123

’’ بٹ کوائن ’’ حلال ہے یا حرام ؟

جدہ (ویب ڈیسک ) سعودی عالم دین نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کو حرام قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کی مشہور ترین کرپٹو کرنسی بٹ کوائن نے چند ہی ماہ میں اپنی قدر میں ریکارڈ اضافے کے باعث دنیا بھر کے ماہرین

کو ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہے۔ بٹ کوائن کی قدر اس وقت 18 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔جہاں بٹ کوائن نے لوگوں کی بڑی تعداد کو بے حد متاثر کیا ہے وہیں کئی لوگ اور ماہرین اس کے شدید مخالف بھی ہیں۔ ناقدین کی رائے میں بٹ کوائن محض ایک فراڈ ہے جس کے باعث لوگوں کے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ اس حوالے سے اب ایک سعودی عالم دین کا فتوی بھی سامنے آیا ہے۔ جدہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین عاصم الحکیم نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کو حرام قرار دے دیا ہے۔عاصم الحکیم کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جسے قانون کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔ اس کرنسی کو غیر قانونی کاموں میں باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔ اس حوالے سے اب ایک سعودی عالم دین کا فتوی بھی سامنے آیا ہے۔ جدہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین عاصم الحکیم نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جبکہ حالیہ کچھ روز کے دوران اس کی قدر میں حیران کن اضافہ بھی قابل تشویش ہے۔ لہذا یہ کرنسی غیر قانونی ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنا حرام ہے۔(ع،ع۔ح)

بٹ کوائن حرام ہے۔ مفتئ اعظم مصر‎

07 جنوری ، 2018 

سب سے مہنگی کریپٹو کرنسی بٹ کوائن کو مصر کے مفتئ اعظم نے حرام قرار دے دیا ہے۔بٹ کوائن کو حرام قرار دیے جانے سے متعلق یہ تیسرا یا چوتھا فتویٰ ہے جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ مفتی اعظم مصر شوقی ابراھیم علام کا اپنے فتوے میں کہنا ہے کہ بٹ کوائن کا کاروبار جوئے کی مانند ہے کیونکہ اس میں ایک فریق یا گروہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور جوا کھیلنا اسلام میں حرام ہے۔ مصر کے مقامی اخبار احرام کے مطابق یہ فتویٰ بہت سے ماہرین اقتصادیات سے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل نومبر میں ترکی کے مذہبی حکام کی جانب سے بھی بٹ کوائن کے کاروبار کو اسلامی قرار دیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں