108

مفرور سعودی لڑکی … ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ھانی الظاہری۔ عکاظ

لڑکیاں اپنے گھروں سے فرار ہوتی رہتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ہماری دنیا میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ قدیم زمانے سے لڑکیاں فرار ہورہی ہیں۔ یہ معاملہ کسی قوم، کسی ملک اور کسی علاقے تک مخصوص نہیں۔لڑکی کے فرار کا واقعہ اس وقت غیر معمولی بن جاتا ہے جب اسکا تعلق سعودی عرب سے ہو۔سعودی لڑکی فرار ہوئی تو دنیا بھر کے خبررساں ادارو ںنے اسے عالمی خبر نامے کی شہ سرخی بنادیا۔ سعودی عرب کی گھات میں لگے اداروں کو مملکت کی تصویر بگاڑ کر پیش کرنے کا ایک اور موقع ہاتھ لگ گیا۔
دیگر لوگوں کی طرح میں نے بھی اپنے اہل خانہ سے تھائی لینڈ فرار ہوکر جانے والی سعودی لڑکی کی بابت برپا شور دیکھا، سنا ، میں نے بھی سعودی لڑکی رھف کے ٹویٹر پر ٹویٹ پڑھے ۔ پڑھنے پر ایسا لگا کہ وہ لڑکپن کا شکار ہے۔ بیشتر لڑکیاں اور لڑکے اس کچی عمر میں دنیا بھر سے نالاں اور ناراض ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ رھف کا یہ دعویٰ کہ وہ اہل خانہ کے تشدد کا شکار تھی صحیح ہے یا غلط تاہم اس بات کا مجھے پوری طرح سے یقین ہے کہ رھف صرف اس وجہ سے سعودی عرب سے فرار نہیں ہوئی کہ اس پر اس کے اہل خانہ تشدد کررہے تھے۔ وجہ یہ ہے کہ مملکت میں بہت سارے ایسے ادارے ہیں جو اس قسم کے حالات واقعات اور مسائل کی گتھیاں سلجھانے پر مامور ہیں۔ مثال کے طور پر انسانی حقوق کا ادارہ ہے ، تحفظ خاندان پروگرام ہے، وزارت محنت و سماجی بہبود ہے۔ یہ سب گھریلو تشدد کے شکار لڑکوں، لڑکیوں او رافراد کے نجات دہندہ اور اعلیٰ درجے کے دارالامن ہیں۔ نجانے کتنے والدین پر اولاد پر تشدد کے باعث مقدمات چل چکے ہیں۔ نجانے کتنے لوگوں کو تشدد سے بچایا گیا۔ رہائش فراہم کی گئی۔ انہیں مالی اعانت مہیا کی گئی۔ میرا کہنایہ ہے کہ اگر رھف کا یہ دعویٰ درست ہے کہ اس پر گھریلو تشدد ہورہا تھا تو اسے دیگر لڑکیوں کی طرح متعلقہ اداروں میں سے کم از کم کسی ایک سے تو رجو ع کرنا چاہئے تھا۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس نے کسی بھی ادارے سے رجوع نہیں کیا۔ 
سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والے یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ بیرون مملکت بعض ادارے ، تنظیمیں اور افراد دن رات سعودی لڑکیوں کو ورغلانے اور انہیں سبز باغ دکھا کر اپنے اہل خانہ اور وطن عزیز سے رات کی تاریکی میں فرار ہونے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ لڑکوں اور لڑکیوں کا شکار صرف اسلئے کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس عمر کے لڑکے اور لڑکیاں مہم جو ہوتی ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو منوانے کا شوق ہوتا ہے۔ لڑکوں کو جہاد اور جرا¿ت و شجاعت کے جھوٹے تمغے پانے کے عنوان سے شورش زدہ مقامات لیجایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ پر ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سعودی خاندانوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ اہل خانہ کا فر ض ہے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں شعور و آگہی پیدا کریں۔ مذکورہ واقعہ کے تناظر میں متعلقہ اداروں کو بھی مملکت بھر میں آگہی مہم کا اہتمام کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں اور بچیوں کو بتانا ہوگا کہ مشکوک ادارے سعودی لڑکیوں کو پھنسانے کیلئے جال ڈال رہے ہیں وہ ا ن کے جذبات اور انکے ذہن سے کھیل رہے ہیں۔سوشل میڈیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں صرف لعنت ملامت پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔
پوری دنیا بدل رہی ہے۔ ہم اپنے بچوں اوربچیوں کو فریب کاروں کے فریب سے بچانے کیلئے نہ دروازے بند کرسکتے ہیں اور نہ ہی کھڑکیوں میں قفل ڈال سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا اچھائی اور بھلائی سمیت ہر گھر بلکہ ہر فرد کی جیب اور اس کے بیگ کا حصہ بن چکا ہے ۔ ہماری بیٹیوں او ربیٹوں کا حق ہے خاص طور پرانکا جو کچی عمر کے مرحلے میں ہیں کہ ہم انہیں سنیں۔ ان کے غصے کو سمجھیں اور اپنے آپ کو منوانے کی ان کی ضرورت کا احساس و ادراک کریں۔ انہیں دل و دماغ سے سمجھائیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی کو فروغ دیں۔ ان میں وطن عزیز کی شناخت کی پاسداری کا جذبہ بیدار کریں۔ اسی سے بدی کا راستہ مسدود ہوگا۔ ایسا کریں گے تب ہی ہماری بچیاں اور بچے سبز باغ دکھانے والوں کے جال میں پھنسنے سے بچیں گے۔
یاد رکھیں کہ رھف کا اپنے خاندان سے فرار کا واقعہ آخری نہیں۔ دنیا انصاف پسند نہیں۔البتہ ہم اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو آگہی فراہم کرکے دشمنوں کے جال میں پھنسنے سے بچنے بچانے کا انتظام کرسکتے ہیں او ریہ ہمیں کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں