کرنے کا اعلان کیا ۔ باپ بسترمرگ پر پڑی بیوی اور بیٹی اپنی ماں کو چھوڑ کر آئی اور اس اعلان کو بھرپور انداز میں نبھایا بھی۔

میاں صاحب کو دوران قید بڑا صدمہ ملا۔ ان کی اہلیہ کلثوم نواز لندن میں دنیا سے رخصت ہو گئی اور وہ زندگی کے آخری لمحات میں ان کا ساتھ نہ نبھا سکے۔ بہرحال تین ماہ جیل میں رہنے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی اور بیٹی مریم نواز کی سزا معطل کردی تو پھر سے شور مچا کہ اب میاں صاحب ڈیل کرکے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ اس مرتبہ بھی تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں اور میاں صاحب باقاعدہ تمام پیشیوں پر حاضر ہوتے رہے۔ دوبارہ احتساب کورٹ نے نواز شریف کو وزارت عظمی سے نااہل قرار دیے جانے والے مقدمے میں بے قصور قرار دے کر دوسرے مقدمے میں سات سال کی سزا سنا دی اور پھر سے واپس جیل بھیج دیے گئے جو اب تک جیل میں ہیں۔

میاں صاحب کو اسٹبلشمنٹ کی جانب سے بار بار موقع دیا گیا کہ آپ ٹکراؤ سے دور رہیں، اسی میں آپ کی بھلائی لیکن میاں صاحب تمام موقعوں پر اپنی کہی بات “ووٹ کو عزت دو” پر کھڑے رہے اور اسٹبلشمنٹ کی راہ کا کانٹا بن گئے ہیں۔ اب اس کانٹے کو ہٹانا لازم ہو گیا ہے۔ طاقتور حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کو سیاسی شہید بنانے سے بہتر ہے کہ اسے کسی دوسرے طریقے سے ہٹایا جائے۔

میاں صاحب اس وقت قید میں ہیں اور دل کے مرض کی باعث بیماری کی حالت میں ہیں۔ انہیں علاج کی بہتر سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں جو سازش کی ابتدائی کڑی ہے۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یکے بعد دیگرے دو میڈیکل بورڈز نے میاں صاحب کے کیس کو سریس قرار دیتے ہوئے ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی ہے اور خبرادار کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں میاں صاحب کی زندگی کو سخت خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ میڈیکل رپورٹ پبلک ہونے کے باوجود  وزارت داخلہ نے تیسرا میڈیکل بورڈ بنا ڈالا ہے۔ نئے بورڈ میں آرمی میڈیکل کور کے دو برگیڈیئرز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کیا مرضی کی میڈیکل رپورٹ مرتب کروا کے عوامی رہنما کے خاموش قتل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں