127

مسلمان کی بنیادی اخلاقی قدر: احسان – خطبہ جمعہ مسجد نبوی-شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 12 جمادی اولی 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان “مسلمان کی بنیادی اخلاقی قدر: احسان” ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام کی خوبی ہے کہ اسلام میں احسان کو بنیادی اخلاقی قدر قرار دیا گیا ہے، اور ہر چیز کے ساتھ احسان برتنے کی تلقین اور تاکید کی گئی ہے، چنانچہ احادیث میں پڑوسی، مہمان اور ہمہ قسم کے حیوانات سے بھی احسان کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر محسنین کے لئے قرآن مجید میں خصوصی اجر و ثواب ہے کہ محسنین کو اللہ تعالی کی معیت، نصرت اور محبت حاصل ہوتی ہے۔ خلقت پر احسان کرنے سے نعمتیں ملتی ہیں اور زحمتیں ٹلتی ہیں۔ دولت مند افراد پر احسان کرنا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ احسان کے حقدار افراد میں والدین کا سب سے پہلا مقام ہے۔ نیز احسان یہ ہے کہ آپ کسی کا کوئی بھی بھلا کر دیں یہ احسان میں شمار ہوتا ہے۔ آخر میں انہوں نے سب کے لئے جامع دعا کروائی۔

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ فضل و احسان فرمانے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بادشاہ اور بدلہ دینے والا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ قرآنی اخلاق کا مرقع ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام متقی و مومن صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمہیں ہم سب کے پروردگار کی وصیت پر چلنے کی تاکیدی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (130) وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (131) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} اور تقوی الہی اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ [130] نیز اس آگ سے بھی بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے [131] اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔[آل عمران: 130 – 132]

اسلامی بھائیو!

دین اسلام کے قطعی اصولوں میں موجود عظیم خوبیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ لوگوں کو تمام تر صورتوں اور شکلوں میں احسان کرنے کی ترغیب دی جائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى} بے شک اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔[النحل: 90] ایسے ہی ایک اور مقام پر فرمایا: {وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا} اور لوگوں کو اچھی بات کہو۔[البقرة: 83]

رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ: (اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھنے والے کو چاہیے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرے۔ اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔) متفق علیہ

بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اس عظیم اخلاقی قدر کی تاکیدی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: (اللہ تعالی نے احسان ہر چیز پر لازمی قرار دے دیا ہے) مسلم، اس حدیث کے تحت شارحین کا کہنا ہے کہ: (مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کے ساتھ احسان کرنا ضروری ہے، تو احسان کا دائرہ عام اور ہر چیز کو شامل ہے)

مسلم اقوام!

حصول ِ رحمت کی کنجی یہ ہے کہ خالق کائنات کی بندگی میں عمدگی ہو اور خلقت کی بھلائی کا جذبہ ہو، اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ} بیشک اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہے۔[الأعراف: 56]

مسلمان کی کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں عملی اور زبانی ہر طرح سے احسان کرتا رہے، اس کی بدولت وہ عظیم فوائد ، اور اچھا پھل پاتا ہے؛ چنانچہ محسن شخص کو اللہ تعالی کی خصوصی معیت حاصل ہوتی ہے، اور اس معیت کا تقاضا ہے کہ محسن شخص کو اللہ تعالی کی جانب سے تحفظ اور حمایت حاصل ہو، اللہ تعالی کی توفیق اور رہنمائی ملے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ} بیشک اللہ تعالی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی ہیں اور جو محسنین ہیں۔ [النحل: 128] اور اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ} اور بیشک اللہ تعالی یقیناً محسنین کے ساتھ ہے۔[العنكبوت: 69] بلکہ محسن شخص کو سب سے بڑا ہدف بھی حاصل ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی کی محبت حاصل کر لیتا ہے، تو محبت الہی کی بدولت بندہ سعادت مند بن کر دنیا اور آخرت میں بد بختی سے بچ جاتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} اور تم احسان کیا کرو؛ بیشک اللہ تعالی محسنین سے محبت فرماتا ہے۔[البقرة: 195]

اسلامی بھائیو!

احسان کرنے سے دلوں میں مسرت اور سینوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے، نعمتیں ملتی ہیں اور زحمتیں ٹلتی ہیں۔ جس کسی معاشرے میں احسان عام ہو تو اس کی جڑیں بہت مضبوط ہو جاتی ہیں اور سماجی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے، ایسا معاشرہ تہذیب اور ترقی یافتہ بن جاتا ہے، وہ معاشرہ قلبی میل کچیل اور کدورتوں سے پاک ہو جاتا ہے، ایسا معاشرہ فتنوں کی آگ سے محفوظ نیز لڑائی جھگڑوں کے اسباب سے دور بھی ہو جاتا ہے؛ اسی لیے اللہ تعالی کی طرف سے لوگوں کو تعلیمات دی گئیں کہ وہ اپنی زندگی بھر کے لین دین اور تعاملات میں احسان پیدا کریں، فرمانِ باری تعالی ہے: {اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ} آپ برائی کو احسن ترین طریقے سے ٹال دیں، تو [آپ دیکھیں گے کہ] آپ اور جس آدمی کے درمیان عداوت ہے، وہ بھی آپ کا گہرا دوست بن جائے گا۔ [فصلت: 34]

ایک اور مقام پر فرمایا: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ} اور میرے بندوں سے کہہ دیں: وہی بات کہیں جو احسن ترین ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ [الإسراء: 53]

مسلم اقوام!

جود و سخا کے ذریعے احسان ایسے لوگوں کے لئے مزید ضروری ہے جو منصب اور اختیارات کے مالک ہیں، جن کے پاس دولت اور ثروت موجود ہے۔ اس لیے جسے اللہ تعالی نے نوازا ہے اسے چاہیے کہ وہ مہربانی اور نوازش کرتا رہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ} اور اسی طرح احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔ [القصص: 77] ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: “حصولِ نعمت اور رفع مصیبت کے لئے اطاعت الہی اور خلقت کی بھلائی جیسا کوئی عمل نہیں”

اسلامی بھائیو!

شریعت میں جس احسان کی ترغیب دلائی گئی ہے وہ ہر قسم کی بھلائی کرنے کو شامل ہے چاہے اس کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہو، اور انسان یا حیوان کسی بھی مخلوق سے اس کا تعلق ہو؛ تاہم احسان کا اجر اور فضیلت احسان مندوں کے مقام اور مرتبے سے منسلک ہے، لہذا اعلی ترین احسان والدین سے متعلقہ ہے، پھر رشتہ داروں اور اس کے بعد دیگر خلقت سے کیا جانے والا احسان ہے۔

احسان اپنے اندر انتہائی اعلی مفہوم رکھتا ہے، اے مسلمان! اس اعلی مفہوم کا تقاضا ہے کہ تم دوسروں سے بہترین کردار اور گفتار کے ساتھ تعامل کرو۔

یہ احسان کا ہی حصہ ہے کہ آپ کسی کے ساتھ نیکی کر دیں، یا کسی کی مالی معاونت کر دیں، یا کسی کا بھلا کر دیں، یا اچھے بول بول دیں، خندہ پیشانی سے ملیں، کشادہ دلی سے ملاقات کریں ، ہشاش بشاش چہرے سے ملیں اور سلام عام کریں۔

رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا اسلام کا کون سا عمل بہترین ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (آپ کھانا کھلائیں، نیز اجنبی یا جان پہچان والے سب افراد کو سلام کریں۔) متفق علیہ

آپ ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے)

احسان: نہ تھمنے والی عنایت، مہمان کی ضیافت، سچی اشک شوئی، اور حاجت روائی کا نام ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا} وہ خود کھانے کی چاہت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔[الإنسان: 8] ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} اور اپنے آپ پر [دوسروں کو] ترجیح دیتے ہیں، خواہ انہیں سخت حاجت ہو [الحشر: 9]

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (بیوگان اور مساکین کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا شخص مجاہد فی سبیل اللہ یا رات کو قیام اور دن میں روزہ رکھنے والے جیسا ہے۔) بخاری

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (میں نے ایک شخص کو راستے میں آنے والا درخت کاٹنے کی وجہ سے جنت میں موجیں مارتے ہوئے دیکھا، یہ درخت لوگوں کے لئے اذیت کا باعث بنتا تھا) مسلم

اللہ کے بندو!

احسان یہ ہے کہ: آپ مسلمانوں کو خوش کریں، کسی کا بھلا کریں، غریب کو نوازیں، مظلوم کی مدد کریں، مصیبت زدہ کو بچائیں، آفت زدہ کی اعانت کریں، بیمار کی تیمار داری کریں، بھوکے افراد کو کھلائیں، اسی طرح ہر ایسا کام احسان ہے جو لوگوں کو مسرت، فرحت، خوشی اور تازگی سے معمور کر دے۔

صحیح الجامع میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: (اللہ کے ہاں محبوب ترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کے لئے مفید ترین ہیں۔ اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل یہ ہے کہ آپ کسی مسلمان کو خوش کر دیں، یا اس کی کوئی تکلیف دور کر دیں، یا اس کا قرضہ چکا دیں، یا اس کی بھوک مٹا دیں۔ میں اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کے لئے چلوں یہ مجھے مدینے کی اس مسجد میں ایک ماہ اعتکاف کرنے سے بھی زیادہ محبوب ہے۔) الحدیث

امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (مومن کی دنیاوی مشکلات میں سے کوئی ایک مشکل دور کرنے والے سے اللہ تعالی قیامت کی مشکلات میں سے ایک مشکل دور کر دے گا۔ کسی تنگ دست پر آسانی کرنے والے پر اللہ تعالی دنیا و آخرت میں آسانی فرما دیتا ہے۔ مسلمان کی پردہ پوشی کرنے والے کی اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں بھی پردہ پوشی فرماتا ہے، اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی معاونت فرماتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔)

اس لیے آپ بھی لوگوں کے ساتھ احسان کریں، اللہ تعالی تمہارے ساتھ احسان کرے گا اور تمہیں اجر بڑھا چڑھا کر دے گا۔ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ}حسن کارکردگی دکھانے والوں کے لئے اچھا اور اضافی بدلہ ہے۔[يونس: 26]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے کتاب و سنت کو بابرکت بنائے، ہمیں ان دونوں کی رہنمائی سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ کی جانب سے توفیق اور بھلائی ملنے پر اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں، تمام نعمتوں پر اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ نے ہمیشہ حصولِ رضائے الہی کی دعوت دی۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل ، صحابہ کرام اور آپ کے بھائیوں پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اسلام میں احسان کا تصور محض انسانوں تک ہی محصور نہیں ہے، بلکہ ہر حیوان بھی احسان کے سائے تلے ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ایک شخص جا رہا تھا کہ اس کو سخت پیاس لگی تو وہ ایک کنویں میں اترا اور وہاں سے اس نے پانی پی لیا۔ جب وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے ہانپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ اسے بھی شدتِ پیاس سے اتنی ہی اذیت ہے جتنی مجھے تھی۔ وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھر کر اسے منہ میں لے کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلا دیا۔ اللہ تعالی نے اس کی قدرکرتے ہوئے اس کو معاف کر دیا۔) صحابہ نے [تعجب سے] پوچھا: “اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہمیں جانوروں کی خدمت کرنے میں بھی اجر ملے گا؟” آپ نے فرمایا: (ہر زندہ جگر رکھنے والے جاندار کی خدمت میں اجر ہے۔) بخاری ، مسلم

یہ بات ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالی نے ہمیں جلیل القدر عمل کا حکم دیا ہے کہ ہم کثرت کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھیں، یا اللہ! ہمارے نبی اور رسول محمد ﷺ پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما ۔ یا اللہ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین اور قیامت تک اچھے طریقے سے ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

یا اللہ! مسلمان اور مومن مرد و خواتین کو بخش دے، یا اللہ! زندہ اور فوت شدگان سب کی مغفرت فرما دے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں پر ایسی رحمت نازل فرما کہ ان کے حالات ہی بدل جائیں ، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ان کی پریشانیاں وا فرما، یا اللہ! ان کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! بیمار مسلمانوں کو شفا یاب فرما، تنگ دستوں کو غنی فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! مسلمانوں کو حق بات اور تقوی پر متحد فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کو نیکی اور تقوی پر متحد فرما دے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہم تجھ سے تیری نعمتوں کے زوال، عافیت کی تبدیلی، تیری اچانک پکڑ، اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم سخت آزمائشوں، بد بختی کے پیچھے لگنے ، برے تقدیری فیصلوں اور دشمنوں کی پھبتی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں تقوی عطا فرما اور ہمارے نفسوں کا تزکیہ فرما، تو ہی ان کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا ولی اور مولا ہے۔

یا اللہ! ہمارے حکمران اور ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمارے ملک کی اور تمام اسلامی ممالک کی ہمہ قسم کے فتنوں اور آزمائشوں سے حفاظت فرما، یا اللہ! ہماری اور مسلمانوں کی ہمہ قسم کے ظاہری اور باطنی فتنوں اور آزمائشوں سے حفاظت فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! تو غنی اور کریم ہے، یا اللہ! تو غنی اور کریم ہے، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس مت فرما۔ یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام! یا اللہ! ہماری دھرتی کو مفید بارشیں عطا فرما، اور یا اللہ! ہمارے دلوں پر ایمان کی برکھا برسا، یا رحمن! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! ہمارے نبی جناب محمد ﷺ پر دردو و سلام نازل فرما، نیز آپ کی آل اور صحابہ کرام پر بھی درود و سلام نازل فرما۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں