191

خوف اور محبت کے درمیان – رؤف کلاسرا

کیا اچھے حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام، دوستوں، وزیروں اور درباریوں کو ڈرا کر رکھے تاکہ سازش اور بغاوت کی جرأت نہ کر سکیں؟ یا پھر حکمران کو خوف پھیلانے کے لیے عوام پر ظلم و ستم اور خون خرابہ کرتے رہنا چاہیے؟ یا اچھا حکمران وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی محبت جیت کر حکمرانی کرے؟جب میں نے بھارتی مورخ Abraham Eraly کی کتاب The Age of Wrath: A history of the Delhi Sultanate پڑھی تو پتہ چلا کہ سلطنتِ دلی پر دو سو سال تک 33 بادشاہوں نے حکمرانی کی۔

ماسوائے تین بادشاہوں کے سب نے سختی اور ظلم کے ساتھ عوام کو دبا کر رکھا۔ بعض شام تک انسانی لہو نہ بہاتے تو انہیں نیند نہ آتی۔ تغلق سے علائو الدین خلجی تک زیادہ عرصہ وہی حکمران رہے جنہوں نے رعایا کا دن رات لہو بہایا۔ ان حکمرانوں کی تلواروں نے قصور وار، معصوم، مسلم،غیر مسلم کا دھیان نہیں رکھا۔ ویسے ہندوستان کی قسمت دیکھیں یہاں بادشاہوں کے غلاموں تک نے حکمرانی کر لی۔ ایسے ایسے حکمران دلی میں بیٹھے جن کے بارے پڑھ کر آنکھیں حیرت سے کھل جائیں۔ جتنا خون خرابہ ان ادوار میں ہوا اس کی مثال شاید ہندوستان کی پوری تاریخ میں بہت کم ملے۔جہاں آپ کو دلی میں بیٹھے ان ظالم حکمرانوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے وہیں آپ کو شاہی خاندانوں کے بیوی بچوں سے ہمدردی بھی ہونے لگتی ہے کہ کیسے وہ معصوم ان جنگوں اور سازشوں کا شکار ہوتے اور سب سے پہلے وہ مارے جاتے تھے یا پھر ان شہزادوں کو یرغمالوں کی سی زندگی گزارنا پڑتی تاکہ ان کا باپ بغاوت نہ کر سکے۔

اقتدار کا کھیل ہمیشہ سے گھنائونا رہا ہے، اس میں اخلاقیات کا سہارا نہیں لیا جاتا۔ جھوٹ بولنے ہوتے ہیں۔ انہیں ہر قیمت پر حکومت کرنا ہوتی ہے، چاہے اس کیلئے انہیں کتنی ہی لاشیں کیوں نہ گرانی پڑیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطنت دلی کے جو حکمران رحم دل اور انسان دوست تھے ان کی حکمرانی کا دور تین چار سال سے زیادہ نہیں تھا۔ ان کی اچھائی اور انسان دوستی ہی ان کی دشمن بن گئی تھی اور ان کے مخالفوں نے انہیں مار ڈالا۔ تو کیا جو عوام کو ڈرا اور دبا کر رکھتے ہیں وہ زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ خوف وہ ہتھیار ہے جس کو بنیاد بنا کر حکمران عام انسانوں کو اپنا غلام بنا سکتے ہیں؟میکاولی کی اس بات کو سامنے رکھا جائے تو تاریخ میں چند واقعات ایسے ہیں جن کی تشریح کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ حکمران کو کیا کرنا چاہیے؟ حاکم محبت سے حکمرانی کرے یا ظلم سے؟ شیکسپیئر نے اپنے جولیس سیزر ڈرامے میں اس خوف اور محبت کے ملاپ کو بڑی خوبصورتی سے جوڑا ہے۔ میکاولی نے ایک اور اہم بات شہزادے کو بتائی تھی کہ حکمران کو پتہ ہونا چاہیے کہ رعایا پر خوف کو ایک حد تک استعمال کرنا چاہیے۔ خوف بڑھ جائے تو رعایا بغاوت پر اتر سکتی ہے۔

جب جولیس سیزر کے خلاف سازش ہورہی ہے تو سازشیوں کا سرخیل کیسیس ایسا کردار ہے جو جولیس سیزر سے ڈرتا ہے، اگرچہ وہ سیزر سے جلتا بھی ہے۔ سیزر ایک دفعہ پانی میں ڈوب رہا تھا تو اس نے سیزر کی جان بچائی تھی، لیکن آج وہی سیزر اس کی طرف دیکھتا تک نہیں۔ سیزر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے کیسیس کو سیزر کو قتل کرنے پر قائل کر دیا ہے۔ کیسیس کے اندر جہاں حسد ہے، وہیں خوف بھی ہے کہ اگر سیزر روم کا بادشاہ بن گیا اور سینیٹ نے اسے یہ اختیار دے دیا تو وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، لہٰذا بہتر ہے سیزر کو اس وقت مارا جائے جب ابھی وہ بادشاہ نہیں بنا۔

اس لیے کیسیس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے سیزر کے دوست بروٹس پر خوف کا ہتھیار آزماتا ہے۔ وہ بروٹس کو ڈراتا ہے کہ اگر سیزر کو نہ روکا گیا تو وہ ظالم آمر بن جائے گا اور روم جمہوریت سے آمریت میں بدل جائے گا۔ یوں بروٹس کے اندر کا خوف سازشی استعمال کرتے ہیں اور وہ ان کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اپنے تئیں وہ اپنے دوست کے ساتھ دھوکا نہیں کررہا بلکہ وہ روم کو آمریت بننے سے روک رہا ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کسی انسان یا معاشرے کے اندر خوف کو ابھار کر آپ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن آپ کو علم ہونا چاہیے کہ جسے آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں اس کے اندر کون سے ایسے نفسیاتی خوف ہیں جن کے لیے وہ اپنے دوست تک کو خنجر مارنے پر تل جائے گا۔

امریکہ میں چھپنے والی کتاب Leaders: Myth and Reality میں اس کے مصنف جنرل میک کرسٹل نے بڑی خوبصورتی سے سیزر کے ان آخری لمحات پر کمنٹری کی ہے، جب بروٹس سمیت سب سازشی سیزر پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ امریکی جنرل اپنی کتاب میں اس صدیوں پرانی متھ کو توڑتا ہے کہ سیزر نے بروٹس کو خنجر مارتے دیکھ کر کہا تھا: بروٹس تم بھی؟ اس کا خیال ہے کہ یونانی مؤرخ پلوٹارک اور شیکسپیئر نے جولیس سیزر کے ان آخری لمحات پر اپنی کتاب اور کھیل میں جو کچھ لکھا ہے وہ ڈرامائی انداز تو ہوسکتا ہے لیکن سچائی شاید نہ ہو۔ اس کے خیال میں دونوں اس موقع پر موجود نہ تھے، لہٰذا نہ پلوٹارک اور نہ شیکسپیئر کو پتہ تھا کہ آخری لمحات میں جب سیزر اپنے حملہ آوروں سے جان بچانے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا، اس نے بروٹس کو دیکھ کر یہ جملہ کہا اور ہتھیار پھینک کر مرنے کیلئے تیار ہوگیا ہو گا۔ ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ سازشیوں کا سرغنہ کیسیس جہاں رومن جنرل سیزر کے بادشاہ بننے سے خوفزدہ تھا وہیں سیزر بھی کیسیس سے خوفزدہ تھا۔ یوں اگر ہم دیکھیں تو دونوں ایک دوسرے سے خوفزدہ تھے اور سوچ رہے تھے کہ ایک دوسرے کو کیسے گرایا جائے۔

سیزر اپنے جنرل مارک انٹنی سے اپنے خوف کا اظہار کرتا ہے کہ اگر یہ کیسیس تمہاری طرح موٹا ہوتا تو میں اس سے خوفزدہ نہ ہوتا۔ سیزر اپنے خوف کی وجوہات بتاتے ہوئے مارک انٹنی کو بتاتا ہے: یہی دیکھ لو یہ کیسیس بہت پڑھتا ہے۔ اس کا مشاہدہ بہت تیز ہے۔ وہ انسانوں کے اندر تک دیکھ لیتا ہے۔ اسے کھیل کود سے دلچسپی نہیں،جیسے تمہیں ہے۔ وہ تو موسیقی تک نہیں سنتا۔ قہقہہ لگانا تو دور کی بات ہے، وہ تو مسکراتا بھی کم ہے۔ مسکرائے تو لگتا ہے جیسے وہ اپنا ہی مذاق اڑا رہا ہو۔ ایسے لوگ دل کے اچھے نہیں ہوتے۔ یہ اپنے آپ کو بڑی توپ سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔

دونوں صورتوں میں سیزر مارا گیا۔ اس نے سازشی ٹولے کے سربراہ کو خود سے خوفزدہ کر دیا تو بھی وہ بغاوت پر تل گیا اور اگر اس نے بروٹس کو بہت پیار محبت دیا تو بھی اسی دوست کے ہاتھوں قتل ہوا۔ آپ حکمران کے طور پر اپنے مخالفوں کو ڈرا کر رکھیں تو بھی کیسیس خوفزدہ ہوکر آپ کے خلاف سازشیں کرتا ہے، اگر آپ دوست بنا کر رکھیں تو بھی آپ کا دوست بروٹس روم کو آمریت بننے کے خوف میں مبتلا ہوکر آپ کو خنجر مارتا ہے۔ تو پھر حکمران کیا کرے؟

ویسے خوف کاا ستعمال صرف قدیم روم یا میکاولی کے دور میں نہیں تھا، خوف کے ساتھ لالچ ایسا مہلک ہتھیار آج کی جمہوریت میں بھی کامیابی سے استعمال کیا جاتا ہے۔آپ اپوزیشن میں ہیں تو اقتدار پر بیٹھے حکمران سے عوام کو ڈرایا جاتا ہے، اچھے دنوں کا لالچ دیا جاتا ہے۔ خوفزدہ عوام کے سامنے خود کو مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ راج نیتی کے کمال دیکھیں اقتدار ملتے ہی آپ سب وہی کام کرنے لگ جاتے ہیں جن سے کبھی عوام کو ڈرا کر اقتدار تک پہنچے تھے، جبکہ ماضی کے حکمران، اپوزیشن بنتے ہی عوام کو نئے حکمرانوں سے ڈرانے لگ جاتے ہیں۔

فوجی حکمران سیاستدانوں سے تو سیاستدان آمروں سے ڈراتے رہے۔ شریفوں اور زرداریوں نے ایک دوسرے سے ڈرایا تو عمران خان صاحب نے زرداریوںاور شریفوں کی لوٹ مار سے۔ اب دونوں مل کر عمران خان سے ڈرا رہے ہیں۔ ان سب کو پتہ ہے کہ صدیوں سے انسانی معاشروں میں خوف اور لالچ بکتے آئے ہیں اور یہ سب کیسیس کی طرح خوف کو ہتھیار کے طور پربیچنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں لالچ کی بھاری بھرکم پوٹلی تو دوسرے میں خوف کا زہریلا خنجر، اور نشانہ ہیں اچھے دنوں کی امید لگائے خوفزدہ عوام۔

بشکریہ: روز نامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں