176

فرض کریں…. سہیل وڑائچ

فرض کریں کہ زرداری اور نواز شریف کے بارے میں جو چاہا جا رہا ہے وہ ہو جاتا ہے اور آصف علی زرداری عمربھر کے لئے نااہل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح سندھ سے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ مہروں، حروں اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ متحدہ کو ملا کر ایک نئی سندھ حکومت بن جاتی ہے۔ فرض کریں یہ مخلوط حکومت جام صادق، ارباب رحیم اور ممتاز بھٹو کے دور سے بھی کامیاب ٹھہرتی ہے تو حتمی نتیجہ کیا نکلے گا؟

پیپلز پارٹی کے ختم ہونے سے سندھ میں کوئی اور قومی سیاسی جماعت قدم نہیں پائے گی بلکہ پیپلز پارٹی کی جگہ علیحدگی پسند و شدت پسند غالب آ جائیں گے۔ اب اگر زرداری اور پیپلز پارٹی کو نکال کر علیحدگی پسندوں کو لانا مقصود ہے تو ضرور ایسا کریں مگر اس کا فائدہ ملک اور قوم کو نہیں بلکہ ملک دشمنوں کو ہو گا۔ پیپلز پارٹی کا اندرون سندھ میں خلاسیاست سے نہیں مصنوعی ٹانکوں سے پُر ہو گا جو سراسر غلط ہو گا۔

فرض کریں کہ نواز شریف اور شہباز شریف اسی طرح جیل میں سڑتے رہتے ہیں، مسلم لیگ ن کو بلدیاتی انتخابات یا دوسرے حربوں سے ناک آئوٹ کر دیا جاتا ہے تو کیا سنٹرل پنجاب کے اکثریتی ووٹر تحریک انصاف کے حامی بن جائیں گے؟ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ تاریخ اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ نون لیگ ٹوٹ جائے یا ختم ہو جائے تب بھی اس کے ووٹر پی ٹی آئی کے حامی نہیں بنیں گے۔ وہ غصے میں آ کر خادم رضوی اور حافظ سعید کو تو ووٹ دے دیں گے لیکن نواز شریف کے مخالف عمران خان کو اپنا لیڈر نہیں مانیں گے۔ کبوتر، بازوں کے دوست نہیں بنتے کبوتروں سے ہی دوستی کرتے ہیں۔ اپنے جیسی سیاسی سوچ اور فکر رکھنے والے ایک دوسرے کے دوست ضرور بن سکتے ہیں۔ مخالف سیاسی کیمپ میں جانا ضمیر فروشی گردانا جاتا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ایم کیو ایم اور سپاہ صحابہ بنی۔ دونوں میں غصے اور ردِعمل کا عنصر نمایاں تھا۔ بظاہر مقصد پیپلز پارٹی کو توڑنا تھا تاکہ اردو اسپیکنگ ووٹر اور سندھی ووٹر آمنے سامنے ہوں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے شیعہ ووٹر اور سپاہ صحابہ کے دیوبندی ووٹر کا ٹکرائو ہو۔ یہ جس نے بھی سوچا تھا اس نے ملک کا کیا بھلا کیا؟ قومی سیاسی جماعت تو توڑ ڈالی مگر فرقہ واریت کو جنم دے ڈالا۔

فرض کریں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو ختم کرنا ملک بچانے کے لئے ضروری تھا، یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ بھٹو کو پھانسی دینا ہی ملکی مسائل کا واحد حل تھا، اگر ایسا تھا تو پھر یہ کرنے کے بعد سندھ سے محمد خان جونیجو، مصطفیٰ جتوئی اور دو بار بے نظیر کو وزیر اعظم بنا کر کیا اس پھانسی کا مداوا کرنا مقصود تھا؟ اگر پھانسی ٹھیک تھی تو یہ 4 سندھی وزیر اعظم کیوں بنائے گئے۔ اس سے تو کہیں بہتر تھا کہ بھٹو کو ایک ٹرم اور مل جاتی۔ ہمارے کرم فرما چار سال انتظار کر لیتے تو بہتر ہوتا۔

حد تو یہ ہے کہ اس پر بس نہیں جس پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لئے پاپڑ بیلے گئے ،سب سے زیادہ باریاں بھی اسی کو ملیں۔ یہ کیا حکمت ِ عملی ہے کہ پہلے اسے مارا پھر اسے راضی کرتے کرتے دہائیاں گزر گئیں۔ عقل پر ماتم نہیں تو اور کیا ہے کہ بھٹو کو 5سالہ اقتدار دے دیا جاتا تو معاملہ ختم ہو جاتا مگر اسے قتل کر کے 13سال خون کے دھبے مٹانے کے لئے اقتدار دینا پڑا۔ یہ 13سالہ خراج کافی مہنگا ہے۔

یہ سب کچھ دیکھنے اور سبق سیکھنے کے باوجود ہمارے کرم فرما بھی وہی کر رہے ہیں ۔ نواز، شہباز کو مصنوعی طور پر ختم کیا گیا تو پنجاب میں انتہا پسندانہ سیاست ابھرے گی۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش ہوئی تو الذوالفقار بنی، سندھ میں ڈاکوئوں کا راج رہا۔ پنجاب میں بھی ماضی میں انتہا پسندانہ تحریکیں جنم لیتی رہی ہیں۔ احرار، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور خاکسار تحریک سبھی پُرامن جدوجہد سے شروع ہو کر انتہا پسندی کی طرف گئیں۔

حالیہ دنوں میں تحریک لبیک بھی تب سامنے آئی جب مصنوعی طور پر ن لیگ کا تختہ الٹانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ سیاست کا مقابلہ صرف سیاست سے ہوتا ہے دبائو سے آپ وقتی فائدہ لے سکتے ہیں۔ کسی کو اقتدار دلا سکتے ہیں لیکن عوام کے دل نہیں جیت سکتے۔ پیپلز پارٹی کا پنجاب سے صفایا سیاست کی وجہ سے ہوا وگرنہ دبائو کی دو تین دہائیوں میں تو پنجاب سے پیپلز پارٹی ختم نہ ہو سکی۔

فرض کریں کہ اگلے الیکشن میں نواز شریف اور شہباز شریف نہ ہوں، حمزہ کو بھی آئوٹ کر دیا جائے تو ن لیگ کی جگہ کون لے گا؟ آخر پورا ملک صرف پی ٹی آئی کا حامی تو نہیں بن سکے گا ایک اختلافی کیمپ تو رہے گا۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کوئی قومی سیاسی جماعت کمزور ہوتی ہے تو اس کی جگہ انتہاپسند اور علیحدگی پسند جنم لیتے ہیں۔ معاشرے میں گروہی، قبائلی اور برادری اختلافات بڑھتے ہیں اور تو اور فرقوں کی بنیاد پر جھگڑے ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے کرم فرما یہی چاہتے ہیں تو پھر اس مفروضے پر تعمیر ہونے والی عمارت پختہ نہیں ،بہت ہی کمزور ہو گی۔

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سیاست گملوں میں نہیں، گلیوں میں نمو پاتی ہے۔ عوامی مقبولیت کو قائم رکھنے کے لئے بہادری اور قربانی لازمی جزو ہیں۔ صرف تقریریں اقتدار نہیں بچا سکتیں بلکہ وعدے تو پھندے بن جاتے ہیں۔ اگر ملک کو ترقی اور خوش حالی کے راستے پر چلانا ہے تو واحد راستہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہے۔ احتسابی قوانین کو ملکی قانون اور ملکی آئین سے بالاتر قرار دینے اور احتساب کے ذریعے سے سیاست کرنے سے ملک زوال کا شکار ہو گا۔ احتساب کا نظام سیاست سے الگ تھلگ اور بالاتر ہونا چاہئے۔ بھارت، برطانیہ اور امریکہ میں احتساب ملکی غیر سیاسی ادارے کرتے ہیں اور کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھاتا۔

پاکستان میں جس دن حکومتی جماعت کا حکومتی ادارہ غیرجانبدارانہ اور غیر سیاسی احتساب کرے گا اسی دن احتساب کی ساکھ بہتر ہو گی وگرنہ اسے جانبدارانہ اور ظالمانہ قرار دیا جاتا رہے گا۔ فرض کریں کہ کارگل پر حملہ کامیاب ہو جاتا تو کیا ہم عالمی دبائو کے مقابلے میں یہ قبضہ برقرار رکھ سکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ فرض کریں کہ آپریشن جبرالٹر کے مقاصد حاصل ہو جاتے تو کیا ہم بھارت سے کشمیر چھین سکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ تو سبق کیا ملا کہ مفروضوں اور حکمت عملیوں سے ضروری نہیں آپ کی مرضی کے نتائج حاصل ہوں۔

سیاست اور جنگ دونوں میں کسی ایک فریق کی حکمت ِعملی فیصلہ نہیں کرتی دوسرے فریق کا ردعمل جنگ اور سیاست کا فیصلہ کرتا ہے۔ اسی لئے ہمارے کرم فرمائوں کو اب مفروضوں سے نکل کر حقائق کی دنیا میں آنا ہو گا۔ مٹی کے مادھو بنانے سے ریاست نہیں چلتی اس کے لئے اصلی نام اور اصلی کام والوں کو سامنے لانا ہو گا۔ جنگ اور سیاست میں جعلی ہیرو نہیں چلتے بلکہ ان کی اصلیت کھل جاتی ہے۔ سیاست کی ڈوریاں نہ کھینچیں اسے آزاد چلنے دیں، پاکستان خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔

بشکریہ: روز نامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں