12

مثالی خواتین-علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

8مارچ کو عالمی سطح پر ”یوم خواتین ‘‘کو منایا گیا۔اس حوالے سے پاکستان میں بھی خواتین کے مختلف طبقات نے اپنے حقوق کے حوالے سے مختلف مقامات پر پروگرام کیے۔ بعض خواتین نے پلے کارڈ اُٹھا کر اور بینرز لہرا کر اپنے مطالبات پیش کیے۔ بعض این جی اووز سے وابستہ کچھ خواتین نے مطالبات کی آڑ میں ایسی تحریریں رقم کیں ‘جو اخلاقیات اور شرافت کے معیار سے گری ہوئی تھیں اور ان حقوق کا تقاضا کیا‘ جو کسی بھی اعتبار سے عورت کے شرف اور عزت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنے بعد ہمیں بہت سی ایسی عظیم خواتین نظر آتی ہیں‘جنہوں مثالی زندگی بسر کی۔ مسلمان عورتوں کو ان خواتین کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
مثالی خواتین میں سے ایک عظیم خاتون حضرت آسیہ علیہا السلام ہیں۔ انہوں نے فرعون کے محل میںرہنے کے باوجود اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی دعوت کو قبول کر لیا۔ فرعون نے ان کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا‘ لیکن انہوں نے توحید سے انحراف کرنا گوارا نہ کیا؛ حتیٰ کہ فرعون نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ایسے عالم میں حضرت آسیہ علیہاالسلام نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگی‘ جو سورہ تحریم کی آیت نمبر 11 میں مذکور ہے: ”(اے میرے) رب! بنا میرے لیے اپنے پاس ایک گھر جنت میں اور مجھے نجات دے فرعون اور اس کے عمل سے اور نجات دے مجھے ظالم لوگوں سے۔‘‘
حضرت مریم علیہا السلام کا کردار بھی ہمارے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے‘ جنہوں نے اپنی عفت اور آبرو کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی اور عبادت کے لیے صرف کر دیا۔ نتیجتاً اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو بے موسم کے پھل عطا فرمائے اور آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں ایک ایسے بیٹے سے نوازا‘ جنہیں رہتی دنیا تک کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی نشانی بنا دیا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کردار بھی ایک مثالی کردار ہے۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر لمحے میں آپ کی خدمت اور اطاعت کی اور ہر دکھ سکھ میں آپ ﷺکا ہاتھ بٹا تی رہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کے راستے میں آنے والی تکالیف پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلسل ساتھ دیتی رہیں‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے آپ کو سلام بھیجا گیا اور جنت میں ایک محل کی بشارت دی گئی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺکے پاس آئے اور کہا :یا رسول اللہ! خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آ رہی ہیں‘ جس میں سالن یا (فرمایا ) کھانا یا ( فرمایا ) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجیے گا اور میری طرف سے بھی! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجیے گا‘ جہاں نہ شور و ہنگامہ ہو گا اور نہ تکلیف و تھکن ہو گی۔ صحیح بخاری ہی میں مذکور ہے کہ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مریم بنت عمران ( اپنے زمانہ میں ) سب سے بہترین خاتون تھیں اور اس امت کی سب سے بہترین خاتون خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نبی کریم کی بہترین خدمت گزار بیوی ثابت ہوئیں اور ہمہ وقت آپ کی خدمت میں مشغول رہیں اور نا صرف یہ کہ آپ نے امور خانہ داری میںنبی کریم ﷺکا ساتھ دیا‘ بلکہ نبی کریم ﷺکی تعلیمات کو حفظ کیا اور آپ ﷺکے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی پردے میں رہتے ہوئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک منتقل کرتی رہیں۔ آپ کی خدمت اور وفا شعاری کا صلہ آپ کو یوں حاصل ہوا کہ آپ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہانوں کی عورتوں میں ایک ممتاز مقام عطا فرما دیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت کے بارے میں ارشاد ہوا: حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا “عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔”
حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی بحیثیت بیوی اور بیٹی ایک مثالی زندگی گزاری۔ اس حوالے سے حدیث مبارکہ میں جو باتیں ارشاد ہوئیں وہ درج ذیل ہیں:
1۔صحیح بخاری میںحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺکعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی ( بھی وہیں ) بیٹھے ہوئے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے ‘جو قبیلے کی ( جو ) اونٹنی ذبح ہوئی ہے ( اس کی ) اوجھڑی اٹھا لائے اور ( لا کر ) جب محمد ﷺسجدہ میں جائیں تو ان کی پیٹھ پر رکھ دے۔ یہ سن کر ان میں سے ایک سب سے زیادہ بدبخت ( آدمی ) اٹھا اور وہ اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا جب آپ نے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ( عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں ) میں یہ ( سب کچھ ) دیکھ رہا تھا‘ مگر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ کاش! ( اس وقت ) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے ( بوجھ کی وجہ سے ) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ فاطمہ ؓ آئیں اور وہ بوجھ آپ کی پیٹھ سے اتار کر پھینکا۔
2۔صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ لوگوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکے ( احد کے ) زخم کا علاج کس دوا سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جاننے والا ( اب ) مجھ سے زیادہ کوئی نہیں رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے خون دھوتیں‘ پھر ایک بوریا کا ٹکڑا جلایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم میں بھر دیا گیا۔
3۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ حضرت علی بیان فرماتے ہیںکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے کی بہت مشقت کا سامنا کرنا پڑتا‘پھر انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺکے پاس کچھ قیدی آئے ہیں۔ اس لیے وہ بھی ان میں سے ایک لونڈی یا غلام کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق کہہ کر ( واپس ) چلی آئیں‘ پھر جب آپ ﷺتشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی درخواست پیش کر دی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں ( رات ہی کو ) تشریف لائے۔ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ( جب ہم نے آپ ﷺکو دیکھا )تو ہم لوگ کھڑے ہونے لگے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ جس طرح ہو ویسے ہی لیٹے رہو‘ پھر آپ ﷺہمارے اتنے قریب ہو گئے کہ میں نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر پائی۔ اس کے بعد آپﷺنے فرمایا کہ جو کچھ تم لوگوں نے ( لونڈی یا غلام ) مانگے ہیں ‘ میں تمہیں اس سے بہتر بات کیوں نہ بتاؤں ‘ جب تم دونوں اپنے بستر پر لیٹ جاؤ ( تو سونے سے پہلے ) اللہ اکبر 34 مرتبہ اور الحمدللہ 33 مرتبہ اور سبحان اللہ 33 مرتبہ پڑھ لیا کرو ‘ یہ عمل بہتر ہے اس سے جو تم دونوں نے مانگا ہے۔ ‘‘ اس تمام پیار اور محبت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل وانصاف کے معاملے میں آپ کے بارے میں جو ارشاد فرمایا وہ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہے۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ مخزومیہ خاتون ( فاطمہ بنت اسود) جس نے ( غزوہ فتح کے موقع پر ) چوری کر لی تھی‘ اس کے معاملہ نے قریش کو فکر میں ڈال دیا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کون کرے! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کر سکتا؛ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اسامہ! کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا ( جس میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔
یہ مثالی خواتین غیر معمولی زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوئیں ۔ مسلمان خواتین کے لیے اِن کی زندگیاں بہترین نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری بیویوں‘ بہنوں اور بیٹیوں کو اُمت کی ان عظیم خواتین کے اسوہ سے نمونہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان رویوں سے بچنے کی توفیق دے ‘جو خواتین کے کردار‘عزت اور آبرو کو گہنا دینے والے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں