120

دوسروں کے عیبوں سے صرف نظر

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید حفظہ اللہ
جمعۃ المبارک 3 صفر 1440ھ بمطابق 12 اکتوبر 2018ء
عنوان: دوسروں کے عیبوں سے صرف نظر۔
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ:
الحمد للہ! ہر تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، وہی ہر چیز کو مقرر ہ مقدار کے مطابق بنانے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھنے والا اور اپنے بندوں پر فضل وکرم فرماتے ہوئے ان کی پردہ پوشی فرمانے والا ہے۔ میں اس کی بے شمار نعمتوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں اور اس کا شکرا دا کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی گواہی کو میں قیامت کے ہولناک دن میں نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، وہی تمام انسانوں پر حجت بنا کر بھیجے گئے تھے، تاکہ وہ لوگوں خبردار کر دیں۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دعوت دین کے لیے وقف کر دیا۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، اجر عظیم کمانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعدازاں!
میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ یہی جامع نصیحت ہے اور اسی کا وعظ، فائدہ مند وعظ ہے۔ اللہ سے ڈرو اور یاد رکھو کہ تمہیں بالآخر اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ خبردار رہو! اللہ کو یاد رکھو، اس کا شکر ادا کرو اور اس سے معافی مانگتے رہو۔
’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا (2) اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیے وہ کافی ہے اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے‘‘(الطلاق: 2-3)
اے مسلمانو!
اپنی زندگی کو غنیمت جانو اور اپنے وقت کی حفاظت کرو۔ دنیا کے دن گنے چنے اور سانسیں محدود ہیں۔ دل کی ہر دھڑکن سے انسان کی عمر کم ہو جاتی ہے اور ہر سانس موت سے قریب کر دیتا ہے۔ خوب جان لو کہ عمر بہت مختصر ہے اور یہ زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کا راستہ ہے۔ یہ مختصر زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کا ذریعہ ہے اور بعد والی زندگی میں یا تو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ملیں گی اوریا، اللہ ہمیں محفوظ رکھے، دردناک عذاب کا سامنا ہوگا۔
جب کوئی سمجھدار شخص دنیا کی اس مختصر زندگی کا مقابلہ آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی سے کرتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس زندگی کا ہر سانس آخرت کی زندگی کے ہزاروں، بلکہ لاکھوں نہ ختم ہونے والے سالوں کے برابر ہے، جس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ملیں گے اور کبھی ختم نہ ہونے والا آرام بھی نصیب ہوگا۔
سمجھدار شخص اپنی زندگی کو صالح اعمال سے دور رہ کر ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ اسے اپنی زندگی کے اس حصے پر شدید افسوس ہوتا ہے جو بے فائدہ گزر جاتا ہے۔
اللہ کے بندو! اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو عبرت آمیز حالات سے سبق لو، قرآن وحدیث کی تعلیمات پر غور کرو اور دنیا کے حالات پر تفکر کرو۔ ان میں بہت سی عبرتیں اور بہت سے سبق نظر آئیں گے۔ دنیا کی پر فریب لذتوں کے دھوکے سے بچنے کی کوشش کرو۔ یاد رکھو کہ جو دنیا کی زیب و زینت اکٹھی کرتا رہتا ہے، وہ چاہے جتنی بھی دنیا اکٹھی کر لے، بہرحال، دنیا کی زیب وزینت سے وہ مزید فقیر ہی ہوتا جائے گا۔ دنیا والے عہدوں کو دیکھتے ہیں، مال و دولت کے خزانوں، لوگوں کی تعریفوں اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا کی زیب وزینت اکٹھی کرنا پسند کرتے ہیں، جبکہ آخرت کے طالب اللہ کے دیے پر راضی رہتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ تنگی کے وقت بھی ایثار والا معاملہ کرتے ہیں۔ کہتے ہیں:
’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے‘‘ (الحشر: 10)
اللہ کے بندے!
غلطیوں سے کون پاک ہے اور کوتاہیوں سے کون محفوظ ہے؟ اپنے دل کو نرم کرنے کی کوشش کرو، لذتوں کوتوڑ دینے والی موت کو کثرت سے یاد کرو ، موت کی یاد سے دلوں میں نرمی آ جائے گی، قبر کے فتنے کو یاد کرکے اپنے دلوں کو وعظ کرو، کیونکہ یہ فتنہ بھی یقینی طور پر آنے والا ہے۔ روزِ جزا کو بھی یاد رکھو، کیونکہ اس کا آنا بھی حتمی طور پر ناگزیر ہے۔ اس دن گردنیں جھک جائیں گی اور کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں رہے گی۔ تمام نسب اور تعلق بھی ٹوٹ جائیں گے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد (88) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو‘‘(الشعراء: 88)
اسی طرح فرمایا:
’’یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا‘‘
(الانفطار: 19)
ایک اور جگہ پر فرمایا:
’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے‘‘ (الأنعام: 134)
یاد رکھو کہ انسان اور قیامت کے بیج صرف موت ہی ہے، جب موت آتی ہے تو انسان کی قیامت شروع ہوجاتی ہے۔
اللہ میری اور آپ کی نگہبانی فرمائے! یاد رکھو کہ نیکی کا آسان لگنا، سنت کی پیروی کرنا، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، دوسروں کی مدد کرنا، وقت کی حفاظت کرنا اور مسلمانوں کے معاملات میں دلچسپی لینا، توفیق الہی کی علامات ہیں۔
اللہ کے بندے! اپنے سینے کو صاف اور دل کو پاک رکھ اور اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کر جو تو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ کسی دوسرے کی خوشی سے تمہاری خوشی کم نہیں ہوتی، اس کی مالداری تیرا رزق کم نہیں کرتی اور اسکی تندرستی تمہاری صحت پر اثر نہیں ڈالتی۔ جو لوگوں کے ساتھ نرمی کرتا ہے اللہ تعالی بھی اس کے ساتھ نرمی والا معاملہ فرماتا ہے، جو لوگوں پر رحم کرتا ہے، اللہ اس پر رحم فرماتا ہے، جو لوگوں کے کام آتا ہے، اللہ اس کے کام سنبھال لیتا ہے اور جو لوگوں کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ اس کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالی انسان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے جیسا انسان دوسروں کے ساتھ کرتا ہے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور کرو:
’’احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے‘‘ (القصص: 77)
کتنا اچھا ہو کہ ہم لوگوں پر اسی طرح کے احسان کریں جس طرح احسان اللہ تعالی نے ہم پر فرمایا ہے۔ اللہ نے ہمیں رزق دیا ہے تو ہم بھی لوگوں پر صدقہ کریں، ہمیں اللہ نے علم دیا ہے تو ہم بھی لوگوں کو سیکھائیں، ہمیں اللہ نے سعادت نصیب فرمائی ہے تو ہم بھی اپنے قریبی لوگوں کو خوش رکھیں۔
درگزر اور دوسروں کی غلطیوں سے صرف نظر کرنا عظیم لوگوں کی عظیم صفات ہیں۔ سبھی غلطیاں کرنے والے ہیں، اور جو دوسروں کی عیبوں کی کھوج لگاتا ہے وہ خود بھی تنگ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی تنگ کرتا ہے۔ سمجھدار وہ ہے جو لوگوں کی غلطیوں سے آنکھیں بند کر لے۔ اس طرح تعلقات بھی درست رہتے ہیں، محفلیں بھی پر رونق رہتی ہیں، دین اور عزت محفوظ رہتے ہیں۔
جو اپنی باتوں کو اپنے عمل کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ فضول باتوں سے بچ جاتا ہے اور صرف انہی باتوں میں بولتا ہے جو اس سے متعلقہ ہوتی ہیں۔ سچائی پر قائم رہنا، غیر متعلقہ چیزوں میں دخل اندازی سے بچنا، دل کو پاک رکھنا، تنہائی میں اللہ سے ڈرتے رہنا، دیانت داری پر قائم رہنا اور اچھے اخلاق اپنانا، امانت کا دامن پکڑے رکھنا اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، یہ سب چیزیں ہیں جو یوم جزا کا بہترین سامان ہیں۔
پیارے بھائیو!
کسی کے دل میں ایمان کی لذت موجود ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے دل میں اطمینان ہو، اس کا سینہ کھلا ہو، وہ نیکی میں آگے آگے نظر آئے، گناہوں سے نفرت کرے، نیک لوگوں سے محبت کرے اور اہل ایمان کی عزت اور قدر بڑھانے کے لیے تگ ودو کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ انسان کو دی جانے والی چیزوں میں سے بہترین چیز کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اچھے اخلاق‘‘ اسے امام بخاری نے ادب المفرد میں صحیح سند سے روایت کیا ہے۔
اچھے اخلاق والے کی نشانی یہ ہے کہ اس کے جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے عیب نہیں ڈھونڈتا، لوگوں کی مجبوریاں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، سب کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتا ہے، نرم بول بولتا ہے اور اپنے عیب سدھارنے میں مصروف رہتا ہے۔
تعلق کو قائم رکھنے کا طریقہ یہ ہے دوسروں کی غلطیوں سے صرف نظر کیا جائے اور ان سے راضی رہا جائے، تاہم ہر بات کی کھوج لگانے سے تعلق ماند پڑ جاتا ہے اور بات بات کی تحقیق سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ غلطی کرنا عیب نہیں ہے، عیب یہ ہے کہ اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھا نہ جائے۔ جب کسی چیز کا علم نہ ہو تو اسکے متعلق پوچھ لو، جب غصہ آ جائے تو پیچھے ہٹ جاؤ، اعلیٰ ظرف لوگ کبھی احسان نہیں جتاتے، مخلص لوگوں کو کبھی ندامت نہیں ہوتی اور جو نیکی کا بیج بوتا ہے، وہی بہترین پھل کھاتا ہے۔
اپنے ساتھیوں، دوستوں اور محفلوں کو پورے اہتمام سے منتخب کرو۔ جب بات کرو، تو بہترین بات کرو، جب سنو تو سننے کا بہترین انداز اپناؤ، جب کسی سے ملو تو خندہ پیشانی سے ملو اور جب کسی بات پر دوسروں سے اختلاف کرو یا اختلاف ہو جائے تو بہترین راستہ اپناؤ، احمق سے مخاطب ہونے، ہٹ دھرم سے بحث کرنے اور بے وقوف سے تکرار کرنے سے گریز کرو۔
یاد رکھو کہ سمجھدار لوگوں سے گفتگو میں عقلوں کی غذا ہے۔ دوسروں پر احسان کرنے میں برے انجام سے حفاظت ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! مسکین کو کھلاؤ، بے لباس کو لباس دو، خوف زدہ کو امن دینے کی کوشش کرو، مظلوم سے ظلم روکو، یتیم کی کفالت کرو، بیمار کی تیمارداری کرو اور حاجت مند کی مدد کرو۔
بعد ازاں! اللہ کے بندو!
جب فتنے آجائیں تو ان چیزوں کے متعلق گفتگو کرنے سے دور رہو جن سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں۔ خاموش رہو اور سنت پر قائم رہو۔ جس چیز کی سمجھ نا آئے اس کے متعلق بات نہ کرو۔ بس اتنا کہہ دو کہ ’’اللہ اعلم‘‘! اگر کسی چیز کی وضاحت مطلوب ہو تو ثقہ اور دانشمند علماء سے پوچھو اور ان کے مشورے کے خلاف ورزی کبھی نہ کرو، کیونکہ جلد بازی کرنے والا سننے سے پہلے ہی فتوی دے دیتا ہے اور پوری بات سمجھنے سے پہلے ہی جواب دے دیتا ہے۔ ابن مسعود علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جب تک لوگ اپنے بڑوں اور علماء کی باتوں پر عمل کرتے رہیں گے تب تک وہ سلامتی میں رہیں گے، تاہم جب وہ اپنے چھوٹوں اور برے لوگوں کی باتیں ماننے لگیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔ فرمان الہی ہے:
’’کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا (9) اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟ (10) یقیناً اُن کا رب اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا‘‘
(العادیات: 10)
اللہ مجھے اور آپکو قرآن کریم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے فیض یاب فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کیلئے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالی سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ:
الحمدللہ! ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ تعالی کے لیے ہے۔ وہ اپنی قدرت میں بے مثال ہے اور اس کے معاملات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کے اولیاء کبھی رسوا نہیں ہوتے، اس کے دشمن کبھی عزت نہیں پاتے۔ میں اللہ پاک کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ اپنے گناہوں اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی گواہی سے میں اسکی رضا مندی کی امید رکھتا ہوں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے چنیدہ بندے اور منتخب رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور بے انتہا سلامتیاں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کے اہلبیت پر، صحابہ کرام پر، آپ کی راہ پر چلنے والوں پر، آپ کی دعوت پھیلانے والوں پر اور آپ کی ہدایت پر عمل کرنے والوں پر۔
بعد ازاں! اے مسلمانو!
دن ایک جیسے نہیں رہتے۔ فرمان الہی ہے:
’’یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘ (آل عمران: 140)
اللہ، کبھی اپنے ساتھیوں کو خوش کر دیتا ہے، کبھی دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع دیتا ہے۔ زندگی میں کبھی فقروفاقہ دیکھنا پڑتا ہے، کبھی مالداری آجاتی ہے، کبھی عزت ملتی ہے اور کبھی رسوائی دیکھنا پڑتی ہے۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے وہ اسے رسوا کر دیتی ہیں۔ سعادت مند وہی ہے جو ہر حال میں ایک ہی عظیم بنیاد سے جڑا رہتا ہے، جسے خوف خدا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خدا خوفی ایسی عظیم صفت ہے کہ جو مالداری کے وقت بھی انسان کو خوبصورتی بخشتی ہے، فقر وفاقہ کے دور میں بھی اس کے لیے صبر کے دروازے کھولتی ہے، آزمائش کے وقت انسان کو بلند کرتی ہے اور عافیت کے زمانے میں بھی اس کی نعمتوں کو مکمل کرتی ہے۔ جس کے دل میں خدا خوفی ہو، اسے زمانے کے نشیب وفراز کچھ نقصان نہیں پہنچاتے، کیونکہ تقویٰ سلامتی کی جڑ ہے، بلکہ تقویٰ ہی ہر وقت ہمہ تن گوش رہنے والا محافظ ہے۔
سنو! اللہ آپ پر رحم فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ خدا خوفی ہی بہترین پناہ گاہ ہے جو انسان کی خوب حفاظت کرتی ہے۔ جو اس سے جڑا رہتا ہے، اس کی عاقبت بھی سنور جاتی ہے اور وہ ہر مصیبت کے شر سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
اللہ تعالی مجھے اور آپ کو اطاعت اور فرماں برداری سے سعادت مند بنائے اور نافرمانی اور اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں سے دور رکھ۔
درود و سلام بھیجو رحمت اور سراپا محبت بنا کر مبعوث کیے جانے والے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں آپ کو یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘(الاحزاب: 56)
اے اللہ! اپنے چنیدہ بندے اور منتخب رسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، نیک اور پاکیزہ اہل بیت پر، آپکی بیویوں، امہات المومنین پر رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔
اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی، تمام صحابہ کرام سے، تابعین سے اور قیامت تک نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔
اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے برازی ہو جا۔ یقینا! تو سب سے بڑھ کر کرم نوازی فرمانے والا ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا فرما، تمام سرکشوں، بے دینوں اور اسلام کے تمام دشمنوں کو ہلاک فرما۔
اے اللہ! کیا پروردگار عالم! ہمیں ہمارے گھروں اور شہروں میں امن نصیب فرما۔ ہمارے حکمرانوں کی اور اماموں کی اصلاح فرما۔ ہماری حکمرانی نیک اور پرہیزگار لوگوں کے ہاتھوں میں دے۔
اے اللہ ہمارے حکمران اور اماموں کو اپنی توفیق عطا فرما، اپنی فرماں برداری میں اسے عزت عطا فرما، اس کے ذریعے اپنے کلمے کو بلند فرما اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے لیے عزت کا باعث بنا۔
اسے اور اس کے ولی عہد کو، اس کے بھائیوں کو اور اس کے معاونین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرمائے جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ انہیں نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لے جا۔
اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! انہیں اپنے بندوں پر رحم کرنے والا بنا۔ اے پروردگار عالم! انہیں حق و ہدایت پر اکٹھا فرما۔
اے اللہ! مسلمانوں کے احوال درست فرما۔ اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما۔ اے اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما۔ انہیں حق، ہدایت اور سنت پر اکٹھا فرما! ان کے نیک لوگوں کو ان کے حکمران نصیب فرما اور برے لوگوں کے شر سے انہیں محفوظ فرما۔ ان کے ملکوں میں امن وسلامتی عام فرما۔ انہیں تمام قسم کی شر اور کھلے اور چھپے فتنوں سے محفوظ فرما۔
اے اللہ! سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی مدد فرما! اے اللہ ان کی آراء درست فرما۔ انکے نشانے درست فرما۔ ان کی مدد فرما، ان کی ہمت بلند فرما، انہیں ثابت قدمی نصیب فرما، ظالموں پر انہیں نصرت عطا فرما۔
اے اللہ! ان کی تائید فرما، ان کی نصرت فرما۔ انہیں دائیں، بائیں، آگے، پیچھے اور پیچھے سے محفوظ فرما! نیچے سے آنے والے حملے سے ہم تیری پناہ چاہتے ہیں۔
اے اللہ کے شہدا پر رحم فرما! اے اللہ کے شہدا پر رحم فرما! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! ان کے گھر والوں اور بچوں کی حفاظت فرما! یقینا تو دعا سننے والا ہے۔
اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما! ہماری مصیبتیں آسان فرما! ہماری پردہ پوشی فرما! ہمارے مصیبت زدہ کو عافیت نصیب فرما۔ ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما۔ ہمارے فوت شدگان کی مغفرت فرما!
’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘
(الاعراف: 23)
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘
(البقرۃ: 201)
اللہ کے بندو!
’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع فرماتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو‘‘ (النحل: 90)
اللہ کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں اور عطا فرمائے گا۔ اللہ کا ذکر تو بلندتر ہے اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں