134

آئیڈیئل رشتہ [حصہ اول] – حافظ محمد زبیر

خواتین وحضرات عموما اپنے رشتوں کے حوالہ سے مشورہ کرتے رہتے ہیں تو ایک جملے میں آئیڈیئل رشتہ کیا ہو سکتا ہے، اپنا تاثر بیان کر دیتا ہوں۔ “رشتہ کرتے وقت مرد میں اخلاق دیکھو اور عورت میں عبادت”۔ مرد اخلاق میں مجاہدہ کرنے والا ہو اور عورت عبادات میں تو یہ آئیڈیئل رشتہ ہے۔ یہ ایسا رشتہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے، ان شاء اللہ عزوجل یقینا۔

قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ۔ اس کا معروف معنی تو یہ کیا گیا ہے کہ یا اللہ، ہمیں ایسی بیویاں/شوہر اور اولاد عطا فرما جو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں۔ اس کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ یا اللہ، ہمارے لیے ہماری بیویوں/شوہروں میں آنکھوں کی ٹھنڈک پیدا فرما دے۔ تو اس آئیڈئیل رشتے کی تلاش یا پہلے سے موجود رشتے کو آئیڈیئل بنانے کے لیے ایک تو اس دعا کا کثرت سے اہتمام کریں۔

تو یہ ممکن نہیں ہے کہ مرد کے اخلاق اچھے ہوں اور بیوی کی عبادت اور لائف آئیڈیئل نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کے جتنے حقوق شریعت نے بیان کیے ہیں، انہیں ایک لفظ میں سمو دیں تو وہ لفظ “حسن خلق” ہے کہ بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ، حسن سلوک کرو، درگزر سے کام لو۔ بھئی درگزر کہتے ہیں کہ غلطی دیکھ کر یہ جتلانا بھی نہیں کہ دیکھ لی ہے۔ اور اعلی اخلاق ایسے رویوں سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اگر مرد کے اخلاق اچھے نہیں ہوں گے تو کبھی بھی اچھا شوہر نہیں بن سکتا، بھلے تہجد گزار ہو، متقی پرہیز گار ہو، عالم فاضل ہوں۔ تو مرد کا دینے والا مزاج ہو تو اخلاق اچھے ہوں گے۔

بھئی متقی ہونا ہمارے تعلق کی وہ جہت اور ڈائمینشن ہے جس کا تعلق خدا سے ہے۔ تو متقی آدمی بلاشبہ خدا سے تعلق میں اچھا ہوتا ہے لیکن انسانوں سے تعلق میں اچھا ہونا، یہ تعلق کی دوسری ڈائمینشن ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ایک انسان خدا سے تعلق میں اچھا ہے تو انسانوں سے تعلق میں بھی اچھا ہو جیسا کہ خوارج تھے۔ قرآن مجید پڑھ پڑھ ایسے روتے کہ چہروں پر نشان باقی رہ جاتے لیکن دوسری طرف انسانوں کے حق میں ایسے ظالم کہ انہیں ذرا سی غلطی اور تاویل پر قتل کر دیتے کہ ان کے نزدیک گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہو جاتا ہے۔ تو جس کا عقیدہ ہی یہ ہو تو سوچیں کہ وہ خدا سے تعلق میں کس قدر اچھا ہو گا۔

اور مرد کے جتنے حقوق بیان ہوئے ہیں، ان کو ایک لفظ میں جمع کریں تو وہ لفظ “اطاعت” ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی فرمانبردار ہو۔ شوہر نے کہا یہ کرنا ہے تو کرنا ہے، نہیں کرنا تو نہیں کرنا۔ فلاں جگہ جانا ہے تو جانا ہے، نہیں جانا تو نہیں جانا۔ اور یہ مزاج اس عورت میں ہوتا ہے جس کی عبادت اچھی ہو کہ اس نے خدا کے ساتھ تعلق میں اس مزاج کو اپنے نفس میں قائم کر لیا ہے۔ اب خدا ہی کے حکم پر اپنے شوہر کی اطاعت اس پر گراں اور بھاری نہیں گزرے گی۔ تو عورت بچھ جانے والے (submissive) مزاج کی ہو تو بہترین بیوی ہے۔ اور یہ مزاج عبادت میں مجاہدے سے پیدا ہوتا ہے

قرآن مجید نے بہترین بیوی کی تین ہی صفات بیان کی ہیں: فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ۔ اللہ عزوجل نے پہلی صفت صالح ہونا بیان کی ہے اور پھر دوسری صفت شوہر کا فرمانبردار ہونا۔ تو بیوی کی عبادت اچھی نہ ہو تو اس کا فرمانبردرای والا مزاج نہیں ہو گا، بالکل بھی نہیں ہو گا، بھلے کتنی ہی عالمہ فاضلہ کیوں نہ ہو۔ اور اگر آپ اپنی بیوی کو اپنے حق میں اچھا بنانا چاہتے ہیں تو اسے اللہ کی فرمانبردای پر لگا دیں، دین کے کام میں کھپا دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں