116

سعودی عرب میں کیا کچھ تبدیل ہو گیا؟



شاہی فرامین کے تحت سعودی عرب میں ڈھانچا جاتی اصلاحات کا عمل جاری ہے۔اقتصادی اور سماجی تبدیلی کے لیے جاری ایک طویل سفر کا ایک اور سال اختتام کو پہنچا۔

اس راستے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور دنیا میں ہونے والی ترقی سے خود کو شانہ بشانہ رکھنے کے تقاضوں کے مطابق وضع کیا گیا ہے تاکہ ایک ایسے مستقبل کے خدوخال بن سکیں جن سے صرف روشنی ہی نظر آئے۔ایک ایسا مستقبل جس کی عملی شکل سامنے آنا شروع ہوگئی ہے۔وزارتیں نظم ونسق اور کارکردگی کےا شاریوں کے مطابق کام کررہی ہیں۔قیادت ناہمواریوں اور عدم توازن کی نشان دہی کررہی ہے اور پھر ان میں اصلاحات کر رہی ہے۔ایک ایسے ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل کی جارہی ہے جس کو کسی سازش یا غیر منصفانہ مہم کے ذریعے اکھاڑ پچھاڑ کا شکار نہ کیا جاسکے۔ریاست کے بجٹ میں شہریوں کو شاندار خدمات مہیا کرنے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور اقتصادی کارکردگی کے اشاریے ایک امید افزا تصویر پیش کررہے ہیں۔

سعودی عرب کا بجٹ خسارہ کم ہورہا ہے اور ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ان سب پر مستزاد یہ کہ شہری ایک بنیادی حق کے طور پر اپنے ملک کی بہتری کے ہمیشہ منتظر رہتے ہیں۔ سعودی عرب بہتری کے لیے مسلسل تبدیل ہورہا ہے اور سعودی اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ سب سے خوش نما چیز ابھی آنے والی ہے۔

اب سعودی عرب میں خواتین کاریں چلا رہی ہیں حالانکہ بہت سے لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ناممکن ہے۔الریاض ، جدہ ، الخوبر ، جازان اور دوسرے سعودی شہروں کی شاہراہوں پر خواتین مردوں کے ساتھ ساتھ کاریں چلاتی نظر آرہی ہیں۔خواتین کو جب سے کاریں چلانے کی اجازت ملی ہے تو انھیں ہراساں کرنے کا کوئی ایک واقعہ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سعودی معاشرہ کیسے اپنی اقدار اور کامیابیوں کو ترک کیے بغیر مثبت انداز میں تبدیل ہورہا ہے۔

خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت دینا کوئی ایک اشاریہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک مثال تھی۔دسمبر میں خوب صورت الدرعیہ نے فارمولا ای کار دوڑ کی میزبانی کی ہے اور اس کو دنیا بھر میں قریباً آٹھ کروڑ لوگوں نے ٹی وی سکرینوں پر براہ راست دیکھا تھا۔

جونہی کار دوڑ کے اس بین الاقوامی مقابلے کا اختتام ہوا تو’’ طنطورا میں خزاں ‘‘ کے نام سے الاولیٰ میں میلہ شروع ہوگیااور دنیا نے یہ مشاہدہ کیا کہ یہ ملک کیسے مسلسل جدیدیت کے راستے پر گامزن ہے اور مستقبل کی جانب ایک ریکارڈ رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جبکہ اس نے اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلیت کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔خود سعودی معاشرے میں بعض سماجی اصلاحات کے بارے میں بحث ہورہی ہے۔میری رائے میں تو یہ ایک مثبت بات ہے۔ہر کسی کو بیان جاری کرنے اور اپنے نقطہ نظر کے اظہار کا حق حاصل ہے لیکن جو لوگ ان اصلاحات کو پسند نہیں کرتے ہیں تو پھر انھیں ایسی بحثوں میں حصہ لینے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔

اختلاف ایک پیدائشی حق ہے اور کسی کو اس بارے میں کلام نہیں ہوسکتا۔یہ ایک فطری بات ہے کہ معاشرہ جن تبدیلیوں کو ملاحظہ کررہا ہے،یہ ضروری نہیں کہ عین اس وقت اس کو ہر کوئی سمجھ سکے۔ہر معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جنھیں تبدیلیوں کو ہضم کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔تاہم یہ ایک متفقہ بات ہے کہ کسی کو بھی دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

پیالی میں طوفان اور سعودی عرب کی حقیقت

سعودی عرب کے نئے تشخص کا جب عوامی تعامل سے مشاہدہ کیا جاتا ہے تو اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ سعودی کیسے اس تبدیلی کا خیر مقدم کررہے ہیں اور گویا وہ ایک طویل عرصے سے اس منتظر تھے۔چند روز کے فرق سے منعقد ہ دو واقعات ، فارمولا ای کار دوڑ اور ’’ طنطورا میں خزاں‘‘ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی بھر پور انداز میں شرکت ان کے ذوق وشوق کی بھی مظہر ہے اور اس سے ان کے ملک میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں قابل ِ دید جوش وخروش کا بھی بہ خوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

جب ہم سعودی عرب میں اقتصادی اور سماجی اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ تبدیلی کے اس عمل کا سیاسی ا صلاحات سے ناتا جوڑ نے کی کوشش کرتے ہیں۔اصولی طور پر اصلاح ایک ضرورت ہے لیکن یہ ایک ذریعہ بھی ہے اور یہ تبدیلی کے عمل کا کوئی اختتام نہیں ہے۔تاہم اپنی ترجیحات کو متعیّن کرنا ہر معاشرے کی ذمے داری اور حق ہے۔

تمام ریاستوں کے لیے کوئی ایک قاعدہ نہیں ہے کہ وہ اپنے یہاں اصلاحات کے منصوبے کو کیسے عملی جامہ پہنائیں گی۔معاشرے اپنی ضروریات اور ثقافت کے مطابق پروان چڑھتے اور ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔جو بات فرانسیسی معاشرے کے لیے درست ہے، یہ ضروری نہیں کہ وہ امریکی معاشرے کے لیے بھی درست ہو۔ چین میں ہونے والی وسیع تر اقتصادی اصلاحات دنیا بھر میں ہونے والی اقتصادی اصلاحات جیسی نہیں ہوسکتی ہیں اور نہ انھیں ہونا چاہیے۔اگر بعض پالیسیاں یا ایجنڈے کسی معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر وہ غیر حقیقت پسندانہ ہوں تو وہ سود مند ثابت ہونے کے بجائے ضرررساں ثابت ہوتے ہیں۔ہر معاشرہ اپنی خاص ضروریات کے مطابق اپنی ترجیحات کے تعیّن کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔

http://بشکریہ العربیہhttps://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2019/01/01/%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7%D8%9F.html

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں