11

’روشنی گھر ‘میں حیض مظاہرہ ، شکریہ ہماری بچیو ! -حافظ یوسف سراج

مس پیٹریشیا فاسٹر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ عیسائی خاتون تھیں۔ وہ نائیجیریا کی وفاقی وزارت میں ایک اہم عہدے پر فائز تھیں۔ شادی نہ کی تھی سو بوڑھی ہو کر بھی مس کہلاتی تھیں۔ مس پیٹریشا کی اسی وزارت میں ایک پاکستانی پروفیسر بھی کام کرتے تھے۔ پروفیسر یحیٰ صاحب، جو پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ٔ اسلامیات کے جید سکالر تھے اور ان دنوں ایک معاہدے کے تحت نائجیرین حکومت کے ہاں مہمان پروفیسر تھے۔ بعد ازاں آپ نائجیرین یونیورسٹی میں اسلامی شعبہ کے چئیرمین بھی رہے۔ بہرحال وزارت کے انھی دنوں کی بات ہے۔ ایک دن مس پیڑیشیا پروفیسر صاحب سے کہنے لگیں، مسٹر پروفیسر! کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اسلام ایک متشدد اور خواتین کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والا مذہب ہے؟ دراصل مس پیٹریشیا کی اسلام کے بارے میں معلومات ویسی ہی تھیں، جیسی مستشرقین کی بدولت غیر مسلموں کی ہوا کرتی ہیں۔ سو آج موقع پا کر مس پیٹریشیا اپنے ایک ساتھی مسلمان پروفیسر سے اس کی وضاحت چاہ رہی تھیں۔ پروفیسر صاحب نے مس پیٹریشیا کا الزام تحمل سے سنا اور بات کو دلائل سے واضح کرنے کا فیصلہ کیا۔ کہنے لگے، مس! میں جواب ضرور دوں گا مگر کیا میں آپ سے بھی کچھ پوچھ سکتا ہوں ؟ کیوں نہیں ؟ پیٹریشیا فاسٹر نے دلچسپی سے ہمہ تن گوش ہوتے ہوئے کہا۔ پروفیسر صاحب نے کہنا شروع کیا۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں،خواتین پر مہینے میں طبعی اعتبار سے کچھ خاص ایام آتے ہیں۔ آپ یہ بتائیے کہ ان ایام میں خواتین طبی اور سائنسی اعتبار سے کیسا محسوس کرتی ہیں؟خاتون نے فی الفور جواب دیا Uneasyness!(بے آرامی اور اذیت)۔
درست !
پروفیسر صاحب نے مزید کہا۔
اب آپ صرف اتنا بتا دیجئے کہ عیسائیت نے عورت کی ا س اذیت کو محسوس کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں صنفِ نازک کیلئے کیا ریلیف پیکج آفر کیا ہے؟ اس سوال پر وہ محترمہ سوچنے لگیں۔ سوچتی رہیں اور بالآخر سر جھکاتے ہوئے مضمحل لہجے میں بولیں ’’کچھ نہیں !‘‘ اس پر پروفیسر صاحب گویا ہوئے۔ اب آپ اس سلسلے میں اسلام کی سنئے ، پہلی بات تو یہ کہ اسلام نے عورت کے اس درد کو محسوس کرتے ہوئے اس کا اعتراف قرآن مجید میں کیا۔ پھر عین وہی لفظ بولے جو آج کی اس صدی میں ایک غیر مسلم عورت خود اپنے لئے پسند کر رہی ہے، قرآن مجید نے مرد کو بتایا کہ اس حالت میں عورت کو’اذیٰ‘ یعنی ایک اذیت و تکلیف اور uneasyness کی کیفیت درپیش ہوتی ہے سو ایسے میں یہ عورت عمومی نہیں تمھارے خصوصی سلوک کی مستحق ہو جاتی ہے۔ یہی نہیں، خود شریعت بھی عورت کی اس تکلیف کے لئے ایک قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ وہی نماز کہ جس کا ترک شریعت میں کفر تھا، وہ اس عورت کی اذیت کے احترام میں ان دنوں اسے معاف کر دی گئی ۔ روزے بعد میں کسی وقت رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ پھر یہ بھی خیال فرمایا کہ اس معاملے کی بنا پر کوئی اسے ہرٹ بھی نہ کرے۔ چنانچہ جب پتا چلا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے ان ایام میں اپنی بیوی کا بستر کمرے سے باہر لگا دیا ہے تو رسولِ رحمتؐ نے انھیں بلا کے سمجھایا کہ بیوی سے یہ بے رخی نہیں ہونی چاہیے؟ ایسے میں تو یہ قدرے اور محبت اور خصوصی سلوک کی مستحق ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں مزید فرمایا، ان حالات میں سوائے خصوصی تعلقات کی استواری کے عورت سے کسی قسم کی دوری اختیار نہ کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سن کر اس خاتون کی آنکھیں کھل گئیں۔ اب مس پیٹریشیا فاسٹر ششدر تھی اور ایک مسلم سکالر کے سامنے عیسائیت کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون گنگ تھی۔گویا اسلام کے سامنے آج پوری عیسائیت چپ تھی۔
کیا کوئی ہے جو ہماری ان بچیوں کو مخاطب کر کے کہے کہ اے گل ِبرگ کے روشنی گھر مفہوم کے تعلیمی ادارے میں ایک خاص قسم کے مظاہرے کرتی ہماری بچیو! تم نے یہ کہانی نہیں سنی ہوگی۔ تم نے اس باب میں اسلام کی روشنی بھی نہیں جانی ہو گی۔ عین انھی ایام میں اپنی پیاری بیوی سیدہ عائشہ ؓکی دلجوئی کے لئے روا رکھے گئے رسولِ رحمت ؐکے تعلیمی مظاہر بھی تم نے ہر گز نہ جانے ہوں گے۔ مثلاً سیدہ نے بتایا۔ عین انھی ایام میں ،میں مشروب پی کے برتن رسول اللہ ؐ کو دے دیتی۔ آپ اسی مشروب کو،اس برتن کی ٹھیک اسی جگہ سے نوش فرماتے جہاں سے میرے لبوں نے برتن کو چھوا ہوتا۔ اور بھی بہت سی باتیں سیدہ بتاتی ہیں۔ ساری باتیں کالم میں بھلا کہاں سما سکتی ہیں۔تم نے بہرحال نادانی میں یہ مظاہرہ کیا۔ جو تمھیں بتایا یا سمجھایا گیا اسی کے تناظر میں تم نے جو کیا سو کیا۔ تمھیں اعتراض ہوا کہ دکاندار تمھارے خاص ایام کا سامان خاکی لفافے میں ڈال کے کیوں دیتا ہے۔ تم نے کپڑوں پر خون ملا کہا کہ تمھیں اس حالت کے کھلے بیان کی چھٹی کیوں نہیں ملتی؟ یا جو بھی تم نے اس جگہ لکھا، جہاں لکھنے کی تربیت تمھیں کوئی دوسرا تعلیمی ادارہ نہ دیتا۔ دراصل مجھے قصور تمھارا کم لگتا ہے۔میں نے تمھارے پیارے نام دیکھے ہیں۔ یہ سارے اسلام سے محبت کے عکاس ہیں۔تمھیں تو یہ بھی نہیں بتایا گیا ہو گا کہ جس وقت اسلام تمھاری نزاکتوں کے لئے سہولت و محبت کے ایسے پھول چن رہا تھا، اس لمحے ساری دنیا کس طرح تمھیں اچھوت سمجھتی تھی۔ جیسا کہ ایک لکھنے والی نے ’ہم سب ‘کے استفادے کے لئے کسی میڈیکل کی معتبر کتاب سے ایسی ساری تاریخی روداد لکھ دی ہے۔ اس لکھے میں سب لکھا گیا مگر افسوس اسلام کی مہربانی نہیں لکھی گئی۔ بھلا ایسی بھی کیا تاریخ دشمنی اور ایسی بھی حقائق سے کیا بے اعتنائی۔ خلاصہ اس ساری روداد کا یہ کہ دنیا تب تمھیں بس یوں سمجھو کوڑھی سمجھتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے ،اس حال میں جس چیز کو تم چھو لو وہ برباد اور جسے تم نظر بھر کے دیکھ لو وہ چیز زہرناک ہوجائے گی۔ ایسی حالت میں تمھارا سایہ ذائقے کو تلخ اور زمیں کو بنجر کر دے گا۔ ارسطو جیسا عقلمند بھی کہتا تھا کہ اگر اسی حالت میں تم آئینہ دیکھ لو تو آئینہ شکنوں سے بھر جائے اور جو کوئی دوسرا تمھارا دیکھا آئینہ دیکھ لے تو اس پر جادو ہو جائے۔ یہودی ایسی حالت میں تمھیں کوڑھی کی طرح فالتو چیزوں میں پھینک مارتے تھے ۔پھر تم ایسی قسمت کی ماری کی قسمت کو کس نے سنوار؟ اسلام نے! اس نے تمھیں زمیں سے اٹھایا، پورا انسان سمجھا اور اٹھا کے سینے سے لگا لیا۔ تو ایسے احسان کا بدلہ یوں تو نہیں دیا جاتا نا!
دیکھو کچھ چیزیں خاص ہوتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھلا کیسے ہو گیا کہ وہ باعثِ اذیت یا کمتر بھی ہوتی ہیں؟ وہ بس عام نہیں ہوتیں ۔ہم اپنا جسم ڈھانپ کے رکھتے ہیں تو کیا اس لئے کہ یہ ہمارے نزدیک اہمیت نہیں رکھتا یا کوئی منفی حیثیت رکھتا ہے؟ کیا آپ کو علم نہیں چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے ،اتنی ہی وہ پردوں میں اور packed ہوتی ہے۔ ہماری کتنی ہی فطری ضرورتیں ہیں۔ جو عین فطرت ہیں مگر ہم ان کے لیے بازار کے بیچ نہیں بیٹھ جاتے ،واش روم جاتے ہیں۔ ہم ان کی سیلفیاں بھی نہیں بناتے۔ یہ چیزیں اہم شخصیات کو بھی لاحق ہوتی ہیں۔ مگر وہ بھی ان کی بریکنگ نیوز جاری نہیں کرواتے ۔ دیکھو! کچھ چیزیں بہت خاص ہوتی ہیں۔ ہم انھیں ذاتیات کہتے ہیں۔ یہ بری نہیں ہوتیں بس ہماری ذاتی ہوتی ہیں۔ ایک بات آپ کو بتاؤں؟ آج کی کوئی بھی عورت عرب عورت جتنی بے باک اور خودی کی پیکر نہیں ہو سکتی۔ اس نے اپنی ضرورت کی ہر چیز کو بیان بھی کیا اور سنا اور سمجھا بھی اور پھر آگے ہمارے فائدے کے لئے بیان بھی کر دیا۔ مگر دیکھئے ایک چیز ہوتی ہے، جسے خواجہ آصف نے کہا۔ کچھ شرم ہوتی ہے اور کچھ حیا ہوتی ہے۔ شاید آپ کو علم نہ ہو کہ ایک بھارتی وزیرِ اعظم مرار جی ڈیسائی ہوتے تھے۔ یہ کوئی انسانی فریش جوس پیا کرتے تھے۔ کسی سے پوچھنا وہ کیا تھا۔ آپ کو گھن آئے گی۔ بات یہ ہے کہ شرم کا دامن جب ہاتھ سے چھوٹ جائے تو انسان کی پستی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ اور دیکھو زندگی ساری نظم کی طرح عیاں نہیں ہوتی۔ یہ کبھی غزل ہوتی ہے۔ تب یہ تلمیح اور استعارے میں لطف دیتی ہیں۔ وہاں یہ ننگی ہو جائے تو حسن کھو دیتی ہے۔ یہ جو لفافے کی آپ نے بات کی۔ یہ تو آپ کو تکریم دی جاتی ہے ۔ورنہ انسان ہونے کے ناتے کیا خیال ہے دکاندار میں شیطان نہیں آسکتا؟ مغرب میں اب کسی خاتون کو بس میں سیٹ بھی پیش نہیں کی جاتی۔ وہاں عورت دل کی رانی اور گھر کی مہارانی نہیں رہی۔ سوچو، وہ مرد بننے نکلی تھی تو کیا بن سکی؟ کتنے بوجھ اس نے خود پر لاد لیے تو کیا وہاں بچے اب مرد جنتا ہے؟
بہرحال تمھارا شکریہ تم نے ہمیں بتایا کہ ہمارے تعلیمی ادارے ، ہمارے نصاب یا ہماری تربیت میں کہیں نہ کہیں کچھ ایسا ضرور ہے جو تمھیں کاغذ پر لکھنے کی باتیں کہیں اور لکھنا سکھا رہا ہے۔ یاد آیا ساتویں کی ایک طالبہ نے ایک دن سکول سے گھر آکے اپنی ماں سے پوچھا : مما ابارشن کیا ہوتا ہے؟ اور ماں نے اگلے دن بیٹی کا سکول بدل دیا تھا۔ شکریہ کہ تم نے ہمیں بتایا کہ جہاں ہمارے پچھتر سالہ پروفیسر یحیٰ صاحبان مس پیٹریشیا فاسٹر کو اسلام کی روشنی سے نہلا رہے ہیں وہیں کچھ لوگ ہماری مریم و جمیلہ کو اسلام سے بہکا بھی رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں