195

آئیڈیئل رشتہ [حصہ دوم] – حافظ محمد زبیر

آئیڈیئل رشتہ کے حوالے سے ایک پوسٹ لگائی تھی کہ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ “رشتہ کرتے وقت مرد میں اخلاق دیکھو اور عورت میں عبادت”۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد سے گھر کی زندگی میں جو مطلوب ہے، وہ حسن معاشرت ہے اور اس کی بنیاد اعلی اخلاق ہیں یعنی حسن معاشرت کا رویہ، اعلی اخلاق سے پیدا ہوتا ہے۔ اور عورت سے ازدواجی زندگی میں جو مطلوب ہے، وہ اطاعت ہے اور اس کی بنیاد عبادت ہے یعنی اطاعت کا مزاج، عبادت میں مجاہدے سے ڈویلپ ہوتا ہے۔ اس بیانیے پر کچھ سوالات پیدا ہوئے کہ جن کے جوابات کے لیے حصہ دوم شائع کر رہا ہوں۔

مثلا یہ سوال کہ مرد کے اخلاق اعلی ہیں اور عورت کا مزاج عبادت والا ہے؟ تو مرد اگر کثرت سے صدقہ خیرات اور ویلفیئر کا کام کرنے والا ہے تو اس میں اعلی اخلاق ہیں اور عورت اگر تہجد گزار ہے تو اس کا مزاج اطاعت والا ہے۔ دوسرا سوال یہ کہ کیا عورت سے اعلی اخلاق مطلوب نہیں ہیں؟ میری نظر میں عورت سے اعلی اخلاق کی توقعات درست نہیں ہیں کہ اس میں کچھ فالٹ پیدائشی طور موجود ہے جسے مرد کو قبول کرنا ہے، اپنے اعلی اخلاق کی بنیاد پر۔ اور وہ پیدائشی فالٹ درست نہیں ہو سکتا جسے حدیث میں یہ کہا گیا کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی اور اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے۔ یعنی تمہیں اس کے ٹیڑھ پن کے ساتھ گزارا کرنا ہے۔ تو یہ بات مردوں کو سمجھا دی ہے کہ اس کی اس کمی کو ایکسیپٹ کر لو، یہ سمجھ کر یہ اکتسابی نہیں ہے، پیدائشی ہے اور خدا کی طرف سے ہے اور اس کا مقصود مرد کی آزمائش ہے۔

تو میں عورت کے لیے اعلی اخلاق کی بات ہی نہیں کر رہا کہ وہ اس کے لیے بائی ڈیفالٹ ممکن نہیں کہ حدیث کے بیان کے مطابق اور مشاہدے کے مطابق بھی اکثریت شوہر کی ناشکری کرتی ہے اور لعن طعن کرتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا ایموشنل اسٹرکچر مرد سے مختلف ہے لہذا اس میں جذبات زیادہ ہوتے ہیں جیسا کہ تھوڑی سی بات پر ناشکری یا طعنے دینا۔ مطلب یہ کہ ایکسٹریم ایموشنل سونگز عورتوں میں زیادہ ہوتے ہیں، پل میں تولہ، پل میں ماشہ، چھوٹی سی بات پر بہت زیادہ خوش ہو جانا اور چھوٹی سی ہی بات پر اتنی بڑا منہ بنا لینا۔ تو اس لیے میں نے کہا کہ عورتوں سے اصلا قانونی بات مطلوب ہے یعنی اطاعت۔

اور اس بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث میں یہ بھی کہا کہ اگر عورت کو ایسے ہی چھوڑے رکھو گے تو پھر وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ یعنی بالکل اسے سیدھا بھی نہیں کرنا کہ اسے توڑ دو گے اور اس کا توڑ دینا طلاق ہے۔ اور اس کی حالت پر بھی نہیں چھوڑنا بلکہ اصلاح کی کوشش کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے عبادت میں لگا کر اس میں اطاعت کا مزاج پیدا کر دو۔ پھر وہ اسی مزاج کے تحت خاوند کی فرمانبردار ہو جائے گی۔ بھئی، فرمانبردار ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ وہ ناشکری نہیں کرے گی۔ اس کی یہ کمی تو مرد اپنے حسن اخلاق سے پوری کرے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قانونی اطاعت کرے گی، باقی ایٹی چیوڈ آپ کو پھر بھی دکھائے گی۔ ناراضگی میں بھی بستر پر بلاؤ گے تو انکار نہیں کرے گی لیکن اگر بلاؤ گے نہیں تو بھلے چھ ماہ تنگ رہو، اور وہ اس تنگی کو سمجھتی بھی ہو لیکن تمہارے پاس آئے گی نہیں کیونکہ تم نے اسے بلایا نہیں ہے۔ اور حدیث میں بھی بلانے کے الفاظ ہیں۔ تو کم از کم وہ قانونی اطاعت کے درجے میں آ جائے۔ جب وہ اس سے نکل جائے تو یہ قرآن مجید کے مطابق “نشوز” ہے یعنی سرکشی ہے اور اس سے گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ تو ایٹی چیوڈ پرابلم عورت میں رہنا ہے۔ اور اعلی اخلاق والا مرد اسے ایکسیپٹ کر لے گا جبکہ دوسرا رشتہ توڑ دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں