127

دل کا سکون کیسے حاصل ہو؟ حافظ محمد زبیر

دل کا سکون حاصل کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے، قناعت (contentment)۔ قناعت کا معنی “الرضا بما دون الكفاية” ہے۔ یعنی مجھے لگتا ہے کہ اللہ عزوجل نے جو مجھے دیا ہے یا میری تقدیر میں لکھا ہے، وہ میری ضرورت سے کم ہے لیکن اس کے باوجود میں اس کم پر بھی راضی ہوں۔ جس مادہ پرستی کے ماحول میں ہم سانس لے رہے ہیں، یہاں اندر کا سکون حاصل کرنے کے لیے قناعت، فرض کا درجہ اختیار کر چکی۔ اگرچہ کیپٹلزم کی اصل بھی اصول لذت (pleasure principle) پر ہے۔ اور لذت ان کے ہاں اندر کی خوشی میں ہے۔ اندر کی خوشی چیزوں میں ہے۔ لہذا چیزوں میں دل لگائیں تو اندر کی خوشی حاصل ہو گی۔ یہ اصول کیپٹلزم کو ماڈرن سائیکالوجی سے وراثت میں ملا ہے۔

ماڈرن سائیکالوجی، خاص طور فرائیڈ کا کہنا یہ تھا کہ انسان کی تخلیق جس اصول لذت پر ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کے لاشعور یا نفس میں لاتعداد خواہشات موجود ہیں۔ جب جب اور جیسے جیسے ان خواہشات کی تسکین ہوتی ہے، انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ لہذا لذت کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے اپنی خواہش کو پورا کرنا۔ اس وقت مذہبی اور غیر مذہبی دنیا، دونوں اس اصول کے مطابق، نفس کا سکون حاصل کرنے میں لگے ہیں جو کسی طرح حاصل ہو نہیں پا رہا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مذہبی لوگوں نے اپنی دنیاوی خواہشات کو دین کا لباس پہنا دیا ہے اور وہ بھی اتنے ہی بے سکون ہو گئے جتنا کہ غیر مذہبی۔ بلاشبہ آپ کی خواہش جب پوری ہوتی ہے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، خوشی بھی ہوتی ہے لیکن یہ عارضی ہوتی ہے۔ اتنی ہی جتنی کہ کسی بچے کو نیا کھلونا خرید کر ہوتی ہے۔ اور دو دن بعد وہ کھلونا اس کے لیے پرانا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اندر پھر سے خلا محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور اب اسے ایک نئی خوشی کی تلاش ہوتی ہے۔ تو مستقل خوشی چیزوں میں نہیں ہے۔

قرآن مجید میں نفس کی تین حاتیں بیان ہوئی ہیں؛ نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ۔ نفس مطمئنہ وہ نفس ہے جسے دل کا اطمینان اور سکون حاصل ہو۔ اور یہ اس نفس کو حاصل ہو پاتا ہے جو اپنے رب کی تقسیم پر مطمئن ہو جائے۔ آج کے انسان کی بے اطمینانی اور بے سکونی کی اصل وجہ یہ ہے کہ جو کچھ وہ حاصل کرنا چاہتا ہے، یا تو وہ حاصل نہیں ہو پا رہا تو وہ بے چین اور مضطرب ہے۔ یا پھر وہ اسے حاصل ہو جائے تو اس کے حاصل ہونے سے پہلے ہی اس سے زیادہ کو حاصل کرنے کی خواہش اور تمنا اس کے دل میں پیدا ہو چکی ہوتی ہے جو اسے پھر بے سکون کر دیتی ہے۔


ایک مذہبی شخص اپنے مریدوں کی تعداد میں اضافے سے خوش ہو جاتا ہے لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اسے مزید آگے جانا ہے جہاں اس کے مریدوں کی تعداد لاکھوں میں ہو جائے کیونکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جنتی بنانا چاہتا ہے۔ وہ اپنا مدرسہ بنا کر خوش ہو جاتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد اسے اس مدرسے کی پورے ملک میں شاخیں بنانی ہیں اور وہ اس کے لیے پریشان ہے کیونکہ اسی طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہدایت مل سکتی ہے۔ وہ ایک کتاب لکھ کر خوش ہو جاتا ہے لیکن پھر اسے یہ پریشانی لاحق ہو جاتی ہے کہ اس نے ایک عالمی سطح کا لکھاری بننا ہے کہ پوری دنیا اس کے علم سے فیض یاب ہو لہذا وہ اس کے لیے پریشان رہتا ہے۔ وہ ایک طالب علم سے عالم، عالم سے مفتی، مفتی سے شیخ، اور شیخ سے علامہ بننے کے سفر میں پریشان ہی رہتا ہے جیسا کہ ایک دنیادار سولہویں سے سترہویں، سترہویں سے اٹھارہویں، اٹھارہویں سے انیسویں اور انیسیویں سے بیسویں گریڈ میں جانے کے لیے پریشان ہے۔ بس ہم سب ایک دوڑ میں شامل ہے، کچھ مذہبی دوڑ میں ہیں اور کچھ دنیاوی دوڑ میں، اور سب سے آگے نکل جانے کی خواہش نے پریشان کر رکھا ہے۔ بس ایک لمحے کو رک جائیں، سانس لیں، اور دوڑ سے نکل جانے کا صرف عزم کر لیں، اسی لمحے سکون میسر آ جائے گا۔ درخت دوڑنا شروع کر دے تو کبھی پھل نہ دے۔ یہ پھل اس کے سکون کا نتیجہ ہے۔

بیس ہزار والا سمجھتا ہے کہ اس کی تنخواہ ایک لاکھ ہو جائے تو اس کی پریشانی ختم ہو جائے گی لیکن جب اس کی تنخواہ واقعی میں ایک لاکھ ہو جاتی ہے تو اس وقت تک اس کی خواہشات دو لاکھ جتنی ہو چکی ہوتی ہیں کیونکہ یہ دنیا دار آزمائش ہے، یہاں اس کی آزمائش ختم ہونے والی نہیں ہے۔ یہ خواہش پوری ہو جائے، وہ آزمائش ختم ہو جائے تو دل کا سکون حاصل ہو جائے گا تو یہ خام خیالی ہے۔ اس خواہش کے بعد ایک دوسری خواہش اور اس آزمائش کے بعد ایک دوسری آزمائش موجود ہے۔ اس خواہش اور آزمائش سے تو پھر واقفیت تھی، دوسری کا تو پتہ بھی نہیں کہ کیسی ہے کہ نفس کو زیادہ غیر مطمئن کر دے۔ تو حل ایک ہی ہے، نفس کی تربیت۔ اور نفس کی تربیت ایک ہی اصول پر کہ جس حال میں ہو، اس پر مطمئن ہو جاؤ، اس طرح کہ زیادہ کی خواہش نہ رہے، نہ زیادہ دنیا کی اور نہ ہی زیادہ دین کی۔ اگر پھر بھی ایمان کی حلاوت محسوس نہ ہو تو بتلانا۔ اور آجکل جسے ہم دین کہتے ہیں؛ دینی ادارے، دینی جماعتیں، دینی وجاہت، دینی اچیومنٹس یہ بھی درحقیقت دنیا ہی ہے، بس اللہ سمجھ عطا فرما دے۔ باقی جس کی یہ دنیا اللہ قبول فرما لے تو یہ اس کی رحمت اور شفقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں