24

قلبی عبادت؛ توکل: مفہوم، ثمرات اور مغالطے – خطبہ مسجد نبوی- شفقت الرحمٰن مغل

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن حذیفی حفظہ اللہ نے17 جمادی ثانیہ 1440کا خطبہ جمعہ بعنوان “قلبی عبادت توکل: مفہوم، ثمرات اور مغالطے” ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی بیش بہا نعمتیں ہر وقت ہمارے ذہن میں ہونی چاہییں تا کہ اللہ کی تعظیم کرتے رہیں۔ قلبی پاکیزگی اسی وقت ممکن ہو گی جب دل کو ہمہ قسم کی بیماریوں سے پاک صاف کریں گے۔ قلبی عبادت کا بدنی عبادت سے زیادہ مقام و مرتبہ ہے، کتاب و سنت میں قلبی عبادات کی کافی تلقین کی گئی ہے، قلبی عبادت کے لئے قلب سلیم حاصل ہو جائے تو یہ اللہ تعالی کی نعمت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی سے قلب سلیم عطا کرنے کی دعا فرمائی۔ سب لوگ قلبی اعمال میں یکساں مقام نہیں رکھتے، چنانچہ نصوص شریعت پر مکمل دسترس اور پختہ عقیدہ توحید رکھنے والے صحابہ کرام اور تابعین عظام جیسے لوگ قلبی اعمال میں بلند ترین درجہ رکھتے ہیں، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ان میں سب سے اعلی درجہ حاصل تھا۔ قلبی اعمال میں توکل جلیل القدر عمل ہے، توکل کے بغیر قرآن مجید میں ایمان کی نفی کا اشارہ موجود ہے، اور توکل کا یہ مطلب ہے کہ شرعی طور پر جائز اسباب اپنا کر مکمل اعتماد اور بھروسا صرف اللہ تعالی پر کیا جائے، اور یہ شعور رکھے کہ انسان کے بس میں کچھ نہیں؛ اللہ تعالی جو بھی فیصلہ فرمائے گا اسے قبول ہو گا۔ توکل انبیائے کرام کے سرخ رو ہونے کا راز ہے، اور اس قوت کی بدولت انبیائے کرام اپنے دشمنوں پر غالب آتے تھے، توکل موحدین کی امتیازی خوبی ہے۔ خالصتاً قدرت الہیہ سے متعلقہ امور میں غیر اللہ پر توکل شرک اکبر ہے؛ جبکہ دنیاوی امور میں اسباب پر مکمل بھروسا کرنا شرک اکبر سے کم تو ہے لیکن حرام عمل ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور ترین شخص بننے کے لئے اللہ پر توکل کر لیں؛ کامیاب ہو جاؤ گے، دوسرے خطبے میں انہوں نے توکل کے اعلی درجات تک پہنچنے کی تلقین کی اور توکل سے متصادم تمام امور سے بچنے پر زور دیا اور آخر میں سب کے لئے جامع دعا فرمائی۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں غالب اور بخشنے والے اللہ کیلئے ہیں، وہ حلم والا اور قدر دان ہے، ہمہ قسم کا فضل ، ظاہری اور باطنی نعمتیں ہمارے پروردگار کی جانب سے ہیں، اسی کے لئے حمد و ثنا ہے، ہم اس کی ثنا ایسے بیان ہی نہیں کر سکتے جیسے خود اس نے اپنی ثنا بیان کی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، وہ سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی نے انہیں رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ﷺ ، انکی اولاد اور صحابہ کرام پر روزِ قیامت تک اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو اور اس کے لئے نیکیاں کماؤ اور گناہوں کو ترک کر دو؛ کیونکہ یہ رضائے الہی پانے اور جنتوں میں بلند درجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، تقوی الہی دنیاوی اور اخروی بہتری کا بھی ضامن ہے۔

مسلمانو!

ہمیشہ اللہ کی رحمتوں کو ذہن نشین رکھو کہ اللہ تعالی نے تم پر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی نعمتوں کی برکھا برسائی، نعمتِ قرآن کی تعظیم کرو، قرآن کریم کی تفسیر کرنے والی سنت نبوی کی بھی تعظیم کرو؛ کیونکہ اللہ تعالی نے انہی دونوں کے ذریعے انسان کو بلند مقام عطا کیا اور فرمایا: {وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو ؛ اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب ہو ۔ [آل عمران: 139]

ایسے ہی فرمایا: {كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ} ہرگز نہیں! نیک لوگوں کا اعمال نامہ علیین میں ہے [المطففين: 18]

ایک اور مقام پر فرمایا: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ} تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر تھا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں [آل عمران: 110]تو یہاں پر انسان کو رفعت، بلندی ، قدر و قیمت، مقام اور شرف اسلامی عقیدے اور نیک اعمال کی بدولت ملا ہے، انسان اپنے عقائد اور اعمال کے ذریعے اپنی زندگی سنوارتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی بہتری کا باعث بنتا ہے۔

قرآن کریم اور سنت نبوی ان دونوں کے ذریعے اللہ تعالی نے مردہ دلوں کو زندگی بخشی، سینوں کو کینے سے صاف کر دیا، آنکھوں کو بینائی عطا فرمائی، کتاب و سنت کے ذریعے ہی اللہ تعالی نے شرک ، گمراہی، کفر اور الحاد کی بیخ کنی فرما ئی۔ کتاب و سنت کے ذریعے قلب و عقل کو فطرت تبدیل کر دینے والی شہوت اور شبہات سے پاک فرمایا، یہ خالصتاً اللہ کی لوگوں پر رحمت ہے۔

پھر جب اللہ تعالی نے کتاب و سنت کے ذریعے دلوں سے ہر قسم کی آلائش اور بیماریاں نکال دیں، مذموم اخلاق اور بری صفات سے دلوں کو پاک کر دیا تو دلوں میں ایمان جا گزین کر دیا؛ کیونکہ ایمان اپنے مختلف درجات کے ساتھ دل میں اسی وقت جڑیں مضبوط کرتا ہے جب دل ایمان سے متصادم چیزوں سے پاک صاف ہو، ظاہر سی بات ہے کہ کوئی بھی ظرف پاک اسی وقت ہو گا جب اس میں سے گندگی نکال کر پاک صاف چیزیں رکھی جائیں گی، تو دل کی مثال بھی یہی ہے۔

اللہ تعالی نے ہمیں یہ بات رسول اللہ ﷺ کو دی گئی پہلی وحی میں ہی سکھلا دی تھی کہ جس کی بدولت آپ ﷺ نبی مبعوث ہوئے، آپ کو آیاتِ “اقرأ” کے ساتھ نبوت ملی اور سورت مدثر کی آیات سے رسالت ملی، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَأَنْذِرْ (2) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} اے چادر اوڑھنے والے [1]اٹھو اور خبردار کرو [2] اپنے رب کی بڑائی بیان کرو [3] اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو [4]پلیدی کو چھوڑ دو۔[المدثر: 1 – 5] ان آیات میں پہلے تو اللہ تعالی نے آپ کو شرک سے خبردار کیا، پھر شرک پر جمے ہوئے لوگوں کو متنبہ کرنے اور اس کی ہولناکی بیان کر کے شرک کی سزاؤں کو بیان کرنے کا حکم دیا ، اس کے بعد اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے ذریعے تعظیم الہی کا حکم دیا۔ پھر اجمالی طور پر طہارت کا حکم دے کر طہارت کے احکامات کی تفصیل اس کے بعد بیان کی۔ ان آیات میں آپ کو بتوں سے کنارہ کشی، دوری اور بت پرستوں سے اظہار براءت کا حکم ہے۔ یہ آیات اللہ تعالی کے اس فرمان سے مشابہت رکھتی ہیں: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا} دین میں زبردستی نہیں ہے ، ہدایت اور گمراہی ظاہر ہو چکی ہیں ، سو جس نے طاغوت (بتوں یا شیاطین) کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا ، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا [البقرة: 256] تو ان میں بھی پہلے طاغوت کے انکار کا حکم ہے؛ تا کہ دل میں ایمان کی جڑیں مضبوط ہوں۔

اللہ تعالی کا عظیم احسان ہے کہ انسان کو قلب سلیم مل جائے، اور پھر اس کے ذریعے اللہ تعالی انسان کی علم نافع اور عمل صالح کی جانب رہنمائی فرما دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} اس دن مال اور اولاد فائدہ نہیں دیں گے [88]سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے۔[الشعراء: 88، 89]

اور نبی ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ: ( اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا، وَقَلْبًا سَلِيمًا [ترجمہ: یا اللہ! میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی، حصولِ ہدایت کے لئے پر عزمی مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں اور تیری عبادت اچھے طریقے سے کروں اور میں تجھ سے سچی زبان اور قلب سلیم بھی مانگتا ہوں۔]) اس حدیث کو ترمذی: (3407) اور ابن حبان نے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

مسلمان کی عزت و رفعت ایمان اور ایمان کی ذیلی شاخوں میں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ} عزت تو اللہ، رسول اللہ اور مومنوں کے لئے ہے؛ لیکن منافق اس چیز کا ادراک نہیں رکھتے۔[المنافقون: 8]

جبکہ انسان کی ذلت اور رسوائی گناہوں اور نافرمانیوں میں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ} بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے تصادم رکھتے ہیں وہی لوگ ذلیل ترین ہیں۔[المجادلة: 20]

رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی سے اپنی مناجات میں فرمایا: ( إِنَّكَ تَقْضِي وَلاَ يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لاَ يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلاَ يَعِزُّمَنْ عَادَيْتَ، تَبارَكْتَ رَبَّنا وَتَعَالَيْتَ [ترجمہ: بیشک تو ہی فیصلہ فرماتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، جس کا تو دوست بن جائے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اور جس کا تو دشمن بن جائے وہ معزز نہیں بن سکتا، ہمارے پروردگار تو بابرکت اور بلندیوں کا مالک ہے۔]) اصحاب سنن نے اس روایت کو بیان کیا ہے۔

اور نبی ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ: (ایمان کے ستر سے کچھ زائد درجے ہیں، ان میں سے اعلی ترین: “لا الہ الا اللہ” کا اقرار ہے، اور سب سے نچلا درجہ راستے سے رکاوٹ دور کرنا ہے، نیز حیا بھی ایمان کا حصہ ہے)بخاری و مسلم

ہمارے پروردگار نے زندگی ہو یا موت ہر حالت کے لیے مفید امور کو شریعت میں شامل فرمایا؛ نیز ہمیں ایسے تمام کاموں سے روکا جو ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات کو ہماری نیکی سے نہ تو کوئی فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی ہماری نافرمانی سے اس کا نقصان ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} بیشک اللہ تعالی تمام جہانوں سے غنی ہے۔[العنكبوت: 6]

اللہ تعالی کی قدرت، علم، حکمت، رحمت، فضل ، احسان اور جود و سخا کے دلائل میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے ایسی عبادات شریعت میں شامل کی ہیں جن کے ذریعے کمال، پاکیزگی، طہارت اور حسن اخلاق کے درجات عبور کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائیں جو ان کے مقدر میں لکھ دیے گئے ہیں؛ تا کہ تمام مسلمان اپنی زندگی میں بھی خوش حال رہیں اور مرنے کے بعد بھی آسودہ زندگی پائیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ بھی دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں [3]یہی لوگ حقیقی مومن ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجات، مغفرت اور با عزت رزق ہے۔[الأنفال: 3، 4]

تو رب رحیم نے قلبی اعمال قرآن و سنت میں بیان فرما دیے ہیں، مثلاً: اخلاص، یقین، ارکان ایمان، خوف، اور امید سمیت دیگر قلبی اعمال کا ذکر فرمایا۔

اسی طرح اللہ تعالی نے کتاب و سنت میں بدنی اعمال بھی ذکر فرمائے ہیں، مثلاً: ارکان اسلام، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اور دیگر افعال ذکر فرمائے، اور ان اعمال کی درجہ بندی بھی فرمائی۔

تو قرب الہی پانے کے لئے سب سے بڑے اعمال قلبی افعال ہیں، ان افعال کا حکم اللہ تعالی نے قرآن و سنت میں دیا ہے، قلبی اعمال در حقیقت بدنی اعمال کی بنیاد ہوتے ہیں۔

تمام مسلمان قلبی اعمال بجا لانے ،ان کی معرفت اور ان سے متصف ہونے میں یکساں درجات نہیں رکھتے؛ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قلبی اعمال کے سلسلے میں سب سے آگے تھے، انہیں قلبی اعمال میں دیگر تمام افراد پہ فضیلت دی گئی، ان کے بعد تابعین کرام کا درجہ آتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان قلبی اعمال کے متعلق مکمل معرفت رکھتے تھے، ان پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا تھے، انہیں عربی زبان پر مکمل عبور تھا، نیز وہ عقیدہ توحید میں بھی پختہ تھے، جیسے کہ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: “صحابہ کرام میں سے ابو بکر کی فضیلت بہت زیادہ روزوں اور نمازوں کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے دل میں قرار پانے والے ایمان کی وجہ سے تھی”

تو عظیم ترین اور جلیل القدر قلبی اعمال میں اللہ تعالی پر توکل بھی شامل ہے، فرمان باری تعالی ہے: {وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} اور اللہ تعالی پر ہی توکل کرو، اگر تم مومن ہو۔[المائدة: 23] تو اللہ تعالی پر توکل کرنے کا اس میں اور دیگر آیات میں ہمیں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ: اپنے تمام امور اللہ کے سپرد کر دیں، اور { إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [المائدة: 23] میں توکل کو انسان کے مومن ہونے کی شرط بتلایا؛ لہذا اگر انسان کا توکل نہیں تو ایمان بھی نہیں۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ} آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی جانتا ہے، تمام امور اسی کے سپرد ہیں، تو اسی کی بندگی کریں اور اسی پر توکل کریں۔[هود: 123] اس آیت میں اللہ تعالی نے توکل کو عبادت کے مساوی قرار دیا ہے، تو اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی پر توکل کرنے کا کیا مطلب ہے؟

توکل کا یہ مطلب ہے کہ: دنیا و آخرت کے تمام تر امور میں صداقت و اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالی پر مکمل اعتماد ہو، اس اعتماد میں بالکل بھی شک نہ ہو، انسان اپنے تمام تر امور خالق، رحیم اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والے اللہ عزوجل کے سپرد کر دے، اور عظمت والی ذات اللہ تعالی پر توکل کرے، ساتھ میں مکمل قلبی شعور رکھے کہ انسان قوت و ہمت سے عاری ہے، نیز وہ اللہ کے فیصلوں پر راضی بھی ہوگا۔

تو جو شخص توکل کا یہ مقام حاصل کر لے تو اسے عظیم ترین ہدف حاصل ہو جائے گا، اور اللہ تعالی اس کی تمام تر چاہتیں پوری فرما دے گا، اللہ تعالی اس کے معاملات سنبھال لے گا اور وہ صالحین میں شامل ہو جائے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ} یقیناً میرا مدد گار اللہ تعالی ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہ نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔ [الأعراف: 196]

ایک اور مقام پر فرمایا: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ} خبردار! یقیناً اللہ کے اولیا پر نہ خوف ہو گا نہ ہی وہ غمگین ہوں گے [62] یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے رہے۔[يونس: 62، 63]

اور حدیث قدسی میں ہے کہ: (میں اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے، وہ جب بھی مجھے یاد کرے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔) بخاری و مسلم نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

توکل انبیائے کرام کو دشمنوں کی تدابیر اور مکاریوں سے تحفظ فراہم کرنے والا قلعہ ہے۔

توکل انبیائے کرام کے دشمنوں کے خلاف ناقابل تسخیر قوت ہے۔

توکل کے ذریعے ہی انبیائے کرام زندگی میں آنے والی پریشانیوں اور آفات کا مقابلہ کرتے ہیں، اور ہر قسم کی تنگی و ترشی میں سرخ رو ہوتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَاقَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُونِ} انہیں نوح کا قصہ سنائیے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم! اگر تمہیں میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات سے نصیحت کرنا ناگوار گزرتا ہے تو میں نے اللہ پر توکل کر لیا ہے۔ تم یوں کرو کہ اپنے شریکوں کو ساتھ ملا کر ایک فیصلے پر متفق ہو جاؤ جس کا کوئی پہلو تم سے پوشیدہ نہ رہے پھر جو کچھ میرے ساتھ کرنا ہو کر گزرو اور مجھے بالکل مہلت نہ دو ۔ [يونس: 71]

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : “ابراہیم علیہ السلام نے”حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ” اس وقت کہا تھا جب انہیں آگ میں پھینکا گیا، اور نبی ﷺ نے بھی ان الفاظ کو فرمایا تھا” بخاری

اللہ تعالی نے بھی اپنے نبی جناب محمد ﷺ کو فرمایا: {فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} اگر پھر بھی وہ منہ موڑیں تو کہہ دیں: مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر توکل کیا اور وہی عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ [التوبة: 129]

اور ایسے ہی ھود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} میرا بھروسا صرف اللہ تعالی پر ہے جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے جتنے بھی رینگنے والے جانور ہیں سب کی پیشانی وہی تھامے ہوئے ہے یقیناً میرا رب بالکل صحیح راہ پر ہے۔[هود: 56]

ایک اور مقام پر فرمایا: {وَقَالَ مُوسَى يَاقَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ (84) فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا} اور موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور واقعی اس کے فرمانبردار ہو تو اسی پر توکل کرو[84] تو انہوں نے کہا: ہم نے اللہ پر توکل کر لیا۔[يونس: 84، 85]

پھر اللہ تعالی نے عمومی طور پر رسولوں کے بارے میں فرمایا: {وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ} اور ہم اللہ پر کیوں نہ توکل کریں جبکہ اس نے ہمیں ہماری سب راہیں دکھا دی ہیں اور جو دکھ تم ہمیں دے رہے ہو اس پر ہم صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے[إبراهيم: 12]

لہذا اللہ تعالی پر توکل کرنے والا کامیاب ہے اور اسی کی نصرت بھی کی جاتی ہے، متوکل شخص اپنے نفس سمیت جناتی اور انسانی دشمنوں پر بھی غالب رہتا ہے۔

توکل نہ کرنے والا رسوا اور گمراہ ہوتا ہے، اسے کسی چیز کا فائدہ نہیں ہوتا۔

توکل موحد مومنوں کی خوبی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ} سچے مومن تو وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور جب اللہ کی آیات انہیں سنائی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔ [الأنفال: 2]

اللہ تعالی کی طرف سے جائز قرار کردہ اسباب اپنانا اور انہیں بروئے کار لانا بھی توکل میں شامل ہے۔

ایسے ہی وہ تمام اسباب اپنانا جو تجربے سے معلوم ہوئے ہیں انہیں بروئے کار لانا بھی توکل کا حصہ ہے، لیکن ان اسباب کو اپناتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد نہیں کیا جائے گا، بلکہ اعتماد صرف اور صرف اللہ تعالی پر ہی ہو گا، لہذا اسباب ترک کر دینا توکل نہیں۔

جتنے بھی اسباب ہیں یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ تعالی جب چاہتا ہے انہیں ناکارہ بنا دیتا ہے تو یہ مفید ثابت نہیں ہوتے اور جب چاہتا ہے انہیں مفید بنا دیتا ہے، تو معاملہ سارے کا سارا اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔

توکل کے باب میں شرک اکبر یہ ہے کہ کوئی اپنے معاملے کو کسی زندہ یا مردہ مخلوق کے حوالے کر دے، اور خالصتاً قدرت الہیہ سے تعلق رکھنے والے معاملے میں مخلوق پر مکمل اعتماد کرے، مثلاً: کوئی کسی بزرگ کے بارے میں کہے کہ: وہ گناہ معاف کرتا ہے، یا دشمنوں کے خلاف مدد کرتا ہے، یا دعائیں قبول کرتا ہے، یا روزِ قیامت شفاعت کے لئے اس بزرگ پر توکل کرے؛ حالانکہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ بھی اللہ تعالی کی اجازت سے ہی شفاعت کر پائیں گے، بلکہ تمام مسلمان اور نیک لوگ بھی اللہ کی اجازت سے سفارش کریں گے۔

توکل میں شرک کی صورت یہ بھی ہے کہ انسان کسی مخلوق پر بھروسا کرے کہ وہ اسے شفا دے گا، یا اولاد سے نوازے گا، یا اسی طرح کی کوئی اور امید لگائے۔

توکل میں شرک کی دوسری قسم جو شرک اکبر سے کم تر ہے وہ یہ ہے کہ: انسان کام کر دینے کی صلاحیت کرنے والے پر مکمل بھروسا کر ڈالے، مثلاً: ملازمت دینے کی صلاحیت رکھنے والے پر حصولِ ملازمت کے لیے مکمل بھروسا کر ڈالے اور اللہ تعالی کو بھول جائے، ساری امیدیں مخلوق سے لگائے۔ تو یہ قسم شرک اکبر سے کم تر ہے اور یہ حرام ہے؛ اس صورت میں ہونا یہ چاہیے کہ صاحب صلاحیت کو محض ایک سبب سمجھے جبکہ اعتماد اور بھروسا صرف اللہ تعالی کی ذات پر ہو۔

سلف صالحین میں سے کسی نے کیا خوب کہا : “کوئی بھی شخص کسی مخلوق سے آس لگائے تو اس کی امیدیں مخلوق سے لگائی گئی آس کے برابر تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں”

جبکہ کسی کو اپنا وکیل مقرر کر کے تمام امور اس کے سپرد کرنا ایسے امور میں جائز ہے جہاں نمائندگی کرنا صحیح ہو، مثلاً: خرید و فروخت میں کسی کو اپنا نمائندہ بنانا جائز ہے، تاہم یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ نمائندہ اور وکیل اللہ تعالی کی مدد اور قدرت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔

اللہ تعالی نے توکل کرنے والوں کو عظیم ترین ثواب کا وعدہ دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ} بیشک اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔[آل عمران: 159] تو جس سے اللہ تعالی محبت فرمانے لگے تو اسے ہر قسم کی بھلائی سے نوازتا بھی ہے اور نقصانات سے محفوظ بھی رکھتا ہے۔

اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} اور جو بھی اللہ تعالی پر توکل کرے تو اللہ اسے کافی ہے۔[الطلاق: 3]یعنی اللہ تعالی متوکل شخص کی پریشانیوں اور غموں کو دور کرنے کے لئے کافی ہے، اللہ تعالی متوکل شخص کی موت و حیات کے سب کے سب امور سنوار دیتا ہے۔ یہ بہت بڑا اجر و ثواب ہے، اللہ تعالی نے اتنا بڑا اجر توکل کے علاوہ کسی عبادت کے لیے ذکر نہیں فرمایا، تو توکل کی فضیلت میں یہی ایک شرف کافی ہے۔

امام احمد، ابن ماجہ، اور نسائی رحمہم اللہ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ: (رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا: اگر لوگ صرف اسی آیت کو ہی تھام لیں تو ان کے لئے کافی ہو جائے۔)

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (جس شخص کو مضبوط ترین آدمی بننا پسند ہو تو وہ اللہ تعالی پر توکل کرلے) اس روایت کو عبد بن حمید نے روایت کیا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَكَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا} اور اس ذات پر توکل کیجئے۔ جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لئے کافی ہے [الفرقان: 58]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں وہ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم تمام نعمتوں پر اسی کے لیے حمد و شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، وہ عظمت اور بلندیوں والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اس کے بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی آل ، اور ہدایت یافتہ صحابہ کرام پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

کما حقہ تقوی الہی اختیار کرو ، اور اللہ تعالی پر ہی توکل کرو؛ کیونکہ متوکل شخص کے لئے اللہ تعالی کافی ہے۔

اللہ کے بندو!

توکل کے اسباب اپناؤ، اور توکل کے درجات حاصل کرتے جاؤ، نیز توکل سے متصادم یا کمال درجے کے منافی امور سے بھی پرہیز کرو؛ کیونکہ اس دنیا میں یہی تمہارا زادِ راہ ہے، اور مرنے کے بعد ہر قسم کے عذاب، ہولناکی اور تکلیف سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ} حکم تو صرف اسی کا چلتا ہے میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور جسے بھی توکل کرنا ہو اسی پر کرنا چاہیے۔ [يوسف: 67]

ایک اور مقام پر فرمایا: {وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ} اور مومن اللہ تعالی پر ہی توکل کریں۔[التوبة: 51]

حصول رزق حلال کے لئے کوشش کرتے رہو، تا کہ تمہاری عبادات اور دعائیں قبول ہوں۔

اللہ تعالی سے توکل بھی مانگو؛ کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ: (اگر تم اللہ تعالی پر کما حقہ توکل کرو تو تمہیں بھی رزق ایسے ہی ملے جیسے پرندوں کو رزق ملتا ہے، وہ صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو سیر شکم ہو کر واپس آتے ہیں) اس حدیث کو امام احمد، اور ترمذی نے روایت کیا ہے، نیز امام ترمذی نے اسے حسن صحیح بھی قرار دیا ہے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی کا فرمان ہے: { إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر کثرت کیساتھ درود پڑھو ۔

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا كَثِيْراً۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اپنے دین اور قرآن کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنے دین اور قرآن کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! تیرے پسندیدہ دین کو غالب فرما، یا اللہ! دین اسلام کو غالب فرما، چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! دین اسلام کو پوری کائنات میں پھیلا دے، یا اللہ! دین اسلام کو تمام تر ادیان پر غالب فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔یا اللہ! تیرے وعدے سچے ہیں، اور تو ہی احکم الحاکمین ہے۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! کفر ، کفار اور منافقین کو ذلیل کر دے ، یا رب العالمین! یا اللہ! اپنے اور دین اسلام کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔ یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! سب معاملات کا انجام کار بہترین فرما، یا اللہ! ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! مقروض مسلمانوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! مقروض مسلمانوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو ابلیس، شیاطین، شیطانی چیلوں اور لشکروں سے پناہ عطا فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ابلیس اور شیطانی چیلوں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! ہمارے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ، سب گناہ معاف فرما دے، اور وہ بھی معاف فرما دے جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، تو ہی تہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے۔

یا اللہ! ہر مسلمان اور مومن مرد و خاتون کے امور سنوار دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! مسلمانوں کو ان کے معاملات میں بہترین رہنمائی عطا فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو حق بات پر متحد فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ تمام مسلمانوں کے معاملات آسان فرما دے، یا اللہ! ان کی شرح صدر فرما دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرما۔

یا اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں آسان فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہر قسم کے شر اور خرابی سے حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی ہر قسم کے شر اور خرابی سے حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہماری افواج کی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہر نیکی کے کام میں انکی مدد فرما، اُن کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما ، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور جنت کے قریب کرنے والے اقوال و افعال کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے اقوال و افعال سے پناہ مانگتے ہیں۔

ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں