191

خدمت دین اور کوالٹی

ایک مؤذن انتہائی بری آواز میں آذان دیتا تھا علاقے کے کسی خیر خواہ نے عرض کی کہ آپ کچھ نہیں لیتے اور آذان دیتے ہیں آخر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں مؤذن نے کہا اللہ کے واسطے اس شخص نے کہا پھر میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ مجھ سے یہ 💰 لیں اور یہ آذان نہ دیا کریں مؤذن باز آنے والا کہاں تھا کچھ دیر بعد پھر آذان شروع کر دی اب کہ منتظم نے اسے علاقے چھڑوانے کا پروگرام بنایا ،زیادہ پیسوں کا اہتمام کیا اور طے ہوا کہ وہ دس درھم لے کر اس علاقے کی بجائے فلاں جگہ چلا جائے گا اور وہاں آذان بھی دے سکے گا مؤذن نے جگہ بدل لی لیکن کوالٹی نہ بدلی لہذا اگلے علاقے والے بھی تنگ آ گئے انہوں نے ایک بڑی آفر کرائی اور پچیس درھم کے بدلے دین و اسلام کی امان مانگی مولوی صاحب اپنی قیمت پہچان گئے اور پہلے علاقے میں واپس آ گئے وہ حیران ہوئے اور پوچھا آپ پھر آ گئے ہو! مؤذن نے کہا میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ میرے آپ پہ پندرہ روپے ادھار ہیں اس لئے کہ آپ نے میری قیمت پندرہ روپے کم لگائی تھی یاد رکھیں دین کسی کا محتاج نہیں ہے خدمت دین ہر بندہ کر سکتا ہے کوئی خاموش رہ کر، کوئی آواز دے کر اور کوئی مال لگا کر لیکن جو کسی کی قیمت بنے گی تو وہ اس کی کوالٹی کی بنے گی اگر دین اور کوالٹی کسی میں جمع ہوں تو اس کی کوالٹی کی قیمت دو اور قیمت سے زیادہ اس کی خدمت کی قدر کرو اور اگر ایسا نہ ہو تو خدمت نہ لے کر قیمت کوالٹی والی دے دو تاکہ کم سے کم آپ اپنے دین کی کوالٹی تو بہتر بنا سکو اور ہاں یہ بات کہ مولوی کبھی بھوکا نہیں مرتا تو یہ ان ایسے مولویوں پہ صادق آتی ہے جو خدمت نہ دینے والی ویکنسیاں پر کرنے آتے ہیں پھر آپ ان سے دین کا کام لو تو یہ آپ کے دماغ کا خلل ہے یا کہہ لیں کہ آپ دین کا کام لینا نہیں دین کا کام تمام کرنا چاہتے ہوفلا تلومن الا نفسک

حافظ محمد زبیر گارڈن ٹاؤن لاہور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں