92

خوشی اور بشارت کے اسباب و ذرائع – خطبہ جمعہ مسجد نبوی-شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 19 جمادی اولی 1440 کا خطبہ جمعہ “خوشی اور بشارت کے اسباب و ذرائع” کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام انسانی جذبات کا خیال رکھتا ہے اور ہمیشہ خوش رہنے کی تلقین کرتا ہے، دوسروں کو خوش رکھنا اسلام میں عبادت کا کام ہے، بشارت  دینا انبیائے کرام کی سنت  اور ذمہ داری بھی ہے، آپ ﷺ بھی داعیان اسلام کو مختلف علاقوں میں بھیجتے ہوئے اس چیز کی خصوصی تلقین فرماتے تھے اور خود بھی اپنے صحابہ کو بشارتیں دیتے تھے۔ درج ذیل اعمال اور افراد کو اسلام میں بشارت دی گئی ہے: اطاعت و وحدانیت الہی پر استقامت، عقیدہ توحید پر موت، قرآن و سنت کی اتباع، عالم با عمل، منکسرالمزاج لوگ، مصیبت میں صبر اور اللہ پر توکل، افراط و تفریط سے بچنے والا، جبکہ  اہل ایمان کو زندگی، موت، قیامت قائم ہوتے وقت، پل صراط پر، اور جنت میں داخل ہو کر بھی بشارت دی جائے گی۔ جناب محمد ﷺ سمیت انبیائے کرام کو بھی بشارتیں دی گئیں، سیدہ عائشہ اور خدیجہ کو خصوصی طور پر بشارت سنائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خوشخبری ملنے پر سجدہ شکر کرنا مستحب عمل ہے، نیز اگر کسی شخص کے حسن تعامل پر مطالبے کے بغیر لوگ ستائشی کلمات کہتے ہیں تو یہ بھی بشارت میں شامل ہے، آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! کما حقہ تقوی اختیار کرو، تقوی سے رحمتیں زیادہ حاصل ہوتی ہیں اور مصیبتیں ٹلتی ہیں۔

مسلمانو!

دین اسلام دین فطرت ہے، اسلام بہترین عقیدے، خوبصورت اخلاق اور اعلی ترین صفات اپنانے کی دعوت دیتا ہے، اسلام انسان کے جذبات کا خیال رکھتا ہے، اپنے حال سے خوش رہنے اور مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ کی ترغیب دیتا ہے۔

لوگوں کو مسرور کرنے والی باتیں بتلانا اللہ کی عبادت اور قربت کا ذریعہ ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ} اور مومنوں کو خوشخبری دیں۔[البقرة: 223] بلکہ اللہ تعالی نے اپنے آپ کو بھی اس سے متصف قرار دیا اور فرمایا: {ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے مومن اور نیک عمل کرنے والے بندوں کو دیتا ہے۔ [الشورى: 23]

اور چونکہ بشارت کی دل میں بڑی منزلت ہے اس لیے فرشتے اسے لے کر آئے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى} بلاشبہ ہمارے پیغام رساں ابراہیم تک خوشخبری لے کر پہنچے۔ [هود: 69]

رسولوں کی بعثت کا مقصد اللہ کے مومن بندوں کو بشارت دینا بھی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ} اور ہم رسولوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہی بنا کر بھیجتے ہیں۔[الأنعام: 48]

چنانچہ عیسی علیہ السلام بھی بشارت لیکر آئے ، اور فرمایا: {وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ} اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے۔[الصف: 6]

اللہ تعالی نے ہمارے نبی جناب محمد ﷺ کو اپنی امت کے لئے فضائل اور جنتوں کی بشارت دینے والا بنا کر بھیجا، اللہ کا فرمان ہے: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} اور ہم نے آپ کو بشیر اور نذیر ہی بنا کر بھیجا ہے۔[الإسراء: 105]

آپ ﷺ کثرت کے ساتھ صحابہ کرام کو بشارتیں دیتے تھے، چنانچہ جس وقت بحرین سے مال غنیمت آیا تو آپ نے صحابہ کرام کو فرمایا: (خوش ہو جاؤ اور مزید بشارتیں ملنے کی امید رکھو) متفق علیہ

آپ ﷺ کا طریقہ کار تھا کہ داعیان حق کو مختلف علاقوں میں بھیجتے تا کہ لوگوں کو اسلام کی نعمت ملنے پر بشارتیں دیں، چنانچہ : (آپ ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن ارسال کرتے ہوئے فرمایا: تم دونوں آسانی پیدا کرنا، مشقت میں نہ ڈالنا، بشارت دینا ، لوگوں کو متنفر مت کرنا۔) متفق علیہ

اللہ تعالی نے مومنین کی صفات میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو خوشخبریاں سناتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ} اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا ؛ چنانچہ جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔[التوبة: 124] یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی ملنے والی نعمتوں پر ایک دوسرے کو بشارت دے رہے ہوتے ہیں۔

دین اسلام میں مسلمانوں کے لئے متعدد بشارتیں ہیں، چنانچہ سب سے بڑی بشارت اس شخص کے لئے ہے جو رب العالمین کی وحدانیت میں پختہ جائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى} اور جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ تعالی کی طرف متوجہ رہے ان کے لئے بشارت ہے[الزمر: 17]

اور جب انسان اللہ تعالی کی اطاعت اور وحدانیت پر ڈٹ جائے تو اس کے لئے اللہ کے ہاں بشارت ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ} یقیناً جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو ؛ بلکہ اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔[فصلت: 30]

اللہ تعالی سے ملنے تک شرک نہ کرنے والے کی بشارت بھی جنت ہے، جیسے کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کو بتلایا تھا کہ: (اپنی امت کو بشارت دے دیں کہ جو بھی اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گا) متفق علیہ

قرآن و سنت کی اتباع کرنے والے کو اللہ تعالی نے مغفرت اور اجر عظیم کی بشارت دی ہوئی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ} بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور رحمان سے بن دیکھے ڈرے، تو آپ اسے مغفرت اور با وقار اجر کی خوشخبریاں سنا دیں۔ [يس: 11]

ہدایت کا سر چشمہ یہ ہے کہ علم کے ساتھ عمل بھی ہو، نیز علم و عمل پانے والا بھی بشارت یافتہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَبَشِّرْ عِبَادِ (17) الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ} میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے [17] وہ جو کان لگا کر بات سنتے ہیں، پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔ [الزمر: 17، 18]

اپنے رب کے سامنے جھکنے والے، اللہ کے احکامات کے مطیع اور خلقت الہی کے سامنے منکسر مزاج رہنے والے مسلمان بھی بشارت پائیں گے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ} اور منکسرالمزاج رہنے والوں کو خوش خبری سنا دے۔ [الحج: 34]

مصیبت کے وقت اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر کے اللہ کے فیصلوں پر صبر کرنے والے کے لئے بھی رب العالمین کی جانب سے بشارت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ} اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیں [155] جنہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ: ہم تو خود اللہ تعالی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں [156] انہی پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ [البقرة: 155 – 157]

اللہ تعالی اور خلقت الہی کے ساتھ احسان کرنے والے کا دنیا و آخرت میں انجام بہت اعلی ہو گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ} اور احسان کرنے والوں کو بشارت دے دیں۔[الحج: 37]

اہل ایمان کو خوشحال زندگی اور عظیم اجر کی بشارت دی جا چکی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا} اور مومنوں کو بشارت دے دیں کہ ان کے لئے اللہ کی جانب سے بہت بڑا فضل ہے۔[الأحزاب: 47]

یہ اللہ کا فضل ہے کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان سے وعدہ کردہ جنت اور وہاں دیگر تمام تمناؤں کی تکمیل کی بشارت دے دی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ(22) ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ } اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے وہ جنت کے باغوں میں ہوں گے۔ اپنے پروردگار کے ہاں جو چاہیں گے، انہیں ملے گا۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔[22] اللہ تعالی اسی فضل کی مومن اور عمل صالح کرنے والے اپنے بندوں کو بشارت دیتا ہے۔ [الشورى: 22-23]

اہل ایمان کے لئے بشارتیں زندگی میں اور وفات کے بعد بھی جاری رہیں گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (63) لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ } یاد رکھو کے اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں [62] یہ وہ لوگ ہیں جو صاحب ایمان اور متقی ہیں [63] انہی کے لئے دنیا کی زندگی اور آخرت میں بشارتیں ہیں ۔[يونس: 62 – 64]

جس وقت مومن کو موت آنے لگتی ہے تو اسے بلند ترین درجات کی بشارت دے دی جاتی ہے، جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جب مومن کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کے راضی ہونے اور اللہ کے ہاں تکریم کی بشارت دی جاتی ہے۔ چنانچہ جو آگے آنے والے مراحل ہیں وہ اس کے ہاں محبوب ترین ہو جاتے ہیں، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کو پسند بھی کرتا ہے) بخاری

پھر فرشتے بھی اسے کہتے ہیں: (اے پاکیزہ رو ح [اس جسم سے] نکل آ۔ اور پھر رحمت ،خو شبو اور پروردگار کے تجھ سے ناراض نہ ہونے کی بشارت قبول کر۔ فرشتے اسے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں ، اس کے لئے دروازہ کھو ل دیا جا تا ہے ۔ کہا جاتا ہے : کون ہے ؟ وہ کہتے ہیں: فلاں شخص ہے ، تب کہا جا تا ہے : پاک جسم کی پاکیزہ روح کو خوش آمدید، قابل ستائش انداز میں داخل ہو، نیز رحمت ،خو شبو اور پروردگار کے تجھ سے ناراض نہ ہونے کی بشارت قبول کر۔ اسے مسلسل اسی طرح کہا جا تا ہے حتی کہ فرشتے اسے لے کر اس آسمان تک پہنچتے ہیں جس پر اللہ عزوجل کی ذات اقدس ہے) احمد

جس وقت قیامت قائم ہو گی تب مومنوں کے چہروں پر بشارت بالکل عیاں ہو گی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ (38) ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ}اس دن بہت سے چہرے چمکدار ، مسکراتے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے۔[عبس: 38، 39]

جس وقت لوگ جہنم کے عین اوپر پل صراط پر ہوں گے تو اہل ایمان کے لئے اس سخت ترین موقعے پر بھی بشارت ہے : فرمانِ باری تعالی ہے: {يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} اس دن آپ دیکھیں گے کہ مومن مردوں اور عورتوں کا نور ان کے سامنے اور دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (اور انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں ایسے باغوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ تم اس میں ہمیشہ رہو گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ [الحديد: 12]

اور جب اہل ایمان جنت میں داخل ہو جائیں گے انہیں پروردگار کی جانب سے وافر اجر کی بشارت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ} اور ایمان لانے والوں کو یہ خوشخبری دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کے لئے حقیقی عزت اور مرتبہ ہے۔ [يونس: 2]

مسلمان اپنے بھائیوں کے لئے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، نیز مسلمان اپنے بھائیوں کو خوش رکھنے کی کوشش میں بھی لگا رہتا ہے۔ خوشخبری سنا کر دلوں کو جیتنا بڑا آسان عمل ہے؛ اس لیے جب آپ کے بھائی کی کوئی دینی یا دنیاوی خوشخبری آپ کے پاس پہنچے تو انہیں فوری بتلائیں، چنانچہ فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کو اسماعیل علیہ السلام کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی ، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ} ہم نے اسے بردبار بچے کی خوشخبری دی۔[الصافات: 101] اسی طرح فرشتوں نے اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری بھی دی اور یہ بھی بتلا دیا کہ وہ نبی ہوں گے، اللہ کا فرمان ہے: {وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ} اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالحین میں سے ہو گا۔[الصافات: 112]

ایسے ہی زکریا علیہ السلام کو بھی بشارت دی گئی کہ انہیں ناامیدی کے بعد بھی نرینہ اولاد ملے گی: {إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا}اے زکریا! بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں، جس کا نام یحییٰ ہے، اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔ [مريم: 7]

رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک فرشتہ آیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا آ کر اس نے کہا: (آپ کو دئیے گئے دو انوار کی بشارت لیجیے؛ وہ آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے، وہ ہیں: سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات، آپ ان کا جو بھی حرف پڑھیں گے وہ آپ کو ضرور ملے گا) مسلم

آپ ﷺ کی سیرت میں یہ بھی شامل تھا کہ مصیبت زدہ کو مشکل کشائی ہونے پر خوشخبری دیتے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا: (عائشہ! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالی نے تو تمہیں بری قرار دے دیا ہے) متفق علیہ

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی ڈھارس باندھی تھی اور آپ کا مکمل تعاون کیا تھا اس لیے آپ کو جنت میں محل کی خوشخبری دی گئی، چنانچہ ایک بار جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: (اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آ رہی ہیں ، ان کے ساتھ برتن میں سالن، کھانا یا پینے کی چیز ہے، جب وہ آپ تک پہنچ جائیں تو انہیں اللہ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام پیش کریں، نیز انہیں جنت میں موتی کے خول سے بنے محل کی بشارت بھی دیں ، وہاں کوئی شور و غل نہیں ہو گا نہ ہی تھکاوٹ ہو گی) متفق علیہ

مصیبت زدہ شخص کی اشک شوئی، اس کی پریشانی کا مداوا، اور اسے خیر کی بشارت دیتے ہوئے مکمل تسلی دینا بھی بہت بڑی نیکی ہے، چنانچہ جس وقت رسول اللہ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ خدیجہ کے پاس آئے اور انہیں اپنی کیفیت بتلاتے ہوئے کہا: (مجھے اپنی جان کا خدشہ ہے، تو خدیجہ نے انہیں کہا: ہر گز نہیں! بلکہ آپ خوش رہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالی آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا) متفق علیہ

افراط و تفریط سے بچتے ہوئے حق بات پر ڈٹ جانے والے کے لئے ڈھیروں اجر و ثواب کی بشارت ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (افراط و تفریط سے بچو اور خوشخبری لے لو) متفق علیہ

جس دن بندے کی اللہ تعالی توبہ قبول فرما لے تو وہ اس کی زندگی کا سب سے بہترین دن بن جاتا ہے؛ کیونکہ توبہ کرنے سے انسان کی دنیا اور آخرت سنورتی ہے، جیسے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھی بغیر عذر کے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے پھر جب اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرمائی، تو آپ ﷺ نے کعب کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا: (تم خوش ہو جاؤ، تمہارے پیدا ہونے سے لیکر آج تک تمہارے لیے اس سے بہتر دن نہیں گزرا۔) متفق علیہ

قریب المرگ کے لئے دنیا گھٹن کا باعث بنتی ہے اس لیے وہ اچھے بول سے راحت پاتا ہے؛ کیونکہ وہ دوسرے جہان میں منتقل ہونے والا ہے اور اسے نہیں معلوم کہ وہاں اس کا کیا بنے گا، جیسے کہ “عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو وہ دیر تک روتے رہے، اس پر ان کے بیٹے نے کہا: ابا جان! کیا آپ کو رسول اللہ ﷺ نے فلاں فلاں بشارت نہیں دی تھی!” مسلم

مسلمانوں کو دی جانے والی سب سے بڑی خوشخبری غلبۂ اسلام کی خوشخبری ہے، پوری کائنات میں اسلام کا پھیلاؤ ان کے لئے بشارت ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اس امت کو بلندی، رفعت، غلبہ اسلام، نصرت اور دھرتی کا نظام ملنے کی خوشخبری دے دیں۔) احمد

خوشخبری ملنے پر سجدۂ شکر بجا لانا مستحب عمل ہے، نیز خوشخبری دینے والے کو تحفہ بھی دے، جیسے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اور اپنے دو ساتھیوں کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ” میں بیٹھا ہوا تھا اور میری حالت بعینہ وہی تھی جس کا ذکر اللہ تعالی نے کیا ہے کہ میں اپنے آپ سے تنگ تھا اور زمین اپنی فراخی کے باوجود میرے لیے تنگ ہو چکی تھی کہ اچانک میں نے کسی چلانے والے کی آواز سنی جو جبل سلع پر چڑھ کر پکار رہا تھا: “اے کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ” میں یہ سنتے ہی سجدے میں گر گیا اور سمجھ گیا کہ آزمائش کا وقت ختم ہو گیا ۔ کچھ لوگ خوشخبری دینے کے لیے میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی گئے اور ایک شخص گھوڑا دوڑا کر میری طرف نکلا، اور قبیلہ اسلم کا ایک آدمی دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے تیز نکلی، لہذا یہ شخص جس کی آواز میں، میں نے خوشخبری سنی تھی میرے پاس پہنچا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے انعام میں پہنا دیے۔ اللہ کی قسم! میرے پاس اس وقت اس کے علاوہ کچھ نہ تھا، لہذا میں نے دو کپڑے ادھار لے کر پہنے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جانے کے لیے چل پڑا۔ لوگ گروہ در گروہ مجھ سے ملتے اور توبہ قبول ہونے کی مبارک دیتے ہوئے کہتے: مبارک ہو اللہ تعالی نے تمہاری توبہ قبول فر ما لی۔ ” متفق علیہ

ان تمام تر تفصیلات کے بعد، مسلمانو!

دین اسلام سے بڑھ کر خوبصورت دین کوئی نہیں ، دین اسلام خوشیوں اور خوبیوں کا دین ہے، اسلام معاشرے میں خوشیاں بانٹنے کی ترغیب دیتا ہے، تو اسلام کی ان خوبیوں پر سب سے پہلا حق خود مسلمانوں کا ہے۔ دعوت دین کے لئے لوگوں کو بشارتیں دینا اور ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا کرنا بنیادی ترین امر ہے۔

  أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (45) وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا (46) وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا} اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی اور بشارت دینے والا نیز ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ [45] اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ (بنا کر بھیجا ہے) [46]آپ مومنوں کو خوشخبری دے دیجئے کہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ [الأحزاب: 45 – 47]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

اسلام میں سب سے بڑی بشارت قرآن کریم ہے، اس لیے قرآن کریم سراپا ہدایت اور بشارت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ} اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور یہ مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے [النحل: 89]

حسن کارکردگی کے حامل مومن کی نہ چاہتے ہوئے شہرت؛ مومن کو جلد ملنے والی بشارت ہے، جیسے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ” آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اچھے کام کرتا ہے تو اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ “آپ نے فرمایا: (یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے۔) مسلم

اچھا خواب جو انسان کو خوش تو کرے لیکن دھوکے میں نہ ڈالے تو یہ بھی بشارت میں شامل ہے، اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں) صحابہ کرام نے پوچھا:”مبشرات سے کیا مراد ہے؟ ” آپ نے فرمایا: (اچھے خواب) بخاری

ہواؤں کو اللہ تعالی بارش کی خوشخبری اور بشارت دینے کے لئے ارسال فرماتا ہے، تا کہ بارش آنے سے پہلے اور بعد میں لوگ خوش ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:{وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ} اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو اللہ کی رحمت سے قبل خوشخبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے ۔[الروم: 46]

اچھے بول بھی بشارت اور خوشی کا باعث بنتے ہیں، یہ نیک شگونی میں شامل ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیماری خود متعدی نہیں ہوتی، نہ ہی پرندوں میں کوئی نحوست ہے، مجھے نیک شگونی اچھی لگتی ہے) صحابہ نے کہا: “نیک شگونی کیا چیز ہے؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میٹھے بول) متفق علیہ

اس لیے خوشخبری اور بشارت دینا رسولوں کا طریقہ کا ہے، چنانچہ لوگوں کے لئے بھی اچھی چیزوں کی خوشخبری دینا مستحب ہے۔

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد،یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے آپ ﷺ کے خلفائے راشدین: ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمارے حکمران اور ان کے ولی عہد کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان دونوں کے سارے اعمال تیری رضا کیلیے مختص فرما، ان دونوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو بلندیاں عطا فرما۔ یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب و سنت کی بالا دستی اور شریعت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، تو غنی ہے، ہم ناتواں ہیں، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس مت فرما۔ یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں اگر توں ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں